Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
March 8, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

بینظیر کی برسی اور بھٹو عزم کی برسی

December 31, 2011 0 1 min read
benazir bhutto
benazir bhutto
benazir bhutto

ستائیس دسمبر 2007ء کو بینظیر بھٹو کو لیاقت باغ روڈ پر ہمیشہ کے لیے ابدی نیند سلا دیا اور تب سے 27دسمبر کو ان کی برسی نہایت عقیدت و اخترام کے ساتھ منائی جا تی ہے اور یوں ہر سال گڑھی خدا بخش میں ہر سال پی پی پی کے کارکن ،جیالے اور دیگر لوگ فاتحہ خوانی و قرآن خوانی کے لیے جمع ہوتے ہیں اس بار بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ یہ موقع در حقیت محتر مہ بینظیر کے ساتھ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کا تھا مگر اس موقع کو بھی سیاست نے اپنی ظالم بانہوں میں سمیٹ لیا،یہ موقع بینظیر کے قاتلوں کو سزا دلوانے کا تھا مگر سزا کے حق دار پی پی پی کے اپنے جیالے ٹھہرے یہ موقع قاتلوں کو بے نقاب کرنے کا تھا مگر بے نقابی انصاف بھانٹنے والوں کے حصے میں آئی یہ موقع ذولفقار علی بھٹو کے نظریات کو اپنانے کا تھا مگر بھٹو کے نظریات موروثی سیاست کی بھینٹ چڑھ گئے یہ موقع ذولفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کے افکار کو عیاں کرنے کا تھا مگر افکار کے تقاضوں کے زاویے ہی بدل دیئے گئے۔یہ موقع چاروں اطراف سے مسائل و مشکلات میں پھنسے بے چارے عوام کی دستگیری کا تھا مگر دستگیری کے حق دار دستگیری کرنے والے ہی ٹھہرے۔ ذولفقار علی بھٹو نے کہا تھا کہ تم کتنے بھٹو مارو گے ہر گھر سے بھٹو نکلے گا کاش کہ بھٹو صاحب کو یہ معلوم ہوتا کہ ان کے جانے کے بعد کسی دورے گھر سے کوئی بھٹو نکلے گا اورنہ ہی آج تک کوئی بھٹونکلا۔ ذولفقار علی بھٹو کا یہ قول بھی ناسمجھ لو گوںکی ناسمجھی کی بھینٹ چڑھ گیا ۔بھٹو صاحب نے پی پی پی کی بنیاد اس لیے نہیں رکھی تھی کہ ان کے جانے کے بعد پی پی پی کی قیادت ان کے اپنے ہی خاندان میں تقسیم در تقسیم ہوتی چلی جائے بلکہ ”تم کتنے بھٹو مارو گے ہر گھر سے بھٹو نکلے گا”کا مقصد صرف یہ تھا کہ بھٹو صاحب کے نظریات کی عکاسی ہر گھر سے ہو اور پی پی پی کی قیادت بھٹو کے بعد ان کے قریبی رفقا میں سے کسی ایک کا ملنی چاہئے تھی مگر ایسا نہ ہونے کی وجہ سے بھٹو کے بعد پارٹی میں وہ افادیت نہ رہی ہو ان کی موجودگی میں تھی۔بالکل اسی طرح جب بینظیر بھٹو نے نامساعد حالات میں پارٹی قیادت کی ذمہ داری سنبھالی تھی تو پی پی پی کو ایک نئی نوید مل گئی تھی چونکہ انھوں نے ایک دوسرے گھر سے ذولفقار علی بھٹو کے عزم کو پایہ تکمیل تک پہنچایا تھا جب بینظیر بھٹو کو بھی ظالم قاتلوں نے ابدی نیند سلا دیا تو پی پی پی میں سے بینظیر کے انتہائی قریبی ساتھیوں میں سے پی پی پی کی قیادت کو سنبھالنا چاہئے تھا مگر ایسا نہ ہو سکا جس وجہ آج پی پی پی کی قیادت اور کارکنان میں خاصہ فاصلہ دیکھنے میں آرہاہے یہی وجہ ہے کہ بھٹو کے عزم و ارادوں سے رو گردانی کر کے آج ملک کو انتہائی تاریکی میں دھکیل دیا گیا ہے ۔اگر” بھٹو ”نا م خاندانی سیاست کا ہو تا تو جناب ذولفقار علی بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو اپنی زندگی میں ہی پارٹی کو ایک وارث دے کر جاتے جبکہ ایسا نہیں ہوا چونکہ ”بھٹو” خاندانی سیاست کا نام نہیں بلکہ ہر گھر سے بھٹو نکلے گاکا ترجمان تھا مگر اب یہ ہر گھر سے بھٹو نکلنے کا فلسفہ پی پی پی کو زیب نہیں دیتا چونکہ بینظیر بھٹو کے جانے کے بعد جناب آصف علی زرداری کا بطور شریک چیئر مین منتخب ہو نا اور بلاول زرداری کا بطور چیئر مین بلاول بھٹو زرداری ہو نا وراثتی سیاست کو عیاں کرتا ہے اور اب بینظیر کی برسی پر جناب صدر آصف علی زرداری کا یہ کہنا کہ محترمہ بینظیر کا علم آصفہ اٹھا ئیں گی تو اس سے وراثتی سیاست پر مہر تصدیق لگ گئی ہے کہ چاہے ملک ڈوب جا ئے یا ذولفقار علی بھٹو کا عزم ڈوب جا ئے وراثتی سیاست کا سورج نہیں ڈوبنا چاہیے ۔ صدر آصف علی زرداری نے محترمہ بینظیربھٹو کی برسی کے موقع پر بہت سی اہم باتوں پر روشنی ڈالی جس میں سے بینظیر کے علم کو اٹھانے کی ذمہ داری آصفہ معصوم پر ڈال دی ہے نجانے وہ اس بھاری ذمہ داری کو کیسے نبھاپا ئیں گی علم سے مراد پی پی پی کی قیادت سے عبارت لگتی اور اس کے علاوہ علم کی کوئی دوسری کوئی صورت نظر نہیں آرہی ہے جس کو علم کے طور پر لیا جا سکے اگر ایسا ہی ہے تو پھر بلاول بھائی اور جناب صدر کا کیا ہو گا؟؟ اگر قیادت کی تمام تر ذمہ داری آصفہ نے اٹھانی ہے اگر بینظیر کے علم کو آصفہ معصوم نے ہی اٹھانا ہے تو پھر جناب آصف علی زرداری اب تک کس کے علم کو اٹھائے ہو ئے ہیں ؟؟اور بلاول بھٹو زرداری بطور شریک چیئر مین کون سا علم اٹھائیں گے ؟؟؟جبکہ بینظیر کا علم تو روٹی ،کپڑا اور مکان تھا اور اگر آصفہ نے ہی یہ علم اٹھانا تھا توپھر اب تک آصف علی زرداری نے کون سا علم بلند کر رکھا ہے؟؟ نجانے آصفہ اپنی والدہ کے علم کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں کامیاب ہو پاتی ہیں یا نہیں یا پھر وہ بھی صدر آصف علی زرداری کی طرح ملک کا بھیڑہ گرھک کرنے کی روش کو اپناتی ہیں ۔پارٹی کی قیادت ،جمہوریت کی بقاو اسمبلیوں کی مدت ،بینظیر کا علم اور وفاق کو ٹوٹنے نہ دینا،کیا یہی تھا بینظیر اور ان کے والد ذولفقار علی بھٹو کے عزم اور ارادے ؟؟یا پھر عوامی مشکلات و مسائل کو بھی جناب ذولفقار علی بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو اپنے عوامی اجتماع سے گوش گزار کرتے تھے ؟؟اگر وہ ایسا کرتے تھے تو جناب صدر بینظیر کی برسی کے موقع پر عوامی اجتماع میں عوامی مشکلات اور مسائل سے کیوں صرف نظر کر گئے ؟؟چونکہ یہی فرق ہونا تھا اپنے گھر سے بھٹو کے نکلنے کا اور ہر گھر سے بھٹوکے نکلنے کا۔ اگر آصف علی زرداری خود کو بھٹو کے جانشین کہہ کر بینظیر کی برسی کے موقع پر عوامی مسائل سے توجہ ہٹا نے کا واضع ثبوت دے رہے تھے تو کیا توقع کی جا ئے کہ مستقبل میں آنے والی آصفہ بھی ایسا ہی کریں گی ؟؟کم سے کم اور کچھ نہیں تو صدر آصف علی زرداری پاکستان کی عوام پر نہیں تو بلوچستان سے آئے ہوئے چند ایک پی پی پی کے جیالوں کی داد رسی کرہی دیتے اور ان زنجیروں میں جکڑے ہوئے بے روزگاری اور غربت سے تنگ حال کارکنان کی مشکلات کا ازالہ کرد یتے ۔افسوس صد افسوس جو اپنی پارٹی کے جیالوں کی اپنی چار سالوں کی حکومت میں مشکلات اور تنگدستی کا ازالہ نہ کر سکے وہ ایک سال میں پورے ملک کی عوام کی تنگدستی کو کیا خاک دور کر سکے گا!جہا ں ہر گھر سے بھٹو نکالنے والے لیڈر کی پارٹی کو ایسا بنا دیا گیا کہ اس پارٹی کے کارکنان بھٹو بننے کی بجائے در در کی ٹھو کریں کھاتے پھریں تو عام لوگوں کی کیا مجال کہ ان کے مطالبات پو رے کیے جا سکیں ۔  سیاسی تماش بینوںکا کہنا تھا کہ صدر آصف علی زرداری نے سیاسی ٹمپریچر کو قابو میں رکھااس سے کس کو کیا فائدہ ہوا؟ اگر سیاسی ٹمپریچر قابو میں رہے یا نہ رہے مگر دوسری طرف عدالتی ٹمپریچر کو بڑھانے  کی اچھی خاصی کو شش کی گئی صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ چوہدری افتخار صا حب !بینظیر کیس کا کیا ہو ا؟؟شاید اس سے پہلے آصف علی زرداری کو جناب وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے یہ نہیں بتا یا تھا کہ وہ اسی روز یہ فرما چکے تھے کہ بینظیر قتل کیس کی تحقیقات مکمل ہو چکی ہے اوروہ بتانے کے لیے وقت آنے کے انتظار میں بیٹھے ہیں اور اسی روز وزیر داخلہ جناب رحمن ملک نے یہ بھی کہا کہ بینظیر قتل کیس کی تحقیقات مکمل ہو چکی ہیں چار ملزمان گرفتا ر ہو چکے ہیں اور آٹھ ملزمان روپوش ہیں اور انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ قاتلوں نے قتل کرنے کے بعد کس کو اطلاع دی ؟بڑی حیرانگی کی بات ہے کہ صدر پاکستان کو اس کا علم تک نہیں جس کا جناب وزیر اعظم اور وزیر داخلہ اپنے اپنے بیان میں وضاحت کر چکے ہیں ۔کیا یہ اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کی ٹھوس دلیل نہیں ؟؟جبکہ دوسری طرف خود چیف جسٹس جناب افتخار محمد چوہدری پوچھ رہے تھے کہ بینظیر جیسی قد آور لیڈر کی شہادت کو چار سال گزر گئے حکومت بتائے کہ ان کے قتل کا کیا ہوا؟؟جبکہ گزشتہ چارسالوں سے حکومت بھی پی پی پی کی ہے ۔ہمارے ملک میں عجیب و غریب واقعات ہوتے آئے ہیں اور ان واقعات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ملک کی ایک بڑی سیاسی پارٹی کی گزشتہ چار سالوں سے حکومت قائم ہے اور وہ اپنی لیڈر کے قاتلوں کا سراغ نہیں لگا سکے !!کہیں ایسا تو نہیں کہ سراغ لگا یا ہی نہیں جا رہا ہو یا پھر سراغ تو لگا چکے مگر منظر عام پر لانے میں غیر ضروری روڑے اٹکائے جا رہے ہیں ۔ محمد قمر اقبال0321-9338981  m.qammariqbal@gmail.com

ستائیس دسمبر 2007ء کو بینظیر بھٹو کو لیاقت باغ روڈ پر ہمیشہ کے لیے ابدی نیند سلا دیا اور تب سے 27دسمبر کو ان کی برسی نہایت عقیدت و اخترام کے ساتھ منائی جا تی ہے اور یوں ہر سال گڑھی خدا بخش میں ہر سال پی پی پی کے کارکن ،جیالے اور دیگر لوگ فاتحہ خوانی و قرآن خوانی کے لیے جمع ہوتے ہیں اس بار بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ یہ موقع در حقیت محتر مہ بینظیر کے ساتھ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کا تھا مگر اس موقع کو بھی سیاست نے اپنی ظالم بانہوں میں سمیٹ لیا،یہ موقع بینظیر کے قاتلوں کو سزا دلوانے کا تھا مگر سزا کے حق دار پی پی پی کے اپنے جیالے ٹھہرے یہ موقع قاتلوں کو بے نقاب کرنے کا تھا مگر بے نقابی انصاف بھانٹنے والوں کے حصے میں آئی یہ موقع ذولفقار علی بھٹو کے نظریات کو اپنانے کا تھا مگر بھٹو کے نظریات موروثی سیاست کی بھینٹ چڑھ گئے یہ موقع ذولفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کے افکار کو عیاں کرنے کا تھا مگر افکار کے تقاضوں کے زاویے ہی بدل دیئے گئے۔یہ موقع چاروں اطراف سے مسائل و مشکلات میں پھنسے بے چارے عوام کی دستگیری کا تھا مگر دستگیری کے حق دار دستگیری کرنے والے ہی ٹھہرے۔ ذولفقار علی بھٹو نے کہا تھا کہ تم کتنے بھٹو مارو گے ہر گھر سے بھٹو نکلے گا کاش کہ بھٹو صاحب کو یہ معلوم ہوتا کہ ان کے جانے کے بعد کسی دورے گھر سے کوئی بھٹو نکلے گا اورنہ ہی آج تک کوئی بھٹونکلا۔ ذولفقار علی بھٹو کا یہ قول بھی ناسمجھ لو گوںکی ناسمجھی کی بھینٹ چڑھ گیا ۔بھٹو صاحب نے پی پی پی کی بنیاد اس لیے نہیں رکھی تھی کہ ان کے جانے کے بعد پی پی پی کی قیادت ان کے اپنے ہی خاندان میں تقسیم در تقسیم ہوتی چلی جائے بلکہ ”تم کتنے بھٹو مارو گے ہر گھر سے بھٹو نکلے گا”کا مقصد صرف یہ تھا کہ بھٹو صاحب کے نظریات کی عکاسی ہر گھر سے ہو اور پی پی پی کی قیادت بھٹو کے بعد ان کے قریبی رفقا میں سے کسی ایک کا ملنی چاہئے تھی مگر ایسا نہ ہونے کی وجہ سے بھٹو کے بعد پارٹی میں وہ افادیت نہ رہی ہو ان کی موجودگی میں تھی۔بالکل اسی طرح جب بینظیر بھٹو نے نامساعد حالات میں پارٹی قیادت کی ذمہ داری سنبھالی تھی تو پی پی پی کو ایک نئی نوید مل گئی تھی چونکہ انھوں نے ایک دوسرے گھر سے ذولفقار علی بھٹو کے عزم کو پایہ تکمیل تک پہنچایا تھا جب بینظیر بھٹو کو بھی ظالم قاتلوں نے ابدی نیند سلا دیا تو پی پی پی میں سے بینظیر کے انتہائی قریبی ساتھیوں میں سے پی پی پی کی قیادت کو سنبھالنا چاہئے تھا مگر ایسا نہ ہو سکا جس وجہ آج پی پی پی کی قیادت اور کارکنان میں خاصہ فاصلہ دیکھنے میں آرہاہے یہی وجہ ہے کہ بھٹو کے عزم و ارادوں سے رو گردانی کر کے آج ملک کو انتہائی تاریکی میں دھکیل دیا گیا ہے ۔اگر” بھٹو ”نا م خاندانی سیاست کا ہو تا تو جناب ذولفقار علی بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو اپنی زندگی میں ہی پارٹی کو ایک وارث دے کر جاتے جبکہ ایسا نہیں ہوا چونکہ ”بھٹو” خاندانی سیاست کا نام نہیں بلکہ ہر گھر سے بھٹو نکلے گاکا ترجمان تھا مگر اب یہ ہر گھر سے بھٹو نکلنے کا فلسفہ پی پی پی کو زیب نہیں دیتا چونکہ بینظیر بھٹو کے جانے کے بعد جناب آصف علی زرداری کا بطور شریک چیئر مین منتخب ہو نا اور بلاول زرداری کا بطور چیئر مین بلاول بھٹو زرداری ہو نا وراثتی سیاست کو عیاں کرتا ہے اور اب بینظیر کی برسی پر جناب صدر آصف علی زرداری کا یہ کہنا کہ محترمہ بینظیر کا علم آصفہ اٹھا ئیں گی تو اس سے وراثتی سیاست پر مہر تصدیق لگ گئی ہے کہ چاہے ملک ڈوب جا ئے یا ذولفقار علی بھٹو کا عزم ڈوب جا ئے وراثتی سیاست کا سورج نہیں ڈوبنا چاہیے ۔ صدر آصف علی زرداری نے محترمہ بینظیربھٹو کی برسی کے موقع پر بہت سی اہم باتوں پر روشنی ڈالی جس میں سے بینظیر کے علم کو اٹھانے کی ذمہ داری آصفہ معصوم پر ڈال دی ہے نجانے وہ اس بھاری ذمہ داری کو کیسے نبھاپا ئیں گی علم سے مراد پی پی پی کی قیادت سے عبارت لگتی اور اس کے علاوہ علم کی کوئی دوسری کوئی صورت نظر نہیں آرہی ہے جس کو علم کے طور پر لیا جا سکے اگر ایسا ہی ہے تو پھر بلاول بھائی اور جناب صدر کا کیا ہو گا؟؟ اگر قیادت کی تمام تر ذمہ داری آصفہ نے اٹھانی ہے اگر بینظیر کے علم کو آصفہ معصوم نے ہی اٹھانا ہے تو پھر جناب آصف علی زرداری اب تک کس کے علم کو اٹھائے ہو ئے ہیں ؟؟اور بلاول بھٹو زرداری بطور شریک چیئر مین کون سا علم اٹھائیں گے ؟؟؟جبکہ بینظیر کا علم تو روٹی ،کپڑا اور مکان تھا اور اگر آصفہ نے ہی یہ علم اٹھانا تھا توپھر اب تک آصف علی زرداری نے کون سا علم بلند کر رکھا ہے؟؟ نجانے آصفہ اپنی والدہ کے علم کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں کامیاب ہو پاتی ہیں یا نہیں یا پھر وہ بھی صدر آصف علی زرداری کی طرح ملک کا بھیڑہ گرھک کرنے کی روش کو اپناتی ہیں ۔پارٹی کی قیادت ،جمہوریت کی بقاو اسمبلیوں کی مدت ،بینظیر کا علم اور وفاق کو ٹوٹنے نہ دینا،کیا یہی تھا بینظیر اور ان کے والد ذولفقار علی بھٹو کے عزم اور ارادے ؟؟یا پھر عوامی مشکلات و مسائل کو بھی جناب ذولفقار علی بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو اپنے عوامی اجتماع سے گوش گزار کرتے تھے ؟؟اگر وہ ایسا کرتے تھے تو جناب صدر بینظیر کی برسی کے موقع پر عوامی اجتماع میں عوامی مشکلات اور مسائل سے کیوں صرف نظر کر گئے ؟؟چونکہ یہی فرق ہونا تھا اپنے گھر سے بھٹو کے نکلنے کا اور ہر گھر سے بھٹوکے نکلنے کا۔ اگر آصف علی زرداری خود کو بھٹو کے جانشین کہہ کر بینظیر کی برسی کے موقع پر عوامی مسائل سے توجہ ہٹا نے کا واضع ثبوت دے رہے تھے تو کیا توقع کی جا ئے کہ مستقبل میں آنے والی آصفہ بھی ایسا ہی کریں گی ؟؟کم سے کم اور کچھ نہیں تو صدر آصف علی زرداری پاکستان کی عوام پر نہیں تو بلوچستان سے آئے ہوئے چند ایک پی پی پی کے جیالوں کی داد رسی کرہی دیتے اور ان زنجیروں میں جکڑے ہوئے بے روزگاری اور غربت سے تنگ حال کارکنان کی مشکلات کا ازالہ کرد یتے ۔افسوس صد افسوس جو اپنی پارٹی کے جیالوں کی اپنی چار سالوں کی حکومت میں مشکلات اور تنگدستی کا ازالہ نہ کر سکے وہ ایک سال میں پورے ملک کی عوام کی تنگدستی کو کیا خاک دور کر سکے گا!جہا ں ہر گھر سے بھٹو نکالنے والے لیڈر کی پارٹی کو ایسا بنا دیا گیا کہ اس پارٹی کے کارکنان بھٹو بننے کی بجائے در در کی ٹھو کریں کھاتے پھریں تو عام لوگوں کی کیا مجال کہ ان کے مطالبات پو رے کیے جا سکیں ۔  سیاسی تماش بینوںکا کہنا تھا کہ صدر آصف علی زرداری نے سیاسی ٹمپریچر کو قابو میں رکھااس سے کس کو کیا فائدہ ہوا؟ اگر سیاسی ٹمپریچر قابو میں رہے یا نہ رہے مگر دوسری طرف عدالتی ٹمپریچر کو بڑھانے  کی اچھی خاصی کو شش کی گئی صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ چوہدری افتخار صا حب !بینظیر کیس کا کیا ہو ا؟؟شاید اس سے پہلے آصف علی زرداری کو جناب وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے یہ نہیں بتا یا تھا کہ وہ اسی روز یہ فرما چکے تھے کہ بینظیر قتل کیس کی تحقیقات مکمل ہو چکی ہے اوروہ بتانے کے لیے وقت آنے کے انتظار میں بیٹھے ہیں اور اسی روز وزیر داخلہ جناب رحمن ملک نے یہ بھی کہا کہ بینظیر قتل کیس کی تحقیقات مکمل ہو چکی ہیں چار ملزمان گرفتا ر ہو چکے ہیں اور آٹھ ملزمان روپوش ہیں اور انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ قاتلوں نے قتل کرنے کے بعد کس کو اطلاع دی ؟بڑی حیرانگی کی بات ہے کہ صدر پاکستان کو اس کا علم تک نہیں جس کا جناب وزیر اعظم اور وزیر داخلہ اپنے اپنے بیان میں وضاحت کر چکے ہیں ۔کیا یہ اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کی ٹھوس دلیل نہیں ؟؟جبکہ دوسری طرف خود چیف جسٹس جناب افتخار محمد چوہدری پوچھ رہے تھے کہ بینظیر جیسی قد آور لیڈر کی شہادت کو چار سال گزر گئے حکومت بتائے کہ ان کے قتل کا کیا ہوا؟؟جبکہ گزشتہ چارسالوں سے حکومت بھی پی پی پی کی ہے ۔ہمارے ملک میں عجیب و غریب واقعات ہوتے آئے ہیں اور ان واقعات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ملک کی ایک بڑی سیاسی پارٹی کی گزشتہ چار سالوں سے حکومت قائم ہے اور وہ اپنی لیڈر کے قاتلوں کا سراغ نہیں لگا سکے !!کہیں ایسا تو نہیں کہ سراغ لگا یا ہی نہیں جا رہا ہو یا پھر سراغ تو لگا چکے مگر منظر عام پر لانے میں غیر ضروری روڑے اٹکائے جا رہے ہیں ۔ محمد قمر اقبال

m.qammariqbal@gmail.com

Share this:
Tags:
killed pakistan zulfiqar ali bhutto برسی بینظیر بھٹو ذولفقار علی بھٹو
quetta
Previous Post کوئٹہ میں دھماکہ سے گیارہ افراد ہلاک 23 زخمی
Next Post واہ رے حکمران، 2012کا کیسا تحفہ دیا ہے
Gas

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close