Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 15, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

انقلاب کا فلگ شگاف نعرہ

July 19, 2011July 20, 2011 0 1 min read
Imran Khan
Imran Khan
Imran Khan

حکمرانوں کی بے حسی اور خوراک ، پانی ، گیس ،بجلی اور صحت معالجہ جیسے بنیادی حقوق سے محروم ہوتے عوام کے صبروبرداشت کو دیکھتے ہوئے ہم برملاطور پر یہ کہہ سکتے ہیں کہ آج پاکستان کاقومی پھل صبر، قومی لباس کفن،قومی کھیل خودکشی اور خودکش حملے،قومی فیشن مذاکرات،قومی دعا یااللہ لائٹ آجائے اور حکمرانوں کے دلوں میں قومی خزانے سے محبت کا جذبہ ختم کرکے عوام سے محبت کا جذبہ مزین کردے یہ ہوکر رہ گئے ہیں اور پھر بھی قوم ہے کہ باوجود اِس کے کہ یہ ملک میں انقلاب برپاکرنے کی طاقت رکھتے ہیں مگرپھر بھی یہ اپنے اِن بے حس وحرکت حکمرانوں سے فلاح کی اُمید لگائے بیٹھی ہے کہ شائد وہ اِن کے حق میں کچھ بہتر کردیں ۔ جبکہ یہ امر واقع ہے کہ ہمارے ملک میں اناج سے لے کر توانائی تک کے پیداہونے والے ہربحران اور اِن بحرانوں سے جنم لینے والے ہر مسائل کے ذمہ داربھی ہمارے یہی موجودہ اور سابقہ سول اور فوجی حکمران ہیں جنہوں نے ہر دور میںملک اور قوم کے مفادات سے زیادہ اپنے مفادات کو ترجیح دی اور اِنہوں نے اپنے دورِ اقتدار میں دیدہ اور دانستہ طور پر خود کو کسی نہ کسی دوست نما دُشمن کا آلہ کار بنائے رکھا اور یہ اِس خوش فہمی میں مبتلارہے کہ اِن کے یہ آقا اِنہیں ہمیشہ یوں ہی سنبھالادیئے رکھیں گے مگرجوں جوں دنیاکے حالات اور ہمارے زمینی حقائق تبدیل ہوتے رہے توایک طرف ہمارے فرینڈزکنڑیزاوردوسری جانب ہمارے وہ اغیار ممالک جن کے لئے ہم اپنے انتہائی فراخ دلانہ انداز سے کام کرتے رہے وہ بھی ہم سے اَب نظریں چرانے لگے ہیں اور وہ اَب ہم سے کام لے کر بھی ہماری غیرمشروط طور پر کسی بھی قسم کی امداد کرنے سے کترارہے ہیںحالانکہ ہمارے تیور تووہی پرانے جیسے ہیں مگر اِن کے رویوں میں تبدیلی آگئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اِن کی اِس طرح ہماری امداد بندکردینے والے عملِ خاص وعملِ ناراضگی سے نہ صرف ہمارے ملک کی گاڑی رک کررہ گئی ہے بلکہ اَب توہمارے حکمرانوں ،سیاستدانوں اور بہت سے اعلی ٰ عہدوں پر فائز اشخاص کی دال دلیہ پر بھی منفی اثرات پیداہونے شروع ہوگئے ہیں ۔جسکا سب سے زیادہ بُرااثر عوام الناس پرپڑرہاہے اور عوام اپنے مسائل کی چکی میں پس کر کسی انقلاب کی صدابلندکررہے ہیں عوامی کی جانب سے بلندہوتی ہوئی انقلاب کی صداسے متعلق ہماراخیال یہ ہے کہ انقلاب کی صدا اَب تک تو اِن کے حلق ہی میں پھنس کررہ گئی ہے….مگر ملک میں انقلاب کے لئے اِن کی بیقراری اور بے چینی  کو دیکھ کر یہ اندازہ ضرور کیاجاسکتاہے کہ اگر حکمرانوں ، سیاستدانوںاور ملک کے اعلیٰ سول اور فوجی عہدوں پرفائز اشخاص کی جانب سے عوام کے ساتھ یوں ہی ناانصافیوں اور مہنگائی ، بھوک وافلاس ، کرپشن سمیت اِن کے بنیادی حقوق کی حصولی سے متعلق اِنہیں کسی قسم کے ریلیف نہ دیئے جانے کا سلسلہ جاری رہاتو عین ممکن ہے کہ ملک میں وہ انقلاب آجائے جس کی رَٹ جاویدہاشمی،عمران خان اور الطاف حُسین لگارہے ہیںتو وہ انقلاب ملک میں آکر رہے گا اِس لئے ضروری ہے کہ ہمارے ارباب اقتداراور اختیاراپنااحتساب کرلیں اور اپنی عیاشیوں کو ملک اور قوم کے بہتر مستقبل کے لئے ترک کرکے وہی کچھ کریں جنہیںکرنے کا عوام اِن سے مطالبہ کررہے ہیںورنہ اِن کا حشر عوام وہی کردیں گے جس کی جانب جاویدہاشمی ،عمران خان اور الطاف حُسین گاہے بگاہے عندیہ دیتے رہتے ہیں۔  بہر حال اِس لحاظ سے ہمیں یہ کہنے دیجئے کہ آج شائدہمارے اِس نقطہ ء نظرسے کوئی بھی ذی شعور پاکستانی انکار نہ کرسکے کہ ملک اپنی تاریخ کے جس انتہائی نازک دور سے گزررہاہے اِسے ایسے حالات واقعات کا سامنا کبھی نہیں پڑاتھاجن حالات سے یہ آج گزررہاہے اِس لئے کہ میراملک جواپنے قیام سے لے کر آج تک کسی نہ کسی طرح اپنے دوستوں اور دشمنوں کے ہاتھ کھلونابنارہا اور اِن سب نے اِسے اپنے اپنے مقاصد اور مفادات کے حصول کے خاطر بیدریغ استعمال کیا اور ہم اِن سے ہمیشہ امداد اور قرضوں کے عوض ملنے والے ڈالروں کی لالچ میں کسی غلام کے مانندہاتھ باندھے اِن کا ہر حکم بجالاتے رہے اور یہ سمجھتے رہے کہ ہمارے دوست ہم پر جو مہربانی کررہے ہیں اِن کی خواہش کی تکمیل کرکے ہی اِن کے احسانات کا ازالہ کیاجاسکتاہے یوں اِسی جذبہء کاہلی اور فقیرانہ طبیعت کے باعث ہم ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے رہے مگروقت کا پہیہ تیزی سے آگے اور آگے بڑھتارہااور آج یہ اپنی رفتار سے دنیا کو اتنے آگے لے جاچکاہے کہ ہم اِس کا تصور بھی نہیں کرسکتے ہیںیوں ہم اپنی کاہلی اور سست روی اور اپنوں اور اغیار پر تکیہ کئے رکھنے کے باعث دنیا سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں دوسروں کے دیئے ہوئے بھیک نماٹکڑوں پرگزراکرتے کرتے ہماری عادت میں وہ فقیرآگئی ہے کہ اَب ہم دنیا سے اپنی استطاعت سے بڑھ کر کچھ مانگتے ہیں تووہ اَب ہم سے شرائط کرنے لگی ہے اور برملا مطالبہ کرتی ہے کہ پہلے ہمارے کام کو ہمارے معیار اور مرضی کے مطابق کرو تو تم کو وہ ملے گاجس کی تمہیں ضرورت ہے اور جب ہم اپنی سستی اور کاہلی کی وجہ سے اِن کی شرائط پر پورانہیں اُترتے ہیں تو یہ ہماری امداد نمابھیک اور قرضے ہمیں دینے سے انکار کردیتے ہیں جیسااِن دنوں ہمارادوست نمادشمن اور دہشت گردِ اعظم امریکاہماری ہر طرح سے امداد اور قرضے محض اِس بنا پر نہیں دے رہاہے کہ اَب ہم نے اپنی اُصولی ا ورجارحانہ پالیسیوں کی وجہ سے اِس کی شرائط ماننے سے انکارکردیا ہے تو اِس پر یہ ہم سے ناراض ہوگیاہے اور ہم پر اِدھر اُدھر سے جائز اور ناجائز غر ض کے ہر قسم کے دباؤ ڈا ل رہاہے کہ ہم اِس کی شرائط مان جائیں تو یہ ہم کو ہماری مطلوبہ امداد کی شکل میں ڈالر دے گا۔
اگر چہ یہ حقیقت ہے کہ نائن الیون کا وہ المناک واقعہ جِسے دنیا کے دہشت گردِ اعظم امریکا اور اِس کے ضدی اور ہٹ حرام بچے اسرائیل نے خودتیار کیاتھا اوراِن دونوں نے اپنی ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت اِس کا ساراملبہ مسلمانوں کے سر ڈال دیااوراِس طرح یہ خود کو پوتر ثابت کرنے میں کامیاب رہے اور یوں اِنہوں نے ساری دنیا میں مسلمانوں اور بالخصوص پاکستانیوں کو دہشت گردی کے علامت کے طور پر  پیش کیا اور دنیا میں اُمت مسلمہ سے ایک غیر اعلانیہ صلیبی جنگ شروع کردی جو آج بھی افغانستان کی پہاڑوں اور پاکستان کے علاقوں میں جاری ہے ۔اگرچہ یہاں افسوسناک امر یہ رہاکہ اِس جنگ میں امریکا نے ہم کو بھی زبردستی شامل کرنے کے لئے ہم پر ہر وہ دباؤ ڈالاجو ہماری برداشت سے باہرتھامگر چونکہ ہم اِسے اپنا سب سے بڑاہمدرد اور دوست سمجھتے ہیں اور اِس سے امداد لیتے رہتے ہیں اِس لئے اِس کے مشکل وقت میں ہمیں کام آنا پڑا اورہم اِس کے پریشر میں بھی آچکے تھے اِ س وجہ سے بھی ہمارے لئے اِس کو انکار کرنا نہ صرف ناممکن رہا بلکہ مشکل ترین بھی ہوگیاتھا ایسے میں ہم کسی زرخریدغلام کی طرح اِس کے ہر حکم کی تکمیل میں ہاتھ باندھے اِس کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شامل ہوگئے اور آج بھی ہنوز اِس کی جنگ کا ہراول دستہ بن کر اپنا اِس سے زیادہ نقصان کرنے میں لگے پڑے جس کی تفصیل میں جانے کی کوئی ضرورت نہیں اِس کے لئے صرف یہی کہنا دیناکافی ہوگاکہ نائن الیون کے بعد اغیار کی لگائی ہوئی آگ میں جس طرح ہم خود کو جھونک کر طرح طرح کے مسائل سے دوچار ہوگئے ہیں وہ بھی آج دنیا سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں مگر اِس کے باوجود بھی کیایہ ہمارے غلامانہ ذہن کا عکاس نہیں ہے کہ ہم اپناہر قسم کر نقصان برداشت کرکے بھی امریکا سے ہر معاملے میں جھڑکیاں کھارہے ہیں اور اِس کی جانب سے اپنے اُوپر طرح طرح کے لگائے جانے والے اُلٹے سیدھے الزامات کے باوجود بھی اِس کے ہر حکم کو ماننے اور اپنی افواج کے ہاتھوں اپنے ہی لوگوں کو گولیوں اور گولوں سے بھون ڈالنے میں لگے پڑے ہیں یہ جان کر بھی کہ اِس طرح ہم اپنے ہی لوگوں کو مارکراپنی ہی قوت کو کمزروکررہے ہیں اور اپنے ہی ملک میں اپنے ہی خلاف اپنے ہی لوگوں کو باغی کررہے ہیں مگر کیا کریں ہم نے امریکا سے مختلف حیلے بہانوں سے اتنا کچھ بٹور لیاہے کہ اَب ہم اِس سے انکار کرکے خود کو معاشی اور عیاشی طور پر کسی مشکل میں بھی نہیں ڈال سکتے اِس وجہ سے ہم نے سوچ لیاہے کہ بھلے سے ہماری ہاتھوں ہمارے ہی لوگ مریں تو مریں مگر امریکا ہم سے قطعاََ ناراض نہ ہو اور اگر یہ ہمارے انکار پر ناراض ہوگیاتو ممکن ہے کہ وہ ہم سے اُن اربوں ڈالر قرضوں کی وصولی اور آئندہ امداد اور قرض نہ دینے کا مطالبہ کربیٹھے تو ہم کیاکریں گے جیسااِس نے گزشتہ دنوں اپنی مرضی کے مطابق کام نہ کرنے پر ہماری امداد اور قرض بندکرنے کا منصوبہ بنالیاہے جس کے لئے اِن دنوں ہمارے حکمران اور فوجی اور سول قیادت اِسے منانے اور امداد کی صورت میں قرضوں کی وصولی کے لئے پریشان ہیںجبکہ اِس حوالے سے یہ اطلاعات آرہی ہیں کہ ہمارے حکمرانوں اور اعلیٰ قیادت نے ناراض امریکاکو منانے سے متعلق یہ اُمید ظاہر کردی ہے کہ اِن کی دن رات کی انتھک محنت رنگ لے آئی ہے اور امریکا روکی گئی امداد اور قرضوں کی ادائیگی کے لئے راضی ہوگیاہے  جس کے بعد ملک کی رکتی اور عوام کی سسکتی گاڑی کا پہیہ پھر سے تیزی سے چلنے لگے گا۔ بہر کیف! ملک کی موجودہ د معاشی ، سیاسی اوراخلاقی طور پرد گرگوں ہوتی صورت حال کے حوالے سے گزشتہ دنوں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنمااور رکن قومی اسمبلی مخدوم جاویدہاشمی نے لاہور میں ایک سیمنار سے خطاب اور میڈیاسے گفتگو رکرتے ہوئے کہاکہ لیڈرشب نہ جاگی توملک میں ایساانقلاب آئے گا کہ عوام ہمارے بے حس وحرکت پڑے حکمرانوں اور امریکی چیلے سیاستدانوں کو بھی زندہ نہیں چھوڑیں گے جنہوں نے امریکی غلامی اور اِن کی نمک حلالی کا حق اداکرتے ہوئے قومی خزانے کا ستیاناس کردیاہے اور اُنہوں نے کہاکہ اَب اِن حالات میں اِن ہاؤس تبدیلی کا وقت نہیں ہے بلکہ اَب تو وقت آگیاہے کہ ملک میں انتخابات سے ہی تبدیلی لائی جائے جبکہ دوسری جانب ہمارے ملک کے انتہائی جوان مگر ذراسے جذباتی پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے بھی اپنی پارٹی تحریک انصاف برطانیہ کے زیر اہتمام الفورڈ میں پارٹی کے فنڈریزنگ ڈنر کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان میں انقلاب کا عمل شروع ہوچکاہے (ارے عمران بھائی کہاں شروع ہوچکاہے ہمیں تو بھوک وافلاس ، کرپشن سمیت اور دیگر مسائل کے دلدل میں دھنسے عوام کی جانب سے کوئی ایساانقلاب اُٹھتا نظرنہیں آرہاہے آپ کس انقلاب کے شروع ہونے کی بات کررہے ہیں …؟) جبکہ یہ حیرت کی بات ہے کہ اُنہوں نے اِس موقع پر یہ کہاکہ اِن کی پارٹی ملک میں انقلاب کے لئے مکمل طور پر تیار ہے اِن کا کھولا دعویٰ ہے کہ ملک میں انقلاب کے لئے ملک کے90فیصد نوجوان اِن کے ساتھ ہیں جبکہ حسب عادت اُنہوں نے اپنی صاف گوئی کا سہارالیتے ہوئے اِس موقع پر اِس بات کا اعتراف ضرور کیاکہ ملک میں انقلاب اورتبدیلی کے لئے شہید ذوالفقار علی بھٹو کی کوششیں لائق احترام اور قابل ستائش ضرور تھیں اگرچہ اِن کاکہناتھاکہ ماضی میں نرم انقلاب کے حوالے سے شہیدذوالفقارعلی بھٹو کا چھوٹاانقلاب تھا جس نے ملک کی تقدیر بدلنے کی سعی کی مگر ہم اپنے ملک کے نوے فیصد نوجوان کے ساتھ جو انقلاب لائیں گے وہ ملک میں انقلاب کا سونامی ہوگا جس کی زد میں آنے والا ہر بڑااور کرپشن زدہ شخص اپنے عبرتناک انجام کو پہنچے گا۔ بلاشبہ ہماراملک آج حکمرانوں کی جانب سے کئے گئے کرپشن کی وجہ سے جن نازک حالات سے گزررہاہے اِن حالات میں تو ملک میں انقلاب کا آناایک لازمی امر قرار دیاجاسکتاہے مگر یہاں سوال یہ پیداہوتاہے کہ ملک میں انقلاب کون ….ا ور کیسے لائے گا.؟؟تواِس موقع پر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ آج ملک میں سوائے ایم کیو ایم جو ملک کے ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والی جماعت ہے اِس کے علاوہ اور جتنی بھی جماعتیں جہاں کہیں سے بھی ملک میں انقلاب انقلاب کی باتیں اپنی پوری شدت سے کررہی ہیں وہ اِس میں بڑی حد تک فٹی فٹی ہیں اور اِن کا انقلاب کے حوالے سے ہربیان سیاسی تو قراردیاجاسکتاہے مگر اندر سے یہ انقلاب کے ہرگز خواہشمند نہیں ہیں اِس کے باوجود بھی چلو مان لیتے ہیں کہ ملک کی باتی جماعتیں بھی انقلاب لانے کا ارادہ رکھتی ہیںمگر پہلے وہ یہ تو فیصلہ کریں کہ اِن کا ملک میں انقلاب لانے کے لائحہ عمل  کیاہوگااورکس کا کونسالائحہ عمل ایساجامع اور منظم ہے کہ عوام اِس کے انقلابی منشور سے متفق ہوکر انقلاب کے لئے اِس کے ساتھ نکل کھڑے ہوں گے…. ہم سمجھتے ہیں کہ اَب تک جس طرح ملک میں انقلاب کی باتیںکی جارہی ہیں وہ ایک فریب کے سوااور کچھ نہیں ہے کیوںکہ موجودہ دور حکومت میں تو کم ازکم کوئی ایک بھی ایسادکھائی نہیں دے رہاہے کہ جو انقلاب لانے کے لئے تیار ہو اِس کی وجہ ہماری سمجھ میں یہ آئی ہے کہ جو لوگ ملک میں انقلاب کی  باتیں کررہے ہیں وہ کسی نہ کسی طرح سے خود کسی نہ کسی کرپشن کے پیروکار رہے ہیں یا ہیں تو یہ ملک میں سوائے زبانی کلامی انقلاب لانے کے خواہشمندتو ہیں مگر عملی انقلاب آنے کے بعد یہ لوگ اپنے المناک انجام سے بھی ڈرتے ہیں چلو بالفرض ہم مان بھی لیتے ہیں کہ ملک میں اگر کسی بھی طرح انقلاب آبھی گیاتو وہ بھی کیاہمارے یہاں اُن برائیوں کا جڑسے خاتمہ کرپائے گا جن میں ہم گزشتہ 64سالوں میں پڑ کراُن برائیوں کے عادی ہوچکے ہیں اور کیا ہم اپنی اُن برائیوں کے خاتمے کے بعد جن میں لپیٹ کر ہم آج اپنی ایک نسل کو پروان
چڑھاچکے ہیں کیاوہ کسی ایسے نئے نظام کو قبول کرپائے گی جس کے رائج ہوتے ہی اِسے طرح طرح کی معاشی، سیاسی ، اقتصادی ،مذہبی اور اخلاقی پابندیوں کا سامناکرناپڑے گااور  ہماری نوجوان نسل کو اُن تمام برائیوں سیجس کی وجہ سے آج اِس کا اسٹنڈرڈ آف لیونگ اَپ ہواہے۔ کیایہ اُن برائیوں سے خود چھٹکارہ دلاکر ایک پاک صاف نظام کاخود کو حصہ بنانے کے قابل کرپائے گی ۔؟؟اگر اِس جواب ہماری نوجوان نسل ہاں میں دیتی ہے تو پھر ملک میں انقلاب لانے کے لئے  ایک لمحہ بھی دیر نہیںہونی چاہئے ۔بہر حال! یہ حقیقت ہے کہ ہمارے ملک میں حکمرانوں سے لے کرسیاستدانوں اور عوام تک کرپشن کاکلچر جس طرح جڑپکڑچکااِس سے چھٹکارے کے لئے ملک میں انقلاب کا آنالازم وملزوم ہوگیاہے اور اَب ننگے بھوکے،بے کس ومجبور عوام کے سامنے اپنی بقاء اور ملکی سا  لمیت کے لئے ایک ہی راستہ رہ گیاہے اور وہ ہے انقلاب …..انقلاب اور بس انقلاب کا ایساانقلاب جو موجودہ بے حس حکمرانوں،سیاستدانوں،اور اعلیٰ سول اور فوجی عہدوں پر فائز اشخاص کو بھی بہاکر لے جائے گاجس کے لئے ملک کے آٹے، بجلی، پانی اور اپنے بینادی حقوق سے محروم اٹھارہ کروڑ عوام بیقراری سے اُس وقت کے منتظر ہیںجب اِن کی برداشت کی حد ختم ہوجائے گی اور صبر کا دامن اِن کے ہاتھ سے چھٹ جائے گا تو پھر ملک میں وہ انقلاب آجائے گاجو سب کچھ بہاکر لے جائے گااور اِس کے بعد ہمارے یہاں ایک ایسانظام پروان چڑھے گا جس کی دنیا تعریف کرے گی۔

محمداعظم عظیم اعظم

Share this:
Tags:
altaf hussain imran khan pakistan انقلاب حکمران
general waheed
Previous Post پاک فوج کے جنرل وحید ارشد کی اعلی چینی دفاعی حکام سے ملاقات
Next Post سپاٹ فکسنگ کیس : تین معطل پاکستانی کرکٹرز کی سماعت ملتوی
amir asif

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close