ماں باپ کا کچا مکاں مسمار بہت ہے
ماں باپ کا کچا مکاں مسمار بہت ہے اس مٹی کی خوشبو سے مجھے پیار بہت ہے رہتے تھے بہن بھائی جو ماں باپ کے…
ماں باپ کا کچا مکاں مسمار بہت ہے اس مٹی کی خوشبو سے مجھے پیار بہت ہے رہتے تھے بہن بھائی جو ماں باپ کے…
اس شام وہ رخصت کا سماں یاد رہے گا وہ شہر، وہ کوچہ، وہ مکاں یاد رہے گا وہ ٹیس کہ ابھری تھی ادھر یاد…
وہی میری کم نصیبی، وہی تیری بے نیازی میرے کام کچھ نہ آیا یہ کمالِ نے نوازی میں کہاں ہوں تو کہاں ہے؟ یہ مکاں…
کسی مکاں میں کوئی مکیں ہے جو سرخ پھولوں سے بھی حسیں ہے وہ جس کی ہر بات دل نشیں ہے کبھی کوئی اس مکاں…
تجھ پر بھی نہ ہو گمان میرا اتنا بھی کہا نہ مان میرا میں دکھتے ہوئے دلوں کا عیسیٰ اور جسم لہو لہان میرا کچھ…
کنارے آب کھڑا خود سے کہہ رہا ہے کوئی گماں گزرتا ہے، یہ شخص دوسرا ہے کوئی ہوا نے توڑ کے پتا زمیں پہ پھینکا…
تم نہ جانے اسکو بھی کیوں بے اثر لکھتےرہے ہم کہانی پیار کی جو عمر بھر لکھتے رہے اپنے کاندھے پہ رکھے اغیار کی فکر…
ٹین کے چھجوں سے دو کمرے ” بنگلائے” ہوئے جیسے انڈوں پر ہوں پر مرغی نے پھیلائے ہوئے اک کھلا در ہے جو کھلتا ہے…
کمرے کی کھڑکیوں پہ ہے جالا لگا ہوا اُس کے مکاں پہ کب سے ہے تالا لگا ہوا پائی تھی گھر کے سامنے مفرور شب…
ہلے مکاں نہ سفر میں کوئی مکیں دیکھا جہاں پہ چھوڑ گئے تھے اُسے وہیں دیکھا کٹی ہے عمر کسی آبدوز میں سفر تمام ہوا…
گھر عطا کر مکاں سے کیا حاصل صرف وہم و گماں سے کیا حاصل بے یقینی ہی بے یقینی ہے ! ایسے ارض و سماں…
Start typing to search...
