
اندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھی
زندگی میں کبھی چوٹ کھائی بھی تھی
پیار ہی پیار کے سب کھیل کھیلے
کم ظرفوں سے عزت کرائی بھی تھی
کبھی دو بدو کبھی چپ رہے
ان پتھروں میں قوت گویائی بھی تھی
جو رہتے ہیں ہر پل کمر بستہ شر پر
کہ فطرت میں ان کے برائی بھی تھی
میرے ہی شعروں نے سب بھید کھولا
مقدر میں یہ جگ ہنسائی بھی تھی


مسز جمشید خاکوانی
