انسان کو نوید دو کہ انسان مر گیا
تحریر: ماورا طلحہ الفاظ تلخ ہے مگر حقیقت سے جدا نہیں ہے یہ وہ حقیقت ہے جس کا اطلاق پوری دنیا پہ ہوتا ہے۔ دنیا…
تحریر: ماورا طلحہ الفاظ تلخ ہے مگر حقیقت سے جدا نہیں ہے یہ وہ حقیقت ہے جس کا اطلاق پوری دنیا پہ ہوتا ہے۔ دنیا…
تحریر: رانا اعجاز حسین ہر مذہب میں کو ئی نہ کوئی دن ایسا ضرور مقرر ہے کہ اس مذہب کے پیرو کار مذہبی جو ش…
وزیراعلی سندھ سے کورکمانڈر لیفٹیننٹ جنرل نوید کی ملاقات، ملاقات میں ایپکس کمیٹی کے فیصلوں پر عمل درآمد سے متعلق امور پر بات، ملاقات میں…
لاہور (جیوڈیسک) فلم اسٹار میرا نے اپنے مبینہ منگیتر کیپٹن نوید سے جھگڑے کے بعد سکون آور دوائیں کا استعمال شروع کردیا۔ ذرائع کے مطابق…
اسلام آباد (جیوڈیسک) ملک کے بیشتر علاقوں میں جون اپنے جوبن پر ہے تپتی دھوپ جھلسا دینے والی لو اور حبس نے روزہ داروں کو…
اسلام آباد/ لاہور/ کوئٹہ (جیوڈیسک) محکمہ موسمیات نے ایک بار پھر رواں ہفتے کے آخر میں مزید بارشوں کی نوید سنا دی ہے ، کہتے…
لاہور (جیوڈیسک) وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے ریلوے ملازمین کو تنخواہوں میں اضافے کی نوید سنادی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ریلوے…
کیسی تاویل مِرے دوست، بہانہ کیسا زخم جاگیرِ محبت ہیں، چُھپانا کیسا حدتِ لمس سے جلتا ہے بدن جلنے دو پہلوئے یار میں دامن کو…
کراچی (جیوڈیسک) کراچی والے چھتریاں نکال لیں، محکمہ موسمیات نے آج سے3 روز تک برکھا رت کی نوید سنادی ہے، راول پنڈی، اسلام آباد اور…
تحریر : طارق حسین بٹ کبھی کبھی پردہِ غیب سے وہ کچھ نمودار ہو جاتا ہے جو انسان کے حیطہِ ادراک سے ماورا ہوتا ہے۔…
لاہور (جیوڈیسک) اداکارہ میرا اور مبینہ شوہر کیپٹن نوید کے درمیان اختلافات کی وجہ بننے والی بنگالی حسینہ کے بعد امریکی ڈاکٹر کی اداکارہ سے…
مصطفی آباد/للیانی: نوید عرف راجو کو نا معلوم افراد نے چھریوں کے پے در پے وار کر کے قتل کر دیا، شعبہ ہے کہ نوید…
11مئی کا سورج پاکستان کی ترقی و خوشحالی اور مسلم لیگ ن کی کامیابی کی نوید لیکر طلوع ہو گا بھمبر(ڈسٹرکٹ رپورٹر)11مئی کا سورج پاکستان…
اگرچہ پار کاغذ کی کبھی کشتی نہیں جاتی مگر اپنی یہ مجبوری کہ خوش فہمی نہیں جاتی خدا جانےگریباں کس کے ہیں اورہاتھ کس کے…
موج کا منجدھار سے رشتہ ہے کیا نائو کا پتوار سے رشتہ ہے کیا اپنے اندر کے گرفتاروں سے پوچھ روزنِ دیوار سے رشتہ ہے…
زمیں مدار سے اپنے اگر نکل جائے نجانے کونسا منظر کدھر نکل جائے اب آفتاب سوا نیزے پر اترنا ہے گرفت شب سے ذرا یہ…
جو بھی ممکن تھا وہ زیرِ التوا رکھنا پڑا آنے جانے کے لیے اک سلسلہ رکھنا پڑا زندگی بھر کی مسافت رائیگاں ہونے کو تھی…
رات بھر کوئی نہ دروازہ کھلا دستکیں دیتی رہی پاگل ہوا وقت بھی پہچان سے منکر رہا دھند میں لپٹا رہا یہ آئینہ کوئی بھی…
دوستوں کے ہوبہو پیکر کا اندازہ لگا ایک پتھر کے بدن پر کانچ کا چہرہ لگا دیکھنے والی نگاہوں میں اگر تضحیک ہے کون کہتا…
موت جب آئی تو گھر میں جاگتا کوئی نہ تھا بے حسی کا اس سے بڑھ کر واقعہ کوئی نہ تھا کوئی بھی چارہ نہیں…
دور دور تک کوئی جب نظر نہیں آتا آنکھ کا پرندہ بھی لوٹ کر نہیں آتا موت بھی کنارہ ہے وقت کے سمندر کا اور…
یہ زمیں ہم کو ملی بہتے ہوئے پانی کے ساتھ اک سمندر پار کرنا ہے اسی کشتی کے ساتھ عمر یونہی تو نہیں کٹتی بگولوں…
جب بھی کسی شجر سے ثمر ٹوٹ کر گرا لوگوں کا اک ہجوم ادھر ٹوٹ کر گرا ایسی شدید جنگ ہوئی اپنے آپ سے قدموں…
Start typing to search...
