Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 4, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

،،،،، تصادم کی راہ ،،،،،

June 14, 2012 0 1 min read
Pakistan US
Pakistan US
Pakistan US

امریکہ سے پاکستان کی دوستی کا آغاز پاکستان کی تخلیق کے ابتدائی د نوں سے ہی ہو گیا تھا۔ در اصل پاکستان کیلئے امریکی دوستی کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ بچا ہی نہیں تھا۔ پاکستان کا ازلی دشمن بھارت پہلے ہی روس کی گود میں بیٹھ کر ہمارے لئے خطرے کی گھنٹی بجا رہا تھا لہذا ہمارے لئے ضروری تھا کہ ہم اس کی اس حرکت کا کوئی بھر پور جواب دیتے اور وہ جواب امریکی دوستی کی صورت میں ہی دیا جا سکتا تھا۔

بھارتی قیادت کے روسی گود میں بیٹھے ہو نے کی وجہ سے پاکستان کے لئے روسی گود میں بیٹھنا ممکن نہیں تھا اب پاکستان کے پاس ایک ہی راستہ تھاکہ وہ کسی دوسری بڑی طاقت امر یکہ سے اپنی دوستی کی بنیادیں استوار کرتا اور خود کو نہ صرف محفوظ محسوس کر تا بلکہ بھارتی جار حیت پر روک لگانے کی کوشش بھی کرتا اور پاکستان نے اسی راہ کا انتخاب کر کے بالغ نظری کا ثبوت دیا جس پر بھارتی حلقوں میں کھلبلی مچ گئی۔ اس زمانے میں بھارت کے پہلے وزیرِ اعظم پنڈت جواہر لا ل نہرو سوشلزم کا علم بلند کئے ہوئے تھے اورا مر یکہ کو سوشلزم کے نام سے چڑ تھی لہذ جنوبی ایشیامیں اپنے مفا دات کے تحفظ کی خاطر ا مریکہ کو جنوبی ایشیا میں کسی ایسے اہم ملک کی ضر ورت تھی جو انتہائی اہم ہو اور امریکہ سے تعلقات قائم کرنے کا خواہاں ہو۔

اسی پسِ منظر میں امریکہ کی نظرِ انتخاب پاکستان پر پڑ گئی جسے اسلامی دنیا کی دنیا کی سب سے بڑی اسلامی ممکت ہو نے کا اعزاز بھی حاصل تھا۔امریکہ کی نظرِ انتخاب پاکستان پر اس لئے بھی پڑنی ضروری تھی کیونکہ امریکہ کو اس امر کا یقین تھا کہ فیوڈل ازم کی زنجیروں میں جکڑا ہوا پاکستان سوشلزم کے پھیلائو کی اس جنگ میں اس کا ممد و معا ون ہو گا اور مالی معاملات میں اس کی اعانت کی بدولت اس کا احسان مند بھی رہے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکی لا بی نے پاکستان کو اپنے پائوں پر کھڑا ہوے میں کھل کر اعا نت کی اور پاکستان کو بھارتی جارحیت کے سامنے بڑی جرات کے ساتھ کھڑے ہو نے کے قابل بنایا۔ بابائے قوم قائدِ اعظم محمد علی جناح کی بھی شدید خواہش تھی کہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان دو طرفہ تعلقات مضبو ط بنیادوں پر قائم ہوں کیونکہ وہ ان تعلقات میں پاکستان کی سلامتی کو پنہاں دیکھ رہے تھے لیکن قائد کی رحلت کے بعد قائم ہو نے والی جمہوری حکومتوں کے پسِ پردہ مارشل لائی انداز نے سارا منظر ہی بدل کر رکھ دیا اور امریکہ سے ہمارے برابری کی سطح پر تعلقات ایک خواب بن کر رہ گئے۔

Ayub Khan
Ayub Khan

تبھی تو فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے فرینڈز ناٹ ماسٹرز ( اے طائرِ لا ہوتی) لکھ کر اپنی دل کی بات کہنے کی کوشش کی تھی اور امریکہ پر یہ واضح کرنے کی کوشش کی تھی کہ مالی اعانت سے قوموںں کی خوداری اور غیرتِ ملی کا سودا نہیں ہوا کرتا لہذا دوستی کی مضبوطی کے لئے ضروری ہے کہ امریکہ پاکستان کو برابری کا مقام دے اور اس کی دوستی کی قدر کرے۔

عزیزانِ من کوئی اس سے لاکھ اختلاف کرے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ امریکہ نے پاکستان کو ایک بڑی عسکری قوت بنانے میں بڑا کلیدی کردار ادا کیا تھا ۔ آزادی کے اولین سالوں میں جب پاکستان کے پاس اپنے ملازمین کی تنخواہیں دینے کیلئے پیسے نہیں تھے تو پھر دیکھتے ہی دیکھتے پاکستان جنوبی ایشیا کی ایک بڑی فو جی قوت بن کر ا بھرا تو اس کے پسِ منظر میں کوئی تو تھا جس کے کندھوں پر سوار ہو کر پاکستان نے اتنی بڑی چھلانگ لگا لی تھی۔ بھارت کو پاکستان کی یہ حیثیت کسی بھی صورت میں گوارا نہیں تھی وہ تو پاکستان کو اپنے زیر ِ نگین رکھنا چاہتا تھا لہذا اس نے پاک امریکہ تعلقات میں دراڑیں ڈالنے کا آغاز کر دیا ، ہم نے اپنی بیو قوفیوں اور غلط پالیسیوں سے بھارت کو یہ موقع فراہم کیا کہ وہ امریکی خوشنودی حاصل کرتا چلا جائے اور ہمیں امر یکی دشمنوں کی صف میں دھکیلتا چلا جائے۔ جنوبی ایشیا میں وہ پوزیشن جو کسی زمانے میں پاکستان کو حاصل تھی اسے بر رضا و رغبت بھارت کے حوا لے کر د ینے کو پاکستان کی ناکام خارجہ پالیسی کا نام ہی دیا جا سکتا ہے۔

جب کوئی قوم اپنے پائوں پر خود ہی کلہاڑی مارنے کے خبط میں مبتلا ہو جائے تو پھر کوئی اس کی مدد نہیں کر سکتا۔ ہم نے اپنی بیو قوفیوں سے امریکہ کو غیر پسندیدہ ملک میں شامل کر لیا ہے جس کے نقصا نات کا ہمیں ابھی اندازہ نہیں ہو رہا۔ ہمارے لئے یہ لمحہ فکریہ ہو نا چائیے کہ بھارت جو کسی زمانے میں روسی بلاک کا سب سے اہم ملک تھا آج کل امریکی بلاک کا سب سے اہم ملک ہے اور وہ ملک جو امریکی قربت میں سب سے زیادہ اہم تھا بہت پیچھے چلا گیا ہے۔

مذہبی عناصر اور ان جیسے نادان دوست ہمیں امریکی بلاک کو چھوڑ کر روسی بلاک میں جانے کی ترغیب دے رہے ہیں حا لا نکہ و ہ خود بھی جانتے ہیں کہ روسی بلاک کی کوئی اہمیت نہیںہے اگر اہمیت ہوتی تو پھر بھارت روسی بلاک کو چھوڑ کر امریکی بلاک میں قدم نہ رکھتا کیونکہ بنیا کبھی بھی گھاٹے کا سودا نہیں کرتا۔ سچ ہمیشہ کڑوا ہو تا ہے اور آج کا سچ یہی ہے کہ دنیا اس وقت امریکی مٹھی میں بند ہے اور موجودہ دنیا کے سارے فیصلے اسی کی رضا اور مرضی سے رو بہ عمل آتے ہیں وہ جسے چاہتا ہے دھشت گردی کا لیبل لگا کر اس پر چڑھائی کر دیتا ہے اور اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتا ہے۔

عراق، لیبیا، افغانستان اور شام اس کی بڑی ہی واضح مثا لیں ہیں ۔ کیا پاکستان کیلئے ضروری تھا کہ وہ دنیا کے اس مست ہاتھی (امریکہ) کے قدموں میں خو د کو ڈال دیتا اور اپنے روند ھے جانے کا منظر خود اپنی آنکھوں سے دیکھتا؟پاکستان کی کوشش یہ ہو نی چائیے تھی کہ وہ اس مست ہاتھی کے ساتھ رہ کر اپنے آپ کو محفوظ رکھتا لیکن شائد حکومت نے تصادم کو ہوا دے کر خود کو مشکل صورتِ حا میں ڈال لیا ہے جس میں اسے شدید نقصان پہنچنے کا ا حتمال ہے۔

missile
missile

امریکہ اس وقت اپنی ٹیکنالوجی اور جدید جنگی سازو سامان کی وجہ سے دنیا کی اکلوتی سپر پاور اس نے یہ مقام ا پنے خونِ جگر سے ھاصل کیا ہے لہذا اس سپر پاور سے تصادم کی راہ اپنانا کسی بھی لحاظ سے پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے ۔ اگرمریکہ بھی ہماری طرح بھڑکیں مار کر خود کو خوش کرلیتا تو شائد وہ آج دنیا کی سرداری کی مسند پر جلوہ افروز نہ ہو تا یہ اس کی محنت، لگن اور تحقیق و جستجو کا ثمر ہے جس کی قوت پر وہ
دنیا پر حکمرانی کے مزے لوٹ رہا ہے۔ ہمیں شوق تو بہت ہے کہ ہم بھی دنیا کی حکمرانی سے فیض یاب ہوں لیکن ہماری حرکتیں ایسی ہیں کہ ہمارے لئے اپنی سلامتی کا تحفظ بھی مشکل ہو تا جا رہا ہے۔ ہم فتووں اور جنگ و جدل میں الجھی ہو ئی ایک ایسی قوم ہے جس کا واحد مقصد اپنے مذ ہبی اور سیاسی مخالفین کا خا تمہ رہ گیا ہے۔ ہم علاقائی اور لسانی گروہ بندیوں میں اس حد تک جا چکے ہیں کہ ملک کشت و خون کا منظر پیش کر رہا ہے اور ہماری ذات پر اس کا کوئی اثر نہیں ہو تا ۔

کراچی جیسا روشنیوں کا شہر انسانی خون کی ارزانی کی علامت بن کر رہ گیا ہے اور حکومت بے بسی سے یہ کماشہ دیکھ رہی ہے۔ کیا غیرت مند قوموں کا یہی شعار ہو ا کرتاہے کہ وہ اپنے ہی شہریوں اور بھائیوں کے گلے لسانیت کی بنیاد پر کٹتے دیکھتی رہے اور اس کے تداررک کے لئے آگے نہ بڑھے جو قومیں بھی ایساکر تی ہیں ان کی داستاں تک نہیں ہوتی داستانوں میں۔

اگر ہم قیامِ پاکستان کے ابتدائی سالوں میں تھوڑا سا جھانکنے کی کوشش کریں تو ایک ایسا وقت بھی آیا تھا جب امریکہ اور پاکستان یک جان دو قالب کا منظر پیش کرتے تھے ۔اس وقت مذ ہبی تنظیموں نے امریکی اثر و رسوخ کو پاکستان میں پھیلانے میں سب اے اہم کردار ادا کیا تھا اور رہی سہی کسر ١٩٧٩ میں افغان جنگ نے پوری کر دی تھی۔ جنرل ضیا الحق، جہادی تنظیمیں اور امریکہ ایک ہی مورچے میں بیٹھے ہو ئے تھے اور روسی جارحیت سے اس خطے کو محفوظ بنانے کی کوششوں میں جٹے ہو ئے تھے۔ امریکہ نے روس کو شکست سے دوچار کرنے کے لئے ڈالروں کے منہ کھول دئے اور جہادی تنظیموں کو بے تحاشہ نوازا تھا جس سے جہادی تنظیموں نے روسی جارحیت کے خلاف بھر پور مزاحمت کر کے اسے افغانستان سے بے دخل کرنے میں امریکہ کا بھر پور ساتھ دیا تھا۔روس کے جانے کے بعد انہی جہادی تنظیموں کے ہاتھوں پاکستان کی جو درگت بنی ہوئی ہے اس سے پوری دنیا آگا ہے۔

america
america

کلاشنکوف کلچر اور ہیر وئن کے تحفے اسی دور کی یادگاریں ہیں جس نے پاکستان سے اخلاقیات کا جنازہ نکالنے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے ۔ ملک میں دھشت گردی کی کاروائیوں میں انہی جہادی تنظیموں کے افراد ملوث ہیں جنھیں امریکہ اور جنرل ضیا الحق نے پا ل پوس کر بڑا کیا تھا۔اب حالت یہ ہے کہ جہادی تنظیمیں ایک طرف ہمارے وجود کے لئے خطری بنی ہوئی ہیں تو دوسری طرف امریکہ ہمیں آنکھیں دکھا رہا ہے اور ہم نہ جائے ماندن نہ پپائے رفتن کی کیفیت میں جکڑے ہو ئے ہیں اور اس سے نکلنے کی کوئی راہ ہمیں نہیں سوجھ رہی۔

اساں نچ کے یار مناناں کا رقص کرنے والی قوم آج امریکہ کے ساتھ تصادم کی شاہراہ پر کھڑی ہے اور اسے سمجھ نہیں آرہی کہ وہ اس لمحے کو ن سا فیصلہ کرے جس سے ملک میں امن و امان اور استحکام کی دولت نصیب ہو جائے۔کیا پاکستان میں اتنی سکت ہے کہ وہ امریکی دشمنی کا بوجھاٹھا سکے اگر اتنی سکت نہیں ہے تو پھر اسے افہام و تفہیم سے اپنے بچائو کی کوئی صورت پیدا کرنی چائیے۔

حکومتی عمائدین کے لئے یہ معاملہ سب سے تشویش ناک سوال کی صورت میں پھن پھیلائے کھڑا ہے اور موجودہ حکومت کسی بھی نتیجے پر پہننے سے قا صر ہے کیونکہ وہ فیصلہ کرنے کی قوت سے محروم ہے۔وہ ڈنگ ٹپائو پالیسی پر عمل پیرا ہے لیکن ریاستیں اس طرح نہیں چلا کرتیں۔اس کے لئے دوٹوک اور جرات مندانہ فیصلوں کی ضرورت ہو تی ہے لیکن اپنے اتحادیوں کی بیساکھیوں پر کھڑی موجودہ حکومت ا تنے بڑے فیصلے کرنے کی قوت نہیں رکھتی۔ فوج، مذہبی جماعتوں اور اتحادیوں میں گری ہو ئی موجودہ حکومت بہت کمزور ہے اور سخت دبائو میں ہے ۔ وہ کسی کو بھی ناراض نہیں کرناچا ہتی جس کی وجہ سے اس میں بڑے فیصلے کرنے کا فقدان ہے اور ا س کی اسی تذبذبی کیفیت کی وجہ سے پاک امریکی تعلقات دن بدن تعطل کا شکار ہو رہے ہیں۔تحریر : طارق حسین بٹ

 

Share this:
Tags:
america friendship pakistan امریکہ پاکستان دوستی
Justice
Previous Post اِنصاف
Next Post امریکی فرمائش پاکستان کڑوا گھونٹ پیئے، ایک دھمکی یا التجا ..
Pakistan

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close