Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 17, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

البرٹ آئن سٹائن

June 19, 2011June 29, 2011 0 1 min read
Albert Einstein

 

Albert Einstein
Albert Einstein

نام :: البرٹ آئن سٹائن

تاریخ پیداءش :: 14/03/1879

18/04/1955 :: تاریخ وفات

وجھ شھرت :: طبیعیات دان

البرٹ آئنسٹائن بیسویں صدی کا سب سے بڑا طبیعیات دان سمجھا جاتا ہے۔ جرمنی کے شہر الم میں 14 مارچ 1879 کو پیدا ہوا۔ باپ کا نام ہرمین اور ماں کا نام پالین تھا۔

ابتدائی زندگی
آئن سٹائن کا خاندان جرمنی کے خوشحال یہودی النسل خاندانوں میں شمار ہوتا تھا۔ باپ کاروباری تھا مگر زیادہ کامیاب نہیں تھا۔ جب آئنسٹائن چھ برس کا تھا، یہ لوگ میونخ آ گئے۔ ابتدائی تعلیم ایک کیتھولک مدرسہ میں پائی۔ یہاں کا سخت ماحول اس بچے کو ناگوار گزرتا تھا۔ 1894 میں آئن سٹائن کو بورڈنگ مدرسہ میں پیچھے چھوڑ کر، اس کا باپ کاروباری وجوہات کی بنا پر خاندان سمیت اٹلی منتقل ہو گیا۔

دسمبر 1894 میں سولہ سال کی عمر میں تعلیم ادھوری چھوڑ کر آئنسٹائن (غالبا جرمن کی لازمی فوجی سروس کے خوف سے) خود بھی اٹلی پہنچ گیا۔ وہاں پہنچ کر 1896 میں اس نے جرمن شہریت چھوڑ دی۔ اکتوبر 1895 میں سویٹزرلینڈ کے شہر زیورخ میں واقعہ یونیوسٹی ETH کے داخلہ کا امتحان دیا مگر ناکام رہا۔ استاد نے مشورہ دیا کہ سکول کی تعلیم مکمل کرو، چنانچہ سویئزرلینڈ کے شہر Aarau کے ایک سکول میں پڑھائی کی۔

یہاں جس گھر میں قیام تھا، اس کے مالک کی بیٹی Marie سے شناسائی ہوئی۔ اگلے سال ETH کا داخلہ امتحان کامیاب کیا۔ اب اس نے ETH میں پڑھائی شروع کر دی۔ وہ سکول استاد بننے کی پڑھائی کرنے لگا۔ اگست 1900 میں امتحان دیا، پانچ طالب علموں کے امتحان میں آئن سٹائن چوتھے نمبر پر آیا۔ پہلے تین کو ETH نے نوکری دے دی، مگر اسے اور پانچویں نمبر پر آنے والی ملیوا مارِک (Mileva Maric) کو نہیں۔

ملیوا کے ساتھ اس کا میل جول تھا اور وہ بعد میں آئن سٹائن کی پہلی بیوی بنی۔ ملیوا عیسائی تھی اور سربیا سے تعلق تھا۔ ملیوا اور آئن سٹائن کے درمیان 1897 سے 1903 تک کے خطوط کے تبادلہ سے تاریخ دانوں کو اس بارے معلومات ملی ہیں۔ ان خطوط میں ذاتی معاملات کے علاوہ فزکس کے مسائل پر بھی گفتگو ملتی ہے۔

فکرِ معاش کی وجہ سے آئنسٹائن شادی نہیں کر پا رہا تھا، مگر ملیوا حاملہ ہو گئی۔ 1902 میں ایک لڑکی کو جنم دیا، مگر پالا نہیں۔ 1902 میں ہی آئن سٹائن کے والد کا انتقال ہو گیا۔ آئن سٹائن عارضی استاد کے طور پر مختلف جگہ کام کرتا رہا، حتی کہ جون 1902 میں سوئٹزرلینڈ کے شہر برن کے patent دفتر میں نوکری مل گئی۔ 1901 میں آئن سٹائن سویٹزرلینڈ کا شہری بھی بن گیا۔

جنوری 1903 میں ملیوا سے شادی ہو گئی۔ پیٹنٹ دفتر میں کام کے دوران آئن سٹائن فزکس کے مسائل پر بھی تحقیق کرتا رہا، اور اسی دوران اس نے اپنی زندگی کے عظیم تریں مقالات شائع کیے۔ کچھ محققین نے خیال ظاہر کیا ہے، کہ آئن سٹائن کی تحقیق میں ملیوا مارِک بھی شریک تھی۔ یہ شبہات آئن سٹائن اور ملیوا کے خطوط سے پیدا ہوئے جن میں آئن سٹائن ”ہمارے نظریے” کا ذکر کرتا ہے۔

اس کے علاوہ روسی سائنسدان Abraham Joffe نے مبینہ طور پر یہ بتایا کہ جب آئن سٹائن نے اپنے مقالے جریدہ Annalen der Physik کو بھیجے تو ان پر پیٹنٹ دفتر میں کام کرنے والے Einstien-Maric نامی کسی شخص کے دستخط تھے۔

1905، کارناموں کا سال
اس سال آئن سٹائن نے چار مشہور مقالے شائع کیے:

پہلا مقالہ روشنی کی ہیئت کے بارے تھا۔ روشنی کو موج سمجھا جاتا تھا، مگر اس سے کچھ تجرباتی نتائج کی تشریح کرنا ممکن نہ تھا۔ آئن سٹائن نے اس نظریے کو تقویت دی کہ روشنی کو چھوٹے چھوٹے نوریہ زرات (photons) پر مشتمل بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ نوریہ کا نظریہ سب سے پہلے میکس پلینک نے پیش کیا تھا۔

دوسرا مقالہ برانین حرکت (Brownian motion) کا ریاضی ماڈل تھا، جس میں احصا کا استعمال کرتے ہوئے سالمہ کی مائع میں حرکت کی تشریح کی گئی تھی۔ اس سے اس نظریہ کو عام کرنے میں مدد ملی کہ جوہر اور سالمہ کا وجود حقیقی ہوتا ہے۔

تیسرا مقالہ اس کی مشہور مساوات E = mc2 تھی، جس میں مادہ اور توانائی کا آپس میں تبدیل ممکن ہونے کا بتایا گیا تھا۔ حال میں ایک محقق نے رائے دی ہے کہ یہ مساوات ایک اطالوی نے آئن سٹائن سے کچھ سال پہلے شائع کی تھی، اگرچہ اضافیت نظریہ کے سیاق و سباق میں نہیں۔

چوتھا مقالہ خصوصی اضافیت (special theory of relativity) پر تھا۔ اس سے وقت اور فضا کو علیحدہ علیحدہ تصور کرنے کی بجائے ”وقت، فضا” یا ”زمان و مکاں” (space-time) کا نظریہ سامنے آیا۔ پتہ چلا کہ اگر کوئی چیز زیادہ(مگر یکساں) سمتار سے حرکت کر رہی ہو، تو جس مشاہد کے حوالے سے حرکت ہو رہی ہو گی، اس مشاہد کو اس چیز کی کمیت زیادہ، لمبائی کم، اور وقت آہستہ گزرتا، نظر آئے گا۔ البتہ روشنی کی رفتار ہر کو ایک ہی (تقریبا ) نظر آئے گی۔

اور یہ بھی کہ کوئی مادہ چیز کو تیز رفتار کرتے ہوئے روشنی کی رفتار تک نہیں پہنچایا جا سکتا۔ اور یکساں (uniform) سمتار سے سفر کرنے والے جمودی حوالہ جاتی قالب (inertial frame of reference) میں کوئی ایسا تجربہ ممکن نہیں جس سے جمودی حوالہ جاتی قالب میں موجود مشاہد یہ معلوم کر سکے کہ وہ یکساں سمتار سے سفر کر رہا ہے یا ”ساکن” ہے۔

واضح رہے کہ اضافیت کا نظریہ اس سے پہلے Hendrik Lorentz اور Henri Poincare پیش کر چکے تھے۔ آئن سٹائن نے یہ اضافہ کیا کہ ایسا تجربہ ناممکن ہونے کا اطلاق Maxwell کی برقناطیسی موجوں پر بھی ہوتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں طیبیعات کے قوانین تمام غیر اسراعی (non-accelerated) جمودی حوالہ جاتی قالب میں یکساں لاگو ہوتے ہیں۔

پروفیسری اور واپس جرمنی میں
1906 میں زیورخ یونیوسٹی نے پی۔ایچ۔ڈی کی سند عطا کی، جس کے لیے آئن سٹائن نے تحقیقی مقالہ 1905 میں جمع کرایا تھا۔ مقالات کی وجہ سے آئنسٹائن کی شہرت جو پھیلی، تو زیورخ یونیوسٹی نینظریاتی طیبعیات میں اکتوبر 1909 میں ایسوسی ایٹ پروفیسر بنا دیا۔ 1910 میں پراگ یونیوسٹی سے پوری پروفیسر کی پیشکش ہوئی، تو 1911 میں پراگ چلا گیا۔

یہاں جرمن اور چیک افراد میں لسانی و قومیاتی چپقلش کی وجہ سے کشیدگی تھی، اس لیے ایک سال ہی یہاں گزارنے کے بعد 1912 میں زیورخ یونیوسٹی میں مکمل پروفیسر کی حیثیت سے واپس آ گیا۔ 1911 میں برسلز میں اس کی Max Planck اور Lorentz جیسے بڑے بڑے سائنسدانوں سے ملاقات ہوئی۔ 1911 میں اس نے عمومی اضافیت پر اپنا مقالہ شائع کیا۔ شہرت اور بڑھی، تو برلن یونیوسٹی، جو اس وقت علم کا گڑھ تھا، سے پروفیسر اور نئے انسٹیٹوٹ کے ڈائریکٹر، اور اچھی تنخواہ کی پیشکش ہوئی، جو قبول کر کے آئنسٹائن 1914 میں جرمنی چلا آیا۔

جرمن شہریت دوبارہ حاصل کر لی۔ یہاں آنے کے چار ماہ بعد ہی پہلی جنگ عظیم چھڑ گئی۔ چار سالہ جنگ کے دوران آئن سٹائن زیادہ تر جرمنی میں ہی مقیم رہا۔ 1918 میں جنگ جرمنی کی شکشت پر ختم ہوئی۔ جرمنی پر سخت شرائط تھیں، اور اسے فاتح ممالک کو بھاری رقم جرمانے کے طور پر دینا پڑ رہی تھی۔ اس سے جرمنی کی معیشت تباہ ہونا شروع ہوئی تو جرمن سیاست میں دائیں بازو کی قوم پرست جماعتوں نے زور پکڑ لیا۔

فرانس جرمنی کے کچھ علاقہ پر غاصبانہ قابض تھا، مگر اس کے باوجود آئن سٹائن فرانس کی تنظیموں کے ساتھ تعلقات قائم کر رہا تھا۔ دائیں بازو کی جماعتیں یہودیوں کو بھی جرمنی کی تباہ شدہ معیشت کا ذمہ دار سمجھتی تھیں۔ اس کے باوجود آئنسٹائن جرمنی میں مقبول تھا (سوائے کچھ دائیں بازو کے انتہا پسندوں کے)۔ آئن سٹائن عمومی اضافیت کے نظریہ سے مشہوری پانے کے بعد دنیا بھر کے دورے کیے جس میں جاپان، جنوبی امریکہ، امریکہ اور فلسطین شامل تھے۔ امریکہ کئی دفعہ گیا۔

ان دوروں میں سائنسی لیکچر کے علاوہ آئن سٹائن صیہونیت کا بھی پرچار کرتا۔ 1922 میں آئنسٹائن کو نوبل انعام دیا گیا۔ 1929 میں جرمنی کے ایک شہر نے ایک جھیل پر آئنسٹائن کو جھونپڑی تحفے میں دی (بعد میں آئن سٹائن کو اس کی کچھ قیمت بھی دینا پڑی) ۔ آئن سٹائن کشتی رانی کا شوقین تھا۔ 1933 میں آئن سٹائن امریکہ کے دورے پر تھا کہ جرمنی میں ہٹلر نے اقتدار سنبھال لیا۔

آئن سٹائن یورپ واپس پلٹ رہا تھا، تو بحری جہاز میں خبر ملی کہ جرمن پولیس نے اس کی جھونپڑی پر چھاپہ مار کر ملک دشمن مواد تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔ آئن سٹائن نے جرمنی کے بجائے بیلجیم پہنچ کر ڈیرے ڈالے۔ یہاں اس نے جرمنی کے خلاف جنگی تیاریوں کی حمایت کی۔[3]1933 میں ہی آئن سٹائن امریکہ منتقل ہو گیا۔

اولاد
پہلی بیٹی شادی سے پہلے 1902 میں سربیا میں بیوی ملیوا کے آبائی گھر پیدا ہوئی، مگر اسے ماں باپ نے پالا نہیں۔ اس کا انجام معلوم نہیں۔ 1903 میں پہلا بیٹا ہینز (Hans)، شادی کے چھ ماہ بعد پیدا ہوا، جس نے سویٹزرلینڈ سے پی۔ایچ۔ڈی۔ کی تعلیم مکمل کی، اور بعد میں برکلے یونیوسٹی کیلی فورنیا میں پروفیسر بنا، اور 1973 میں وفات پائی۔

اپنی ماں سے آئن سٹائن کے برے سلوک کی وجہ سے کافی عرصہ اس کے باپ سے تعلقات کشیدہ رہے۔ دوسرا بیٹا ایڈورڈ 1910 میں پیدا ہوا، جو ذہنی مریض تھا، اور ذہنی امراض کے اداروں میں ہی زیادہ وقت گزارا۔ 1965 میں زیورخ میں وفات پائی۔

ازواج
پہلی بیوی ملیوا مارِک (Mileva Maric) سے 1903 میں شادی ہوئی۔ ایک بیٹی، اور دو بیٹے پیدا ہوئے۔ 1914 میں برلن جانے کے بعد میاں بیوی کے تعلقات خراب ہو گئے۔ حالات اس حد تک بگڑ گئے کہ آئن سٹائن نے ملیوا کو صرف اس صورت اپنے ساتھ رکھنے پر راضی تھا اگر وہ یہ شرائط پوری کرے

A. تم یہ یقینی بنائو گی کہ (1) میرے کپڑے اور بسترا ٹھیک ٹھاک ہوں۔ (2) مجھے اپنے کمرے میں تین وقت کا کھانا پہنچائو گی۔ (3) میرا سونے اور پڑھنے کا کمرہ صاف ستھرا رکھو گی۔ میری پڑھنے والی میز کو کوئی ہاتھ نہیں لگائے گا۔ B. میرے سے تمہارے تمام ذاتی تعلقات ختم ہوں گے، سوائے لوگوں کو دکھانے کے لیے۔ …..جب مخاطب ہوں تو فورا جواب دو گی …..میرے بچوں کو میرے خلاف نہیں کرو گی، گفتگو سے یا اپنے عمل سے۔

اس کے بعد ملیوا بچوں کو لے کر زیورخ چلی آئی۔ 1916 میں آئن سٹائن نے طلاق کا سوال کیا۔ ملیوا ذہنی صدمے سے نڈھال ہو گئی، ہسپتال میں داخل ہوئی۔ آخر 1918 میں اس شرط پر طلاق ہوئی کے اگر میاں کو نوبل انعام ملے تو اس کے پیسے ملیوا کے ہوں گے اور بچوں کو مالی طور پر میاں سہارا دے گا۔ دونوں بیٹوں کو ملیوا نے اکیلے ہی سوئٹزرلینڈ میں پالا۔ بڑا بیٹا بڑا ہو کر امریکہ چلا گیا۔ 1948 میں ملیوا کی وفات ہوئی تو ہسپتال میں اکیلی تھی۔

1914 میں برلن آنے کے بعد آئن سٹائن کی شناشائی اپنی چچا زاد بہن ایلسا (Elsa) سے دوبارہ ہوئی۔ اس نے آئن سٹائن کے لیے ایک سیکرٹری ہیلن ڈیوکس (Helen Dukas) ڈھونڈ کر رکھ کے دی جو عمر بھر آئن سٹائن کی سیکرٹری رہی۔ آئن سٹائن اس شش وپنج میں تھا کہ ایلسا سے شادی بنائے یا اس کی جوان سال بیٹی سے۔ مگر اس بیٹی نے کچھ دلچسپی ظاہر نہیں کی اور آئن سٹائن نے ایلسا سے ہی شادی کر لی۔ ایلسا بعد میں آئن سٹائن کے ساتھ امریکہ آ گئی جہاں 1936 میں انتقال کیا۔

عمومی اضافیت نظریہ
مکمل مضمون کے لئے دیکھئے: نظری اضافیت
نظری عمومی اضافیت سائنسی میدان میں آئن سٹائن کی سب سے بڑی کامیابی تھا۔ اس نظریہ پر کام 1915 میں مکمل کیا۔ اس میں یہ بتایا گیا کہ

اسراع کے دوران مشاہد جو طاقت محسوس کرتا ہے وہ بعینہ کشش ثقل کی طرح ہے۔
کشش ثقل (جس کی وجہ سے مثلا سورج کے گرد سیارے کا گھومتے ہیں) کی طاقت کی ایک اور توضیح پیش کی۔ وہ یہ کہ سورج کی موجودگی سے زمان و مکان ہی ٹیڑھا ہو جاتا ہے۔ اب سیارہ اپنی طرف سے سیدھا ہی چل رہا ہوتا ہے مگر اس زمان و مکان کے ٹیڑھے پن کی وجہ سے وہ سورج کے گرد گھومتا ہے۔ اس ٹیرھے پن کا اثر برقناطیسی موجوں پر بھی ہو گا۔

مثلا ستاروں کی روشنی سورج کے پاس سے گزرتے ہوئے اپنا رخ ہلکا سا تبدیل کرتی ہے۔ روشنی کے اس مڑنے کی تصدیق تجرباتی طور پر سورج گرہن کے دوران برطانوی سائنسدانوں نے 1919 میں کی، جس سے عمومی اضافیت نظریہ کی تصدیق ہو گئی اور آئن سٹائن کی شہرت کی اخباروں میں دھوم مچ گئی۔ تاریخ دانوں نے کہا ہے کہ برطانوی سائنسدان ایڈنگٹن نے اس تصدیق میں ڈنڈی ماری تھی۔

اس کے علاوہ سیارے عطارد کا مدار مشاہدے میں جیسا نظر آتا تھا، اس کی آئزک نیوٹن کا کشش ثقل نظریہ پوری طرح تشریح نہیں کر پاتا تھا، جبکہ نظریہ اضافیت کی پیشن گوئی اور مشاہدہ میں مماثلت دیکھی گئی۔

نظریہ اضافیت کے مطابق روشنی کی شعاعیں بھاری ستاروں سے نکلتے ہوئے ان شعاعوں کا تعدد سرخ (روشنی کے طیف میں سرخ رنگ کی) طرف تھوڑا سا کھسک جاتا ہے۔
جب آئن سٹائن نے یہ نظریہ تیار کر رہا تھا، اسی عرصہ میں اس کا عظیم جرمن سائنسدان ڈیوڈ ہلبرٹ کے ہاں کچھ دن قیام رہا اور اس سے سائنسی بحث بھی ہوتی رہی۔ آئن سٹائن سے کچھ دن پہلے ہلبرٹ نے نظریہ اضافیت پر ابنا مقالہ سائنسی جریدے کو ارسال کیا۔ آئن سٹائن نے بعد میں ہلبرٹ پر اس کے خیالات ”چوری” کرنے کا الزام لگایا۔ یہ اب تک متنازعہ ہے کہ ہلبرٹ اور آئن سٹائن کا عمومی اضافیت نظریہ میں کتنا حصہ تھا۔

علم الکائنات
آئن سٹائن کے عمومی اضافیت کے نظریہ کا علم الکائنات سے گہرا تعلق بنتا تھا۔ اس لیے علم الکائنات کے بارے بھی آئن سٹائن نے تحقیقی نظریات پیش کیے۔

مقداریہ آلاتیات
مقداریہ آلاتیات کا نظریہ اسی زمانے میں وجود میں آ رہا تھا۔ اس نظریہ کے مطابق:

ہم یہ نہیں کہے سکتے کہ برقیہ گردش کرتا ہوا جوہر کے اندر ایک خاص مدار میں ہے، بلکہ صرف یہ کہہ سکتے ہیں برقیہ کا کسی جگہ موجود ہونے کا احتمال کیا ہے۔ یعنی جس طرح روشنی کی موجیں دوہری فطرت (dual nature) رکھتی ہیں، یعنی روشنی کی موجوں کو نوریہ ذرات پر مشتمل بھی سمجھا جا سکتا ہے، بعینہ، جوہری ذرات (مثلا برقیہ) بھی دوہری فطرت رکھتے ہیں، یعنی انہیں بھی موجوں کی طرح سمجھا جا سکتا ہے۔

اس نظریہ سے اصولِ سببیہ (causality principle) کی بھی نفی ہو سکتی ہے۔
غیریقینی اصول، جس کے مطابق کسی ذرے کا مقام اور معیار حرکت دونوں ایک ساتھ اپنی مرضی کی انتہائی درستگی سے ناپا نہیں جا سکتا۔
آئن سٹائن نے فلسفیانہ بنیادوں پر اس نظریہ سے اختلاف کیا۔ آئن سٹائن کا قول تھا کہ ”خدا طاس نہیں کھیلتا۔” اس کا خیال تھا کہ یہ ایک عارضی نظریہ ہے اور ایک بہتر نظریہ دریافت ہو گا جس میں یہ ”خامیاں” نہیں ہونگی۔ اس سلسلہ میں اس کی بوہر سے طویل عرصہ تک بحث ہوتی رہی۔ البتہ مقداریہ آلاتیات نظریہ سائنسدانوں میں قبول ہو گیا اور جوان سائنسدان بوڑھے آئن سٹائن کو غیر مناسب سمجھنے لگے۔

صیہونیت کی معاونت
آئن سٹائن فلسطین میں صیہونی ریاست اسرائیل کے قیام کا پر جوش حامی تھا۔ 1921 میں اس نے وائزمین (Chaim Weizmann) کے ساتھ امریکہ کا دورہ کیا اور صیہونیت کے لیے چندہ جمع کرنے کے لیے متعدد شہروں میں تقریریں کیں۔ 1952 میں آئنسٹائن کو اسرائیلی صدارت کی پیش کش ہوئی جو اس نے قبول نہیں کی۔

امریکہ میں
1933 میں آئنسٹائن، ایلسا اور ہیلن کے ساتھ امریکہ چلا آیا اور پرنسٹن یونیوسٹی میں پروفیسر لگ گیا۔ امریکہ کے پہلے دوروں پر اسے مختلف یونیوسٹیوں نے پہلے سے پروفیسری کی پیشکش کر رکھی تھی۔ یہاں کے خوبصورت قدرتی ماحول میں اپنی تحقیقات میں لگ گیا جو اب قدرت کی تمام طاقتوں کا ایک متحد نظریہ دریافت کرنا تھا۔ اس میں کامیابی تو نہ ہوئی، مگر کچھ نہ کچھ کاوشیں جاری رکھیں۔ 1940 میں امریکہ کی شہریت حاصل کی۔

امریکہ میں آئن سٹائن کی عظیم شخصیت کی طرح پذیرائی ہوتی تھی، اور صحافی اس کے ہر موضوع پر خیالات میں دلچسپی رکھتے تھے۔ دوسری جنگ عظیم کے حوالے سے آئن سٹائن کو جرمن قوم سے سخت نفرت ہو گئی اور جنگ کے بعد پیشکش ہونے پر بھی وہ جرمنی نہیں گیا۔

18 اپریل 1955 کو پرنسٹن میں ہی موت ہوئی۔ آئن سٹائن hemolytic anemia کا مریض تھا۔ موت کی وجہ اس کے arota میں aneurysm کا پھٹنا تھا۔ موت کے بعد پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر نے خفیہ طور پر سر چیر کر دماغ مرتبانوں میں ڈال کر محفوظ کر لیا۔ میت کو بعد میں جلا کر راکھ (cremate) کر دیا گیا۔

ایٹم بم
1939 میں امریکی صدر فرینکلن روزویلٹ کو خط لکھا جس میں ایٹم بم بنانے کی ترغیب دی۔ وجہ یہ بتائی کہ شاید ایڈولف ہٹلر ایسا کرنا چاہتا ہو۔ جب ہیروشیما اور ناگاساکی پر امریکہ کی طرف سے ایٹم بم کا استعمال سے لاکھوں انسان لقم اجل ہوئے تو آئن سٹائن نے افسوس کا اظہار کیا۔

امریکی بحریہ کا بم ماہر
دوسری جنگ عظیم کے دوران امریکی بحریہ نے اس کی خدمات اسلحہ ماہر کی حیثیت سے حاصل کیں۔ آئن سٹائن اپنی ماہرانہ رائے دیا کرتا کہ سمندر میں کس طرح کہ بم کی ساخت کامیاب رہیں گی۔

ایف۔بی۔آئی
امریکی خفیہ ایجنسی FBI آئن سٹائن کے بائیں بازو (سیاسی و معاشی)نظریات کی وجہ سے شک کی نگاہ سے دیکھتی تھی اور خفیہ تحقیقات کر رہی تھی۔

آئن سٹائن کا خدا
آئنسٹائن کے اقوال میں خدا (God) کا ذکر اکثر ملتا ہے۔ موجودہ زمانے میں مبصرین نے خیال ظاہر کیا ہے کہ خدا سے مراد قدرت (nature) تھی۔ بہرحال آئن سٹائن کا نظری خدا مذہبی نقطہ نظر سے مختلف ہونے کا خیال ظاہر کیا گیا ہے۔

Albert Einstein
Albert Einstein
Albert Einstein
Albert Einstein
Albert Einstein
Albert Einstein
Albert Einstein
Albert Einstein
Albert Einstein
Albert Einstein
Albert Einstein
Albert Einstein
Albert Einstein
Albert Einstein
Albert Einstein
Albert Einstein
Share this:
Tags:
Jewish
Ali Ahmed Brohi
Previous Post علی احمد بروہی
Next Post علامہ امداد علی امام علی قاضی
Imdad Ali Imam Ali Kazi

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close