Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 20, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

۔۔۔ فارمولے کی تلاش ۔۔۔

December 16, 2011 0 1 min read
Tariq
Tariq
Tariq

صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کی بیماری کے تناظر میں پاکستا نی میڈیا نے جس بانجھ پن کا ثبوت دیا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔صدرِ پاکستان کی خرا بیِ صحت پر ہمارے میڈیا نے بے شرمی اور ڈ ھٹائی سے افواہ سازی کا جو فر یضہ سر انجام دیا ہے وہ فہم و ادراک سے بالا تر ہے۔ یہ سچ ہے کہ اس غیر مصدقہ خبر کا منبہ ایک امریکی ویب سائٹ تھی لیکن اس خبر کو لے کر جسطرح سے پاکستانی میڈیا نے طوفان برپا کیا اور صدر کے استعفے کے حوالے سے جس ہذیانی کیفیت کا اظہار کیا وہ نا قابلِ فہم ہے ۔ بیماری اور تندرستی کا تعلق ہر انسانی جان کے ساتھ ہمیشہ سے رہا ہے اور ہمیشہ رہے گا لیکن پاکستانی میڈیا نے اس میدان میںجس طرح اسلامی، اخلاقی اور آئینی اقدار کی پامالی کی وہ حیران کن ہے۔ یہ بات ساری دنیا کے علم میں ہے کہ صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کو دل کے عارضے کا مرض ہے اور اسکی چیکنگ کیلئے وہ پہلے بھی تواتر سے اپنا طبی معائنہ کرواتے رہے ہیں لیکن اس دفعہ ان کی بیماری کے حوالے سے پاکستانی میڈیا پر جو گل افشانیاں دیکھنے کو ملیں وہ انتہائی شرم ناک تھیں۔الزام تراشیوںکے پیچھے صرف ایک ہی مقصد کارفرما تھا اور وہ مقصد تھا پی پی پی کی حکومت کی رخصتی کا خواب لیکن افواہ ساز فیکٹریاں یہ بھول جاتی ہیں کہ ایوانِ اقتدار سے رخصتی کیلئے کچھ اصول و ضوابط ہیں اور ان سے ہٹ کر کوئی ایسی راہ نہیں جو کسی کو اقتدار کی مسند سے نیچے اتار سکے۔ ذاتی خو اہشات کی تکمیل کی خاطر پوری ریاستی مشینری کو دائو پر لگا دینا کھلی ملک دشمنی ہے جس کا مظاہرہ میڈیا نے بڑی ڈھٹائی سے کیا ہے لیکن پھر بھی اپنی پارسائی کا راگ الاپنے سے باز نہیں آرہا۔
یہ سچ ہے کہ کچھ لوگوں کی صدرِِ پاکستان آصف علی زرداری سے ذاتی پر خاش ہے جس کی وجہ سے وہ اسطرح کی ہوائیاں چھوڑتے رہتے ہیں لیکن ہربات کا کوئی موقعہ محل ہو تا ہے ہر وقت ایک ہی راگ الاپتے رہنا کبھی کبھی انتہائی مکروہ نظر آتا ہے لہذا احتیاط کا دامن تھامنا انتہائی ضروری ہو جاتا ہے ۔ صدرِِ پاکستان آصف علی زرداری  بیماری کے کرب سے گزر رہے ہیں لیکن سازشی عناصر اپنی سازشوں میں مشغول ہیں انھیں اس بات کا رتی برابر بھی احساس نہیں کہ صدرِِ پاکستان آصف علی زرداری کی صحت ٹھیک نہیں لہذا ان حالات میں ان پر تنقید کے تیر برسانا اور ان کی ذات کے حوالے سے کہانیاں تخلیق کرنا انتہائی غیر مناسب حرکت ہے۔ میری ان متلون مزاج دوستوں سے التماس ہے کہ وہ چند دن مزید صبر کر لیں اور صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کی صحت کی بحالی کا انتظار کر لیں وہ جیسے ہی رو بصحت ہو کر ایوانِ صدر وا پس آجائیں وہ صدرِ پاکستان پر الزامات لگا کر اور ان کی تضحیک کر کے اپنا شوق پورا کر لیں۔ صدرِ پاکستان بیمار ہیں لہذا یہ وقت دعائوں کا وقت ہے کیونکہ یہی اسلام کی تعلیم ہے جس پر ہمیں عمل پیرا ہونے کی تلقین کی گئی ہے لیکن ذاتی دشمنی میں کچھ لوگ ایسے مقام پر پہنچ جاتے ہیں جہاں پر نفرت کی دیوی ان سے انکی بصارت اور بصیرت کو اچک کر لے جاتی ہے اور وہ محض انتقام کی علامت بن کر رہ جاتے ہیں۔
صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کو مسندِ صدارت سے ہٹانے کا ایک ہی راستہ ہے کہ ان کے خلاف مواخذے کی تحریک لائی جائے اور مجوزہ تحریک کو دونوں ایوانوں میں دو تہائی ارکان کی حمائت حاصل ہو۔ جب ایسی کوئی تحریک پیش ہی نہیں کی گئی تو پھر میڈیا نے یہ کیسے تصور کر لیا کہ چند جھو ٹے الزامات کی بناء پر صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے اقتدار کو خیر باد کہنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔کس میں اتنی ہمت ہے کہ وہ آصف علی زرداری سے استعفے طلب کرے۔ آئینی طور پر کوئی بھی صدرِ پاکستان سے استعفے طلب نہیں کر سکتا۔ صدر سے استعفے کا اختیار صرف پارلیمنٹ کو حاصل ہے اور وہ لوگ جو آصف علی زرداری کی اقتدار سے رخصتی کے خواب سجائے بیٹھے ہیں انھیں چائیے کہ وہ پارلیمنٹ کا رخ کریں اور اپنی قسمت کو آزمائیں شائد پارلیمنٹ ان کی تشنہ آرزوئوں کی تکمیل میں ممدو معاون ثا بت ہو جائے۔خدا را فوجی جنتا کے کندھوں پر بندوق رکھ کر اپنی خواہشات کی تکمیل کے منصوبے مت بنائیے ۔ایسا سوچنا بھی غداری کے زمرے میں آتا ہے۔ یاد رکھیں کوئی ادارہ خواہ کتنا ہی طا قتو ر کیوں نہ ہو صدر سے استعفے کا اختیار نہیں رکھتالیکن اگر میڈیا یہ سمجھتا ہے کہ چند طالع آزما جرنیل صدارتی محل میں گھس کر اسلحے کے زور پر صدرِ پاکستان آصف علی زرداری سے استعفے طلب کر سکتے ہیں تو وہ غلطی پر ہیں۔ اسطرح کا ہر فعل آئین سے غداری کے زمرے میں آتا ہے اور ایسے شخص پر دفعہ چھ کا اطلاق کر کے اسے مثال بنا یا جا سکتا ہے۔ کوئی جمہوریت پسند پاکستانی اسطرح کے غیر آئینی اقدامات کی حمائت نہیں کر سکتا لہذا فی ا لحال شب خون ممکن نہیں ہے۔صدرِِ پاکستان آصف علی زرداری ہر طرح کے دبائو کا سامنا کرنا خوب اچھی طرح جانتے ہیں اور ان کا ماضی اس بات کا گواہ ہے کہ انھوں نے جمہوریت کے لئے گیارہ سال زندانوں کی صعوبتوں کو برداشت کیا ہے لیکن آمریت کے سامنے سر نہیں جھکایا اور آج جب وہ آئینی طور پر پاکستان کے صدر ہیں تو کوئی انھیں ڈرا دھمکا کر استعفے پر مجبور نہیں کر سکتا اور اگر کسی نے ایسا کرنے کی کوشش کی تو پوری قوم ڈٹ کر مقابلہ کریگی۔ یہ  دو ہزار گیارہ ہے لہذا عوام با شعور ہیں اور وہ ایسے کسی اقدام کی حمائت نہیں کر سکتے جس میں حکومت پر قبضے کیلئے کسی غیر آئینی راہ کا انتخاب کیا گیا ہو لہذا پاکستانی میڈیا کو ایسی بے سرو پا خبریں نشر کرنے سے قبل اتنا تو سوچ لینا چائیے کہ وہ ایک ایسی فضا کو ہوا د ینے میں ممدو معاون ہو رہے ہیں جو شب خون کی وکالت کر رہی ہے۔ یقین کیجئے اس طرح کی بے پر کی اڑانے پر ان کے خلاف آئین کو حرکت میں لا کر انھیں قانون  کے کٹہرے میں کھڑا کیا جانا چا ئیے اور انھیں عبرتناک سزا دی جانی چائیے تاکہ آئیندہ اس طرح کی بے پر کی اڑانے کی راہیں مسدود کی جا سکیں ۔ میڈیا کی اس طرح کی افواہوں سے ملکی معیشت کو جو اربوں روپوں کا نقصان ہوا ہے اس کا ذمہ دار کون ہو گا۔میڈیا تو اپنی تجوریوں کے منہ بھرنے کے شوق میں ملکی سالمیت اور اس کے وقار کی کوئی پرواہ نہیں کرتا بلکہ اپنی ر یٹنگ کیلئے ایسی سنسنی خیز خبریں لاتا ہے کہ عام پاکستانی کا دماغ چکرا جائے۔وہ مفادات کی جنگ میں یہ تک بھی بھول جاتے ہیں کہ ان کی لن ترانیوں کی وجہ سے پاکستان کا بحثیتِ ملک کیا امیج ابھر رہا ہے اور دنیا ہمارے بارے میں کیا سوچ رہی ہے۔ پچھلے کئی دنوں سے صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کے حوالے سے سنسنی خبریں ٹی وی چیلنز کی زینت بنی ہوئی ہیں لیکن میں نے پاکستانی میڈیا پر کسی اینکر کی زبان سے یہ نہیں سنا کہ صدرِ پاکستان آصف علی زرداری ایک منتخب صدر ہیں لہذا ان کے استعفے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ ان سے کوئی بھی شخص بزور استعفے لینے کا مجاز نہیں ہے اور اگر کسی نے ایسی غیر آئینی حرکت کرنے کی کوشش کی تو میڈیاا س غیر آئینی حرکت کی بھر پور مزاحمت کرے گا ، اس کے خلاف بھر پور جنگ لڑیگا اور جمہوری روایات کی پاسداری کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریگا   لیکن یہاں پر تو میڈیا فوجی جنتا کو اقتدار پر قبضہ کر لینے کی کھلی دعوت دے رہا تھا اور انھیں یہ باور کروا رہا تھا کہ اگر انھوں نے ایسا کارنامہ سر انجام دے دیا تو یہ ملک و قوم کی بہت بڑی خدمت ہو گی۔سچ تو یہ ہے کہ پاکستانی میڈیا ان لوگوں کے زیرِاثر ہے جو پی پی پی دشمنی میں اپنی شہرت رکھتے ہیں۔لہذا انکی دلی خواہش ہے کہ پی پی پی کے ا قتدار کا کسی نہ کسی طرح سے خاتمہ ہو جائے تا کہ انکی چاندی ہو جائے۔ اپنی اسی خواہش کی تکمیل کی خاطر وہ ہر جائز و ناجائز حربہ استعمال کر رہے ہیں اورصدرِ پاکستان آصف علی زرداری کے ا ستعفے کا شورو غوغہ بھی اسی دلی خوہش کا برملا اظہارتھا جس میں ان عناصر کو منہ کی کھانی پڑی۔ لیکن ان کے ساتھ یہ کوئی پہلی دفعہ نہیں ہوا اسطرح کی ذلت و رسوائی انھوں نے پہلے بھی بہت دیکھی ہے لیکن یہ پھر بھی اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتے۔ جب من میںٹیڑھا پن ہوتا ہے تو پھر ہر چیز ٹیڑھی نظر آتی ہے اور ایسے انسانوں کے اندر واقعات کو اسکے حقیقی تناظر میں دیکھنے کی صلا حیت مفقود ہو جاتی ہے۔ سازشیں اور بس سازشیں ہی ان کی پہلی اور آخری ترجیح ہو تی ہیںاور سازشوں کے زہر میں وہ سچائی کو دیکھنے کے وصف سے بھی محروم ہو جاتے ہیں۔
صدرِ پاکستان آصف علی زرداری چند دنوں کے علاج معالجے کے بعد صحت یاب ہو کر پاکستان واپس چلے جائیں گئے اور اپنی معمول کی ذمہ داریاں شروع کر دیں گئے۔صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کا صحت یاب ہو نا بھی کچھ حلقوں کے سینوں پر سانپ بن کر لوٹ رہا ہے۔ان کا بس نہیں چل رہا نہیں وگرنہ وہ تو ایوانِ صدر میں گھس کر صدرِ پاکستان آصف علی زرداری سے بزور استعفے لے لیں۔ میں پاکستان کے جمہوریت پسند حلقوں سے عرض کرناچا ہتا ہوں کہ پاکستان میں جمہوریت کا مستقبل تم ان کی قربانیوں کے بغیر ممکن نہیں ہے۔انھیں ہی آگے بڑھکراس شجر کی حفاظت کافریضہ سر انجام دینا ہو گا۔وقت بہت کٹھن ہے اور سازشیں اپنے عروج پر ہیں اور ایسے وقت میں جمہوریت کی جنگ لڑ ناجوئے شیر لانے کے مترادف ہے ۔ یادرکھئے اس ملک کی بقا جمہوری نظام میںپنہاں ہے ۔پاکستان میں سیاسی اداکاروں او ر جوکروں کی کوئی کمی نہیں ہے انکی سیاست کا دارو مدار اسٹیبلشمنٹ کی بیساکھیاں ہیں لہذا ان بیساکھیوں کے بغیر ان کا سیاست میں سرگرمِ عمل رہنا ممکن نہیں ہے حکومتوں کی کارکردگی جمہوری بساط لپیٹنے کا کوئی پیمانہ نہیں ہوتی اور نہ ہی ایسا کرنے کی کسی کو اجازت ہو تی ہے۔بہت سے اندرونی اور بیرونی عوامل کی وجہ سے کبھی حکومتیں بہت بڑے بڑے کارنامے سر انجام دے دیتی ہیں اور کبھی انکی کارکردگی اوسط درجے کی ہوتی ہے لیکن حکومت کی پرفارمنس اور کارکردگی جمہوریت کی گاڑی کو پٹری سے اتارنے کا پیمانہ نہیں ہوا کرتی بلکہ انتخابات میں عوام اس بات کا فیصلہ کرتے ہیں کہ انھوں نے اقتدار کس کے حوالے کرنا ہے ۔ دنیا جمہو ری سفر کی جانب تیزی سے پیشقدمی کر رہی ہے لیکن ہم ہیں کہ ہمہ وقت جمہوری سفر سے آمریت کی جانب مائلِ پرواز رہتے ہیں اور جمہوری حکومت کی رخصتی کے خواب دیکھتے اور سازشیںکرتے ہیں۔  ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت حکومت کے خاتمے کی افواہیں ایک تواتر کے ساتھ منظرِ عام پر لائی جا رہی ہیںاوراسکی رخصتی کیلئے کو ئی ایسا نیا فارمولا تلاش کیا جا رہا ہے جس سے سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ آئینی طور پر یہ ممکن نہیں ہے کہ منتخب حکومت کو رخصت کیا جا سکے لہذا کسی ایسی راہ کی تلاش جا ری ہے جو اس کام کو ممکن بنا سکے لیکن فی ا لحا ل وہ راہ نہیں مل رہی۔ پنجاب کے عظیم سپوت میاں محمد نواز شریف اور انکی جماعت کے سر کردہ افراد کی جانب سے سپریم کورٹ میں چند درخواستیں اسی مقصد کیلئے زیرِِ سماعت ہیں دیکھئے کیا نتیجہ بر آمد ہو تا ہے۔اسٹیبلشمنٹ نے آصف علی زرداری کو نشانے پر رکھا ہوا ہے اور اسے وطن سے غداری کے تمغے سے سرفراز کرنے کی تیاری کررہی ہے اب یہ کہانی کب اور کیسے اپنے منطقی انجام کو پہنچے گی پوری قوم کی نظروں کی توجہ کا مرکز بنی ہو ئی ہے۔ پنجاب کی اشرافیہ ایک دفعہ پھر اپنے ماضی کا کردار دہرانے کی مثال قائم کر رہی ہے لیکن شائد اس دفعہ نتائج وہ نہ نکل سکیں جن کی تو قعات اسٹیبلشمنٹ نے ایک مخصو ص ادارے سے وابستہ کر رکھی ہیں۔پچھلے ستاسٹھ سالوں سے بلی اور چوہے کا جو کھیل جاری ہے اسے اب اپنے منطقی انجام تک پہنچ جاناچا ئیے اورپوری قوم کو یہ فیصلہ کر لینا چائیے کہ جمہوری نظام کے علاوہ ہم کسی بھی نظام کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیںہیں۔باعثِ حیرت ہے کہ دنیا کے وہ ممالک جہاں پر جمہوریت اپنی جڑ یں نہیں رکھتی وہ تو جمہوری رویوں کی بحا لی کیلئے جمہوری نظام کی جانب محوِ سفر ہیں لیکن وہ دھرتی جس کے خمیر ممیں جمہوریت رچی بسی ہے اور جس کی تخلیق جمہوری جدو جہد کا  عظیم تحفہ ہے وہاں پر اب بھی شب خون مارا جاتا ہے اور منتخب صدر اور وزیرِ اعظم کو استعفے دینے پر مجبور کیا جاتا ہے ۔ فوجی جنتا اب بھی پاکستان کے مقدر کا فیصلہ کرنے میں بالکل شرمند گی محسوس نہیں کرتی حالانکہ  دنیا میں فوجی جنتا کا جو عبرت انگیز حشر ہو رہا ہے وہ سب کے سامنے ہے ۔فوجی جنتا کو شائد احساس نہیں کہ کہ ان کی انہی غیر جمہوری حرکات نے پاکستان کو دو لخت کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا تھا ۔کا ش کوئی فوجی جنتا کو یہ بتا سکے کہ وہ جس آگ سے کھیلنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ آگ کسی وقت انھیں بھی جلا کر راکھ کر سکتی ہے۔
تحریر :  طارق حسین بٹ(چیرمین پاکستان پیپلز ادبی فورم یو اے ای )

 

Share this:
Tags:
dubai pakistan tariq zardari بیماری پاکستان زرداری
zardari gilani
Previous Post منافرت پر مبنی سیاست
Next Post میڈونا کی فلم گولڈن گلوب ایوارڈ کی 2کیٹگریز کیلئے نامزد
madonna

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close