بازیچہ اطفال ہے دنیا مرے آگے
بازیچہ اطفال ہے دنیا مرے آگے ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے اک کھیل ہے اورنگ سلیماں مرے نزدیک اک بات ہے اعجاز…
بازیچہ اطفال ہے دنیا مرے آگے ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے اک کھیل ہے اورنگ سلیماں مرے نزدیک اک بات ہے اعجاز…
آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہونے تک کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک دام ہر موج میں ہے حلقہ مہد کام…
اتنا تو ہوتا نہیں کھنڈر شام کے بعد جتنا ویران ہوا جاتا ہے گھر شام کے بعد ٹوٹ پڑتی ہے نئی روز خبر شام کے…
عشق میں جیت ہوئی یا مات آج کی رات نہ چھیڑ یہ بات یوں آیا وہ جان بہار جیسے جگ میں پھیلے بات رنگ کھلے…
کیسے وہ لوٹ آئے کہ فرصت اسے نہیں دنیا سمجھ رہی ہے محبت اسے نہیں لگتا ہے آ چکی ہے کمی اس کی چاہ میں…
ہے وہی آسماں، زمین وہی ماہ و انجم اسی طرح روشن کہکشاں اب بھی مسکراتی ہے پھول کلیاں مہک رہی ہیں یونہی بعد مدت کے…
دھوپ اور چھائوں کے نظارے تھے دل کی دولت جہاں پہ ہارے تھے بے وفائی کا اب گلہ کیسا آپ پہلے بھی کب ہمارے تھے…
تمہیں جب کبھی ملیں فرصتیں، مرے دل سے بوجھ اتار دو میں بہت دنوں سے اداس ہوں مجھے کوئی شام ادھار دو مجھے اپنے روپ…
عروس صبح سے آفاق ہمکنار سہی شکستِ سلسلئہ قیدِ انتظار سہی نگاہِ مہرِ جہاں تاب کیوں ہے شرمندہ شفق کا رنگ شہیدوں کی یادگار سہی…
ابھی کچھ دن لگیں لگے راستوں کو بھول جانے میں دلِ ناکام سے ساری وفائیں خود مٹانے میں ابھی تو رات کی سیاہ کاری ہے…
اس بُتکدے میں تُوجوحسیں تر لگا مجھے اپنے ہی اک خیال کا پیکر لگا مجھے جب تک رہی جگر میں لہو کی ذرا سی بوند…
وہاں کی روشنیوں نے بھی ظلم ڈھائے بہت میں اس گلی میں اکیلا تھا اور سائے بہت کسی کے سر پہ کبھی ٹوٹ کر گرا…
خزاںکےچاندنے پوچھایہ جھک کےکھڑکی میں کبھی چراغ بھی جلتا ہے اس حویلی میں؟ یہ آدمی ہیں کہ سائے ہیں آدمیت کے گزر ہوا ہے مرا…
ذرا سی دیر کو تری گلی کے موڑ پہ اسی شجر کے سائے میں کہ جس کی ایک شاخ پہ کھلا تھا گل بہار کا…
محبتوں کے نصاب جیسا وہ ایک چہرہ کتاب جیسا مہکتا ہے میرے قلب و جاں میں وہ شخص کھلتے گلاب جیسا یقیں بھی ہے وہ…
ٹین کے چھجوں سے دو کمرے ” بنگلائے” ہوئے جیسے انڈوں پر ہوں پر مرغی نے پھیلائے ہوئے اک کھلا در ہے جو کھلتا ہے…
ایک رات کی کہانی قصہ شب دو مہتاب زندگی کا اک عجیب باب اک طرف حجابِ رنگ و نور اک طرف جمالِ بے حجاب آنکھ…
سمندر پار ہوتی جا رہی ہے دُعا، پتوار ہوتی جا رہی ہے دریچے اب کُھلے ملنے لگے ہیں فضا ہموار ہوتی جا رہی ہے کئی…
مری جاں اب بھی اپناحسن واپس پھیردےمجھکو ابھیتک دل میںتیرےعشق کی قندیل روشن ہے ترے جلووں سے بزمِ زندگی جنت بدامن ہے مری روح اب…
جو پھول سارے گلستاں میں سب سے اچھا ہو فروغِ نور ہو جس سے فضائے رنگیں ہو خزاں کے جور و ستم کو نہ جس…
شام آئی، تری یادوں کے ستارے نکلے رنگ ہی غم کے نہیں، نقش بھی پیارے نکلے ایک معصوم تمنا کے سہارے نکلے چاند کے ساتھ…
ہتھیلیوں کی دعا پھول لے کے آئی ہو کبھی تو رنگ مرے ہاتھ کا حنائی ہو! کوئی تو ہو جو مرے تن کو روشنی بھیجے…
چاہت کا رنگ تھا نہ وفا کی لکیر تھی قاتل کے ہاتھ میں تو حنا کی لکیر تھی خوش ہوں کہ وقتِ قتل مرا رنگ…
حسرتِ رنگ آئی تھی دل کو لگا کے لے گئی یاد تھی اپنے آپ کو یاد دلا کے لے گئی خیمہ گہِ فراق سے خیمہ…
Start typing to search...
