
ساری باتیں بھول جانا فارہہ
تھا وہ سب کچھ اک فسانہ فارہہ
ہاں محبت ایک دھوکہ ہی تو تھی
اب کبھی دھوکہ نہ کھانا فارہہ
چھیڑ دے گر کوئی میرا تذکرہ
سن کے طنزاً مسکرانا فارہہ
میری جو نظمیں تمہارے نام ہیں
اب انہیں مت گنگنانا فارہہ
تھا فقط روحوں کے نالوں کی شکست
وہ ترنم وہ ترانہ فارہہ
بحث کیا کرنا بھلا حالات سے
ہارنا ہے ہار جانا فارہہ
پیش کش میں پھول کر لینا قبول
اب ستارے مت منگانا فارہہ
سوچتا ہوں کس قدر تاریک ہے
اب مرا باقی زمانہ فارہہ
سج کے وہ کیسا لگا ہو گا جو تھا
ایک خوابِ شاعرانہ فارہہ
یہ جو سب کچھ یاد ہے یہ شاید کچھ نہیں
روگ جی کو کیا لگانہ فارہہ
جون ایلیا
