Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
March 8, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

قائد اعظم محمد علی جناح کی شخصیت

December 24, 2011 0 1 min read
Quaid e Azam
Quaid e Azam
Quaid e Azam

قائد اعظم محمد علی جناح  اور سر سید احمد خان کی شخصیات میں کئی باتیں مشترک دیکھی جا سکتی تھیں۔مثلاََابتداء میں سر سید احمد خان ہندو مسلم اتحاد کے زبردست حامی تھے مگر بعد کے حالات نے جداگانہ قومیت کے تصور کی انتہا کو پہنچا دیا.بالکل یہی کیفیت جناح بھی تھی….اسی طرح جداگانہ قومیت کے تصور کی ابتداء سر سید احمد خان نے کی تو اس کو انتہا تک مسٹر جناح پہنچایا۔مگر اس کی وجہ ہندووں کی جارحانہ پالیسی تھی۔یہ قائد اعظم کی سر سید احمد سے عقیدت ہی تو جس کی بنا پر انہوں اپنی 30مئی1939 کواپنی وصیت میں تحریر کیا کہ میں اپنی جائداد کا کچھ حصہ علی گڑھ یونیورسٹی،پیشاور کے اسلامیہ کالج اور اپنی پہلی درسگاہ سندھ مدرسةالاسلام کے نام کرتا ہوں۔اس وصیت کو قائد اعظم نے پاکستان بننے کے بعد بھی جوں کا توں رکھا۔1900میں محمد علی جناح بمبئی میں پریذیڈینسی مجسٹر یت کے عہدے پر چھ ماہ تک کام کرنے کے بعد وکالت کی دنیا میں سچائی اور ایمانداری کے ذریعے ایسا نام کمایا کہ آج کا وکیل اُس مقام تک پہنچ ہی نہیں سکتا ہے۔        اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ جناح مغرب میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنے اندر سیکولرمزاج جناح لے کر آئے تھے اور اُن کا واسطہ بھی سیکولر مزاج کے سیاست دانوں سے ہی پڑا مسٹر گوکھلے ،سریندر ناتھ بنر جی،بدر الدین طیب جی اور دادا بھائی نورو جی جیسے مخلص سیکولر مزاج سیاست دانوںسے ہی پڑا۔یہ رہنما نوجوان جناح کوان کی قابلیت کی وجہ سے بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ اس ماحول میںقائد اعظم نے کانگرس کی رکنیت حاصل کرنا اپنے لئے ضروری سمجھا۔عجب اتفاق تھاکہ جس سال1906میں قائد اعظم کانگرس کی رکنیت حاصل کرتے ہیں اُسی سال مسلم لیگ جس کا بار گراں وہ اپنے کندھوں پراٹھانے والے تھے وجود میں آتی ہے۔1909میںقائد اعظم کو ان کی سیاسی نصیرت اور قابلیت کی بناء پروائسرائے کی کونسل کا رکن منتخب کر لیا گیا۔جہاں انہوں نے ایک پالیمنٹیرین کی حیثیت سے اپنی قابلیت کا لوہا منوا لیا۔سے ایک اسلامی بل وقف اُلالاولادکو اپنی ماہرانہ بحث کے نتیجے میں پاس کرا کے اُس وقت نام پید اکیا جب سیاست کے میدان بڑے بڑے لوگ منہ تکا کرتے تھے۔اس بل کے پاس ہونے سے جناح کی اسلامی قوانین پر گرفت کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی اسلامی قوانین پر گہری نظر تھی۔جناح کی سیاست کا یہ وہ دور تھا جب ابھی گاندھی اور نہرو طفلِ مکتب تھے اور سیاست سے ان دونوں کا دور کا بھی واسطہ نہ تھا۔ قائد اعظم اس وقت تک سیاست میں بڑا نام پیداکر چکے تھے۔ 1910سے قائد اعظم نے مسلم لیگ کے اجلاسوں بھی  شرکت کرنا شروع کر دی تھی لہٰذا 10، اکتوبر1913کوسر وزیر حسن اور مولانا محمد علی جوہرکے اصرار پرقائد اعظم محمد علی جناح نے مسلم لیگ کی رکنیت حاصل کی۔ اس وقت قائد اعظم بیک وقت دو سیاسی جماعتوں سے وابستہ تھے ۔ اس وقت وہ ہندو مسلم اتحاد کے بہت بڑے داعی تھے۔مگر مسلم لیگ میں شمولیت کے بعد انہیں آہستہ آہستہ مسلمانوں کے مسائل اور   ہندو ذہنیت کا بھی بخوبی اندازہ ہونا شروع ہوگیا ۔         محمد علی جناح ہندو مسلم اتحاد کے بہت بڑے علمبرکے طور پر نمودارہوے تھے۔کانگرس میںجہاں مسلم لیگ کا نام تک سننا پسند نہیں کیا جاتا تھا۔جناح کی کوششوں سے مسلم لیگ کے ساتھ ایک ہی پلیٹ فارم پر1916 میں نا صرف اکٹھا ہوگئی ،بلکے مسلمانوں کے کئی ایسے مطالبات بھی معاھدہ لکھنئو کی شکل میں ماننے کو تیا ہوگئی۔ جن کو کانگرس سننا تک گوارا نہ کرتی تھی۔ یہ قائد اعظم کی شخصیت کا سحر ہی تھا کہ جس نے کانگریسیوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔اب گاندھی نے افریقہ میں اپنی سیاسی ناکامی کے بعد ہندوستاں وکا رُخ کیا توانہوںنے ہندو سیاست میں اپنے آپ کو فٹ پایا۔1919میں حکومت برطانیہ نے پارلیمنٹ میں ایک بل رولیٹ ایکٹ کے نا م سے پاس کرالیاتاکہ حکومت کے خلاف ہندوستانیوں کی سر گرمیوں کی روک تھام کی جاسکے اور اپنے مخالفین کو بغیر مقدمہ چلائے پابند ِسلاسل کرنے میں رکاوٹ نہ رہے ۔اس ایکٹ کی وجہ سے قائد اعظم نے وائسرئے کی کونسل سے فوراََ ہی استعفیٰ دیدیا۔        یہ بات سب بخوبی جانتے تھے کہ جناح ایک قانون پسندشخصیت تھے۔جو ہر ایسے عمل کی شدت سے مخالفت کرتے تھے جو قانون کے منافی ہوتا تھا۔جیسے جیسے وقت گذر رہا تھاہندو طبقے کی مسلمانوں کے خلاف ریشہ دوانیاں دن بدن بڑھتی ہی جا رہی تھیں۔دوسری جانب گاندہی قائد اعظم کو کانگرس میں برداشت کرنے کو تیار نہ تھے۔ان تمام حالات کی بناء پر1920میں ناگپورکانگرس اجلاس میںجس وقت گاندھی کی طرف سے عدم تعاون کی تحریک منظور کی گئی تو جناح نے اُسی وقت کانگرس کی رکنیت کو خیر باد کہہ دیا۔ اس کے بعد اگست 1928میں نہرو رپورٹ نے مسلمانوں کے مطالبات رد کر دیئے تو کانگرس کی ہٹ دھرمی کا منہ توڑ جواب قائدِ اعظم نے اپنے مشہور چودہ نکات کی شکل میں دے کر بر صغیر کے مسلمانوں کا واضح نکتہء نظر پیش کر کے برطانیہ اور کانگرس پر واضح کر دیا کہ ہندوستان کے مسلمان کسی کی بھی غلامی قبول کرنے کو ہر گز تیار نہیں ہیں۔اس وقت محمد علی جناح اکیلے ہی مسلمانوں کا مقدمہ لڑ رہے تھے۔اور مسلمانوں کو یکجہتی پر آمادہ کر رہے تھے۔تو ایسے وقت میں آج کی طرح بعض مفاد پر ست سیاست دان اپنی اپنی دوکانیں چمکانے پر لگ گئے اور مسلمانوں کے مفادات کا انہیں کوئی خیال نہ رہا تو قائد اعظم نے اسی میں بہتری جانی کہ وہ خود ہی ہندوستان کی سیا ست سے دستبردار ہوجائیں ۔لہٰذا انہوں نے لندن میں مستقل قیام اختیار کر لیا ۔اب ہندوستان کی مسلم سیاست مولانا محمد علی جوہر کے انتقال کے بعدکسی مخلص رہنما کی تلاش میں میں تھی کیونکہ اس وقت مسلمانوں میں سیاسی قیادت کا فقدان تھا ۔         جناح کو ہندوستان واپس لانے کے لئے کئی رہنمائوں نے کوششیں کیںجن نواب زادہ لیاقت علی خان سر وزیر حسن اہم رہنما تھے مگر قائد اعظم کی فوری ہندوستان وپسی کا سب سے اہم محرک رسول اکر م  ۖکا خواب میں دیا جانے والاحکم تھا۔جسکی بازگشت تو بہت پہلے سے سنائی دیتی رہی ہے اورجس کا ذکر محترم ڈاکٹر صفدر محمود نے بھی اپنے ایک مضمون میں بھی ماہ نومبر 2011 میں کیا ہے۔نظریہ پاکستان کونسل اسلام آباد کے ماہنامہ” نظریہ پاکستان” میں گذشتہ دنوں 1944-45میں اپنے دہلی میں قیام کے ضمن میں یاداشتوں کے حوالے سے چوہدری فضل حق نے بتای کہ ان دنوں وہ کبھی کبھی قائد اعظم کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے۔وہیں ان کی ملاقت علامہ شبیر احمد عثمانی سے ہوئی اُن کا کنہنا تھا کہ علامہ کو یہ شرف حاصل تھا کہ وہ جب چاہیں وقت لئے بغیر قائد اعظم سے مل سکتے تھے۔علامہ شبیر احمد عثمانی نے قائد اعظم کی وفات کے بعد بتایاکہ ”قائد اعظم نے انہیں ایک نشست میں بتایا تھا کہ جب وہ لندن میں مقیم تھے تو ایک خواب میں انہیں رسول اکرم ۖکی زیارت ہوئی جس میںآپۖ نے فرمایا کہ ”محمد علی واپس ہندوستان جائو اور وہاں مسلمانوں کی قیادت کرو”قائد اعظم نے یہ خواب سنا کر مولانا شبیر احمد عثمانی کو تاکید فرمائی تھی کہ یہ خواب میری زندگی میں کسی پر آشکارہ مت کرنا ،میں یہ خواب دیکھنے کے فوراََبعد ہندوستان آگیا۔یہی وجہ ہے کہ قائد اعظم نے پاکستان کے نظام میں مغربی جمہوریت کی کئی بار نفی فرمائی۔قائد اعظم کی تقاریر اٹھا کر دیکھ لیں ہمیں ہر بیان میں اسلام اور قرآنی نظام کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ جناح جب تک کانگرس کے رکن رہے سیکولر دکھائی دیتے ہیں اور ہندو مسلم اتحاد کے بھی بڑے داعی دکھائی دیتے تھے۔ مگر حالات کی ستم ظریفی اور ہندووں کے معادانہ رویئے نے انہیں سیکولر جناح سے اسلام پسند جناح بنا دیاجس میں ایک جانب مولانا اشرف علی تھانوی کے شاگردوں کا بہت بڑاہاتھ رہا ہے۔جب قائد اعظم ہندوستان واپستشریف لاتے ہیں توعلماء کی تربیت اور رسول کریم کی ہدایت پر مکمل اسلامی نظریات کے حامل بن جاتے ہیں۔محمد علی جناح مسلم قوم کی شیرازہ بندی کا عزم کرتے ہیں تو پوری ملت اسلامیہ ان کے گرد دکھائی دیتی ہے۔        1937میں قائد اعظم ہندو روئے کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ بات بالکل واضح ہو چکی ہے کہ ہندو ہندوستان کو اپنی جاگیر سمجھتے ہیں۔کانگرس کی موجودہ پالیسی سے ہندو مسلمان نفرت میں اضافہ ہو رہا ہے۔جس سے ہندووں اور مسلمانوں کے درمیان تصادم کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔دوسری جانب گاندھی سادھووں کا لبادہ اوڑھ کر مسلمانوں کو دھوکہ دینے کی جدوجہد میں مصروف دیکھے جا سکتے ہیں۔ 1937 کے انتخابات کے بعد گیاراہ میں سے آٹھ صوبوںمیں اقتدار سنبھالنے کے بعدکانگرس نے مسلمانوں کے ساتھ جو زیادتیاں کیں ان کو قائد اعظم نے بے نقاب کرایا اور جب کانگرس نے اقتدار چھوڑا تو قائد اعظم نے پوری قوم کو کانگرس اقتدار سے چھٹکارے پر پورے ہندوستان میں یوم نجات مناکر دنیا پر واضح کر دیا کہ ہندو مسلمان اکٹھا نہیں رہ سکتے۔یہی وجہ تھی کہ23  مارچ  1940 کو قرار داد پاکستان منظور کرا کے مسلمانوں کی منزل کا تعین بھی کر دیا گیا۔ اب گاندھی اور نہرو نے ایڑی چوٹی کا زور لگانا شروع کر دیا کہ کسی طرح جناح اپنے ہندوستان کی تقسیم کے مطالبے سے دست بردار ہوجائیں ۔انہیں اس مقصد کے حصول کے لئے ہر قسم کا لالچ بھی دیا گیا حد تو یہ کہ گاندھی نے قائد اعظم کو پیشکس کی کہ وہ جو چاہتے ہیں انہیں دیدیاجائے گا۔گاندھی نے ہندوستان کی وزارت اعظمیٰ تک انہیں دینے کی پیشکش کی ۔مگر جناح نے ا س پیشکش کو بھی حقارت سے ٹھکرا دیا۔میرے قائد نہ جھکنے والے تھے اور نہ بِکنے والے۔قائد اعظم نے اپنی زندگی ہندوستان کی ملتِ اسلامیہ کے لئے وقف کی ہوئی تھی۔یہی وجہ تھی کہ انہیں اپنا گھر بسانے کی طرف کبھی توجہ ہی نہ ہوئی۔ایک خاتون نے قائد کے عشق میں مبتلا ہو کر ان سے شادی بھی کر لی تھی مگر یہ رشتہ زیادہ عرصہ نبھ نہ سکا قائد اعظم ہمیشہ بات کے پکے اور قول کے سچے رہے۔ انہیں نہ ستائش کی تمنا تھی اور نہ ہی صلے کی پروہ۔شائد قائد اعظم کے لئے ہی یہ شعر کہا گیا تھا”مت سہل ہمیں جانوپھرتا ہے فلک برسوں  تب خاک کے پردے سے انسان نکلتا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر شبیر احمد خورشید03333001671

shabbir4khurshid@gmail.com

Share this:
Tags:
Hindustan kangars Muslim pakistan quaid e azam پاکستان
chief justice
Previous Post انسداد دہشتگردی کی عدالتیں کارکردگی بڑھائیں، چیف جسٹس
Next Post افواہوں کا موسم مارچ میں ختم ہوجائے گا، گیلانی
gilani

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close