چمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیں
چمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیں ہم آسماں سے غزل کی زمین لائے ہیں وہ اور ہوں گے جو خنجر چُھپا کے لائے ہیں…
چمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیں ہم آسماں سے غزل کی زمین لائے ہیں وہ اور ہوں گے جو خنجر چُھپا کے لائے ہیں…
خودی کا سرِ نہاں لا الہ الا اللہ خودی ہے تیغِ فساں لا الہ الا اللہ یہ دور اپنے ابراہیم کی تلاش میں ہے صنم…
نقش فریادی ہے کس کی شوخی تحریر کا کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا کاد کادِ سخت جانیہائے تنہائی نہ پوچھ صبح کرنا شام…
دوست خمخواری میں میری سعی فرمائیں گے کیا زخم کے بھرنے تلک ناخن نہ بڑھ جائیں گے کیا بے نیازی حد سے گزری بندہ پرور…
بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا گر یہ چاہے ہے خرابی مرے کاشانے کی در و…
تیغ لہو میں ڈوبی تھی اور پیڑ خوشی سے جھوما تھا بادِ بہار چلی جھوم کے جب اس نے مجھے دیکھا تھا گھائل نظریں اس…
مانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہے لیکن گھر کو جانے والا رستہ رکھنا پڑتا ہے تنہائی وہ زہر بجھی تلوار ہے جس…
چوٹ ہر گام پہ کھا کر جانا قربِ منزل کے لیے مر جانا ہم بھی کیا سادہ نظر رکھتے تھے سنگ ریزوں کو جواہر جانا…
آ کے پتھر تو مرے صحن میں دو چار گرے جتنے اس پیڑ کے پھل تھے، پسِ دیوار گرے ایسی دہشت تھی فضائوں میں کھلے…
ہم نے دل سے محبت کو رخصت کیا اور بارود کی دھڑکنوں کے سہارے جیے خود کو نفرت کے چشموں سے سیراب کرتے رہے ایک…
سمندر پار ہوتی جا رہی ہے دُعا، پتوار ہوتی جا رہی ہے دریچے اب کُھلے ملنے لگے ہیں فضا ہموار ہوتی جا رہی ہے کئی…
Start typing to search...
