
بھارت: (جیو ڈیسک) بھارت کے سرکردہ سماجی کارکن انا ہزارے نے بھی کرکٹ کھلاڑی سچن تندولکر کو پارلیمان کے ایوان بالا یعنی راجیہ سبھا کی رکنیت کے لیے نامزدگی پر حکومت کی نکتہ چینی کی ہے۔انا ہزارے کا کہنا ہے کہ اگر سچن تندولکر کو عزت بخشنی تھی تو حکومت انہیں بھارت رتن جیسے بڑے اعزاز سے نوازتی، راجیہ سبھا کی رکنیت کی نامزدگی کی خبر سے انہیں تکلیف پہنچی ہے۔
ریاست مہاراشٹر کے شہر اورنگ باد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انا ہزارے نے کہا مجھے اس سے تکلیف پہنچی کہ ہم لوگ انہیں بھارت رتن دینے کی بات کہہ رہے تھے اور انہیں دی راجیہ سبھا کی رکنیت۔
انا ہزارے نے کہا اس میں مجھے تھوڑی گڑ بڑی نظر آرہی ہے۔ ان (حکومت) کا ارادہ ٹھیک نہیں ہے، اگر ان کی عزت کرنا تھی تو بھارت رتن کیوں نہیں دیا؟ راجیہ سبھا کی رکنیت کیوں دی؟
بھارتی قانون کے مطابق پارلیمان کی چند نشستیں ملک کی ان سرکردہ شخصیات کے لیے مخصوص ہیں جنہوں نے ملک کی خدمت کے لیے کارہائے نمایاں انجام دیے ہوں۔
اس فہرست میں، ادیب، فنکار، سماجی کارکنان اور کھلاڑیوں جیسی شخصیات کے نام شامل ہوتے ہیں جنہیں صدر نامزد کرتا ہے۔
