Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
February 11, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

رمضان اور قرآن

July 21, 2012 0 1 min read
Ramadan & Quran
Ramadan & Quran
Ramadan & Quran

انسان کی یہ فطری خواہش ہے کہ وہ فی الوقت جس مقام پر ہے اُس سے کہیں اوپر اٹھ جائے یعنی وہ ترقی،کامیابی،نصرت اور فلاح کے اعلیٰ ترین مقام پر پہنچ جائے جہاں پہنچ کر لوگ اس کی عزت و تکریم کریں اور ذلت و رسوائی سے وہ کوسوں دور ہو۔ لیکن یہ سب کیسے حاصل ہوگا ؟ اس کا کوئی واضح ،مدلل اور ٹھیک جواب وہ نہیں رکھتا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ترقی و کامیابی اور عزت و تکریم کے لیے مختلف طریقہ اختیار کرتا ہے۔کبھی وہ رائج الوقت طریقوں کو استعمال کرتے ہوئے ان لوگوں کے نقش قدم پر چلنے کی سعی و جہد کرتا ہے جو اس کی نظر میں “کامیاب “کہلاتے ہیں تو کبھی ان طریقوں کو استعمال کرتا ہے جو عرف عام میں “کامیابی “کی منزل تک لے جانے میں معاون و مدد گار ہوتے ہیں ۔

موجودہ دور میں “کامیاب”وہ شخص ٹھہرتا ہے جو معاشی طور پر نہ صرف مستحکم ہو بلکہ ذاتی مفاد کی خاطر دوسروں کا استحصال بھی بہ خوبی کرنا جانتا ہو۔یہی وجہ ہے کہ آج کامیابی کی اِس دوڑ میں اخلاقی حدود کی کوئی حیثیت نہیں اور زندگی کا ہر شعبہ اخلاقی حدود سے مبرا ہے۔”سمجھدار اور کامیاب”لوگوں کا بھی یہی کہنا ہے کہ اخلاقی حدود کی پابندی ناکامی کا سبب بنتی ہے لہذا سیاست و معیشت میں خصوصاً اور عموماً خاندانی نظام میں بھی ان حدود و قیود سے پاک رہنا چاہیے ۔

تب ہی ممکن ہے کہ انسان خوشیاں سمیٹ سکے اور زندگی جو “ایک بار “ملی ہے اس سے بھر پور لطف اندوز ہوا جاسکے اور یہ جو چہار طرفہ مسائل ہیںمثلاً”دہشت گردی”، بد امنی،مذہبی جنون،فرقہ واریت،روایت پسندی ، دقیانوسیت اور پھر یہ مسائل بھی جن میں بے سکونی، ڈیپریشن، نفسیاتی بیماریاں اپنے عروج پرپہنچ چکی ہیں یہ سب اُن ہی بیماریوں کا منبع ہے جن کو اخلاقی حدود سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ لہذا اُن لوگوں کی جڑہی کاٹ دی جائے جو اس طرح کی باتیں ، وعظ و نصیحت اور متبادل پیش کرتے ہیں۔لیکن حقیقت جو سب پر عیاں ہے وہ یہ بھی ہے آج دنیا مٹھی میں بندہے ۔فکروعمل کوئی بھی ہوپلک جھپکتے رد عمل سامنے آجاتا ہے۔

لہذا “سمجھدار “لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ خواہشات کے حصول کے لیے ان طریقوں کو اختیار کریں جن کے اختیار سے ان پر آنچ نہ آئے۔ساتھ ہی دوسروں کو بھی “ذاتی خواہشات کے حصول”پر متحدکرنا آسان اورممکن ہو۔معلو م ہوا کہ بہت ہی واضح طور پر آج دنیا دو حصوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔ایک زندگی کے تمام شعبہ حیات میں اخلاقی حدود و قیود کی پابندی کرنے والے تو دوسرے وہ جو اخلاقی حدود و قیود کوریاست اور فرد کی ترقی میںسب سے بڑی رکاوٹ سمجھتے ہیں۔ وہ دور بھی ایسا ہی تھا:

جس وقت بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اسلام کی دعوت پیش کی اس وقت بھی کچھ ایسے ہی حالات تھے۔ زنا اور بدکاری کو نکاح کا درجہ دیا جاتا اور معاشرہ اس طرح کے نکاح کو تسلیم بھی کرتا،بچیوں کو زندہ دفن کر دیا جاتا اور اس میں اپنی بڑائی اور خوبی سمجھی جاتی، قبائیلی عصبیت اپنے عروج پر تھی اورایک نہ ختم ہونے والا لڑائیوں کا سلسلہ ہر وقت جاری رہتا، شراب نوشی عام بات تھی جس کے نتیجہ میں بدکاریاں مزید فروغ پاتیں، انسانوں کے انسان ہی غلام تھے، رعایا درحقیقت ایک کھیتی تھی جو حکومت کے لیے محاصل اور آمدنی فراہم کرتی اور حکومتیں اسے لذتوں، شہوتوں، عیش رانی اور ظلم و جور کے لیے استعمال کرتیں۔

شرک اور بت پرستی اپنے عروج پر تھی، نذرانے اور قربانیاں پیش کی جاتیں اور حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لیے ان سے فریاد اور التجائیں کی جاتیں، سودی لین دین اور معاشی استحصال کا بازار گرم تھا،فال گیری،کاہنوں، نجومیوں کی خبروں پر ایمان اور بد شگونی کا رواج عام تھا،عقیدہ اور فکرکی گمراہیاںاس قدر عام تھیں کہ تصورِ آخرت ایک مذاق بن چکا تھا۔یہ اور قسم کی بے شمار گمراہیاں،ظلالتیں، بدکاریاں اور ظلم وزیادتیں تھیں جن کے نتیجہ میںوہ معاشرتی اور تمدنی سطح پر اخلاقی حدود وقیود سے یکسرعاریتھے۔

ساتھ ہی یہودی مذہب محض ریاکاری اور تحکم بن گیا تھا،یہودی پیشوا اللہ کی بجائے خود رب بن بیٹھے تھے۔عیسائیت ایک نا قابل فہم بت پرستی بن گئی تھی،اس نے اللہ اور انسان کو عجیب و غریب طرح سے خلط ملط کر دیا تھا۔باقی ادیان کا حال بھی مشرکین جیسا ہی تھاکیونکہ ان کے دل یکساں تھے،عقائد ایک سے تھے اور رسم ورواج میں ہم آہنگی تھی۔ان ہی حالات میں نزول قرآن کا واقعۂ عظیم رونما ہوا،یہ وہواقعہ تھا جس نے دنیا کی کایا پلٹ دی! تبدیلی ٔ عظیم کا لازمی تقاضہ ہے کہ:

Quran e Majeed
Quran e Majeed

قرآن وہ فرقانِ عظیم ہے جس نے انسان پر دنیا اور آخرت کی حقیقتوں کو بہت ہی واضح انداز میں کھول کر رکھ دیا ،جم غفیر جن تاریکیوں میں مبتلا تھی اس کے سامنے وہ روشنی منور کی جس کے ذریعہ صراط مستقیم عیاں ہو گئی،کامیابی اور ناکامی کی راہیں متعین کیں اور ذلت ورسوائی سے نکال کر عزت وشرف کا مقام بخشا۔اس عظیم تبدیلی کا لازمی تقاضہ تھا کہ انسانوں کے گروہوں پر قرآن کے کچھ حقوق لازم کر دیے جائیں۔

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ایک بار خطبے میں) ارشاد فرمایا :” یہ کتاب الہی( تمہارے ہاتھوں میں ) اللہ تعالی کی رسی ہے ، جس نے اسکی اتباع کی وہ راہ ہدایت پر گامزن رہا اور جس نے اسے چھوڑ دیا اس نے راہ ضلالت اختیار کی”(صحیح مسلم)۔معلوم ہوا قرآن حکیم اللہ تعالیٰ کا وہ حقیقی کلام ہے جو اس کے بندوں کی طرف نازل کیا گیا ہے،اب جو شخص اور قوم اس کو مضبوطی سے تھامے گی وہ کامیاب ٹھہرے گی اور جواس کو پس پشت ڈالے گا وہ ہلاک ہو جانے والا ہے۔

اسی بات کاتذکرہ کرتے ہوئے اللہ کے رسولۖ نے حج الوداع کے موقعہ پر ایک عظیم مجمع کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا:”میں تمہارے درمیان وہ چیز چھوڑ رہا ہوں کہ اگر اسے مضبوطی سے تھامے رہے تو کبھی بھی گمراہ نہیں ہو گے، i) اللہ کی کتاب اورii) اسکے نبیۖ کی سنت”۔ یہ کتابِ عظیم یقینا ہماری ہدایت کی ضامن ہے لیکن ساتھ ہی شرط یہ ہے کہ اس کے حقوق و آداب کو ملحوظ رکھا جائے۔قرآن کے پانچ اہم حقوق ہیں، جن کا جاننا اور ان پر عمل کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے۔

پہلا حق اس پر ایمان لانا ہے:ہر شخص پر واجب ہے کہ اس کتاب کے کلام الہی ہونے اور رہتی دنیا تک تمام لوگوں کیلئے کتاب ہدایت ہونے پر ایمان لائے ۔کہا کہ :” اے لوگو جو ایمان لائے ہو، ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اس کتاب پر جو اللہ نے اپنے رسول پر نازل کی ہے اور ہر اس کتاب پر جو اس سے پہلے وہ نازل کر چکا ہے۔ جس نے اللہ اور اس کے ملائکہ اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں اور روزِ آخرت سے کفر کیا وہ گمراہی میں بھٹک کر بہت دور نکل گیا۔”( سورة النساء :١٣٦)۔ ایمان لانے کا ایک مطلب یہ ہے کہ آدمی انکار کے بجائے اقرار کی راہ اختیار کرے ، نہ ماننے والوں سے الگ ہو کر ماننے والوں میں شامل ہو جائے اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ آدمی جس چیز کو مانے اْسے سچے دل سے مانے۔ پوری سنجیدگی اور خلوص کے ساتھ مانے۔

AL Quran
AL Quran

اپنی فکر کو، اپنے مذاق کو ،ا پنی پسند کو ، اپنے رویّے اور چلن کو، اپنی دوستی اور دْشمنی کو ، اپنی سعی و جہد کے مصرف کو بالکل اْس عقیدے کے مطابق بنالے جس پر وہ ایمان لایا ہے۔ آیت میں خطاب اْن تمام مسلمانوں سے ہے جو پہلے معنی کے لحاظ سے ”ماننے والوں” میں شمار ہوتے ہیں۔ اور ان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ دْوسرے معنی کے لحاظ سے وہ سچے مومن بن جائیں۔اسی کے ساتھ یہ بات بھی ایمان کی متقاضی ہے کہ یہ کتاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تیئیس سالہ نبوی زندگی پر محیط ہے،یہ کتاب آج بھی بغیر کسی کمی اور زیادتی کے اسی حالت میں ہمارے ہاتھوں میں موجود ہے جس طرح یہ پہلی دفع نازل ہوئی تھی۔

اس میں مذکور ہر چیز کی تصدیق کی جائے ، ہر حکم اور ہر نہی کو حق اور عدل و انصاف پر مبنی برحق مانا جائے نیز اسمیں جو چیز حلال ہے اسے حلال اور جو چیز حرام ہے اسے حرام سمجھا جائے،نیز اس کتاب کوقیامت تک کیلئے کتاب ہدایت سمجھا جائے ۔ یہ کتاب آخری رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم پر نازل ہونے والی آخری کتاب اللہ ہے لہذااب اسے کسی نبی کی تعلیم منسوخ نہیں کرسکتی ۔

دوسرا حق اس کی تلاوت ہے: ایمان کالازمی تقاضہ ہے کہ اس کتاب کو پڑھا جائے۔کس طرح پڑھا جائے؟ کہا کہ : “جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے، وہ اْسے اس طرح پڑھتے ہیں جیسا کہ پڑھنے کا حق ہے۔ وہ اس پر سچّے دل سے ایمان لاتے ہیں۔ اور جو اس کے ساتھ کفر کا رویہّ اختیار کریں، وہی اصل میں نقصان اْٹھانے والے ہیں” ( سورة البقرة : ١٢١)۔مزید کہا کہ :” اس قرآن کو ہم نے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے تاکہ تم ٹھہر ٹھہر کر اسے لوگوں کو سْناو”(بنی اسرائیل:١٠٢)۔اسی طرح ایک اور موقع پر ارشاد فرمایا:”اور قرآن کو خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو”(المزمّل:٤)۔مولانا مودودی اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:” یعنی تیز تیز رواں دواں نہ پڑھو، بلکہ آہستہ آہستہ ایک ایک لفظ زیاد سے ادا کرو اور ایک ایک آیت پر ٹھیرو، تاکہ ذہن پوری طرح کلام الہی کے مفہوم و مدعا کو سمجھے اور اس کے مضامین سے متاثر ہو۔
کہیں اللہ کی ذات و صفات کا ذکر ہے تو اس کی عظمت و ہیبت دل پر طاری ہو۔ کہیں اس رحمت کا بیان ہے تو دل جذباتِ تشکر سے لبریز ہو جائے۔ کہیں اس کے غضب اور اس کے عذاب کا ذکر ہے تو دل پر اس کا خوف طاری ہو۔ کہیں کسی چیز کا حکم ہے یا کسی چیز سے منع کیا گیا ہے تو سمجھا جائے کہ کس چیز کا حکم دیا گیا ہے اور کس چیز سے منع کیا گیا ہے۔ غرض یہ قرات محض قرآن کے الفاظ کو زبان سے ادا کر دینے کے لیے نہیں بلکہ غور و فکر اور تدبر کے ساتھ ہونی چاہیے”(تفہیم القرآن)۔ رسولۖ اللہ کی قرات کا طریقہ حضرت انس سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ آپ الفاظ کو کھینچ کھینچ کرپڑھتے تھے۔ مثال کے طور پر انہوں نے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر بتایا کہ آپ اللہ ، رحمان اور رحیم کو مد کے ساتھ پڑھا کرے تھے۔

(بخاری) حضرت ام سلمہ سے یہی سوال کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ حضورۖ ایک ایک آیت کو الگ الگ کر پڑھتے اور ہر آیت پر ٹھیرتے جاتے تھے، مثلاً الحمد للہ رب العلمین پڑھ کر رک جاتے، پھر الرحمن الرحیم پر ٹھیرتے اور اس کے بعد رک کر ملک یوم الدینکہتے (مسند احمد۔ ابو داؤد۔ ترمذی۔ نسائی)۔حضرت حذیفہ بن یمان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں رات کی نماز میں حضورۖ کے ساتھ کھڑا ہو گیا تو آپ کی قرات کا یہ انداز دیکھا کہ جہاں تسبیح کا موقع آتا وہاں تسبیح فرماتے، جہاں دعا کا موقع آتا وہاں دعا مانگتے ، جہاں اللہ تعالی کی پناہ مانگنے کا موقع آتا وہاں پناہ مانگتے (مسلم، نسائی)۔

حضرت ابوذر کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ رات کی نماز میں جب حضورۖ اس مقام پر پہنچے ان تعذبھم فانھم عبادک و ان تغفرلھم فانک انت العزیز الحکیم (اگر تو انہیں عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں، اور اگر تو ان کو معاف فرما دے تو تو غالب اور دانا ہے) تو اسی کو دہراتے رہے یہاں تک کہ صبح ہو گئی (مسند احمد، بخاری)۔معاملہ یہ ہے کہ قرآن کو سمجھ کر پڑھنے سے پڑھنے والے میں یکسر تبدیلی آجاتی ہے۔لیکن ہائے افسوس ! کہ آج ماہ ِقرآن یعنی رمضان المبارک میں قرآن کے ساتھ ہم کس قدر ظلم کر رہے!ضرورت ہے کہ قرآن کو ویسے ہی پڑھا جائے جیسا کہ اس کو پڑھنے کا حق ہے۔

تیسرا حق اس پر عمل ہے:کتاب پر ایمان لے آئے، اس کا مطالعہ بھی کیا، اب لازم آتا ہے کہ اس پر عمل بھی کیا جائے۔کیونکہ ایمان اورعلم رکھنے کے باوجوداگر عمل نہ کیا تو حامل قرآن کی مثال بھی ان ہی لوگوں جیسی ہوگی جن کا تذکرہ فرماتے ہوئے کہا کہ:”جن لوگوں کو توراة کا حامل بنایا گیا تھا مگر انہوں نے اس کا بار نہ اٹھا یا، ان کی مثال اس گدھے کی سی ہے جس پر کتابیں لدی ہوئی ہوں۔”(الجمعة:٥)۔اس آیت کے عام معنی یہ ہیں کہ جن لوگوں پر توراة کے علم وعمل، اور اس کے مطابق دنیا کی ہدایت کا بار رکھا گیا تھا، مگر نہ انہوں نے اپنی اس ذمہ داری کو سمجھا اور نہ ہی اس کا حق ادا کیا۔

مثال میں گدھے کا تذکرہ کیا ، یعنی جس طرح گدھے پر کتابیں لدی ہوں اور وہ نہیں جانتا کہ اس کی پیٹھ پر کیا ہے ، اسی طرح یہ توراة کو اپنے اوپر لادے ہوئے ہیں اور نہیں جانتے کہ یہ کتاب کس لیے آئی ہے اور ان سے کیا چاہتی ہے۔صورت واقعہ یہ ہے کہ آج حامل قرآن بھی اس سے کچھ مختلف نظر نہیں آتے ،قرآن پڑھتے اور پڑھاتے ہیں اس کے باوجود ان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے مختلف شعبہ حیات میں اسلامی زندگی کا رنگ نہیں جھلکتا۔یہ پہلو قابل توجہ ہے، خاص کر اِس موقع پر جبکہ رمضان المبارک کے موقع پر قرآن سننے ،پڑھنے اور پڑھانے کا سلسلہ بڑے پیمانہ پر عمل میں آتاہے۔

چوتھا حق اس پر تدبر و تفکر ہے:قرآن کہتا ہے:”ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے آگ روشن کی اور جب اْس نے سارے ماحول کو روشن کردیا تو اللہ نے ان کا نورِبصارت سلب کرلیااور انہیں اس حال میں چھوڑدیاکہ تاریکیوںمیں انہیں کچھ نظر نہیں آتا۔ یہ بہرے ہیں،گونگے ہیں، اندھے ہیں،یہ اب نہ پلٹیں گے۔یا پھر ان کی مثال یوںسمجھو کہ آسمان سے زور کی بارش ہورہی ہے اور اس کے ساتھ اندھیر ی گھٹا اور کڑک اور چمک بھی ہے، یہ بجلی کے کڑاکے سْن کے اپنی جانوں کے خوف سے کانوںمیں اْنگلیاں ٹھونسے لیتے ہیں اور اللہ ان منکرین حق کو ہر طرف سے گھیرے میں لیے ہوئے ہے۔

چمک سے ان کی حالت یہ ہو رہی ہے کہ گویا عنقریب بجلی اِن کی بصارت اْچک لے جائے گی۔جب ذرا کچھ روشنی انہیں محسْوس ہوتی ہے تو اس میں کچھ دْور چل لیتے ہیں اور جب ان پر اندھیرا چھا جاتا ہے تو کھڑے ہو جاتے ہیں”(البقرہ:٢٠-١٧)۔اور کہا کہ:” یہ ایک بڑی برکت والی کتاب ہے جو (اے محمدۖ) ہم نے تمہاری طرف نازل کی ہے تاکہ یہ لوگ اس کی آیات پر غور کریں اور عقل و فکر رکھنے والے اس سے سبق لیں “(سورة ص:٢٩)۔مزید فرمایا:”کیا اِن لوگوں نے قرآن پر غورنہیں کیا ، یا دلوں پر اْن کے قفل چڑھے ہوئے ہیں؟”(محمد:٢٤)۔سوال یہ اٹھتا ہے کہ یہ اور اس طرح کی مثالیں کیوں دی گئیں ہیں؟ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم قرآن کی ہر ہر آیت پر رک رک کرتدبر و تفکر کریں، اپنا اور حالات کا جائزہ لیں اور فکر و عمل کی راہ کو صحیح خطوط پر متعین کر لیں۔

پانچواں حق اس کی تعلیم و تبلیغ ہے:ان تمام باتوں کے بعد قرآن کا اگلا حق یہ ہے کہ اس کے پیغام کو عام کیا جائے۔اللہ کے    رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم فرماتے ہیں:” تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے”(صحیح بخاری)۔اور اللہ تعالیٰ متنبہ کرتا ہے کہ:” ایسا کبھی نہ ہونے پائے کہ اللہ کی آیات جب تم پر نازل ہوں تو کْفّار تمہیں اْن سے باز رکھیں۔ اپنے ربّ کی طرف دعوت دو اور ہرگز مشرکوں میں شامل نہ ہو اور اللہ کے سوا کسی دْوسرے معبْود کو نہ پکارو۔ اْس کے سوا کوئی معبْود نہیں ہے۔ ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے سوائے اْس کی ذات کے۔ فرماں روائی اسی کی ہے اور اسی کی طرف تم سب پلٹائے جانے والے ہو” (القصص:٨٨-٨٧)۔ یہ باتیں کافی ہیں ان لوگوں کے لیے جو ماہ رمضان میں رمضان کے حقوق ادا کرنے کا عہد مصمم کرکے میدان ِ عمل میں سعی و جہد کے لیے خود کو تیار کرچکے ہیں۔پس یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے دنیا و آخرت کی کامیابی لکھ دی گئی ہے۔تحریر:محمد آصف اقبال

 

Share this:
Tags:
muslims ramadan رمضان صراط مستقیم قرآن
gwadar attack
Previous Post گوادر : کوسٹ گارڈز کے کیمپ پر حملہ،7 اہلکار شہید ہوگئے
Next Post ملتان : قومی اسمبلی میں بھائیوں کی تیسری جوڑی
gilani brothers

Related Posts

Irfan Khan

نئی بالی ووڈ فلم ’قریب قریب سنگل‘ اگلے مہینے ریلیز ہو گی

October 18, 2017

الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کے تحت یتیم بچوں کے ادارے ”آغوش مری“ کے ہاسٹل بلاک کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی

December 12, 2016
Nawaz Sharif

نواز شریف نے طالبان سے بات چیت کا ارادہ ترک کردیا، امریکی ذرائع

September 24, 2013

برسات میں عوام کو حادثات پریشانی اور ٹریفک جام سے بچانے کے اقدامات کئے جائیں

June 17, 2013
Rawalpindi

راولپنڈی: امام بارگاہ کے نزدیک خودکش دھماکا، 3 جاں بحق، 8 زخمی

December 18, 2013

وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان سے برطانوی وزیر خارجہ کی ملاقات

September 22, 2015
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close