دسمبر کی دھوپ
تحریر : پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی خالص مکھن اور دیسی گھی کے کڑک پراٹھوں کا ناشتہ کرنے کے بعد ان کو ہضم کر نے کے…
تحریر : پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی خالص مکھن اور دیسی گھی کے کڑک پراٹھوں کا ناشتہ کرنے کے بعد ان کو ہضم کر نے کے…
تحریر : پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی دسمبر کا آغاز پورے ہفتے کی بھرپور تھکاوٹ صبح چھٹی کا دن نرم و گداز آرام دہ بستر میں…
سیالکوٹ (شاہد محمود) سیالکوٹ شہر کے ایریا ملکے خوردمیں گزشتہ چوبیس گھنٹوں سے بجلی کا کریک ڈائون۔ لوگ روزے کی حالت میں گھروں سے باہرسخت…
تحریر: کنول خان کھیرے کو سبزی کہا جاتا ہے۔۔۔ لیکن اہل مغرب کے رہنے والے اسے پھل قرار دیتے ہیں چونکہ کھیرا بیلوں پہ اگتا…
اسلام آباد (جیوڈیسک) ملک کے بیشتر علاقوں میں جون اپنے جوبن پر ہے تپتی دھوپ جھلسا دینے والی لو اور حبس نے روزہ داروں کو…
ٹوبہ ٹیک سنگھ (ڈاکٹر محمد عظیم چوہدری) میں دھند اور بادلوں کے سائے کی وجہ سے دھوپ مکمل غائب ہو چکی تھی جس سے سردی…
آج کل کا گرم موسم کڑک دھوپ زمانہ قدیم میں جلد کو بہت متاثر کر دیا کرتی تھی گورے رنگ کالے ہو جاتے اور کالے…
جس نے مرے دل کو درد دیا اس شکل کو میں نے بھلایا نہیں اک رات کسی برکھا رت کی کبھی دل سے ہمارے مٹ…
نئے کپڑے بدل کر جائوں کہاں اور بال بنائوں کس کے لیے وہ شخص تو شہر ہی چھوڑ گیا میں باہر جائوں کس کے لیے…
عشق میں جیت ہوئی یا مات آج کی رات نہ چھیڑ یہ بات یوں آیا وہ جان بہار جیسے جگ میں پھیلے بات رنگ کھلے…
وہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہے کہ جس طرح کوئی لہجہ بدلتا جاتا ہے یہ آرزو تھی کہ ہم اس کے ساتھ ساتھ…
دھوپ اور چھائوں کے نظارے تھے دل کی دولت جہاں پہ ہارے تھے بے وفائی کا اب گلہ کیسا آپ پہلے بھی کب ہمارے تھے…
جہاں تلک یہ صحرا دکھائی دیتا ہے مری طرح سے اکیلا دکھائی دیتا ہے نہ اتنی تیز چلے، سرپھری ہوا سے کہو شجر پہ ایک…
شفق جو روئے سحر پر گلال ملنے لگی یہ بستیوں کی فضا کیوں دھواں اُگلنے لگی اسی لیے تو ہوا رو پڑی درختوں میں ابھی…
موج کا منجدھار سے رشتہ ہے کیا نائو کا پتوار سے رشتہ ہے کیا اپنے اندر کے گرفتاروں سے پوچھ روزنِ دیوار سے رشتہ ہے…
ستمبر کی یاد میں اور تو کچھ یاد نہیں بس اتنا یاد ہے اس سال بہار ستمبر کے مہینے تک آ گئی تھی اُس نے…
جب میں دُنیا کے لیے بیچ کے گھر آیا تھا اُن دنوں بھی مرے حصے میں صفر آیا تھا کھڑکیاں بند نہ ہوتیں تو جُھلس…
رشتوں کی دھوپ چھائوں سے آزاد ہو گئے اب تو ہمیں بھی سارے سبق یاد ہو گئے آبادیوں میں ہوتے ہیں برباد کتنے لوگ ہم…
شام آئی، تری یادوں کے ستارے نکلے رنگ ہی غم کے نہیں، نقش بھی پیارے نکلے ایک معصوم تمنا کے سہارے نکلے چاند کے ساتھ…
رستہ بھی کٹھن دھوپ میں شدت بھی بہت تھی سائے سے مگر اس کو محبت بھی بہت تھی خیمے نہ کوئی میرے مسافر کے جلائے…
بچھڑا ہے جو اک بار تو ملتے نہیں دیکھا اس زخم کو ہم نے کبھی سلتے نہیں دیکھا اک بار جسے چاٹ گئی دھوپ کی…
کوئی پھول دھوپ کی پتیوں میں ہرے ربن سے بندھا ہوا وہ غزل کا لہجہ نیا نیا نہ کہا ہوا نہ سنا ہوا جسے لے…
کھنڈر آنکھوں میں غم آباد کرنا کبھی فُرصت ملے تو یاد کرنا اذیت کی ہوس بجھنے لگی ہے کوئی تازہ ستم ایجاد کرنا کئی صدیاں…
Start typing to search...
