Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 4, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

انسانیت کے نام ربیع اول کا پیغام

January 24, 2013 0 1 min read
Muhmmad Asif Iqbal
12 Rabi-Ul-Awal
12 Rabi-Ul-Awal

دنیا میں جتنی بھی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں ان میں نظریہ قوت و طاقت کو بڑی اہمیت حاصل رہی ہے۔ اس سلسلے کے چند نظریات پربہت ہی اختصار کے ساتھ روشنی ڈالی جا رہی ہے ۔ساتھ ہی اسلام کس نہج پر تبدیلی کا خواہاں ہے اس سلسلے میں بھی چند باتیں رکھی گئی ہیں۔اور یہ کوشش اس لیے ہے کہ ماہ ربیع اول میں جہاں بے شمار جلسے جلوس اور تقاریر کے ذریعہ نبی رحمت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کے مختلف پہلو نمایاں کیے جاتے ہیں وہاں آج کے ماحول میں یہ بھی لازم آتا ہے کہ تبدیلی کا خواہاں اسلامی نظریہ عیاں کیا جائے۔تاکہ مسائل جن سے ہم آج دوچار ہیںوہ صرف مسائل ہی بن کر نہ رہ جائیںبلکہ اس کے کچھ ٹھوس اقدامات بھی سامنے آئیں۔

تبدیلی کب کہاں اور کیسے آتی ہے یہ مسلئہ صرف تھامس ہابس اور جان لاک ہی کا نہیںتھا۔ بلکہ ہیگل نے تو پوری انسانی تاریخ کو ”نظریات کی جنگ” کا سفر قرار دیا ہے۔ اس نے کہا ہے کہ ایک نظریہ پیدا ہوتا ہے اور دنیا میں اپنے اثرات پھیلاتا رہتا ہے جسے اس نے thesis کہا۔ ہیگل کہتا ہے کہ یہ اثرات مرتب ہوتے رہتے ہیں یہاں تک کہ اس نظریے کی ”ضد” پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہی، جسے اس نے anti-thesis کہا۔

ہیگل کے مطابق تھیسس اور اینٹی تھیسس میں تصادم ہوتا ہے اور اس تصادم سے ایک تیسری چیز synthesis نمودار ہوتا ہے۔ یہ synthesis صالح یا بہترین اجزاء پر مشتمل ہوتا ہے۔ ہیگل کے اس نظریے کا کارل مارکس پر گہرا اثر پڑا، البتہ مارکس نے یہ کیا کہ ہیگل نے جس معرکہ آرائی کو ”نظریات” میں دکھایا تھا، مارکس نے اس آویزش کو طبقات میں دکھایا۔ مارکس نے اس تبدیلی کو معنی خیز انداز میں بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہیگل سر کے بل کھڑا تھا میں نے اسے سیدھا کھڑا کردیا۔

اسی طرح چین میں ماؤزے تنگ کے نظریات میں بھی طاقت کو مرکزیت حاصل ہوئی۔ ماؤ کا یہ قول مشہور زمانہ ہے کہ طاقت بندوق کی نال سے برآمد ہوتی ہے۔ اگرچہ کمیونسٹ انقلابات نے خود کو ”نظریاتی” کہا، مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کی نظریاتی طاقت ثانوی چیز تھی۔ ان کا اوّل و آخر طاقت تھی۔ چوں کہ ان کا آغاز طاقت تھی اس لیے ان کا انجام بھی طاقت ہی کے حوالے سے سامنے آیا۔

روس میں کمیونزم کے پاس طاقت کی قلت ہوئی تو کمیونزم معاشرے پر اپنی گرفت قائم نہ رکھ سکا اور معمولی قوت سے سامنے آنے والے جوابی انقلاب یا Counter Revolution کی نذر ہوگیا۔ بیسویں صدی کے وسط تک آتے آتے طاقت کا ایک نیا مظہر ”مارشل لا” کی صورت میں سامنے آیا۔ نوآبادیاتی طاقتوں سے آزادی حاصل کرنے والے تیسری دنیا کے اکثر ملکوں میں فوج سب سے منظم، باخبر، تعلیم یافتہ اور طاقتور ادارہ تھا۔ اس ادارے نے اپنی اس حیثیت کو ملک و قوم کے حق میں استعمال کرنے کے بجائے ان کے خلاف استعمال کیا۔ ایشیا اور افریقہ کے متعدد ممالک میں مارشل لا نمودار ہوئے اور ‘جس کی لاٹھی اْس کی بھینس’ کا فلسفہ جگہ جگہ حقیقت بنتا نظر آیا۔

Muhammad SAW
Muhammad SAW

تھامس ہابس اور جان لاک کے نظریات کے بارے میں عام خیال یہ تھا کہ یہ نظریات محض قیاس آرائی ہیں، لیکن مارشل لا کو دیکھ کر اور برت کر بہت سے لوگ یہ گمان کرنے لگے کہ ممکن ہے تھامس ہابس اور جان لاک کے قیاسات صحیح ہوں۔ اہم بات یہ ہے کہ مارشل لا نے ہر جگہ معاشرے کی تشکیلِ نو کی۔ پاکستان میں مارشل لا لگانے والے جنرل ایوب اور جنرل پرویزمشرف سیکولرتھے، چنانچہ ان کے دور میں معاشرے میں سیکولرازم کو قوت حاصل ہوئی۔

جنرل ضیاء الحق کا ذہن مذہبی تھا، ان کے دور میں معاشرے میں مذہبی رجحانات کو فروغ حاصل ہوا۔ جمہوریت اگرچہ کمیونزم اور مارشل لا کی ضد ہے، لیکن طاقت کا تصور تینوں نظاموں میں مشترک ہے۔ فرق یہ ہے کہ کمیونزم میں طاقت کا سرچشمہ کمیونسٹ پارٹی، مارشل لا میں طاقت کا سرچشمہ فوج ہوتی ہی، اور جمہوریت میں طاقت کا سرچشمہ عوام ہوتے ہیں۔

افراد اور معاشروں کو نسلی، قومی، لسانی اور مذہبی تعصبات بھی متاثر اور تبدیل کرتے رہے ہیں۔ یہودیت ایک آسمانی مذہب تھا مگر اس کے ماننے والوں نے اسے ایک نسلی مذہب بنادیا۔ ہندوازم کے بارے میں بھی غالب گمان یہی ہے کہ وہ بھی کبھی ایک الہامی مذہب رہا ہوگا مگر ہندوازم چار ذاتوں کا مذہب بن گیا۔ ہندوستان کی تاریخ، سماجیات، یہاں تک کہ معاشیات پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ گزشتہ چار صدیوں میں یورپ کی قوم پرستی نے ایرک فرام کے مطابق 2600 جنگیں ایجاد کیں۔ ان میں 20 ویں صدی میں لڑی جانے والی دو عالمی جنگیں بھی شامل ہیں جن میں مجموعی طور پر تقریباً 7کروڑ افراد ہلاک ہوئے، اور جنہوں نے مغرب کے فلسفہ، ادب اور سماج پر گہرے اثرات مرتب کیے۔

اس قوم پرستی نے تیسری دنیا کے ملکوں میں بھی قوم پرستی کی تحریکیں پیدا کیں۔ ان تحریکوں نے معاشروں کی سماجی، نفسیاتی اور جذباتی ساخت کو متاثر کیا۔ جرمن ادیب ٹامس مان نے کہا تھا کہ 20 ویں صدی میں انسانی تقدیر سیاسی اصطلاحوں میں لکھی جائے گی۔ ٹامس مان کی یہ پیشگوئی بڑی حد تک درست ثابت ہوئی ہے۔ لیکن 21 ویں صدی کا معاملہ یہ ہے کہ اس میں انسانی تقدیر معاشی اصطلاحوں میں لکھی جارہی ہے اور معاشیات ایک”عالمگیر مذہب” بن کر ابھر رہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج “عالمگیر مذہب”کی لپیٹ میں پوری دنیاآچکی ہے۔

ایسے موقع پر ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ نیکی کی بنیاد پر ہونے والی تبدیلی، تقوے کے ابلاغ سے ہونے والی قلب ِماہیت کئی کئی نسلوں تک باقی رہتی ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ نیکی ایسا نعرہ، ایسا نظریہ اور ایسا فلسفہ ہے جوکئی نسلوں کو اپنا اسیر کرسکتا ہے۔ مسلئہ کا حل جب پیش کیا جاتا ہے یا جن لوگوں کے پاس حل موجود ہے اور وہ اس کو لے کر آگے بڑھنے کا عزم کرتے ہیں تو ایسے لوگوں کو مختلف پابندیوں میں جکڑ دیا جاتا ہے۔ پھر ان کے تعلق کو امن کی بجائے دہشت گردی سے تعبیر کیا جاتا ہے اور اسی درمیان مذہب اسلام جو امن کا داعی ہے اس کو فرقہ وارانہ منافرت میں پیش کرنے کی سعی وجہد شروع ہو جاتی ہے۔یہی نہیں جہاد کا ذکرکرکے اسلام دشمن طاقتیں کہتی ہیںکہ اسلام تلوار اور طاقت کے زور پر پھیلاہے۔

Rasool Swa
Rasool Swa

لیکن تاریخ شاہد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حق و باطل کا پہلا معرکہ غزوۂ بدر کی صورت میں اْس وقت لڑاجب باطل کی قوت حق سے بہت زیادہ تھی۔ چنانچہ مسلمان کافروں کے مقابلے کبھی بھی اپنے زورِ بازو پر بھروسا نہیں کرتے۔ ان کا بھروسا تھا تو اللہ پر اور ہے تو بھی اُس ہی کی امداد اور نصرت پر اور یہ صرف غزوۂ بدر کا معاملہ نہیں، مسلمان حق و باطل کے کسی بھی معرکے میں شریک ہوں انہیں ہمیشہ اصل امید اللہ کی ذات ہی سے ہوتی ہے۔

پھر جس کا انحصار ہر صورت میں اللہ پر ہو وہ نہ طاقت پرست ہوسکتا ہے اورنہ طاقت کے ذریعے اپنے نظریے کو پھیلا سکتا ہے۔اس پس منظر میں اسلامی معاشرہ اپنی روح میںایک جہادی اور مزاحمتی معاشرہ ہوتا ہے اور اس کی مزاحمت اپنے نفس سے لے کر بین الاقوامی زندگی تک پھیلی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کے علمبردار ایک مضبوط،واضح اور مکمل نظام حیات کے فروغ و استحکام کے لیے ہر دم کوشاں رہتے ہیں۔کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اسلام مکمل نظام حیات ہے جس میں معیشیت سے لے کر معاشرت اور تہذیب و تمدن کے تمام معرکے حل کیے جا سکتے ہیں۔

لہذا ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اسلامی معاشرے کے تحفظ و فروغ، اس کی بقاو استحکام اور اس کے قیام کے لیے سعی و جہد کرے ۔اور ایک متبادل نظام حکومت فراہم کرے جس میں عوام الناس کے لیے امن و امان ہو اور ان کی بنیادی ضرورتیں پوری ہو سکیں۔ مختلف مذاہب کے لوگ اپنے مذہب پر بہ آسانی عمل پیرا رہ سکیں اور ان کا خاندان تعمیر و ترقی کی منزلیں طے کرے۔آج کے موجودہ نظام حکومت میں جہاں افلاس و غربت کی آندھیاںتھپیڑے مار رہی ہیں، جہاں لوگوں کو اپنی بنیادیں ضرورتیں پوری کرنا مشکل تر ہوا جا رہا ہے، جہاں صحت و تعلیم میںدشواریاں لاحق ہیں۔ وہاں یہ مسلئہ نہ ربیع اول کے جلسے جلسوں میں فصاحت و بلاغت کے کارنامے دکھا کر حل ہوگا، نہ ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر حالاتِ حاضرہ پر گفت و شنید سے حل ہوگا ،نہ نبیۖ کی شان میں نعت خوانی کی محفلوں سے حل ہوگا اور نہ ہی متبادل نظام خود بہ خود وجود میں آکر مسائل حل کر دے گا۔

اگر یہ ممکن ہے تو اس کا آغاز تبدیلی ِ قیادت کے اس نعرے سے ہونا چاہیے جو نہ صرف عملی ہو بلکہ اس کے حصول کے لیے بھی راہیں ہموار کی جاچکی ہوں۔اوریہ جب تک ممکن نہیں جب تک کہ رائے عامہ کو اس کے لیے ہموار نہ کر لیا جائے ۔لہذا اس اہم کام کا آغاز کرتے ہوئے ہمیں میدانِ عمل میں آنا چاہیے۔ یہی وقت کی آواز ہے اور یہی انسانیت کی فلاح و بہبو د کا ذریعہ بھی۔پھر یہی وہ سعی وجہد ہوگی جو کسی کونے میںبیٹھ کر عبادت کرنے کے بالمقابل عظیم کہلائے گی۔

تبدیلیِ قیادت:
تبدیلی ِقیادت سے ہماری مراد وہ قیادت ہے جو خوف خدا سے سے عاری نہ ہو۔ایسے قیادت جو خوف خدا سے عاری ہو وہ نہ تو خود اپنی ذات کو کوئی فائدہ پہنچا سکتی ہے اور نہ انسانیت کو۔ لہذا اس پہلو پر بھی توجہ دی جائے کہ قیادت ان لوگوں کے ہاتھوں میں منتقل کی جائے جو انسانی قوانین کے پاس و لحاظ رکھنے کے علاوہ اُس ہستی کو بھی مانتے ہوں جو خود انسانوں کا موجد اعلیٰ ہے۔

لہذا اس مرحلے میں قیادت کی تبدیلی ناگزیر عمل بن جائے گا۔اور یہ تبدیلی ِ قیادت کا عمل اسی طرح لایا جائے گا جو موجودہ دور میں انسانو ں کے لیے قابل ِ قبول ہو یعنی شورائیت جس کے لیے موجودہ نظام انتخابی عمل کا نام تجویز کرتا ہے۔ہمیں یہ بات بھی واضح کر دینی چاہیے کہ ہماری جدو جہد ہمارے “اپنوں” کے خلاف نہیں ہے بلکہ دنیا کی ان طاقتوں کے خلاف ہے جو اپنے قومی و ذاتی مفادات کی وجہ سے عالم ِ انسانیت کو تباہ و برباد کرنے پر آمادہ ہیں اور اس کے لیے مختلف خوبصورت ناموں کی ٹرمس استعمال کرتے ہیں۔

Rusaal Pak Saw
Rusaal Pak Saw

لیکن یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ جو چیز آپ دنیا کو دینا چاہتے ہیں اس کے لیے سب سے پہلے آپ خود اٹھ کھڑے ہوں۔اُٹھ کھڑے ہونے سے ہماری مراد علمی و عملی پہلوئوں کا جائزہ، تجزیہ اور صورتحال سے آگاہی ہے جس کو حاصل کرنا کسی بھی جانب قدم اٹھانے سے قبل ہونی چاہیے ۔ہم جانتے ہیںکہ سوچے سمجھے قدم صحیح راہ کو جلد پالیتے ہیں۔اس کے لیے ہمارے پاس باصلاحیت،جرٔت مند، بلند حوصلہ اشخاص کی کثیر تعداد ہونی چاہیے۔

جو غورو فکر کرنے اور تدبر و دانائی کو اپنا شعار بنانے والے ہوں۔ جو علم و عمل میں یکسانیت رکھتے ہوں یا پھر اس کے لیے سعی و جہد کرنے والے ہوں۔ہمیں ان ناکارہ، بے مقصد، اور نفس پرست انسانوں کی بھیڑ کی ضرورت نہیں ہے کہ جو اعلیٰ تعلیمی اداروں کی اعلیٰ تعلیمی ڈگریاں تو رکھتے ہیں لیکن اخلاق و کردار کے پیمانے پر جب ان کو تولا جاتا ہے تو ان کا وزن اس جھاگ سے ذرہ برابر بھی زیادہ نہیں ہوتا جسے سمندر جہاں چاہتا ہے پھینک دیتا ہے۔

ہمیں یہ شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے کہ خرابی کی اصل جڑ موجودہ نظام اور اس کی پروردہ مفاد پرست، ملت فروش اور دنیا پرست قیادت ہے کہ جس پر نوٹس نہ لیا گیا تو اصلاح و فلاح کے پہلو مدھم پڑتے جائیں گے۔ ان طاقتوں کے خلاف اقدام سے ہم یہ مراد لیتے ہیں کہ موجودہ فلسفۂ زندگی پر تفکر کیا جائے، اس میں اصلاح کے پہلوئوں کو ابھارا جائے، اور سب سے بہترتو یہ ہوگا کہ اسلامی فلسفۂ زندگی کو نافذ العمل بنانے میں سعی و جہد کی جائے۔ آج ہر طرف ظلم و بربیت کا دور دورہ ہے اور ہماری حالت یہ ہے کہ ہمیں صرف اپنے طرز معاشرت کو بہتر بنانے کی فکر نے ،مسائل کو سمجھنے، ان پر غور و فکر کرنے اور ان کے خاتمہ کی سعی و جہدکرنے سے دور کر رکھا ہے۔لیکن اسلام کی رو سے یہ بھی ظلم ہی کی کٹہرے میں آتا ہے جو ہم آج خود پر کر رہے ہیں۔

بنی کریمۖ کا ارشاد ہے برائی کو ہاتھ سے روکا جائے، اس کو زبان سے برا کہا جائے اور اگر اتنی بھی طاقت نہ ہو تو کم از کم دل میں برا سمجھاجائے۔ لیکن ایک لمحہ کے لیے ٹھہریں اور اپنے دل پر ہاتھ کر دیکھیں اور خو د سے یہ معلوم کرنے کی کوشش کریںکہ کیا کبھی ہم نے اس جانب توجہ کی ہے؟اللہ تعالی فرماتا ہے :اور اگر خدا لوگوں کو ان کے ظلم کے سبب پکڑنے لگے تو ایک جاندار کو زمین پر نہ چھوڑے لیکن ان کو ایک وقت مقرر تک مہلت دیئے جاتا ہے ۔

جب وہ وقت آجاتا ہے تو ایک گھڑی نہ پیچھے رہ سکتے ہیں نہ آگے بڑھ سکتے ہیں (النحل:٦١)۔فرصت کے لمحات کو گنوانا نادانی کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے۔ لہذاجو لمحات بھی مہلت کے باتی ہیں ان کا استعمال کرتے ہوئے ہمیں اٹھ کھڑا ہونا چاہیے۔یہی تقاضہ ٔ وقت بھی ہے اور یہی ہمارا اولین فرض منصبی بھی۔لیکن ظلم و بربیت سے نجات دلانے والوں کا طرز عمل بھی امن پسند ہونا چاہیے تب ہی یہ ہمارے لیے اور دوسروں کے لیے نفع بخش سودہ ثابت ہو گا۔

قرآنِ حکیم میں مختلف مقامات پر فرمایا گیا ہے کہ کیا تم غور و فکر نہیں کرتے’ کیا تم تدبر نہیں کرتے’ کیا تم جاننے کی کوشش نہیں کرتے۔ یہ انداز قرآن حکیم کا مخصوص انداز ہے جس میں لوگوں کو متوجہ کیا کہ وہ غور و فکر کریں۔ کہا کہ کسی بھی چیزکے اقرار یا انکار سے سے سوچنا سمجھنا اور جاننا اور غور و فکر کرنا ہی در اصل تدبرہے۔ یہی تدبرقرآن میں ایک ایسے نظریے ، تفکر و فلسفہ کی تخلیق کرتا ہے،جو ملت اسلامیہ کی ذہنی’ علمی’ فکری’ نفسیاتی’ قومی’ سماجی’ معاشرتی’ معاشی’ سیاسی’ دینی اور بین الاقوامی حیثیت کو مکمل طور پر جداگانہ حیثیت میں ممیز کرتا ہے۔

یہی قرآنی نظریہ اور فلسفہ حیات ہے ، یہی ملت اسلامیہ کی قرآنی تعلیم و تربیت ہے اور یہی کیفیت دینی اور ملی اساس کی حیثیت بھی رکھتی ہے۔ قرآن حکیم نے مزید فرمایا: ہم نے تمہیں واضح طور پر ان امور و معاملات سے آگاہ کر دیا ہے، اگر تم عقل و فکر سے کام لوگے ۔یعنی زندگی کے صحیح راستے پر گامزن رہو گے۔اسلام اور قرآن کے نزول کے ساتھ ہی بنی نوع انسان دو مختلف نظریات اور دو حتمی مختلف طبقات میں تقسیم ہو گئے تھے ایک نظریہ ایمان لانے والوں کا دوسرا ایمان نہ لانے والوں کا۔

چنانچہ اولاد آدم دو کیمپوں میں تقسیم ہو گئی شرارِ بولہبی ایک جانب اور چراغ مصطفویۖ دوسری جانب’ اس نظریے نے خون اور حسب و نسب کی نفی بھی کر دی۔ برادری’ قبیلے اور ذات پات کو ملیامیٹ کر کے رکھ دیا۔ اس کی بہترین مثال جنگ بدر اور جنگ احد ہے جس میں نبی آخرالزماں حضور اکرمۖ اور دوسرے صحابۂ کرام کے قریبی رشتہ دار دشمن کی صف میں تھے اور ایمان لانے والے غیر رشتہ دار حضور اکرمۖ کی صف میں موجودتھے۔ چنانچہ قرآن نے کافروں اور منافقین کے ضمن میں ملت اسلامیہ کو بڑی سختی سے متنبہ کیا ہے۔

ان کی بغض’ عداوت اور دشمنی کی بعض باتیں تو ان کے منہ پر آ جاتی ہیں لیکن جو کچھ ان کے دلوں میں چھپا رہتا ہے وہ اس سے کہیں زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ صورتحال کے پس منظر میں ضرورت ہے کہ ہر شخص بہت چوکنّا رہیساتھ ہی ہر لمحہ اپنے اعمال کا جائزہ بھی لے، اپنے نفس کو ٹٹولے اور چیک کرے اور دیکھے کہ اسکا ہر چھوٹا یا بڑاعمل اس کوکہاں لے جا رہا ہے؟یہی وہ پیغام ہے جو موجودہ حالات کے پس منظر میںماہ ربیع اول اور نبی اقدس محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ سے ہمیں اور آپ کو حاصل کرمیدان عمل میں اتر آناہے۔

Muhmmad Asif Iqbal
Muhmmad Asif Iqbal

تحریر : محمد آصف اقبال، نئی دہلی

Share this:
Tags:
changes humanity انسانیت تبدیلیاں
Syed Manzoor Hussain Shah
Previous Post کاٹیج فرنیچرز الیسوسی ایشن کے زیراھتمام محفل میلادالنبی صلی عیلہ اللہ و آلہ وسلم کے موقع پر پیرسید منظور حسین شاہ اور دیگر خطاب کر رھے ھیں
Next Post راجہ پرویز اشرف، رحمان ملک، جہانگیر بدر کیخلاف ریفرنس دائر کرنیکا حکم
raja parvaz Ashraf Rehman Malik Jahangir Badar

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close