Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
March 8, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

۔۔۔دھرتی کا چاند ۔۔۔

December 29, 2011 0 1 min read
Tariq
Tariq
Tariq

اس کرہِ ارض پر خدا نے جب نئی مخلوق کی تخلیق کا قصد کیا اور انسان کو اس دھر تی پر اپنا خلیفہ بنانے کا فیصلہ کیا تو فرشتوں نے خدائے ذولجلال کے حضور عرض کی کہ اے مالکِ ارض و سما خاک کا وہ پتلا جسے آپ اختیا ر و فیصلہ کی قوت دے کر تخلیق کرنے کا ارادہ فرما رہے ہیں یہ تو بڑی خون ریزیاں کرے گا ،جنگ و جدل کرے گا اور انسانیت کو تباہ کاریوں کے حو الے کرے گا لیکن خدائے علیم و بصیر نے فرشتوں کو یہ کہہ کر خاموش کروا دیا تھا کہ جو کچھ میں جانتا ہوں تم نہیں جا نتے ۔ اللہ تعالی نے تخلیقِ آدم کے سارے مراحل کو مکمل کرنے اور آدم میں اپنی روح پھونک دینے کے بعد اسے اس دنیا میں بھیج دیا جہاں پر اسے افعا ل و کردرا کا مکمل اختیار دے دیا گیا اور اس کے افعال و کردار پر احتساب کی میزان یومِ آخر ت پر اٹھا رکھی تاکہ انسانوں کے فیصلے کرنے کا اختیار کسی بھی حا لت میں سلب نہ ہو سکے ۔ سچ تو یہ ہے کہ انسان کے افعال و کردار ہی اس کی مقبولیت اور محبت کی بنیاد بنتے ہیں لہذا جس انسان کے افعال زیادہ نیک،قوی اور انسان دوست ہو ں گئے وہ اتنا ہی زیادہ محبوبِ خلائق ہو گا اور جس کے افعال پرا گندہ ،ظلم و جبر اور ناانصافی کے مظہر ہوں گئے وہ اتنا ہی قا بلِ نفرت ہو گا ۔ تاریخ کے اوراق ہر انسان کا نامہ اعمال مرتب کرتے ہیں اور اس کے افعال و کردار کو محفوظ کر کے اس کے بارے میں حتمی فیصلہ صادر کر دیتے ہیں اور تاریخ کا یہی فیصلہ ہر شخصیت کی پہچان بنتا ہے ۔کمال یہ ہے کہ تاریخ کے اس فیصلے میں کوئی فرد بھی دخل اندازی نہیں کر سکتا ۔تاریخ کا سچ بالکل ابھر کر اور نکھر کر سامنے آتا ہے ۔کوئی ڈکٹیٹر کوئی آمر کوئی شہنشاہ اپنی من پسند تاریخ نہیں لکھو اسکتا اور جو کوئی بھی تاریخ کو درباری دانشوروں اور مسخروں سے سے لکھواتا ہے اسے کوئی بھی قابلِ احترام نہیں سمجھتا لہذا ایسی تاریخ دریا کی بے رحم لہروں کی نذر ہو جاتی ہے ۔ امکاناتِ فطرت میں سچ کی تاریخ تو خود بخود ہی رقم ہوتی رہتی ہے اور آخر میں وہی حرفِ آخر قرار پاتی ہے۔یہ کام کیسے ہوتا ہے سمجھ سے بالا تر ہے لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ ایسا بہر حال ہو کر ر ہتا ہے اور یوں مرتب شدہ ریکارڈ ہی قابلِ اعتبار گردانا جاتا ہے اور اس ریکارڈ کی بنیاد پر ہی اس دنیا میں ا نسانوں کے درجات اور عظمت کا تعین ہو تا ہے۔
میں نبیوں، پیغمبروں، اولیائ،صالحین ، صو فیاء ، متقین اور اہلِ ایمان کی بات نہیں کر رہا ۔ ان کی تو شان ہی نرالی ہوتی ہے وہ رشد و ہدائت کا مینارہ ہوتے ہیں اور دنیا ان کے افعل و کردار سے اپنی زندگیوں میں انقلاب کی صدائیں محسوس کرتے ہیں ۔ انسانیت کی آفرینش سے لے کر اب تک انکی شان اور عظمت پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور آئیندہ بھی لکھا جاتا ہیگا کیونکہ انکے افعال و کردار دنیا کی ہر میزان میں اپنی صداقت اور عظمت کی گواہی دیتے ہیں۔دنیا انکی عظمتوں سے فیض یاب ہو تی ہے اور ان سے راہنمائی حاصل کرتی ہے اور یہ سلسلہ روزِ آخر تک یونہی چلتا رہیگا لیکن میں آج انسانوں کی بھیڑ میں جس شخصیت پر اظہارِ خیال کرنے جا رہا ہوں وہ پاکستانی سیاست کی ایک ایسی طلسماتی شخصیت ہے جس نے اپنی جراتوں اور فہم و فراست سے ساری دنیا کو متاثر کیا اور ان سے اپنی عظمتوں کا لوہا منوایا۔ دنیا جسے ایک عورت ہونے کے ناطے کمزور سمجھ رہی تھی اسی عورت نے بہادری کے نئے معیار اور افق قائم کئے ۔کسے خبر تھی کہ نازو نعم میں پلی ہوئی ایک نخیف سی لڑکی اتنی با جرات نکلے گی کہ زمانہ اسکی بسالتوں پر اسے صدیاں ہدیہ تبریک پیش کرتا رہیگا۔خدا اتنا مسبب الاسباب ہے کہ جب جبر کی سیاہ رات میں سب راہیں مسدود ہوتی ہوئی محسوس نظر آتی ہیں تو پھر وہ اپنی حکمت سے کسی نئی راہ کی نشاندہی کر کے جبر کی اس سیاہ رات کا خاتمہ کر دیتا ہے۔نیکی اور بدی ، ظلم و جبر اور انصاف، درندگی اور انسانیت کی یہ جنگ ازل سے جاری ہے اور ابد تک جاری رہے گی اور ہلِ دل اپنی اپنی ہمتوں سے اس جنگ میں اپنا اپنا حصہ ڈال کر حق و صداقت کی شمع روشن رکھتے چلے جا ئینگے اور ان کا یہی انداز انسانوں کے اندر ان کی عظمتوں کا مینارہ تعمیر کرتا چلا جاتا ہے۔ ممکن ہے چند مذ ہب پرست حلقے میری اس تو جیہ سے اختلاف کریں اور انسانوں کی عظمتوں کے معیار مذہبی بنیادوں پر اٹھانے کی کوشش کریں لیکن ا ن کے ایسا کرنے سے بھی حریت و جانبازی کے معنی تو نہیں بدل سکتے۔ جانباز تو جانباز ہی ہوتے ہیں چاہے وہ کسی مذہب سے بھی تعلق رکھتے ہوں ۔سچائی خود اپنا اظہار ہوتی ہے اور کردار کی بلندی مذہب کے بندھنوں سے با لا تر ہو تی ہے اسی لئے تو میرے رب نے اعلان فرما رکھا ہے کہ جو لوگ نیک اعمال کریں گئے انھیں انکے اعمال کا اجر میرے ہاں سے ملے گا۔
پانچ جولا ئی ١٩٧٧ میں ذولفقار علی بھٹو کی لختِ جگر محترمہ بے نظیر بھٹو کارزارِ سیاست میں نمودار ہوتی ہیں اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے سب کی آنکھ کا تارہ بن جاتی ہیں۔ تیس سالوں پر محیط اس کی جدو جہد اسے عا لمی شہرت عطا کرتی ہے اور اسے عالمی مدبر کے ایسے مقام پر متمکن کرتی ہے جس سے آنے والی نسلیں حریت و جانبازی کا سبق سیکھتی ہیں۔ ٢١ جون ١٩٥٣  سے ٢٧ دسمبر ٢٠٠٧ تک محترمہ بے نظیر بھٹو کاسفر محیرالعقول واقعات سے بھرا پڑا ہے۔آمریت کے خلاف اس نے جس شان سے جمہوری جنگ لڑی ہے اس کی تاریخ میں مثال تلاش کرنا ممکن نہیں ہے۔جنرل ضیا الحق اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی باہمی آویزش تاریخ میں ایک خاص مقام رکھتی ہے۔جنرل ضیا الحق نے جس طرح کے مظالم محترمہ بے نظیر بھٹو اور ان کے خاندان پر روا رکھے اس سے انسانیت کا سر شرم سے جھک جاتا ہے لیکن باعثِ حیرت ہے کہ جنرل ضیا الحق کے یہ تمام ہتھکنڈے بھی محترمہ بے نظیر بھٹو کے حوصلوں کو پست نہ کر سکے۔وہ ہر خوف سے بے نیاز ہو کر جمہوریت کی جنگ لڑتی رہیں اور اس بے رحم اور سفاک جنگ میں پی پی پی کے جیالوں نے قربانیوں کی جو نئی تاریخ رقم کی تاریخِ عالم اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔جیالوں نے جمہوری جدو جہد میں قربانیوں اور صعوبتوں کو جس خندہ پیشانی سے جھیلا اس نے محترمہ بے نظیر بھٹو کو جمہوری جنگ لڑنے کے لئے نیا حوصلہ اور جذبہ عطا کیا۔ ٥ جولا ئی ١٩٧٧ سے جون ١٩٨٤ تک محترمہ بے نظیر بھٹو کو جیلوں اور نظر بندی سے گزرنا پڑا ۔ اپنے کان کی تکلیف کے پیشِ نظر وہ چند مہینوں کے لئے انگلینڈ گئیں لیکن ١٠ اپریل ١٩٨٦ کو آمریت کے خلاف اپنی جنگ کو منطقی انجام تک پہنچا نے کیلئے وہ دوبارہ پاکستان واپس آگئیں اور پھر جنرل ضیا الحق کی آمریت کے خاتمے تک ملک کے اندر ہ جمہوری جدو جہد میں جٹ گئیں ۔ انھوں نے سیاسی جلسے جلوسوں کے ذریعے عوام کو منظم کیا اور ١٩٨٨ کے انتخابات میں دنیائے اسلام کی پہلی خاتون وز یرِ اعظم بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ ١٨ مہینوں کے بعد محترمہ کی پہلی عوامی حکومت کو کرپشن کے الزامات کے تحت برخاست کیا گیا لیکن محترمہ پھر بھی ہمت نہ ہاری لہذا ١٩٩٣ کے ا نتخابات میں ایک دفعہ پھر شاندار کامیابی حاصل کر کے وزیرِ اعظم پاکستان بنیں لیکن نومبر ١٩٩٦ میں ایک دفعہ پھر ان کی حکومت کو کرپشن کے الزامات کے تحت ختم کر دیا گیا ۔ اس دفعہ پی پی پی کے اپنے منتخب صدر سرادر فاروق خان لغاری نے پی پی پی کے ساتھ بے وفائی کی اور کنگز پارٹی تشکیل دے کر خود کو اقتدار کے ایوانوں میں سیا ہ سفید کے مالک بننے کے خواب دیکھنے شروع کر دئے لیکن ان کا یہ خواب اس وقت چکنا چور ہو کر بکھر گیا جب اگلے انتخابات میں میاں محمد نواز شریف کی مسلم لیگ نے دو تہائی اکثریت حاصل کر کے انھیں بڑی ذ لت و رسوائی سے ایوانِ صدر سے اٹھا کر باہر پھینک دیا۔
١٩٩٨ میں میاں محمد نواز شریف کے دورِحکومت میں محترمہ بے نظیر بھٹو پر بے شمار مقدمات قائم کئے گئے اور ان کے شوہر آصف علی زرداری کو ناکردہ گناہوں کی پاداش میں ساڑھے آ ٹھ سالوں تک زندانوں کی صعوبتوں کو برداشت کرنا پڑا۔ آصف علی زرداری نے ان صعوبتوں کو جس جوانمردی سے برداشت کیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔ ١٩٩٩ کے اوائل میں محترمہ بے نظیر بھٹو نے جلا وطنی اختیار کر کے یو اے ای کو اپنی سیاسی سرگر میوں کا مرکز بنا لیا اور یہی پر مجھے محترمہ بے نظیر بھٹو کو ملنے ،ا نھیں قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا کا شرف حاصل ہوا۔ یہ دسمبر ٢٠٠٢ کی ایک بڑی خوبصورت چاند رات تھی جب ہم نے محترمہ بے نظیر بھٹو کے اعزاز میں ایک افطار پارٹی کا اہتمام کیا ۔ راجہ مبشر اور مرزا جہادی اس تقریب کے منتظمین میں شامل تھے اور یہ میری محترمہ بے نظیر بھٹو سے پہلی ملاقات تھی ۔ ملاقاتوں کا یہ سلسلہ کئی سالوں پر محیط رہا اور یہ ١٨ اکتوبر ٢٠٠٧ کو اس وقت اختتام پذیر ہوا جب محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنی جلا وطنی کو ختم کر کے پاکستان واپس جانے کا فیصلہ کر لیا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو سے اپنی پہلی ملاقات کے بعد میرا تا ثر یہ تھا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو ممتا کی جذبوں کی چلتی پھرتی تصویر ہیں۔بھٹو خا ندان کے بارے میں ایک عام تاثر یہ پیدا کیا گیا ہے کہ وہ کسی کی نہیں سنتے لیکن میں نے محترمہ کو اس کے بالکل بر عکس پایا۔میں نے جب بھی کسی اہم موضوع پر ان سے بات کی انھوں نے میری گذارشات کو ہمیشہ پذیرائی عطا کی اور احترام سے نوازا۔  اس شام رمضان ا لمبارک کی ٢٩ تاریخ تھی اور اس بات کا شدت سے انتظار تھا کہ کل عید ہو گی یا کہ نہیں۔ تقریب کے اختتام پر جب محترمہ بے نظیر بھٹو ہر ایک ٹیبل پر جا کر پارٹی کارکنوں کے ساتھ تصویریں بنو ارہی تھیں تو تھوڑے تھوڑے توقف کے بعد ایک ہی سوال دہرا تی جاتی تھیں کہ چاند کا کیا بنا۔ راجہ مبشر اعجاز اور میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ کھڑے تھے جب انھوں نے تیسری دفعہ اپنا یہی سوال دھرایا تو میں نے بی بی سے معذرت کے ساتھ کہا کہ بی بی آج تو دھرتی کا چاند اپنی پوری تابناکیوں کے ساتھ اس آنگن میں اترا ہوا ہے اور آپ بار بار فلک کے چاند کا پوچھ رہی ہیں ۔ یقین کیجئے آج کسی کو بھی فلک کے چاند سے کوئی دلچسپی نہیں ہے کہ وہ نکلتا ہے یا کہ نہیں اور عید کل ہوتی ہے یا کہ نہیں کیونکہ ان کی ساری توجہ کا مرکزوہ چاند ہے جو اس وقت ان کے درمیاں ہے اور جس کی ضو فشانیوں سے سب محظوظ ہو رہے ہیں ۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے میرے یہ چند جملے سنے تو مجھ سے یوں گویا ہوئیں کہ کیا یہ سب کچھ اب بھی سچ ہے تو میں نے کہا کہ جی ہاں یہ اب بھی ویسا ہی ہے جیسے کبھی ہوا کرتا تھا۔ دلوں میں اتر جانے والے چاند وقت کے تا بع نہیں ہوتے اور نہ ہی مجبوریوں کے اسیر ہوا کرتے ہیں ۔ ان کی محبت سدا قائم رہتی ہے اور کوئی اس محبت کو ختم نہیں کر سکتا۔ ٢٧ دسمبر ٢٠٠٧ کی شام دھرتی کا یہ چاند ہمیشہ ہمیشہ کے لئے غر وب ہو گیا اور اپنے چاہنے والوں کو اداس اور بلکتا ہوا چھوڑ کر کسی ایسی نگر ی میں چلا گیا جہاں سے کوئی لوٹ کر واپس نہیں آتا۔۔۔۔
اک کرن کے قتل پر، ہر سو اب اندھیرا ہے۔۔ مٹ گئی ہے روشنی، لٹ چکا سویرا ہے
طا ئرِ بے نوا کو اس نے، قفس سے آزاد کیا۔۔ افکارِ نو کی کرنوں کا ، اسی کے سر پہ سہرا ہے
تحریر : طارق حسین بٹ

Share this:
Tags:
tariq World اللہ تعالی بے نظیر بھٹو
obama
Previous Post صدر اوبامہ معافی نہیں مانگیں گے۔ امریکی اخبار
Next Post ہم ایک ہیں ہم ایک ہیں
kifait hussain

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close