Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

ایچ ای سی ترمیمی بل ایک انتقامی فیصلہ…..

January 31, 2013 0 1 min read
HEC
HEC
HEC

کہتے ہیں تعلیم ترقی کی شاہ کلید ہے اور علم قوموں کی ترقی کی بنیاد و اساس ہوا کرتا ہے ، یہ حقیقت ہے کہ قوموں کے عروج و زوال میں تعلیم کا کردار ہمیشہ سے غیر معمولی اہمیت کا حامل رہا ہے، دنیا میں وہی قومیں اور ممالک باوقار مقام کے حامل ٹھہرے جنھوں نے اِس گوہر کمیاب کے حصول کیلئے حکمت عملی وضع کی ، لیکن اِس کے برعکس جن قوموں نے تساہل سے کام لیا اور لاپروائی برتی وہ قومیں جغرافیائی آزادی کے باوجود ذہنی غلامی سے نہ نکل سکیں،یہ قومی ترقی کے پرکھنے کا رائج الوقت پیمانہ ہے ، اِس اصول کی روشنی میں وطن عزیز کا جائزہ یہ ثابت کرتا ہے کہ ہمارے یہاں تعلیم کی اہمیت اور ضرورت کے مطابق مطلوبہ حکمت عملی کبھی وضع ہی نہیںکی جا سکی، نتیجتاً ہمارا شمار اُن قوموں میں ہونے لگا جن کا وجود ہی سوالیہ نشان ہے، سردست اِس تشویشناک صورتحال ، اسباب ومحرکات اور پس پردہ عوامل کاجائزہ ہمارا مقصود نظر نہیں، لیکن ایک بات طے ہے کہ نصف صدی سے زیادہ سفر طے کرنے کے باوجود اگر ہم تعلیمی میدان میں کوئی قابل قدر ترقی نہ کر سکے تو اِس کی سب سے بڑی وجہ ارباب اقتدار کی عدم دلچسپی اور پہلو تہی ہے، حالانکہ ایک وقت وہ بھی تھاجب تعلیمی ترقی کی وجہ سے مسلمان دنیا کی امامت کے مرتبے پر فائز تھے۔

یہ وہ دور تھا جب مغرب اپنے تاریک ترین دور سے گزر رہا تھا ، مگر قرطبہ کی جامعات دنیا بھر میں علم وفن کی روشنی پھیلا رہی تھیں ، لیکن جب تعلیم و تعلّم اور شمشیر و سناں کی جگہ طاؤس و رباب نے لے لی تو ہماری تنزلی کا دور شروع ہو گیا، تعلیمی ترقی نہ ہونے کی وجہ سے وہ جو کبھی اقوام عالم کے سردار تھے، اغیار کے غلام اور محکوم ہو گئے ، آج حال یہ ہے کہ دنیا کے بہترین تعلیمی ادارے اغیار کے پاس ہیں اور پوری دنیا سے اعلیٰ تعلیم کے حصول کیلئے لوگ اُن کی طرف رخ کرتے ہیں، دوسری طرف ہماری تعلیمی ترقی کا حال یہ ہے کہ دنیا کی بڑی جامعات کی فہرست میں دور دور تک ہماری کسی یونیورسٹی کا نام نظر نہیں آتا۔ ہمارے ملک میں تعلیم کا شعبۂ روز اوّل سے ہی عدم توجہی کا شکار رہا ہے، ہر حکومت نے تعلیمی کمیشن تشکیل دیئے ، نت نئی تعلیمی پالیسیاں بنائیں،تعلیمی فروغ کیلئے کاغذی ادارے قائم کئے، مگر ہمارا نظام تعلیم جوں کا توں ہی رہا ، جبکہ دنیا کا دستور یہ ہے کہ قومیں اپنی ترقی اور کامیابی کیلئے ادارے تعمیر کرتی ہیں ، اُن کی مسلسل پرورش کرتی ہیں ، پروان چڑھاتی ہیں اور انہیں بہتر سے بہتر بناتی رہتی ہیں، تب جاکر کہیں برسوں بعد نتائج حاصل ہوتے ہیں۔

 

Pakistan Rulers
Pakistan Rulers

وہ اِس حقیقت سے واقف ہیں کہ ادارے ہی قوموں کا اثاثہ اور میراث ہوتے ہیں جو ثمربار اور گھنے درختوں کی مانند آنے والی نسلوں کو نہ صرف سایہ فراہم کرتے ہیں بلکہ ترقی و خوشحالی کا پھل بھی مہیا کرتے ہیں ، مگر اِس کے برعکس ہم نے اپنی 65 سالہ تاریخ میں سب سے زیادہ توجہ ادارے بنانے کی بجائے انہیں کمزور کرنے اور توڑ نے پر صرف کی ، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہر شعبے میں ہم پیچھے رہ گئے ، بدقسمتی سے ہمارے حکمرانوں کا یہ شغل آج بھی جاری ہے ،اگر اتفاق سے کسی دور حکومت میں کوئی ادارہ وجود میں آ بھی گیا تو اِس کے درپے ہونا ، آنے والے حکمرانوں نے اپنا فرض منصبی سمجھا، خوش قسمتی سے سابقہ دور آمریت میں ادارہ سازی کے میدان ایک قابل تعریف کام سرزد ہوا، جو ہائر ایجوکیشن کمیشن کا قیام تھا ، لیکن موجودہ حکومت برسر اقتدار آنے کے بعد سے مسلسل اِس کوشش میں مصروف رہی کہ کسی طرح اِس ادارے کو اپنے قابو میں لایا جائے، اِس مقصد کیلئے اُس نے مختلف حربے استعمال کئے ، مگر ہر بار ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا، اب ایک بار پھر اِس ادارے کی خود مختاری کے خاتمے اور چیئرمین کے عہدے کی معیاد کم کرنے کیلئے حکومتی جماعت کے چند ارکان نے” پرائیویٹ ممبرز ہائیر ایجوکیشن کمیشن ترمیمی بل” پیش کیا ، جسے 23 جنوری کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے منظور کر لیا۔

اِس بل کا ایک پس پردہ مقصد یہ بھی ہے کہ اُن 393 ارکان پارلیمنٹ کو متوقع نااہلی سے بچایا جائے ،جن کی ڈگریوں کی تصدیق 2010 میں سپریم کورٹ کی دی گئی ہدایات کے باوجود حکومت کے عدم تعاون کی وجہ سے اب تک نہیں ہو سکی اور اِن ارکان پارلیمنٹ کی اسناد کو مشکوک یا جعلی سمجھا جا رہا ہے اور جب تک اِن ارکان پارلیمنٹ کی ڈگریوں کی تصدیق نہیں ہوجاتی اِن افراد کو اگلا الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں ملے گی ، اَمر واقعہ یہ ہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن ملک کا ایک موقر ادارہ ہے ، جس نے اعلیٰ تعلیم کے فروغ کیلئے بہت کم وقت میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں،اعلیٰ تعلیم کی پالیسی، معیار کی نگرانی، اُس پر عمل درآمد کو یقینی بنانا، اسناد کی توثیق ، نئے اعلیٰ تعلیمی اداروں کا قیام اور پہلے سے موجود اداروں میں تعلیم و تدریس کے انتظامات کی بہتری ، اِس ادارے کے فرائض میں شامل ہے، یہ کمیشن 2002 میں جنرل مشرف کے دور حکومت میں معرض وجود میں آیا، ڈاکٹر عطاالرحمن 2002 سے2008 تک اِس ادارے کے سربراہ رہے، جنھوں نے ملک میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ اور اِس کے معیار کو بہتر بنانے کیلئے قابل ستائش انقلابی اقدامات کیے، کئی ہزار اساتذہ کو ڈاکٹریٹ کیلئے دنیا کے ممتاز تعلیمی اداروں میں بھیجا ، ملک کے اندر اعلیٰ تعلیمی اداروں میں اساتذہ کیلئے اہلیت کے معیار کو بلند کیا، ملک کی جامعات میں متعدد تحقیقی منصوبے شروع کیے اور اِن مقاصد کے حصول کیلئے تعلیمی بجٹ میں حتی الامکان اضافہ کروایا۔

HEC
HEC

مگر موجودہ حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعدیہ شعبہ بری طرح نظر انداز کیا گیا،جس کے نتیجے میں ملک کی جامعات شدید مالی مسائل کا شکار ہوئیں ، بیرون ملک سرکاری وظائف پر پی ایچ ڈی کیلئے جانے والے ہزاروں افراد کے وظائف بھی بند ہو گئے، تاہم مشکلات کے باوجود ہائر ایجوکیشن کمیشن کے موجودہ سربراہ ڈاکٹر جاوید لغاری نے اپنی ذمے داریاں احسن طریقے سے ادا کیں ، چونکہ 2008کے الیکشن میں ارکان پارلیمنٹ کیلئے گریجویشن کی شرط لازمی تھی، اِس لیے انتخابات کے بعد بعض ارکان کی ڈگریوں کو عدالت میں چیلنج کیا گیا ، جن میں سے متعدد ڈگریاں جعلی نکلیں تو عدالت نے ہائر ایجوکیشن کمیشن سے تمام ارکان پارلیمنٹ کی ڈگریوں کی توثیق ضروری قرار دی،جس کے بعد سے کمیشن اور اُس کے سربراہ کیلئے آزمائشوں کا دور شروع ہو گیا،قومی روزنامے کی رپورٹ کے مطابق جب کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر جاوید لغاری نے جعلی ڈگریوں کو اصلی قرار دلوانے یا اِس کام میں زیادہ سے زیادہ تاخیر کرنے کے حکومتی مطالبے کو ماننے سے انکار کیا تو اُن پر مستعفی ہونے کیلئے دباؤ ڈالا گیا ،جب وہ جھکنے کو تیار نہیں ہوئے تو اُن کے بھائی کو یکے بعد دیگر مقدمات میں ملوث کیا گیا ، اُن کے آبائی فارم ہاؤس پر چھاپہ مار کر وہاں کام کرنے والے کسانوں کو گرفتار کیا گیا، لیکن کمیشن کے چیئرمین اِن تمام ہتھکنڈوں کے باوجود اپنے جائز موقف پر ڈٹے رہے تو 18ترمیم کے ذریعۓ ہائر ایجوکیشن کمیشن کو تحلیل کرنے کی کوشش کی گئی،مگر سپریم کورٹ کی مداخلت کے باعث یہ حربہ بھی ناکام ہو گیا،جس کے بعد حکومت نے کمیشن کے فنڈز میں چالیس فی صد کمی کر دی،جب فیکلٹی ارکان، عملے ، طلبہ اور دیگر ملازمین نے ملک گیرہڑتال کی تواُسے 20 فیصد فنڈز فراہم کر دئیے گئے۔

بعدازاں ایچ ای سی کا انتظامی اورمالی کنٹرول وزارت تعلیم کے ماتحت کرنے کی کوشش کی گئی ، مگر اِس نوٹیفکیشن کو سندھ ہائی کورٹ نے منسوخ کر دیا ، جس پر حکومت نے ایچ ای سی کو اپنے ہاتھ میں لینے کیلئے ایک اور قدم اٹھایا اور ایگزیکٹیو ڈائریکٹرکی پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وزیر اعظم نے سیکرٹری تعلیم کو ہدایت کی کہ وہ قائم مقام ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کا عہدہ سنبھال لیں ، حالانکہ اِس اسامی جس کی تقرری کمیشن کا اختیار ہے ،ایچ ای سی پہلے ہی اشتہاردے چکی تھی ، چنانچہ چیئرمین ایچ ای سی نے اِس صورتحال کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ، جس کے بعد ایچ ای سی اور حکومت کے درمیان ایک نئی جنگ چھڑ گئی جو ایک بار پھر سپریم کورٹ جا پہنچی ، عدالت عظمیٰ نے حکومت کا حکم معطل کرتے ہوئے ایچ ای سی کو ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کی تقرری کا حکم دیا ، اِس طرح ایک اور شکست حکومت کے حصے میں آئی اور وہ ایک بار پھر اِس ادارے کے سربراہ کو زیر نہ کر سکی ، چنانچہ حکومت نے کمیشن کو بے دست وپا بنانے کیلئے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے قانون میں ترمیم کا اعلان کر دیا، جس کا مقصد کمیشن کی خود مختاری کے خاتمے اور چیئرمین کے عہدے کی میعاد کو کم کرنا ہے تاکہ موجودہ سربراہ سے نجات حاصل کرکے کسی ایسے شخص کو کمیشن کا چیئرمین بنایا جا سکے جو حکومت کے ناجائز مطالبات کو پورا کرنے میں لیت و لعل سے کام نہ لے اور اُن 393 ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اور سینیٹ کواِس بل کی منظوری کے ذریعے نااہلی کی تلوار سے بچایا جا سکے۔

National Assembly
National Assembly

اَمر واقعہ یہ ہے کہ ابھی یہ بل قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے منظور کیا ہے، اگر یہ بل اگلے مراحل طے کرکے باقاعدہ قانون بن جاتا ہے تو اِس سے نہ صرف جعلی ڈگری ہولڈرز جعلسازوں کی حکمرانی کی راۂ ہموار ہوجائے گی بلکہ پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کا مستقبل تاریک اور بیرون دنیا میں ہمارے تعلیمی معیار کی رہی سہی ساکھ بھی ختم ہوکر رہ جائے گی ، تعلیمی تباہی و بربادی کایہ منظر نامہ نقش دیوار ہے، یہ کتنی عجیب بات ہے کہ ایچ ای سی کی کارکردگی سے متاثر ہو کر ترکی ، سری لنکا اور بنگلہ دیش سمیت متعدد ممالک اِس طرز کا ادارہ قائم کرنے کیلئے کوشاں ہیں، جبکہ بھارت اِس سے ایک قدم آگے سپر ایچ ای سی قائم کرنے جا رہا ہے تاکہ تعلیمی میدان میں بلاشرکت غیرے قیادت کا تاج اپنے سر سجا سکے، دوسری جانب ورلڈ اکنامک فورم کے اعداد وشمار اعلیٰ تعلیم و تربیت ، ٹیکنالوجی اورجدت کے حوالے سے پاکستان میں گزشتہ تین سال کے دوران دیگر ممالک کے مقابلے میں بہتری دکھا رہے ہیں ، جو اِس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اعلیٰ تعلیم میں اصلاحات کے فوائد حاصل ہو رہے ہیں ، مگر افسوس ہماری حکومت ایک قابل قدر ادارے کو اپنی ذاتی عناد اور انتقام کا نشانہ بناکر تباہ و برباد کرنے پر تلی ہوئی ہے، یہی وجہ ہے کہ ملک بھرکی جامعات کے وائس چانسلرز اور ماہرین تعلیم کی بڑی تعداد نے اِس مجوزہ ترمیمی بل پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

اُن ماہرین کا موقف ہے کہ ایچ ای سی کا قیام 2001 میں قائم کردہ اسٹیئرنگ کمیٹی اور ٹاسک فورس کے 18ماہ پرمحیط مشاورت سے عمل میں لایا گیا تھا ،لیکن مجوزہ ترمیمی بل میں کسی بھی اسٹیک ہولڈر سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی،نہ ہی حکومت نے ملک کی 140 یونیورسٹیوں اور ایک لاکھ سے زائد فیکلٹی سمیت کسی فرد یا ادارے سے مشورے کو اہم جانا ،چنانچہ اِس تناظر میں اِس بل کی منظوری سے اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں ، یقینا ملک بھر کے ماہرین تعلیم اور جام عات کے وائس چانسلرز کے خدشات بجا ہیں ، حکومت 393 جعلی ڈگری ہولڈر کو بچانا اور کمیشن کو اپنے کنڑول میں لا کر ایک ایسے ادارے کو عضو معطل بنانا چاہتی ہے جس کی کارکردگی کا اعتراف اندرون اور بیرون ملک بھی کیا جا رہا ہے، قارئین محترم ! ہائر ایجوکیشن کمیشن پر پے درپے حکومتی حملوں سے اُس کے عزائم واضح ہیں ،آج ایک بار پھر ایچ ای سی پر خطرات کے گہرے اور مہیب سائے منڈلا رہے ہیں ، یہ خطرات ہمہ پہلو سنگین اور علم دوست طبقات کیلئے باعث تشویش ہیں،جن سے مقابلے کیلئے مشترکہ اور منظم جدوجہد وقت کی اہم ضرورت ہے۔

Supreme Court Pakistan
Supreme Court Pakistan

لہٰذا تمام سیاسی جماعتوں،سماجی حلقوں اور سول سوسائٹی کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ وہ حکومت کی اِس تعلیم دشمن پالیسی اور فیصلے کے خلاف متحد ہو کر واضح لائحہ عمل اختیار کریں اور اِس ادارے کی آزادی و خود مختاری کو قائم رکھنے اور اپنی نسلوں کو فکری و نظریاتی بربادی سے بچانے کیلئے آگے آئیں ، ساتھ ہی ہماری سپریم کورٹ سے بھی گزارش ہے کہ وہ حکومت کے اِس تعلیم کش پالیسی بل کے خلاف ازخود نوٹس لے کر وطن عزیز کے نوجوانوں کے مستقبل کو تاریک اورجہالت کے اندھے گڑھوں میں گرنے سے بچائے۔

تحریر : محمد احمد ترازی
mahmedtarazi@gmail.com

Share this:
Tags:
Amendment Bill decline HEC Nations تنزلی قومیں
Previous Post ATIکے مرکزی صدر سید جواد الحسن کاظمی کراچی پہنچ گئے
Next Post مسلم لیگ (ق) سندھ کے جنرل سیکرٹری حلیم عادل شیخ کی زیر صدارت صوبائی عہدیداران کا ہنگامی اجلاس

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close