Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 15, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

علامہ اقبال کا تصورِ خودی

August 2, 2011August 2, 2011 0 1 min read
IQBAL

IQBAL یو اے میں قلندرانِ اقبال نے فکرِ اقبال کے حوالے سے شعرو ادب کے ایک نئے انداز کی بنیاد رکھی ہے جس کا بنیادی مقصد اقبال کے فلسفے ، اس کے نظریات اور شاعری کو عام آدمی تک پہنچا نا اور آگاہ کرنا ہے تا کہ علامہ اقبال کی آفاقی سوچ کی روشن قندیلیں معاشرے کے اندر اونچ نیچ اور عدمِ مساوات کے اندھیروں کو ختم کر کے تکریمِ انسانیت، مساوات اور محبت و الفت کے لافانی جذبوں کو زبان عطا کر سکیں اور ایک پر امن اور خوشخال معاشرے کی مضبوط بنیا دیں اٹھا نے میں ممدو معاون بن سکیں۔ اپنے اسی پرواگرام اور مقاصد میں حقیقتوں کے رنگ بھرنے کیلئے ٢٩ جولائی کو مقامی ہوٹل میں محفلِ شعرو سخن کا اہتمام کیا گیا ۔ قلندرانِ اقبال کی دو ماہ کے اندر یہ تیسری نشست تھی جس میں اہلِ دانش اور جویانِ ِ علم کی بے تابانہ شرکت نے ادبی نشستوں کی مقبولیت میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے ۔ شعرو سخن کی یہ نشستیں ادب کی ترویج اور اس کی مقبولیت کا زبر دست باعث بن رہی ہیں اور لوگوں میں ادب کے حوالے سے ایک نئے رحجان کو پروان چڑھا نے میں بڑا اہم رول ادا کر رہی ہیں۔ قلندرانِ اقبال کی اس ادبی نشست کے دو حصے تھے۔ پہلے حصے میں ایک مشاعرے کا انعقاد کیا گیا تھا جبکہ دوسرے حصے میں پروفیسر ڈاکٹر وحید الزمان طارق کے بصیرت افروز خطبہ نے سامعین کو اپنے سحر میں جکڑ لیا تھا۔٢٩ جو لائی بروز جمعہ کو منعقد ہونے والی ادبی نشست کا موضوع تھا علامہ اقبال کا تصورِ خودی اور پروفیسر ڈاکٹر وحید الزمان طارق نے جس خوبصورت اور منفرد ا نداز میں تصورِ خودی پر روشنی ڈالی وہ سب کیلئے حیران کن بھی تھی اور معلوماتی بھی تھی۔۔۔۔ ممبران آرگنائزنگ کمیٹی ۔۔۔طارق حسین بٹ۔۔۔ڈاکٹر صبا حت عاصم واسطی۔۔۔ شیخ واحد حسن۔۔۔عبدالسلام عاصم۔۔۔اس ادبی نشست میں یو اے ای کے تمام اہم شعرا نے شرکت کر کے اقبال سے اپنی محبت کی گواہی کو ثبت کیا۔ تمام شعرا کااس ادبی نشست میں شمولیت پر ذوق و شوق دیدنی تھا۔ تمام سخنور ایک ایسے شاعر کیلئے جمع ہو ئے تھے جس نے اپنی شاعری سے تاریخ کا رخ موڑا تھا۔مشاعرے کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ اس میں پاکستان سے اردو ادب کے تین بڑے نام خصو صی طور پر شریک ہوئے اور مشاعرے کو نیا وقار، مقام اور افق عطا کیا۔پروفیسر مشکور حسین یاد اردو ادب کا ایک بہت بڑا نام جو پچھلی نصف صدی سے اردو ادب کی آبیاری کا فر یضہ سر انجام دے رہے ہیںصدرِ مجلس تھے۔ محترم سعود عثمانی اردو ادب کا ایک اور معتبر نام اس ادبی نشست کے مہمانِ خصوصی تھے جبکہ صحا فتی دنیا میں اپنی بے پناہ صلاحیتوں کا اظہار کرنے والے نوائے وقت کے ایڈیٹر اور مشہور کالم نگار سعیدآ سی سپیشل گیسٹ کی حیثیت سے رو نق ِمحفل تھے۔مشاعرے کا آ غاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا جس کی سعادت حسیب اعجاز کے حصے میں آئی جب کے نعتِ رسول مقبول ۖ پیش کرنے کی سعادت نوجوان نعت گو شاعر شیخ طیب کا مقدر بنی۔ شیخ طیب نے علامہ اقبال کی نعت لوح بھی تو قلم بھی تو تیرا وجود الکتاب بڑے دلنشیں انداز نیں پیش کر کے سامعین سے بے پناہ داد سمیٹی۔ اس کے بعد مشاعرے کا باقاعدہ آغاز ہوا اور حا ضر ین نے تمام شعرا کو دل کھول کر داد دی اور ان کی شاعری کو بھر پوردادو تحسین سے نوازا۔مشاعرے میں جس خوبصورت انداز سے شعرا نے اپنا کلام پیش کیا اور سامعین نے جس بھر پور انداز سے داد دی اس نے مشاعرے کو نیا رمگ عطا کر دیا۔بڑے اعلی معیار کی شاعری پیش کی گئی۔ ایک ایک شعر پر دادو تحسین کا زمزمہ بہہ رہا تھا کیو نکہ تمام سامعین کا تعلق بھی بنیادی طور پر شعرو ادب سے تھا۔ ایسی منفرد اور یاد گار محفلیں بڑی خال خال منعقد ہوتی ہیں جس میں حاضرین شعرو ادب کا اتنا گہرا ذوق رکھتے ہوںاور خوش قسمتی سے قلندرانِ اقبال کی یہ محفل اس لحاظ سے منفرد تھی کہ اس میں شریک حاضرین اقبال کی محبت میں بھی مستغرق تھے اور شعرو ادب سے خصوصی لگائو بھی رکھتے تھے۔ اس مشاعرے کی نظامت کے فرائض  طارق حسین بٹ نے ادا کئے جو سارے مشاعرے کے دوران اقبال کے اشعار سے مشاعرے کو مزین کرتے رہے۔ ان کے اس منفرد اور نئے انداز کی بدولت سامعین کو علامہ اقبال کے ایسے بہت سے اشعار سننے کو ملے جو شائد ان کی نظروں سے پہلے نہیں گزرے تھے۔ طارق بٹ نے اپنے دو اشعار علامہ اقبال کی نذر کر کے مشاعرے کا آغا ز کیا  ۔ یہ جو پاک وطن ہے میرا تعبیر ہے اس کے خوابوں کی۔۔اس کی مٹی میں ہے خوشبو سر خ رنگ گلابوں کیاس میں میرے جانبازوں کی تکبیریں اور اذانیں ہیں۔ سا یہ فگن ہے چاندنی اس پر روشن روشن مہتابوں کی۔۔۔ قلندرانِ اقبال کی محفلِ شعرو سخن کے شعرا کرام۔۔۔ پروفیسر مشکور حسین یاد۔ سعو د عثمانی ۔ سعید آسی ۔ع س مسلم۔ ظہو ر الا سلام جاوید۔ یعقوب تصور۔ ڈاکٹر صباحت عا صم واسطی۔ تسنیم عابدی۔ ڈاکٹر ثروت زہرہ۔ سحتر تاب رومانی۔ سعید پسروری ۔محمد یعقوب عنقا۔ آصف رشید اسجد۔ طیب رضا۔طارق حسین بٹ۔فقیر سائیں۔ راجہ محمد احمد۔عبد السلام عاصم۔ارسلان طارق بٹ۔ عتیق احمد۔شیخ واحد حسن۔مشاعرے کا دوسرا حصہ علامہ اقبال کے تصورِ خودی پر خطبے کی صورت میں تھا جواس ادبی شام میں قلندرانِ اقبال کے سر پرستِ اعلی پرو فیسر ڈاکٹر وحید الزمان طارق نے دیا۔ یہ خطبہ اپنی علمی سطح اور جاذبیت کے لحاظ سے بہت بلند پایہ تھا۔ پروفیسر ڈاکٹر وحید الزمان طارق نے کہا کہ اقبال کا تصورِ خودی انسان کا خود کو پہچاننے کا نام ہے۔ انھوں نے کہا کہ علامہ اقبال کی کتاب اسرارِ خودی ١٩١٥ میں شائع ہوئی لیکن عجیب اتفاق ہے کے کوئی اس کو چھاپنے کیلئے تیار نہیں تھا۔ علامہ اقبال اس کتاب کی اشاعت کے لئے فیروز اینڈ سنز کے پاس گئے تو انھوں نے کہا کہ علامہ صاحب اس کتاب میں بالکل خسارہ ہی خسارہ ہے۔ یہ کتاب فارسی میں ہے اور فارسی کون پڑھے گا۔ علامہ اقبال نے کتاب کی اشاعتی لاگت کا آدھا حصہ اس وقت ادا کیا اور کہا کہ جب یہ کتاب چھپ جائے گی تو اس کے نقصان کے باقی ماندہ حصے پر اس وقت بات کریں گئے۔کتاب چھپ کر مارکیٹ میں آئی تو اس قدر مقبول ہوئی کہ اس کے نسخے نایاب ہو گئے۔ فارسی کے استاد پروفیسر نکلسن نے اس کتاب کا  ترجمہ انگریزی میں کر کے اس کتاب کی افادیت اور شہرت میں بے پناہ اضافہ کر دیا۔ پروفیسر نکلسن کہا کرتا تھا کہ ایک بہت بڑا شاعر ظہور پذیر ہو چکا ہے حالانکہ یہ علامہ اقبال کی فارسی کی پہلی کتاب تھی جب کہ اس کے بعد ان کا بہت سا فارسی کلام منظرِ عام پر آیا جس میں ان کی شعرہ آفاق کتاب جاوید نامہ بھی شامل ہے۔ فیروز اینڈ سنز والے شیخ صاحب جس کتاب کو خسارے کا سودا سمجھ کر قبول کرنے سے معذرت کر رہے تھے اسی کتاب نے انھیں مال و زر وجواہر میں نہلا دیا۔۔   ڈاکٹر وحید الزمان طارق نے کہا کہ جاوید نامہ ہر دور کی کتاب ہے۔ جاوید نامہ ہر اس بڑی کتاب کی مانند ہے جو انسانی فکر، ندرت ،لطافت اور حسِ جمالیات کو ہر دور میں سیراب کرتی رہتی ہے۔اقبال جاوید نامہ میں  تصورِ خودی کو بڑے بلیغ اور واضح انداز میں بیان کرتے چلے جاتے ہیں۔۔اس حوالے سے اگر بغور دیکھیں تو جاوید نامہ بنی نوعِ انساں کے ماضی حال اور مستقبل کے مقدر کی نشاندی کرتا ہے۔ جاوید نامہ صرف علامہ اقبال اور زبانِ فارسی کا ہی عظیم فن پارہ نہیں بلکہ فکرو خیال فلسفہ اور اور عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے بھی ایک منفرد اور ہمیشہ زندہ رہنے والا تخلیقی کار نامہ ہے۔جاوید نامہ کے پیش کردہ تصور سے انسان کا جو ہیولی ابھرتا ہے وہ اپنی جگہ بہت اہمیت رکھتا ہے ۔علامہ اقبال کی شاعری میں انسان کاجو عمومی تصور جا بجا بکھرا ملتا ہے وہ جاوید نامے میں اپنی انتہائوں کو چھو لیتا ہے۔ علامہ اقبال کو یقینِ کامل تھا کہ اس کرہِ ارض کا انسان اگر فلسفہ خودی پر عمل کر لے تو بلندیوں اور عظمتوں کی انتہائوں کو چھو سکتا ہے اور لامکاں تک اسکی رسائی کو روکنا کسی فرد کیلئے ممکن نہیں ہو گا۔ تو اے اسیرِ مکاں لا مکاں سے دور نہیں۔وہ جلوہ گاہ تیرے خاکدان سے دور نہیںمنزل ہے تیری مہ و پروین سے ذرا آگے۔، قدم اٹھا یہ مقام آسماں سے دور نہیں ڈاکٹر وحید الزمان طارق نے کہاکہ پروفیسر نکلسن نے اسرارِ خودی کی اشاعت کے بعد اپنے دوست گو رنر پنجاب جنرل ڈائر کو لکھا کہ کہ اے میرے دوست ایک بہت بڑے شاعر کا ظہور ہو چکا ہے لیکن افسوس کہ  وہ میری قوم کا فردنہیں ہے لیکن اس سے بھی زیادہ حیرانگی کی بات یہ ہے کہ وہ جس زبان میں شاعری کرتا ہے وہ اس کی اپنی قوم کی بھی زبان نہیں ہے۔پروفیسر نکلسن برِ ِ صغیر تشریف لاتے ہیں اور اپنے دوست جنرل ڈائر کو اقبال سے ملاقات کے انتظامات کیلئے کہتے ہیں۔برِ صغیر میں آنے کے بعد پروفیسر نکلسن جب بار بار جنرل ڈائر سے اقبال کا ذکر کرتے ہیں تو جنرل دائر پریشان ہو جا تا ہے کہ یہ پروفیسر تو زندگی میں اپنے سوا کسی کی تعریف نہیں کرتا لیکن یہ کون سی ایسی شخصیت ہے جس کا ذکر اس کے ہونٹو ں کے ساتھ چپک کر رہ گیا ہے۔ جنرل ڈائر گورنر ہائوس میں اقبال سے ملاقات کی خواہش کرتا ہے تو پروفیسر نکلسن  اسے کہتا ہے کہ وہ یہاں نہیں آئے گا بلکہ میں اس سے ملاقات کرنے خود ا س کے پاس جائوں گا۔جنرل ڈائر کہتا ہے تو پھر میں بھی تمھارے ساتھ چلوں گا ۔ یہ بات اس زمانے کی ہے جب علامہ اقبال انار کلی کے دو کمروں کے ایک چھوٹے سے گھر میں رہا کرتے تھے۔ اسی گھر میں جنرل ڈائر اور پرو فیسر نکلسن علامہ صاحب سے ملاقات کیلئے ان کے گھر تشریف لے جاتے ہیں ۔ دورنِ گفتگو جنرل ڈائر علامہ اقبال سے کہتا ہے مجھے چھہ افراد کو خطاب دینے کا اختیار حاصل ہے اور میری خواہش ہے کہ میں سر کے خطاب کیلئے آپ کے نام کا اعلان کر دوں۔ علامہ اقبال کہتے ہیں کہ جب تک میرے استاد مو لوی میر حسن کو شمس العلما کا خطاب نہیں دیا جاتا میں سر کا خطاب قبول نہیں کر سکتا ۔ جنرل ڈائر مولوی میر حسن کیلئے خطاب کا وعدہ کر کے رخصت ہوتے ہیں اور مولوی میر حسن کے با رے میں ساری تحقیق کرنے کے بعد علامہ اقبال کو کہتے ہیں کہ آپ کی علمی وجاہت سے تو انکار ممکن نہیں لیکن آپ جس شخص کی بات کر رہے ہیں وہ توایک چھوٹے سے سکول کا استاد ہے اورا سکی کوئی ایسی تصنیف بھی نہیں ہے جس کی بنیاد پر مو لوی میر حسن کو شمس العلما کا خطاب دیا جائے۔ علامہ اقبال کہتے ہیں کہ اسے کسی تصنیف کی کوئی ضر ورت نہیں ہے کیونکہ میں اس کی سب سے بڑی تصنیف ہوں۔میں آج جو کچھ بھی ہوں اسی مو لوی میر حسن کی وجہ سے ہوں لہذا مجھے خطاب دینے سے پہلے میرے استادِ محترم کو شمس العلما کا خطاب دیا جانا ضروری ہے ۔ اور ہاں ایک بات کا خصوصی خیال رکھا جائے کہ میرے استادِ محترم بہت ضعیف ہو چکے ہیں اور وہ لاہور تک سفر کرنے کے بھی قابل نہیں لہذا یہ اعزاز انھیں ان کے اپنے شہر میں دیا جائے۔عزیزانِ من بالکل ایسے ہی ہوتا ہے مو لوی میر حسن کو شمس العلما کا خطاب انکے اپنے شہر سیالکوٹ میں دیا جاتا ہے اورا س کے بعد مو لوی میر حسن کا ہونہار شاگرد سر کا خطاب قبول کرتا ہے۔ یہی ہے وہ خودی جس کا اظہار علامہ اقبال کی شاعری میں جا بجا موتیوں کی طرح بکھرا ہوا ملتا ہے۔ یہ موجِ نفس کیا ہے تلوار ہے۔خودی کیا ہے تلوار کی دھار ہےخودی کیا ہے رازِ درونِ حیات۔۔خودی کیا ہے بیدار یِ کائناتخودی جلوہ بد مست و خلوت پسند۔سمندر ہو اک بوند پانی میں بند پروفیسر ڈاکٹر وحید الزمان طارق نے کہا کہ اقبال کا فلسفہ در حقیقت فلسفہ خودی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اہم سوال یہ ہے کہ کیا انسان کی انفرادیت، شخصیت یا انا کی کوئی مستقل حیثیت ہے یا یہ محض فریبِ تخیل ہے ۔  دنیا کے سارے حکما نے اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کی ہے۔ افلا طون اور اس کے اتباع میں حکمائے ایران اور ہند اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ کائنات میںصرف حقیقتِ کلی کا وجود ہے اس لئے انسانی ذات محض فر یبِ نظر ہے۔ انسانی زندگی کا مقصود حیاتِ کلی کے بحر میں خود کو فنا کر دینا ہے اور اسی فنائے ذات کا نام انسانی نجات ہے۔یہی وہ فلسفہِ حیات تھا جو ہمار ے ہاں نظریہِ واحد ت الوجود کے نام سے رائج ہے اور جس نے مسلمانوں جیسی ہمہ تن عمل قوم کو خاک کی آغوش میں سلا دیا تھا۔ علامہ اقبال نے اسی فلسفہ حیات کے خلاف مسلسل احتجاج کیا اور اس کے بر عکس اپنا فلسفہ خودی پیش کیا۔اس نظریہ کا ملخص یہ ہے کہ حیات عالمگیر یا کلی نہیں ہے بلکہ انفرادی ہے ۔ اس انفرادی زندگی کی اعلی ترین صورت کا نام خودی ہے۔جس سے انسان کی شخصیت یا انفرادیت متشکل ہو تی ہے لہذا انسانی زندگی کا مقصود فنائے ذات نہیں بلکہ اثباتِ خودی اور بقائے ذات ہے۔ علامہ اقبال کے نزدیک جوں جوں انسان اپنے خلق اور انائے مطلق کی مانند ہو تا جا تا ہے وہ خود بھی منفرد اور نادرہو تا جا تا ہے اسی کا نام استحکامِ خودی ہے۔ خدا کی مانند ہو نے کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے اندر صفاتِ خداوندی کو جذب اور منعکس کرتا چلا جائے۔خودی کے ضعف اور استحکام کو پرکھنے کا معیار صرف ایک ہی ہے اور وہ یہ ہے کہ انسان اپنی راہ میں آنے والے موانعات پر کس حد تک غا لب آتا ہے۔ہر وہ عمل جس سے خودی میں استحکام پیدا ہو خیر ہے اور ہر وہ کام جس سے خودی کمزور ہو جائے شر ہے۔ جب انسانی خودی موانعات پر غلبہ حاصل کر کے پختہ تر ہو جاتی ہے تو پھر موت کا جھٹکا بھی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتااور اس طرح انسانی زندگی دوام سے ہمکنار ہو جاتی ہے۔فردوس میں رومی سے یہ کہتا تھا سنائی۔مشرق میں ابھی تک وہی کاسہ ہے وہی آشحلاج کی لیکن یہ روائت ہے کہ آخر۔۔۔۔اک مردِ قلندر نے کیا رازِ خودی فاش   ڈاکٹر وحید الزمان طارق نے کہا اقبال کے نزدیک ارتقائے خودی کا پہلا مرحلہ تولیدِ آرزو ہے۔ آرزو عینِ حیات ہے اور اصلِ قوت ہے کیونکہ یہی عمل کی محرک ہو تی ہے۔تخلیقِ مقاصد کے بعد دوسرا مرحلہ حصولِ مقاصد کیلئے جہدِ مسلسل ہے ۔ جس کا حصول عشق کی تپش و خلش کے بغیر ناممکن ہے۔ اپنی اس جدو جہد میں کامیابی کے لئے تین شرائط ہیں۔ اطاعت۔۔ضبطِ نفس۔۔نیابتِ خداوندی۔۔اقبال کے نزدیک نیابتِ خداوندی سے مراد وہ قوت ِ مجریہ ہے جو دنیا میں قوانینِ خداوندی کی تنفیذ و ترویج کا موجب بنتی ہے۔ یہ مقامِ مومن ہے اور یہی مقام اقبال کے نزدیک استحکامِ خودی کا آخری نقطہ ہے ۔ اس مقام پر پہنچ کر آدمی ساری دنیا پر غالب آجاتا ہے ۔ دنیا اس پر غالب نہیں ہو تی ۔اس کیفیت کا نام اقبال کی اصطلاح میں فقر، درویشی اور قلندری ہے۔  خودی کی جلوتوں میں مصطفائی۔ خودی کی خلوتوں میں کبریائیزمین و آسمان و کرسی و عرش۔خودی کی زد میں ہے ساری خدائی

تحریر : طارق حسین بٹ

Share this:
Tags:
Iqbal mahfil mushaira اقبال مقبولیت
hamid kazmi
Previous Post حج کرپشن کیس : حامد سعید کاظمی کی درخواست ضمانت مسترد
Next Post اسامہ کی ہلاکت کی مزید تفصیلات منظرعام پر آگئیں
abbottabad compound

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close