Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 17, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

علامہ محمد اقبال

May 23, 2011 0 1 min read
Allama Iqbal

Allama Iqbal
Allama Iqbal

نام :: علامہ محمد اقبال

تاریخ پیداءش :: 9/ 11/ 1877

21/4/1938 :: تاریخ وفات

وجھ شھرت :: علامہ اقبال شاعری کی وجہ سے مشہور تھے

اقبال زندگی بھر اپنے وطن میں اسلام کی مذہبی معاشرتی اور سیاسی اطلاقیات کے ساتھ نبرد آزما رہے۔اپنے دور میں ان کی بھر پور ادبی اور فلسفیانہ کتب عدیم المثال تھیں

سر علامہ محمد اقبال1877میں صوبہ پنجاب کے شہرسیالکوٹ میں پیدا ہوئے ۔ان کی پیدائش 1857 بغاوت ” تحریک آزادی ” سے کچھ ہی عرصہ بعد ہوئی اور ایسے دور میں پرورش پائی جب بر طانوی استعماریت کے طلوع سے قبل مسلمان اقتدار تنزل پزیر تھا۔ اقبال زندگی بھر اپنے وطن میں اسلام کی مذہبی معاشرتی اور سیاسی اطلاقیات کے ساتھ نبرد آزمارہے۔

اپنے دور میں ان کی بھر پور ادبی اور فلسفیانہ کتب عدیم المثال تھیں جنہوں نے اس عمل کو سمجھنے اور اسلام کو دنیا میں اس کا جا ئز مقام واپس لانے کی خاطر ایک انتہائی سنجیدہ کوشش متعارف کرائی۔اقبال نے مذہبی علوم عربی فارسی اور انگلش میں اپنی تعلیم سیالکوٹ میں حاصل کی ۔

لاہور اورینٹل کالج میں 1893 سے لے کر 1897تک سرایڈون آرنلڈ کے ساتھ تحصیل علم کرتے ہوئے ہی اقبال نے پہلی مرتبہ جدید فکر کا مطالعہ کیا تھا ۔1899میں یہاں سے ایم۔اے فلسفہ کیا اور عربی منظوم شاعری پڑھا نا شروع کی اور معاشرتی و معاشی مسائل پر قلم اٹھایا ۔ان کی شاعری فارسی اردو کی کلاسیکی طرز کی ہے لیکن یورپی ادب بالخصوص ورڈزورتھ اور کولرج کے اثرات بھی دکھاتی ہے ۔

یونیورسٹی آف کیمبرج سے لاکرنے کے لئے اقبال نے1905 میںہندوستان چھوڑا لیکن یہ فلسفہ ہی تھا جس نے ان کی سوچ پر غلبہ کر لیا ۔ٹرینٹی کالج میں ہیگل اور کانٹ کا مطالعہ کرنے کے بعد وہ یورپی فلسفہ کے بنیادی رحجانات سے واقف ہو گئے ۔فلسفہ میں دلچسپی نے انہیں1907 میں ہائیڈ لبرگ اور میونح پہنچایا جہاں نٹشے نے ان پر گہرے اثرات مرتب کئے ۔

اقبال نے وہیں ایران میں روحانی ترقی کے موضوع پر ایک مقالہ لکھ کر فلسفہ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ۔ایک بر س بعد 1908 میں انہیں انگلستان میں لنکن ان کے مقام پر بار میں آنے کی دعوت دی گئی ۔ اس برس وہ وکیل اور فلسفی بن کر ہندوستان واپس آئے ۔ واپسی کے بعد جلد ہی وہ گورنمنٹ کالج لاہور میں فلسفہ پڑھانے لگے ۔

اس کے علاوہ انہوں نے برطانوی راج کے محکوم ہندوستانی مسلمانوں کی حالت زار کو عیاں کرنے میں گہری دلچسپی لی ۔ یورپ ردانگی سے قبل اقبال ایک آزاد خیال قوم پرست اور انڈین نیشنل کانگریس کے ہمدرد تھے ۔ اب وہ اپنے نکتہ نظر میں مسلمانوں کی علیحدگی پسندی اور آل انڈیا مسلم لیگ کی حمایت کر نیوالے علیحدگی پسند بن گئے تھے ۔1922 میں انہیں سر کے خطاب سے نوازا گیا ۔

چار سال بعد ،1926میں اقبال پنجاب مجلس قانون سازمیں منتحب ہوئے اور آل انڈیا مسلم لیگ سے نزدیک تر ہو گئے۔انہوں نے آزادی کے بعد ہندو حکومت کو تسلیم کرنے کی بجائے ایک علیحدہ مسلمان وطن کے لئے زیادہ سے زیادہ حمایت کا اظہار کیا ۔

در حقیقت شمال مغربی ہندوستان میں مسلم اکثریت والے علاقوں پر مشتمل ایک علیحدہ مسلمان وطن بنانے کا تصور سب سے پہلے اقبال نے ہی 1930 میں پیش کیا تھا۔ لیکن پھر بھی وہ سب سے پہلے ایک فکری قوت تھے اور مسلمان ثقافتی زندگی میں ان کا مقام اسی حوالے سے ہے۔دینیات تصوف مشرقی و مغربی فلسفہ اور انسانیت کے مقدر کو سمجھنے اور اس کی وضاحت کرنے کے لئے فارسی اردو شاعری کے رمزیہ اور نازک انداز کو استعمال کرنے میں اقبال کو اپنے ہم عصر مسلمان فلسفیوں میں عدیم المثال مقام حاصل ہے ۔وسعت میں آر پار جانے میں یہ اقبال کی اہلیت ہے جو فلسفہ کو سماجی ثقافتی مسائل سے جدا کرتی ہے اور جس نے انہیں ایک فلسفی اور ثقافتی ہیرو بنایا ۔

اقبال نے کہا کہ روحانی نجات اور سیاسی آزادی کا حصول مسلمانوں کی تقدیر ہے اسلام اس کی کنجی ہے :کیونکہ مسلمانوں کی زندگی میں عقیدے کو مرکزی مقام حاصل ہے ۔کافی حد تک اسلامی مجددین کی طرح اقبال اسلام کی ابتدائی تاریخ کو مثالی تصور کرتے ہیں ۔حضرت محمد کے دور میں ہی مسلمان اپنی روحانی اور دنیاوی قوت کی اوج تک پہنچے تھے ۔

یعنی انسانی مقدر کے مکمل حصول تک ۔ماضی کے اس منظر نے مستقبل کے لئے ان نسخوں کی رہنمائی کی ۔وہ اس بات پر قائل تھے کہ انسان صرف اسلام کی تعمیر نو کے سیاق ا سباق میں ہی اپنے مقدر کی پوری قوائیت حاصل کرنے کے قابل تھا ۔تاہم اقبال کے تصورات رجعت پسندانہ نہیں تھے۔البتہ انہوں نے ابتدائی اسلامی تاریخ کو مثالی جانا۔

اقبال نے جدید اقدار اور اخلاقی ضابطوںکو بھی اس مثالی تصور میںاس طرح شامل کیا کہ مسلمان برادری اور مسلمان عقیدے کے بنیادی اصول سب اس میں مجسم ہو گئے جو اقبال کے مطابق جدید مغرب میں اچھا تھا ۔ اقبال پر مغربی اثرات بہت گہرے تھے اور ان کے نظریہ دنیا کے تانے بانے میں صاف نظر آتے ہیں ۔مغربی تہذیب کے بہت سے پہلوئوں بالخصوص سیکولرازم پر ان کی تنقید پیام مشرق میں ان کی وسیع اثرات کو بس تھوڑا سا ہی چھپاتی ہے ۔

مسلمانوں کو اپنے زوال کاعمل الٹا کرنے اور منزل پانے کے لئے اپنے مذہب کی صداقت تک رسائی حاصل کر نا ضروری تھا ۔انہیں اس حقیقت سے آگاہ ہوناچاہیے کہ موجودہ حالت میں اسلام غیر خالص تھا۔ صرف اسی صورت میں و ہ با طنی صداقت پانے کے لئے اسلام کی مقبول صورتوں سے پرے دیکھ سکتے ہیں ۔اقبال کی ابتدائی کتابوں اسرار خودی اور رموزبے خودی نے مسلمانوں کو عشق اور آزادی کے نغمات گاتے ہوئے ایسا ہی طرزعمل اپنانے کے لئے بڑھاوا دیا۔

رومانوی عشق یا سیاسی آزادی نہیں بلکہ اسلا م کے اس نکتہ نظر سے خلوص اور آزادی کے ساتھ عشق جو ثقا فتی میل جول کی عنایت تھا۔اقبال نے تقدیر پرستی کو رد کیا ۔انہوں نے تاریخ کو ایسا میدان خیال نہ کیا تھا جس کے لئے خد اکا ظہور ہوا جیسا کہ مسلمان کرتے تھے بلکہ وہ اسے انسان کے لئے احساس خودی کا میدان سمجھتے تھے ۔

انہوں نے مسلمانوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ اپنی زندگیوں اور تقدیر کو اپنے ہاتھ میں لیں اور تاریخ میں مہروں کا کام دینے کی بجائے اس کی صورت گری کریں ۔تاریخ کی سمت کو متعین کرنے اور اپنے عقیدے کی ایک استدلالی تشریح کے ذریعہ اس کی تہیں کھولنے کی ذمہ داری اٹھانے کے لئے مسلما نوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے اقبال نے معتزلہ فلسفیوں کی باز گشت پیش کی جنہوں نے صدیوں قبل اشعریوں کو آڑے ہاتھوں لیا تھا لیکن اسلامی فکر میں بعد کی ترقی کی کوئی شکل دینے میں ناکام رہے۔

اقبال نے یہ جانا کہ اسلام کا باقاعدہ اجتہاد اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک مسلمان کی صرف ایک ہی تعریف موجود ہے ۔نتیجہ انہوں نے مختلف فرقوں اصولوں اور مکتبہ ہائے فکر کی بنیادی وحدت کو اجاگر کرنے کی امید میں اسلامی عقیدہ کا تنوع کم کرنے کی کوشش کی ۔ جیسا کہ زبور عجم کی فصیح شاعری ظا ہرکرتی ہے وہ اسلا م کی مختلف ترکیبوںمیں کم اور عقیدے کے بنیادی اصولوں میںزیادہ دلچسپی رکھتے تھے یعنی جو مسلمانوں میں کم سے کم فرقہ واریت کا سبب بنیں۔

اسی مقصد کے تحت انہوں نے اسلام کی ابتدائی اسلامی تاریخ کو مثالی قرار دیا ۔اس دور میں عقیدے میں کوئی پھوٹ یا تقسیم موجود نہ تھی ۔اسلام کے بارے میں ان کا نظریہ سادہ اور خالص ہے۔

اقبال کا تناظر اتنا سیاسی نہیں بلکہ فلسفیانہ ہے البتہ مسلم سیاست پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ انسانی ترقی اور سماجی تبدیلی کا ایک محیط کل نظریہ مخترع کرتے ہوئے اس نے نٹشے کے سپر مین کو تصوف کے الانسان الکامل کے ساتھ ملادیا ۔انہوں نے خدا کو ایک کامل خود ی خیال کیا?لیکن بایں ہمہ ایک ایسی خودی جو خدائے قدیم کی نسبت زیادہ قریب اور اور قابل محسوس ہے جاوید نامہ میں پیش کردہ نکتہ نظر کے مطابق خدا اعلی ترین تصو رہے جس میں انسانی ترقی کے لئے اقبال کی حکمت عملی اپنے نقطہ عروج تک پہنچتی ہے ۔

خدا کا یہ تصور صوفیانہ نظریہ الانسان الکامل سے قریبی مشابہ ہے اوربلاشبہ نٹشے کے سپر مین کا ہم پلہ ۔اپنے خیالات بیان کرنے میںاقبال نے انسانی خودی کو بلند کرنے کا اصول استعمال کیا۔۔۔۔جو صوفی بزرگ جلال الدین رومی(1273ء. 1207 ئ(نے پیش کیا تھا ۔رومی نے صوفی واردات کی وضاحت ایک الکیمیائی عمل کی نسبت سے کی جس میں انسانی خودی کی اصل دھات تبدیل ہو کر خدائی کاملیت کاسونا بن جاتی ہے ۔اقبال کی ?بال جبریل?میںرومی کی باز گشت سنائی دیتی ہے ۔

انسانی زندگی اس ہست وفنا میں سے گذر کر خود کو مکمل کرتی ہے ۔ چونکہ انسانیت کی رفعت مادی نظام کی تعمیر نو کے ساتھ بندھی ہوئی تھی اس لیے اقبال نے فتح مند مرد کامل کے ظہور کی راہ ہموار کرنے کے لئے رومی کی منظوری پر انحصار کیا۔اس طرح انسانی اور سماجی ترقی صوفیوں کی بتائی اورنٹشے کی سوچی بچاری حالت تکمیل پر پہنچنے تک جاری رہے گی۔اقبال نے اس کاملیت کی تعریف ایک ایسی حالت کے طور پر کی جہا ں عشق اور علم۔۔۔۔مشرق اور مغرب کے استعارے ۔۔۔۔ایک ہی عقلی مقام پر بخوشی قابض ہو جاتے ہیں ۔

ایک زیادہ کامل معاشرے میں انسان اپنے ہر جنم کے ساتھ بلند روحانی حالت حاصل کرسکتاہے کیونکہ انسان ایسے جوہر کا مالک ہے جس کی تکمیل کی جا سکتی ہے ۔یہ عمل صرف اور صرف اسلام کے توسط سے وقوع پزیر ہوتا ہے کیونکہ اسلام میں اس کا بنیادی ڈھانچہ موجود ہے ۔جس طرح غوروفکر اور مراقبہ روحانی بلندی کے لئے صوفی کی روح کو تیار کرتے ہیں اسی طرح اقبال کی فطری حکمت عملی میں فعلی ارادیت (Activism ( ۔۔یعنی انفرادی اور معاشر تی زندگی کے حق میں تقدیر پرستی سے دستبردار ہو جانا ۔۔۔۔عین یہی وظیفہ سر انجام دیتی ہے ۔وہ فعلی ارادیت اسلامی حالت میں نقطہ عروج پر پہنچتی ہے ۔اقبال نے اس اسلامی حالت کو صوفیانہ تصور وجدان و مسرت کے برابر قرار دیا ۔

یہا ں اقبال پر تصوف کی چھا پ واضح اور کافی دلچسپ ہے ۔بالعموم اقبال نے تصوف کو یہ کہتے ہوئے رد کر دیا کہ اس کا تعلق صرف فرد کی روحانی نجات سے ہے جب کہ انہیں یقین تھا کہ انفرادی نجات کو دنیاوی نظام کی تعمیری نو سے جدا نہیں کیا جا سکتا ۔تاہم تصوف پر تنقید کو ان کی تعلیمات اور نظریات کے ان پہلوئوں کو مسترد کرنے میں بنیاد نہیں بنایا جا سکتا جنہیں انہوں نے بہت دلنشین پایا تھا ۔

اقبال کے مختلف دیوانوں کے عنوانات ان کی فکر پر صوفیانہ تخیل اور عینیت کے اثرات کی توثیق کرتے ہیں ۔اقبال بلا شبہ انتہائی تخلیقی اور سکہ بند دانشور تھے ۔انہوںنے اسلامی زندگی اور سوچ کی بہت سی انواع کو یکجا کرنے مسلمان عقیدے کو نیا رنگ دینے اور اسے جدید فکری تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کی سعی کی ۔ انہوں نے اسلامی فکر کو مغربی فلسفہ کے ساتھ جوڑا اور روحانی نجات کو ذہنی تبدیلی اور سماجی ترقی کے ساتھ مربوط کیا ۔غیر معمولی صلاحیتوں کے مالک شاعر کی حیثیت میں انہوں نے انتہائی پر زور انداز میںیہ خیالات اپنے سننے والوں تک پہنچائے ۔

اگرچہ اقبال سے کوئی ممتاز مکتبہ فکر منسلک نہیں لیکن اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ اسلامی فکر کی قوس قزح سے پرے بہت دانشور ان کے پیش نامہ کی دانش اور ان کے طریقہ کار کی منطق کی جانب جھک گئے اور انہوں نے اپنے عقیدہ کی بحالی اور اپنے معاشروں کی تعمیر نو میں ان کی نقل کرنے کی کوشش کی ۔اقبال کی وفات 1938 میں ہوئی۔

Allama Iqbal
Allama Iqbal
Allama Iqbal
Allama Iqbal
Allama Iqbal
Allama Iqbal
Allama Iqbal
Allama Iqbal
Allama Iqbal
Allama Iqbal
Allama Iqbal
Allama Iqbal
Allama Iqbal
Allama Iqbal
Share this:
Tags:
Muhammad Iqbal Punjab Sialkot Urdu poetry
Mustafa Kemal Ataturk
Previous Post مصطفی کمال اتاترک
Next Post چاسر
Geoffrey Chaucer

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close