Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
March 8, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

سقوط ڈھاکہ ….مقصدِ تخلیق سے انحراف کی سزا

December 13, 2011 0 1 min read
pakistan
pakistan
pakistan

میجر خلیل احمد مرزا لکھتے ہیں کہ ”شام سات بجے کے قریب یونٹ کی طرف سے حکم ملا کہ تمام کمپنیاں پیچھے آجائیں،لڑائی ختم ہوگئی ہے،جنرل نیازی نے ہتھیار ڈالنا منظور کرلیا ہے، چنانچہ پنجاب رجمنٹ کے کمپنی کمانڈر اور میں نے مل کر فیصلہ کیا کہ اپنے ہتھیار دشمن کے حوالے نہیں کریں گے، ہم نے اپنی رائفلیں اور ایمونیشن ایک بوری میں لپیٹ کر ایک بڑے درخت کے نیچے گڑھا کھود کر دبادیا،اْس وقت میری آنکھوں سے آنسو جاری تھے …آہ…ہمیں یہ ذلت بھی دیکھنا تھی،دل و دماغ میں ایک طوفان سا اٹھ رہا تھا کہ یہ کیا ہوگیا…ہماری آئندہ نسلیں ہمارے متعلق کیا خیال کریں گی،پاکستان کا ایک حصہ دشمن نے ہم سے علیحدہ کردیا …تاریخ میں ہندوستان کی کامیابی اور ہماری ناکامی کا ذکر ہوگا۔”قارئین محترم !سولہ دسمبر 1971ء کو آج40برس ہونے کو آئے ہیں لیکن محب وطن پاکستانیوں کے دلوں میں میجر خلیل احمد مرزا کی طرح سقوط ڈھاکہ کے زخم آج بھی تازہ ہیں، سانحہ مشرقی پاکستان ہماری قومی زندگی کا ایک ایسا المیہ ہے، جسے 40سال گزرنے کے بعد بھی پاکستان کے غیور اور باشعور عوام اپنے ذہنوں سے بھلا نہیں پائے،اْن کے سینوں میں اپنے مشرقی بازو کی علیحدگی کاغم ایک لاوے کی طرح دہک رہا ہے۔ سولہ دسمبر 1971ء کا دن اپنے پیچھے ایک ایسی لمبی داستان رکھتا ہے،جس میں اپنوں اور بیگانوں کی سالوں کی پلاننگ اور وہ سازشیں پوشیدہ ہیں،جنھوں نے مشرقی پاکستان کے مسلمانوں میں تعصب،محرومی اور احساس کمتری کو اِس حد تک پروان چڑھایا کہ اُس کے نتائج سقوط ڈھاکہ پرمنتج ہوئے،گو کہ اِس المیے کے کئی تکلیف دہ پہلو ہیں،لیکن دو پہلو سب سے زیادہ کربناک تھے،ایک تو یہ کہ ہمیں ہندؤ بنیۓ کے ہاتھوں ایک ایسی فوجی شکست( جس میں ہماری 90ہزار فوج کو ہتھیار ڈالنا پڑے) کا سامنا کرنا پڑا ،جس کی مثال دوسری جنگ عظیم کے بعد نہیں ملتی اور دوسرے پاکستان کی نصف سے زیادہ آبادی والا حصہ ہم سے علیحدہ ہوگیا،یوں پاکستان اپنے قیام کے 24سال بعد ہی دو ٹکڑوں میں تقسیم ہوگیا،تاریخ اسلام میں ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا تھا کہ ایک سلطنت ٹوٹ کر دو علیحدہ علیحدہ مملکتوں میں تقسیم ہوئی ہو لیکن وطن عزیز پاکستان کی دو حصوں میں تقسیم اِس لئے ناقابل فہم اور تکلیف دہ اَمر تھی کہ یہ سرزمین دنیا میں ریاست مدینہ کے بعد اسلام کے نام پر وجود میں آنے والی پہلی سرزمین تھی جو مسلمانان برصغیر کی طویل ،صبر آزما کٹھن جدوجہد اور بے پناہ قربانیوں کے بعد حاصل کی گئی تھی اورجس کی مثال تاریخ عالم میں نہیں ملتی،قیام پاکستان کی کہانی ایک ایسی لہو لہو دستاویز ہے جس کا ہر صفحہ غیرت مندبوڑھوں،حریت پسندنوجوانوں،معصوم بچوں اور عفت مآب ماؤں بہنوں اور بیٹیوں کے خون سے رنگین ہے،گنگا،جمنا،گھومتی ، گھاگرا، نربدا، ستلج، بیاس، راوی، چناب سے لے کرجہلم تک وہ کون سا دریا تھا جو مسلمانوں کے خون سے لہو رنگ نہیں تھا،ہرطرف آگ تھی،شور تھا،آہ بکا اور چیخ و پکار تھی،چشم فلک آج بھی گواہ ہے کہ کس طرح لاکھوں مسلمان چھوٹے بڑے ڈیروں میں حفاظت اور سلامتی کے خاطر سکڑے سمٹے بیٹھے تھے،یا پر آشوب راستوں پر خاک و خون میں لتھڑے ہوئے اپنی نئی منزل پاکستان کی جانب اُس وقت بھی گامزن تھے،جب ہندؤ اور سکھ بلوائی چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے کہ ”جو مانگے کا پاکستان ،اْس کو ملے گا قبرستان”لیکن پھر بھی یہ قافلہ آگ و خون کے دریا عبور کرکے14اگست 1947ء کو قائد اعظم محمد علی جناح کی ولولہ انگیز قیادت میں اپنی منزل مراد پاکستان تک پہنچ ہی گیا۔اَمر واقعہ یہ ہے کہ تخلیق پاکستان کو ہندوؤں اور مسلمانوں نے اپنے اپنے مخصوص نظریئے سے دیکھا،مسلمانوں کے نزدیک پاکستان کا قیام ایک عظیم کامیابی کی حیثیت رکھتا تھا، جبکہ اِس موقعہ پر ہندوؤں کا ردعمل ذلت و شکست اور توہین و اہانت کے احساسات سے مملو تھا،ہندوؤں کی یہی کوشش تھی کہ ہندوستان تقسیم نہ ہو اور سارے خطے پراْن کی حکمرانی ہو،جبکہ مسلمانوں کے دل احساس تشکر اور طمانیت کے جذبوں سے سرشار تھے کہ اْن کی جدوجہد بار آور ثابت ہوئی، مگر ہندؤ تاریخ کے اِس فیصلے کو کسی طور بھی قبول کرنے پر آمادہ نہیں تھے،وہ اِس نقصان کا ازالہ کرنے کا تہیہ کرچکے تھے،چونکہ پاکستان جغرافیائی لحاظ سے ایک وحدت نہیں تھا،یہ دنیا کا واحد منفرد ملک تھا جس کے دونوں بازؤں کے درمیان ایک ہزار میل کا فاصلہ تھا،درمیان میں دشمن کا علاقہ واقع تھا اور سوائے مذہب اور مشترکہ جدوجہد آزادی کے دونوں کے درمیان کوئی قدر مشترک نہیں تھی،صرف ایک دین اسلام ہی تھا جو دونوں بازؤں کو ایک وحدت،ایک لڑی اور ایک زنجیر میں باندھ سکتاتھا اور پاکستانی قوم کو یک جہتی و استحکام دے سکتا تھا،ہمارادشمن اچھی طرح جانتا تھا کہ جب تک یہ تعلق یہ رشتہ مضبوط ہے۔
پاکستان توانا و مضبوط اورمتحد و مستحکم رہے گا،جہاں یہ رشتہ کمزور ہوا پاکستان کمزور ہوجائے گا،چنانچہ پاکستان دشمنوں نے قیام پاکستان کے بعدسے مشرقی پاکستان میں نسلی،لسانی اور صوبائی و علاقائی نفرت و عصبیت کو پروان چڑھانا شروع کردیا،رہی سہی کسر ہمارے حکمرانوں کی ناعاقبت اندیش پالیسیوں نے پوری کردی،بقول زیڈ اے سلہری ”اْن(حکمرانوں) کی پالیسیوں نے ملک کو افسوسناک طور پر تقسیم کردیا” جس کا منطقی نتیجہ متحدہ پاکستان کے خاتمے کی شکل میں ہمارے سامنے آیا۔
یہ حقیقت ہے کہ” جو قوم اپنی تاریخ کو فراموش کردیتی ہے،اْس کا جغرافیہ اْسے فراموش کردیا ہے ”زندہ قومیں اپنے ماضی اور حال پر تنقید کرکے مستقبل کو روشن کو کرتی ہیں،کسی قوم کے ذہنی طور پر بالغ ہونے کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ وہ خود اپنے آپ کو اپنے ماضی اور حال کو تنقید کا موضوع بنائے اور اگر خود میں کوئی خامی نظر آئے تو اْس کی ذمہ داری دوسرے افراد یا کسی دوسری قوم پر ڈالنے کے بجائے یہ معلوم کرنے کوشش کرے کہ اِس شکست و ریخت میں خود اُس کا اور اُس کی قوم کے دیگر افراد کا کیا کردار ہے،زندہ قومیں اِس قسم کے تجزیئے اور تنقید سے اہم نتائج اخذ کرتی ہے اور ماضی و حال کی خامیوں اور غلطیوں سے آگاہ ہوکر اپنے مستقبل کیلئے صحیح راستے تلاش کرتی ہیں،وہ کوشش کرتی ہیں کہ اگر تاریخی عوامل نے انہیں شکست و زوال کی منزل پر کھڑا کر بھی دیا ہے تو مزید تباہی و بربادی کا راستہ اختیار نہ کیا جائے بلکہ قومی سلامتی و بقاء کی نئی راہیں تلاش کی جائیں،تاریخ گواہ ہے کہ سمجھدار قومیں اپنی ناکامیوں کو حرز جان نہیں بناتیں بلکہ اْن کے اسباب و علل کو ہمیشہ سامنے رکھتی ہیں اور اْن سے سبق سیکھتے رہنے کا داعیہ اْن میں کبھی بھی ختم نہیں ہوتا۔یہی ایک زندہ اور توانا قوم کی شناخت و علامت ہے ،آج 40برس گزر جانے کے بعد اِس بحث سے قطع نظر کہ ہم نے اپنی ناکامی کے اسباب سے کتنا سبق سیکھا ہے،کتنا نہیں۔
ہم اِس حقیقت کبریٰ کے اصولی و عملی تقاضوں کو ہرگز ہرگز فراموش نہیں کر سکتے کہ پاکستان اسلام کے نام پر اور اسلام کی خاطر حاصل کیا گیا تھا،یہ مملکت خدا داد خالصتاً جمہوری جدوجہد کے بعد اِس مقصد کیلئے حاصل کی گئی تھی کہ یہاں مسلمان دین اسلام کے عملی تقاضوں کی روشنی میں اپنی زندگی بسر کریں گے اور اقتصادی ومعاشی ترقی و خوشحالی کی منزلیں طے کریں گے،یہی وہ واضح اور بنیادی فرق تھا، جس کی اساس تاریخ ،جغرافیے اور معدنی وسائل کی تقسیم پر نہیں بلکہ دو قومی نظریئے کے منفرد نظریاتی تشخص پر رکھی گئی تھی،جسے ہمارے ارباب اختیار آج پھولوں کے ہاروں سے مٹانے کی یک طرفہ سعی ناکام کر رہے ہیں،وہ بھول رہیہیں کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے 1948ء میں اسلامیہ کالج پشاور کے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے قیام پاکستان کے اصل محرک کو واضح کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ ”ہم نے پاکستان کا مطالبہ ایک زمین کا ٹکڑا حاصل کرنے کیلئے نہیں کیا تھا بلکہ ہم ایک ایسی تجربہ گاہ حاصل کرناچاہتے تھے،جہاں ہم اسلام کے اصولوں کو نافذ کرسکیں۔”
مقصد واضح تھا تحریک پاکستان کے رہنماؤں اور مفکروں کے ذہن و فکر میں کوئی الجھن نہ تھی،ہندوستان میں بسنے والے مسلمانوں کے دل و دماغ میں کوئی ابہام نہیں تھا،لیکن آج 64برسوںکے بعد بھی ہم پاکستان کو اسلامی نظام کی تجربہ گاہ اور قرآن و سنت کی روشن تعلیمات کی آماجگاہ نہیں بناسکے،منطقی نتیجہ سقوط ڈھاکہ کے دلدوز سانحے کی شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے،ہماری اسی کمزوری کا فائدہ آج دشمن ایک بار پھر اٹھانا چاہتا ہے، وہ بلوچستان،سرحداور آزاد قبائلی علاقوں میں قومی،لسانی اور علاقائی عصبیت کو فروغ د ے کر پاکستان کی وحدت اور سا  لمیت کو نقصان پہنچانے کے درپے ہے ، وہ بلوچستان میں وہی کھیل کھیل رہا ہے جو بنگلہ دیش بننے کا محرک بنا تھا،اِس وقت ملک کی مجموعی صورتحال یہ ہے کہ ہم نوع بہ نوع مسائل میں گھرے ہوئے ہیں ۔
نائین الیون کے بعد امریکہ کا ساتھ دینے کے باعث قوم مایوس،شکستہ دلی اور مردنی کا شکار ہے،ایٹمی طاقت اور بہترین جغرافیائی محل وقوع رکھتے ہوئے بھی ہمارا حال یہ ہے کہ ہمارے اناج پر زندہ رہنے والا افغانستان جیسا ملک ہم پر دراندازی کے الزامات لگاتا اور ہم پر حملے کی دھمکیاں دیتا ہے،پورا ملک امریکی کالونی بنا ہوا ہے،امریکی عمال حکمرانوں کیلئے احکامات و ہدایت نامے لیے دندناتے پھرتے ہیں،بات بات پربھارت ہمیں آنکھیں دکھاتا ہے،کھلے عام ہماری سرحدوں کی خلاف ورزی کی جارہی ہے،امریکہ،اسرائیل اور اُس کے حواریوں کی سرپرستی میں بھارتی قیادت کے جارحانہ بیانات،اُس کی جنگی تیاریاں، اُس کے خطرناک عزائم کی نشاندہی کررہے ہیں۔
ہمارے حکمراںہیں کہ بھارت جیسے ازلی دشمن سے محبت کی پنگیں بڑھارہے ہیں،دوستی اور پسندیدہ ملک قرار دینے کے راگ الاپ رہے ہیں اور ملک کو قوم کو دھوکہ دینے کیلئے  ”بھارت سے کوئی خطرہ نہیں،ملک کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے،بیرونی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا گا۔” جیسے زبانی بیانات کے گولے داغ رہے ہیں، دوسری طرف ہمارے مدارس، مذہبی تنظیمیں، دینی شخصیات اور ہمارا مذہبی تشخص ہر سنگ اور تیر دشنام کا نشانہ بنا ہوا ہے،مغربی تہذیب و اقدار کو سرکاری سرپرستی دی جارہی ہے اور استعماری دباؤ پر مدارس،رفاعی اور فلاحی اداروں پر پابندی لگائی جارہی ہے،حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا یہ منظر نامہ کسی طور پر بھی خوش آئند نہیں ،آج وہ پاکستان گہری دھند میں لپٹتا جارہا ہے،جس کے خدوخال 64سال پہلے قربانیوں کی لازوال تاریخ رقم کرنے والوں کی آنکھوں کو لو دیتے تھے،لیکن اہل ایمان مایوس نہیں ہیں،پاکستان پر اللہ کریم کا خصوصی فضل و کرم تھا ،ہے اورانشاء اللہ ہمیشہ رہے گا، پاکستان ہمیشہ قائم و دائم رہے گا، صرف ضرورت اِس اَمر کی ہے کہ ہمارے رہنما، سیاسی قائدین، پالیسی ساز ادارے اور حکمران اِس حقیقت کا احساس کرلیں کہ اسلام کے نام پر قائم ہونے والی ریاست کو اپنی سلامتی و بقا ء اور استحکام کیلئے اسلامی نظام کی کارفرمائی درکار ہے۔
یہی وہ حقیقت ہے جس کا ادراک ارض ِپاک کیلئے اپنا سب کچھ قربان کرنے والے مجاہدوں اور مسلمانان برصغیر کی تمناؤں کے چراغ کو روشن رکھ کرموجودہ پاکستان کو مزید تقسیم سے بچاسکتا ہے،ہمیشہ قائم و دائم رکھ سکتا ہے اور دشمنان ِدین و ملت کے ناپاک مذموم عزائم کو خاک میں ملا سکتا ہے۔ تحریر:محمد احمدترازیmahmedtarazi@gmail.com

Share this:
Tags:
government India Pak Army pakistan امریکہ برصغیر پاکستان
us congress
Previous Post سپلائی لائن کی معطلی امریکہ کو مہنگی پڑ رہی ہے، سینیٹر لوگر
Next Post صوبے کے وسائل پر صوبے کے عوام کا حق ہے،آئی جی ایف سی
ubaidullah khan

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close