Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 4, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

روشن مشعل

July 1, 2012July 1, 2012 0 1 min read
fauzia wahab
fauzia wahab
fauzia wahab

کسی بھی قد آور شخصیت کی قدرو قیمت کا اندازہ اس کے اس جہانِ فانی سے کوچ کر جانے کے بعد ہو تا ہے کیونکہ اسکی کمی کو اس کے پسماندگان زندگی کے آنے والے امتحانوں اور آزمائشوں میں ہر آن محسوس کرتے ہیں ۔ کہتے ہیں جو چیز آسانی سے مل جائے یا پھر جو چیز دستِ قدرت میں ہو اسکو وہ اہمیت نہیں ملتی جتنی اہمیت اسے ملنی چائیے۔ ہم معمولاتِ زمانہ میں بعض انسانوں کو وہ اہمیت دینے سے قاصر رہتے ہیں جس کے وہ حقدار ہو تے ہیں اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ غیر اہم ہو تے ہیں یا ان میں صلاحیتوں کا فقدان ہو تا ہے بلکہ اس کی بنیادی وجہ یہ ہو تی ہے کہ وہ اپنی سادہ لوحی سے کسی کو اپنی اہمیت کا احساس نہیں دلاتے ۔

وہ اپنی ذات کی اہمیت کو اجاگر کرنے کیلئے مسائل کو پہاڑ بنا کر پیش کرنے کے فن سے آشنا نہیں ہوتے بلکہ وہ مسائل کو اپنی عقل و دانش اور فہم و فراست سے اتنی آسانی اور سہو لت سے حل کرتے ہیں کہ وہ انتہائی سادہ اور آسان نظر آنے شروع ہو جاتے ہیں جس سے ان کی شخصیت عام انسانوں کی طرح نظر آنے لگتی ہے۔ وہ خود کو ما فو ق لفطرت بنا کر پیش کرنے کی عادت سے بھی عاری ہو تے ہیں ۔یہ سچ ہے کہ زمانہ ان کی غیر معمولی صلاحیتوں کامعترف ہو تا ہے لیکن ہم ان کی خداداد صلاحیتوں کی بدولت انھیں وہ مرتبہ اور مقام عطا نہیں کرتے جو ان کی شخصیت ہم سے تقاضا کرتی ہے ۔

بحثیتِ مجموعی نہ تو ہم ان کی عظمت کو تسلیم کرنے پر تیار ہو تے اور نہ ہی ا نھیں غیر معمولی افراد کی فہرست میں جگہ دینے پر آمادہ ہوتے ہیں کیونکہ وہ اپنی زندگی میں بڑے سیدھے سادھے اور نمو دو نمائش سے مبرا ہو تے ہیں ۔فوزیہ وہاب ایک ایسا نام جس نے پچھلے چند سالوں میں ہر سو اپنی فکر و دانش کے پھول کھلائے اور اس احساس کو قوی کیا کہ انسان اپنے خونِ جگر سے اپنی افادیت کا لو ہا منوا سکتا ہے اور معمولی ذرائع کے باوجود اپنی ذات کا گہرا پرتو چھوڑ کر تاریخ کے اوراق میں اپنا اعلی مقا محفوظ کر سکتا ہے۔ فوزیہ وہاب ان لوگوں کے لئے ایک ایسی روشن مشعل کی طرح ہے جوزمانے میں اپنی خدا داد صلاحیتوں سے کسی اہم مقام کے تعین کی آرزو رکھتے ہیں اور پھر وہاں تک رسائی حاصل کرکے رہتے ہیں۔

ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے والی اس گھریلو خا تون نے جس طرح سے اپنی ذات کا لوہا منوایا وہ انہی کا حصہ تھا ۔ سادہ لوح مگر پر عزم اور دلائل کی کاٹ ایسی کے بڑے بڑے جغادری اس کا سامنا کرنے سے خوفزدہ رہتے تھے۔وہ اپنے اظہار میں بڑی واضح اور بے باک تھی کیونکہ اس کا دامن کر پشن،منافقت اوردوغلے پن کی آلودگیوں سے بالکل پاک و صاف تھا۔وہ فنانس کی پارلیمانی کمیٹی کی چیر پرسن تھی لیکن مجال ہے اس کی ذات پر کسی نے ایک روپے کی کرپشن کا الزام کبھی لگا یا ہو۔

fauzia wahab
fauzia wahab

اس زمانے میں جب کرپشن کے بغیر زندہ رہنا نا ممکنات میں سے ہے اسی گئے گزرے زمانے میں بھی ناممکنات کو ممکن بنا کر دکھانے والی شخصیت کا نام فوزیہ وہاب ہے جس نے کرپشن کی بہتی گنگا میں بھی خود کو محفوظ رکھا اور ایمانداری اور دیا نتد اری کی نئی مثال قائم کر کے عوام کے دلوں میں اپنی جگہ بنائی۔اس نے دولت کی چکا چوند سے نہیں بلکہ علم وفن، دانش و حکمت اور فہم و فراست کی قوت سے معاشرے میں اپنا مقام بنایا جو آنے والی نسلوں کے لئے مینارہَ نور کا کام دیتا رہے گا۔۔

میں ذاتی طور پر قومی اسمبلی کی ممبر اور پی پی پی کی سابق انفارمیشن سیکرٹری فوزیہ وہاب کی اچانک موت پر گہرے دکھ اور رنج کا اسیر ہوں ۔ فوزیہ وہاب کی اچانک رحلت سے مجھے ہر سو غم کی کیفیت چھائی ہو ئی محسوس ہو تی ہے کیونکہ میری ان کی ذات کے ساتھ بہت سی خوبصورت یادیں وابستہ ہیں ۔فوزیہ وہاب بڑی بے باک، نڈر اور با جرات خاتون تھیں ۔ وہ اپنا نکتہ نظر بڑی جرات اور سچائی کے ساتھ پیش کرتی تھیں۔پی پی پی ان کی رحلت سے ایک سچے ،مخلص اور نظریاتی قائد سے محروم ہو گئی ہے۔

وہ جس طرح سے پی پی پی کا دفاع کرتی تھیں اس نے انھیں پارٹی میں ایک اعلی مقام عطا کر رکھا تھا۔ان کے پر جوش، جذ باتی اور بے باک اندازِ خطابت سے کچھ لوگوں کو اختلاف تو ہو سکتا ہے لیکن جمہوریت کے لئے ان کی عظیم جدو جہد سے کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا۔ وہ ایما ندار، سچی اوراعلی کردار کی حامل خا تون تھیں ۔ ان کے مخالفین بھی ان کے اعلی کردار پر انگلی نہیں اٹھا سکتے تھے۔ ان کی رحلت سے قوم ایک با کردار سیاست دان سے محروم ہو گئی ہے۔

benazir bhutto
benazir bhutto

وہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی قریبی اور با اعتماد سا تھی تھیں۔ ان کی اس حیثیت نے ان کے مقام اور وقار میں بے پناہ اضا فہ کر دیا تھا اور انھوں نے اپنے کردار سے ثابت کیا تھا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو نے ان پر جس طرح اعتماد کا اظہار کیا تھا وہ اس کی مکمل طور پر اہل تھیں۔ مردوں کے تسلط شدہ معاشرے میں ایک عورت کا اتنا بلند مقام حاصل کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا اور فوزیہ وہاب نے اپنے کردا و افعال سے یہ اعلی مقام حاصل کیا تھا۔وہ ایک بڑے علمی گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں اور علم کا وہ خزانہ ان کی ذات کے اندر بھی محسوس ہو تا تھا۔

وہ ایک ترقی پسند سوچ کی حامل خاتون تھیں جنھیں مذہب پسند حلقے تنقیدی نظر سے دیکھتے تھے۔ ایک زمانے میں شدت پسند مذہبی حلقوں نے ان کے خلاف ایک مہم بھی چلا رکھی تھی لیکن فوزیہ وہاب ایسے کسی بھی دبائو اور دھمکیوں کو خاطر میں نہیں لاتی تھیں بلکہ جس بات کو حق اور سچ سمجھتی تھیں اسے پورے یقین اور اعتماد کے ساتھ پیش کرتی تھیں۔ ان کے دلائل میں اتنی منطق ، گہرائی اور مضبوطی ہو تی تھی کہ لوگ خو د ہی ان کی جانب کھینچتے چلے جاتے تھے اور ان کے نظریات اور خیالات کی صداقت پر یقین کرنے لگتے تھے اور ان کی علم دوستی اور سچائی کے قائل ہو تے چلے جاتے تھے۔

میرے فوزیہ وہاب کے ساتھ ذاتی روابط تھے۔ مجھے ان کے ساتھ نیاز مندی کا شرف بھی حاصل تھا اور انھیں کئی بار ملنے اور ان سے سیکھنے کا ا عزاز بھی حاصل رہاتھا۔ ان سے ہر ملاقات کے بعد میں ان کی شخصیت اور صلاحیتوں کا مزید معترف ہوتا چلا جاتا تھا ۔یہ ان دنوں کی بات ہے جب (چندسال قبل) اے آر وائی ٹیلیویژن پر عنیق احمد کا ایک علمی پروگرام چلا کرتا تھا۔

جو مذہب اور اجتہاد کے موضوع پر ہو ا کرتا تھا اور میں نے اسی پروگرام میں پہلی بار فوزیہ وہاب کو دیکھا تھا اور اسی دن سے میں ان کی فراست اور دانش کا قائل ہو گیا تھا ۔ میں ہمیشہ سے اسلام میں اقبال کی ترقی پسند فکر سے متاثر ہوں اور اسلام میں اجتہاد کا قا ئل ہوں ۔ اقبال وقت کے بدلتے تقا ضو ں کے مطابق اسلام کی ایسی تعبیر چاہتے تھے۔

جو جدید تقاضوں کا ساتھ دے سکے اور قوم کی راہنمائی ایسی منزل کی جانب کرسکے جس سے اس کے نوجوان ستاروں پہ کمند ڈالنے کا قابل ہو سکیں اور سائنسی دنیا میں اپنی افادیت کا لوہا منوا سکیں۔ فوزیہ وہاب بھی اسی سوچ کی حا مل تھیں لہذا مجھے انھوں نے بڑا متاثر کیا تھا ۔ ان کا استد لال یہی تھا کہ اسلام ایک زندہ و پائندہ دین ہے جس میں رفعتوں اور بلندیوں کا سفر ہمیشہ جاری رہے گا اور جدید سوچ ہی ہمیں منزلِ مراد سے ہمکنار کر سکے گی لہذا یہ کہنا کہ سارے مسائل کا حل فقہ نے صدیوں پہلے تجویز کردیا تھا صحیح نہیں ہے۔

فقہ نے ہمیں سوچنے سمجھنے کی مضبوط بنیادیں فراہم کی ہیں جس پر ہم ان کے احسان مند ہیں لیکن ہمیں ہر زمانے میں ابھرتے مسائل کو اپنی بصیرت فکر اور اجتہاد سے حل کرنا ہے۔ زمانے کے بدلتے تقاضے ہم سے اجتہاد کا تقا ضا کرتے ہیں اور ہمیں زمانے کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اسلام کی روشنی میں ان تمام مسائل کا حل عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق تلاش کرنا ہو گا۔ہر چیز کو کفر اور حرام کہہ کر جھٹک دینا اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہے ۔

اسلام تو علم کے حصول کو انسانیت کی معراج قرار دیتا ہے اور غو رو فکرکی قدم بقدم دعوت دیتا ہے لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ کچھ حلقوں نے اسلام میں غورو فکر کو شجرِ ممنو عہ قرار دے کر امت مسلمہ کے زوال کی بنیادیں رکھنے کا فریضہ سر انجام دینے کا بیڑہ اٹھا رکھا ہے اورسلام کو ایجادات اور ٹیکنا لوجی سے دور کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے ۔ ان کی سوچ تھی کہ ہمیں جدید علوم کو سیکھنا ہے اور ان کی قوت سے تسخیرِ کائنات کی جانب بڑھنا ہے تا کہ امامتِ دنیا مسلمانوں کا ایک دفعہ پھر مقدر بن سکے۔ ان کے یہی خیالات تھے جن سے مذہب پسند طبقے ان سے سخت نالاں رہتے تھے اور ان پر مختلف قسم کے فتوے جاری کرتے رہتے تھے لیکن وہ اجتہاد اور جدید سوچ کے اپنے افکار سے کبھی بھی پیچھے نہیں ہٹتی تھیں۔انھیں قتل کی دھمکیاں بھی دی گئیں اور ان کی کردار کشی کرنے کی بھی کوشش کی گئی۔

وہ اپنے موقف پر کوہِ گراں بن کر ڈٹ گئیں جس کی وجہ سے مخالفت کی ساری آندھیاں آہستہ آہستہ خود ہی تھم گئیں۔ مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ جب فوزیہ وہاب محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت 27دسمبر 2007 کے بعد پہلی دفعہ 2008 میں یو اے ای تشریف لائیں اور ہم نے انھیں27 دسمبر محترمہ بے نظیر بھٹو کے یومِ شہادت کے حوالے سے یو اے ای میں منعقدہ پروگرام میں شرکت کی دعوت دی تو انھوں نے صاف انکار کر دیا۔ وہ کہنے لگی کہ 27 دسمبر والے دن میرے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ میں کسی پروگرام میں شرکت کر سکوں۔

ppp pakistan
ppp pakistan

محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت سے میں اتنے غم میں ڈوب جاتی ہوں کہ میں دوسروں کے سامنے آ نہیں سکتی۔٢٧ دسمبر کو میں کچھ بھی کہنے کی حالت میں نہیں ہو تی کیونکہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے اس سانحے اور ان کی جدائی کے صدمے کو برداشت کرنا میرے بس میں نہیں رہتا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی یادوں کا ذکر کرتے ہوئے وہ آنسو ئوں میں ڈوب گئیں اور پوری محفل کو سوگوار کر دیا۔ان کی فرمائش پر میں نے محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے لئے لکھی ہوئی اپنی مندرجہ ذیل مشہو رو معروف ر با عی ان کی نذر کی ۔
طلسمِ ظلمتِ شب ٹوٹا میری للکار سے۔۔۔ قریہ قریہ ہو ہے روشن رسمِ ذو لفقار سے
میرے دلِ بیتاب میں ایک ہنگامہ ہے بپا۔۔۔ مجھ کو نسبت خاص ہے حیدرِ کرار سے ( طارق حسین بٹ شان)
فوزیہ وہاب کے ایک بیٹے علی وہاب یو اے ای میں رہائش پذ یر ہیں اور میرے قریبی دوستوںمیں شمار ہو تے ہیں۔ان سے میری ملاقات چند سال قبل پی پی پی کے ایک جلسے میں ہو ئی تھی اوراس دوستی کی بنیاد فوزیہ وہاب کی وہی فکری قوت تھی جس کی جانب میں نے اوپر اشارہ کیا ہے ۔

مجھے یاد ہے کہ علی وہاب کے ہاں چند سال قبل بیٹے کی ولادت ہو ئی اور اس کی مبارک باد کے لئے میں نے فوزیہ وہاب کو فون کیا تو ان سے اپنا تعارف ر با عیوں والا کہہ کر کروایا تھا ۔ وہ کارکنوں کا بڑا احترام کرتی تھیںاور انھیں عزت و وقار سے نوازتی تھیں۔ ان کے ساتھ بیٹھے ہوئے یہ احساس تک نہیں ہو تا کہ ہم ایک بہت بڑی علمی شخصیت کی محفل میں بیٹھے ہو ئے ہیں ۔وہ ذاتی زندگی میں بڑی حلیم طبع تھیں اور دوسروں کے احترام پر پختہ یقین رکھتی تھیں۔ان کی خوش لباسی اور شخصیت کی دلکشی نے بھی ان کی مقبولیت میں ہم کردار ادا کیا تھا۔ چند ہفتے قبل ایک دفعہ پھر میرے دوست علی وہاب کے ہاں جڑواں بیٹو ں کی ولادت ہو ئی تھی اور علی وہاب بہت خوش تھا میں نے خدا کی اس بے پایان عنائت پر اسے مبارک باد دی ۔

مجھے کہنے لگا کہ امی جان چند دنوں میں یو اے ای آئیں گی لہذا وہ جب بھی آئیں گی میں آپ کو خبر کر دوں گا تا کہ آپ ان سے ملاقات کر سکیں۔ قومی سیاست کی پچیدگیوں کے باعث وہ یہاں تشریف نہ لا سکیں اور پھر چند ہفتے قبل وہ پتے کے اپریشن کے سلسلے میں ہسپتال میں داخل ہو گئیں جہاں سے وہ زندہ لوٹ کر واپس نہ آ سکیں اور یوں میری ان سے ملاقات حقیقت کا روپ اختیار نہ کر سکی جس کا مجھے ہمیشہ افسوس رہے گا ۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی جب میں علی وہاب سے اس کی عظیم ماں کی رحلت پر اظہارِِ افسوس کے لئے جائوں گا تواس سے کیسے افسوس کر پائوں گا کیونکہ میرے سارے الفاظ بھی میری اس دلی کیفیت کا احاطہ نہیں کر سکیں گئے جو فوزیہ وہاب کی رحلت سے مجھ پر طاری ہیں۔

آئے اقبال کے دو اشعار پر آج کے اس کالم کا اختتام کرتے ہیں کیونکہ علامہ اقبال سے انھیں بڑی گہری محبت تھی ار وہ ان کی فکر سے بڑی متاثر تھیں۔ یہ وہی دو شعر ہیں جو میرے جواں سال بیٹے ذیشان طارق کی قبر کے کتبے پر بھی کندہ ہیں۔۔۔
ہے یہی میری نما زہے یہی میرا وضو۔۔۔میری نوائوں میں ہے میرے جگرکا لہو
صحبتِ اہلِ صفا نو رو حضور و سرور۔۔۔سر خوش و پر سوز ہے لالہ لبِ آبجو

تحریر: طارق حسین بٹ

Share this:
Tags:
karachi ppp pakistan افسوس بے نظیر بھٹو فوزیہ وہاب
Petrol Pump
Previous Post پیٹرول اور سی این جی کی قیمتوں میں کمی
Next Post کولمبو ٹیسٹ: سری لنکا کیخلاف 334 رنز، پاکستان کی پوزیشن مستحکم
muhammad hafiz

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close