Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 4, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

اپنے ماضی کی طرف لوٹتا ترکی

September 10, 2011 0 1 min read
turkey

وہ ترکی جو

turkey
turkey

623برس تک خلافت عثمانیہ کا مرکز رہا اور جسے چھ صدیوں تک عالم اسلام میںمرکزی حیثیت حاصل رہی،یکم نومبر 1922ء کو اپنی مرکزی حیثیت کھو بیٹھا ،جدید ترکی کے بانی مصطفی کمال اتا ترک نے خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد ملک کا نظم و نسق چلانے کیلئے سیکولر ازم کا سہارا لیا،جس کی وجہ سے صدیوں تک دنیائے اسلام کی قیادت کرنے والی ریاست اپنی مسلم شناخت اور تشخص سے یک لخت محروم ہو گئی،مصطفی کمال پاشا نے مغرب کی تقلید اور تائید و حمایت کیلئے مذہب سے نفرت کو سیکولر ازم کی تعریف قرار دیا اور اسے ہر شعبہ ہائے زندگی سے خارج کر دیا،اُس نے ترکی کو مغربی ممالک کے ہم پلہ بنانے کیلئے سب سے پہلے اسلام کو زد پر رکھا، مدارس کو بند کر دیا گیا ، قرآن کریم کا پڑھنا اور تعلیم دینا جرم قرار پایا ،مساجد میں عربی زبان میں اذان دینے اور حج کی ادائیگی پر بھی پابندیاں لگا دی گئی،عورتوں کیلئے پردہ موقوف کر دیا گیا، مرد و خواتین کو جبراً مغربی لباس پہننے پر مجبور کیا گیا، ترکی ٹوپی ممنوع قرار دے دی گئی، نام اختیار کرنے کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا گیا اور وہ نام رکھے جانے لگے جن سے کبھی مسلمان ہونے کی بو نہ آئے،اسلامی کلینڈر کا خاتمہ کر دیا گیا ،اسلام کے عائلی قوانین ختم کر کے اُس کی جگہ سوئس قوانین کو آئین کا حصہ بنایا گیا، نتیجتاً کثرت ازدواج بھی ممنوع ہو گئی اور حال یہ ہوگیا کہ 98 فیصد مسلمانوں کے حامل ملک میںایک سے زائد شادی کرنے والے افراد دوسری بیوی کو اپنی گرل فرینڈ قرار دیتے تو اُن سے کوئی باز پرس نہ کی جاتی، البتہ دو بیویاں رکھنے پر دھر لیا جاتا، عربی رسم الخط کو کالعدم قرار دے کر لاطینی رسم الخط اختیار کیا گیا، چن چن کر عربی اور فارسی الفاظ کو ترکی زبان سے نکال دیا گیا،چھ صدیوں تک مرکزی حیثیت رکھنے والے شہر استنبول کی جگہ دارالحکومت کو انقرہ منتقل کر دیا گیا، فتح قسطنطنیہ کی سب سے اہم نشانی ”ایاصوفیہ ”کو مسجد سے عجائب گھر بنا دیا گیا،کمال اتاترک نے بہت سے رہنماؤں کو زندانوں میں ڈلوادیا، جلا وطنی پر مجبور کیا یا انہیں سزائے موت دے دی ،غرضیکہ اتا ترک نے پوری کوشش کی کہ اسلام اور مسلمانوں سے تعلق کی ہر نشانی کو مٹاکر ترکی کو مشرق سے کاٹ کر مغرب کا حصہ بنا دیا جائے،اُس نے آئین بناکر فوج کے سیاسی کردار کو دستوری تحفظ اور آئین کا محافظ قرار دیا اورپوری کوشش کی کہ اسلام کا حلیہ بگاڑ کر ترک مسلمانوں کو اْن کے صدیوں پر محیط عظیم علمی ادبی، ثقافتی اور ہر اُس دینی ورثے سے محروم کر دیا جو فکر اسلامی کا عکاس و آئینہ دار تھا،یوں29 اکتوبر 1923ء کو ترکی باضابطہ سرکاری طور پر ریپبلک آف ترکی کی شکل میں ایک نئی اور جدید سیکولر ریاست کی شکل میں دنیا کے سامنے آیا۔ 1960 ء تک یہ وہی ترکی تھا جس میں اسلام کا نام لینا بھی جرم تھا، یہ وہی سال تھا جس میں وزیر اعظم عدنان میندریس کو اسلامی رجحان رکھنے کے جرم میں پھانسی دی گئی،وہ ترک فوج جو ملک کی سیکولر پہچان کی نگہبان سمجھی جاتی ہے اور جس نے ملک میں اسلامی طرز زندگی بدلنے میں اہم ترین کردار ادا کیا،کے سامنے نجم الدین اربکان کی ذات پہلی بار ایک چٹان کے روپ میں سامنے آئی،ترک جرنیلوں کو اپنا اقتدار خطرے میں نظر آنے لگا، چنانچہ بار بار نجم الدین اربکان اور اُن کی جماعت پر پابندیاں عائد کی گئیں ،لیکن نجم الدین اربکان نے جو راستہ کھول دیا تھا ، وہ فوج سے بند نہ ہوسکا، رفاہ سے فضیلت اور فضلیت سے جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی تک کا سفر اسلام پسندوں کی پرامن سیاسی جدوجہد کا آئینہ دار ہے،ترکی کے موجودہ وزیراعظم رجب طیب اردگان نجم الدین اربکان کے تربیت یافتہ اور سیاسی وارث ہیں،گذشتہ الیکشن میں جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کی تاریخ ساز کامیابی اِس اَمر پر دلالت کرتی ہے کہ عوام کی اکثریت نے ترکی میں سیکولرازم اور فوجی آئین کے خلاف اپنا فیصلہ دے دیا ہے،آج ترکی میںصورتحال بدل چکی ہے، اسلام پسندوں کی بڑھتی ہوئی قوت کے سامنے فوج بے بس نظر آتی ہے،وزیر اعظم رجب طیب اردگان اور صدر عبداللہ گل کی قیادت میں سیکولر ترکی نے ایک نئی انگڑائی لینی شروع کی ہے ،فوج کی تمام تر کوشش کے باوجود عوام میں اسلامی تشخص مقبولیت حاصل کررہا ہے، اب یورپی یونین میں شرکت کیلئے بھیک مانگتا ترکی ایک نئے روپ میں دنیا کے سامنے آ رہا ہے،اسلام کا یہ سابق گڑھ اپنے مرکز کی طرف لوٹ رہا ہے اوراپنا جھکاؤ اسلامی ممالک کی جانب بڑھا رہا ہے،آج ترکی احیائے خلافت کی منزل کی طرف گامزن ہے اور اِس ساری جدوجہد کا سہرا نجم الدین اربکان اور اُن کے سیاسی وارث رجب طیب اردگان کو جاتا ہے ۔ٍ درحقیقت طیب اردگان ایک ایسی مقناطیسی شخصیت کے مالک ہیں جس نے ترکی کے سیاسی نظام کی سمت کوہی بدل کر رکھ دیا ہے، انہوں نے ترکی کے سیاسی کلچر کو ایک تعمیری اورنئی جہت عطا کی ہے، انہوں نے اپنے عزم ،ہمت، حوصلے، دانشمندی اور حکمت عملی کی بنا پر ترکی کو متحد، مستحکم اور عالمی برادری میں ممتاز مقام ہی نہیں دلایا بلکہ وہ ایک ہیرو اور عالم اسلام کے مسلم رہنماکے طور پر بھی ابھر کر سامنے آئے ہیں اوراُن کے اسرائیل کے خلاف دلیرانہ و جراتمندانہ موقف نے اُن کی شخصیت کو ترکی سے اٹھاکر عالمی سطح پر لاکھڑا کیاہے، قارئین محترم ! آپ کو یاد ہوگا کہ ترکی وہ واحد اسلامی ملک تھا جس کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات تھے، مگر31مئی 2010ء کو اسرائیل کی جانب سے غزہ کے مظلوم مسلمانوں کیلئے امداد لے کر جانے والے جہاز فریڈم فلوٹیلا پر حملے اور ترکی کے9 رضاکاروں سمیت 19 افراد کی شہادت کے بعد ترکی کے تعلقات اسرائیل سے کشیدہ ہوگئے تھے، ترک وزیر اعظم رجب طیب اردگان نے اسرائیلی ظلم و بربریت کو تاریخ کا ایک نیا موڑ قرار دیتے ہوئے اِسے انسانی ضمیر پر حملے سے تعبیر کیا تھا اور اسرائیل کے وحشیانہ اقدام کے خلاف سخت موقف اختیار کرتے ہوئے نہ صرف فریڈم فلوٹیلا پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کی بلکہ نہایت پرامن اور مہذب طریقہ اختیار کرتے ہوئے اسرائیلی جارحیت کو بے نقاب کرتے ہوئے اسرائیل سے اپنے سفیر کو واپس بلالیا  تھااور اسرائیلی فوج کے ساتھ ترک افواج کی ہونے والی مشترکہ مشقیں بھی منسوخ کردی تھیں،ساتھ ہی اسرائیلی طیاروں کو اپنی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت دینے سے بھی انکار کر دیا تھا،آج اُسی ترکی نے فریڈم فوٹیلا کے حوالے سے اقوام متحدہ کی 56 صفحات پر مشتمل رپورٹ شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اُسے تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے اور ترک باشندوں کی ہلاکت سمیت غزہ کے محاصرے کے معاملے کو عالمی عدالت انصاف میں اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے، اُس نے اسرائیلی سفیر کو ملک سے نکل جانے کا حکم دیتے ہوئے فوجی تعاون کے خاتمے کا اعلان کیا اوراپنی بحریہ کو الرٹ کرتے ہوئے بحیرہ روم میں اپنا فوجی گشت بھی بڑھادیا ہے،ترکی کا مطالبہ ہے کہ اسرائیل اپنے اِس سفاکانہ عمل پر ترکی سے معافی مانگے اور زرتلافی ادا کرے ،جس سے اسرائیل انکاری ہے، ترک وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو اِس واقعہ کی بڑی قیمت چکانی پڑے گی،جبکہ ترک صدر عبداللہ گل اور وزیر اعظم طیب اردگان نے اقوام متحدہ کی رپورٹ کو اپنے ملک کیلئے بے معنی قراردیتے ہیں،دوسری طرف طیب اردگان 18ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں غزہ کی ناکا بندی ختم کرانے کیلئے رائے شماری کی غرض سے ایک بل بھی پیش کرنا چاہتے ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں اپنے دورہ مصر کے دوران وہ اہل غزہ سے اظہار یکجہتی کیلئے غزہ کا دورہ بھی کریں،اگر انہیں اِس دورے کی اجازت مل گئی تو وہ پہلے غیرملکی وزیر اعظم ہونگے ،جنہیں غزہ جانے کا موقع ملے گا،اِس سارے قضیئے میں سب سے زیادہ تعجب خیز بات یہ ہے کہ وہ ترکی جو کل تک اسرائیل کادوست اورحمایتی سمجھا جاتا تھا، آج وہی ترکی اسرائیل کی مخالفت میں تمام اسلامی ممالک میں سب سے زیادہ سرگرم اور متحرک نظر آتا ہے اوراسرائیل کی وحشت و درندگی کے خلاف ڈٹا ہوا اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر للکار رہاہے،جبکہ اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے والا عالم اسلام مصلحتوں کی منافقانہ چادر اوڑھے خاموش تماشائی بنا ہوا ہے۔ یہاں یہ اَمر بھی قابل توجہ ہے کہ ترک وزیر اعظم طیب اردگان نے اسرائیل کے خلاف یہ اقدام پہلی بار نہیں کیا بلکہ اِس سے قبل بھی سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیوس میں ہونے والے ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس کے دوران ترکی کے وزیراعظم طیب اردگان اُس وقت احتجاجاً واک آئوٹ کرگئے تھے جب اسرائیل کے صدر شمون پیرز نے اپنی 25 منٹ کی تقریر میں غزہ میں ہونے والے قتل عام کو جائز قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل کو اپنے کئے پر کوئی شرمندگی نہیں اور اگر ضرورت پڑی تو مستقبل میں بھی وہ اِس طرح کے اقدام سے گریز نہیں کرے گا، اسرائیلی صدر کی تقریر کے بعد ترک وزیراعظم نے اِن کے الزامات کے جواب دینے کیلئے وقت مانگا تو منتظمین نے انکار کردیا جس پر ترک وزیراعظم اجلاس سے یہ کہتے ہوئے واک آئوٹ کرگئے کہ وہ اِس اجلاس میں آئندہ کبھی شرکت نہیں کریں گے، کیونکہ منتظمین کا رویہ جانبدارانہ ہے،اُن کے جرات مندانہ اقدام کی وجہ سے نہ صرف ترک عوام بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں نے اُن کو ایک ہیرو کے طور پر سراہا تھااور آج پھر انہیں حالیہ جرات مندانہ موقف پر عالم اسلام میںزبردست خراج تحسین پیش کیا جارہا ہے، اُن کی بھر پور تائید و حمایت کی جارہی ہے،ہوسکتا ہے کہ ترکی کی حالیہ مہم متعین اہداف حاصل نہ کرسکے مگر اِس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ترکی کی اِس مہم نے عالمی سیاست میں ایک ایسا ارتعاش پیدا کردیا ہے جس کی گمک عالمی ضمیر اورعالم اسلام کے خوابیدہ حکمرانوں کو جھنجھوڑتی رہی گی،آج اسرائیلی جارحیت کے خلاف ترکی نے جو آواز بلند کی ہے وہ محض جذبات کا اظہار نہیں ہے بلکہ غیرت ایمانی کا مظہر اور عالم اسلام کے اُن بے حمیت حکمرانوں کے منہ پر طمانچہ ہے جنھوں نے محض بھیک کے چند ٹکوں کے عیوض اپنی آزادی اور خودی کو گروی رکھدیاہے ،ترکی کے موجودہ کردار نے عرب ممالک میں امریکہ کے حامی حکمرانوں کو پریشان کردیا ہے اور عرب عوام کا اپنے حکمرانوں پر دبائو بڑھتا جا رہا ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف عملی اقدامات اٹھائیں اور اسرائیل پر دبائو ڈالیں کہ وہ غزہ کا محاصرہ ختم کرے ، دوسری طرف ترکی جیسے ماڈریٹ اور اعتدال پسند اسلامی ملک میں فلسطینیوں کی اِس قدر بڑے پیمانے پر حمایت کا ابھرنا مغرب کیلئے لمحہ فکریہ بنا ہوا ہے، اسرائیل کے اقدام کے باعث ترکی کے اسرائیل مخالف رویئے نے امریکہ کیلئے بہت سی پریشانیاں پیدا کردی ہیں جبکہ اسرائیل کی اندھا دھند حمایت نے ترکی کو امریکہ سے دور کردیا ہے،اَمر واقعہ یہ ہے کہ ایک طویل عرصے سے عالم اسلام کسی غیرت مند ولولہ انگیز قیادت کا منتظر تھا، اُسے ایک اعتدال پسند، اسلامی اقدار پر یقین رکھنے والی بالغ نظر قیادت کی ضرورت ہے اور رجب طیب اردگان میں یہ صلاحیت موجود ہے،اسی وجہ سے عالم اسلام کی قیادت کیلئے دنیا کی واحد اسلامی ایٹمی ریاست پاکستان کی طرف دیکھنے والے دنیا بھر کے مسلمان ہمارے غلام حکمرانوں کے کردار سے مایوس ہوکر ترک قیادت کی طرف دیکھ رہے ہیں اور اُنہیں اپنا مسیحا سمجھ رہے ہیں، جبکہ رجب طیب اردگان اسرائیل اور مغرب کے خلاف جرات مندانہ اقدامات کے سبب دنیا بھر کے مسلمانوں کی اُمیدوں کا مرکز بنے ہوئے ہیں،آج عالم اسلام کے مسلمان دعاگو ہیں کہ طیب اردگان کی قیادت میں ترکی اپنا کھویا ہوا تشخص حاصل کرکے اپنے روشن ماضی کی طرف لوٹے اور ایک بار پھر عالم اسلام کی قیادت کا فریضہ سرانجام دے۔
تحریر : محمد احمد ترازیmahmedtarazi@gmail.com

Share this:
Tags:
israel Mustafa Turkey اسرائیلی فوج مصطفی کمال
Abbottabad
Previous Post اسامہ بن لادن کی پناہ گاہ تک جانے پر پابندی
Next Post تیس فیصد پولیس اہلکار سیاسی جماعتوں کے ہمدرد
Wajid Durrani

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close