
ایک ایک قطرے کا دینا پڑا حساب
خون جگر و دیعت مثرگان یار تھا
اب میں ہوں اور ماتم یک شہر آرزو
توڑا جو تو نے آئینہ، تمثال دار تھا
گلیوں میں میری نعش کو کھینچے پھرو کہ میں
جاں دادئہ ہوائے سر رہگزار تھا
موجِ سرابِ دشت وفا کا نہ پوچھ حال
ہر ذرہ، مثل جوہر تیغ، آب دار تھا
کم جانتے تھے ہم بھی غمِ عشق کو، پر اب
دیکھا تو کم ہوئے یہ غمِ روزگار تھا
غالب

