بگرام ایئر بیس پر کھڑے طیارے پر حملے کے وقت اس میں کوئی شخص سوار نہیں تھا اور نا ہی اس واقعے میں کوئی زخمی ہوا۔

افغانستان میں سرگرم عسکریت پسندوں کی طرف سے داغے گئے دو راکٹوں سے امریکی جوائنٹس چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل مارٹن ڈیمپسی کے طیارے کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔
نیٹو ترجمان کا کہنا ہے پیر کی رات دیر گئے بگرام ایئر بیس پر کھڑے طیارے پر حملے کے وقت اس میں کوئی شخص سوار نہیں تھا اور نا ہی اس واقعے میں کوئی زخمی ہوا۔
’’واقعے کے وقت چیئرمین (جنرل ڈیمپسی) اپنے کمرے میں تھے اور وہ محفوظ رہے۔‘‘
ترجمان کے بقول طیارے کو پہنچنے والے نقصان کے باعث جنرل ڈیمپسی ایک دوسرے جہاز میں افغانستان سے روانہ ہو ئے۔
ترجمان نے راکٹ حملے میں امریکی جنرل کے زیرِ استعمال طیارے کو پہنچنے والے نقصان کو شدت پسندوں کی ’’خوش قسمتی‘‘ قرار دیا۔
جنرل مارٹن ڈیمپسی اور امریکی سنٹرل کمان کے سربراہ جنرل جیمز میٹس افغان اور نیٹو حکام سے بات چیت کے لیے پیر کو کابل پہنچے تھے، جہاں اعلیٰ فوجی کمانڈروں نے افغانستان میں شدت پسندی کے انسدادِ کی کوششوں میں پیش رفت کا دعویٰ بھی کیا۔
