Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 4, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

بنتِ حوا اور بازارِ حُسن

January 3, 2013January 3, 2013 0 1 min read
Bint E Hawa
Bint E Hawa
Bint E Hawa

ماں مجھے بیچ دو !دنیا میں کسی بھی ماں کے لئے ایک بیٹی کی منہ سے نکلے ہوئے یہ الفاظ یقینانا قابل برداشت ہیں اور ایسا کرنا تو رہا دور کی بات کوئی بھی ماں اپنی اُلاد کے لیے ایسا سوچ بھی نہیں سکتی۔ لیکن کیا بھوک غربت بے بسی اور لاچاری ایک بے بس ماں کو ایسا کرنے پر مجبور کر سکتی ہے ، شاید میں یہ کالم نہ لکھتا اگر میرا قریبی دوست عزیز الرحمان شاکر حاصلپور سے کال کر کے مجھے سلیم کی بے ہسی اور زرین کی بے بسی کی داستاں نہ سناتا اپنے دوست کی زبانی سارا واقعہ سننے کے بعد میں اپنے آپ کو لکھنے سے روک نہ سکا کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ میں اس تحریر کے ذریعے سلیم کی حیوانیت کا پردہ فاش کروں تا کہ سلیم جیسے انسانی کھال میں چھپے ہوئے بھیڑیوں کا اصلی چہر ہ دنیا کا سامنے بے نقاب ہو سکے۔

ضلع بہاولپور کے ایک چھوٹے سے قصبے قائم پور میں رہنا والا سلیم ایک نہائت ہی لالچی انسان تھا اسے بیٹیوں سے سخت نفر ت تھی اسکا یہ سوچنا تھا کہ بیٹیوں کی اچھی پرورش اور تعلیم پر پیسہ خرچ کرنا بالکل فضول اور نقصان ہے کیونکہ بیٹیوں کو اچھی تعلیم دینے کا فائدہ صرف ان کو ملتا ہے جہاں وہ بیاہ کر جاتی ہیں جبکہ بیٹوں کی پرورش پر پیسہ خرچ کرنا ایک اچھی انوسٹمنٹ ہے جو والدین کو ان کے بڑھاپے میں سود سمیت واپس مل جاتی ہے ایسی گھٹیا سوچ رکھنے والا صر ف سلیم ہی نہیں ہے بلکہ ایسے بے شمار لوگ ہمارے معاشرے میں موجود ہیں جو انسانیت کے ماتھے پر بدنما داغ ہیں۔

سلیم کی جب شادی ہوئی تو اس نے اپنی بیوی زرین کو پہلے ہی سے آگاہ کردیا کہ اسے بیٹیوں سے سخت نفرت ہے اس لئے اسے بیٹا ہی چاہیے لیکن شاید وہ بد بخت یہ نہیں جانتا تھا کہ بیٹا یا بیٹی کا پیدا ہونا انسان کے ہاتھ میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور اُس کی مرضی کے بغیر کچھ بھی نہیںہو سکتا ہے پھر ایسے میں کسی انسان کو قصور وار ٹھہرانا سرا سر جہالت اور کفر ہے۔ سلیم بھی ایسے جاہلوں میں سے ایک تھا کیونکہ جب اللہ تعالیٰ نے سلیم کے گھر اپنی رحمت بھیجی یعنی اس کے گھر بیٹی پیدا ہوئی تو اس نے پورا گھر سر پر اُٹھا لیا بیوی پر تشدد کیا اور نفر ت کی انتہا دیکھئے کہ اس بد بخت انسان نے اپنی پہلی اُولاد اپنی بیٹی کو دیکھنا بھی گوراہ نہ کیا۔ تقریباً تین چار ماہ بعد گھر کے بڑے بزرگوں اور دوستوں کے سمجھانے پر اس کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور بڑی مشکل سے اس نے اپنی بیٹی کو اپنایا اور وہ بھی اس سوچ کے ساتھ کے شاید اگلی بار بیٹا پیدا ہو جائے۔

لیکن خدا کو کچھ اور ہی منظور تھا کیونکہ اس بار بھی اس کی خواہش کے برعکس اس کے گھر ایک نہیں بلکہ جڑوا بیٹیاں پیدا ہو ئیں لیکن اس بار جو سلیم نے کیا اس نے حیوانیت کو بھی شرمندہ کر دیا پہلے تو اس نے اپنی بیوی پر اتنا تشدد کیا کہ وہ بے ہوش ہو گئی لیکن اس کے غصے کی آگ تب بھی ٹھنڈی نہ ہوئی تو اس حیوان صفت ظالم انسان نے نو مولود بے گناہ بچیوں کے منہ پر تماچے مارنا شروع کر دئیے۔ معزز قارئین یہ الفاظ لکھتے ہوئے بھی میرے ہاتھ کانپ رہے ہیں لیکن جن کے ساتھ اور جن کے سامنے یہ سارا وقعہ پیش آیا ہو گا ان پر کیا بیتی ہو گی شاید میں وہ الفاظوں میں بیان نہیں کر سکتا۔ اس حیوان کی اس کی اس حرکت کی وجہ سے پورے محلے میں کہرام برپا ہو گیا اور ہر کوئی اسے ایسا کرنے پر لعنتیں دے رہا تھا لیکن یہ کمینہ اپنی درندگی سے پھر بھی بعض نہ آیا اور اس نے غصے میں بہک کر ا پنی بیوی کو طلاق دے دی جس کا قصور صر ف یہ تھا کہ اس نے تین بیٹٹیوں کو پیدا کیوں کیا۔

طلاق دینے کے بعد اس خبیث نے زرین کو اسی وقت تینوں بیٹیوں کے ساتھ اس کے گھر سے نکل جانے کو کہا اور دھمکی دی کہ اگر ابھی ابھی وہ اس کے گھر سے نہ گئی تو وہ اس کو بیٹٹیوں سمیت زندہ جلا دے گا۔ زرین بچاری تو ابھی اس قابل بھی نہ تھی کہ سہارے کے بغیر بستر سے بھی اُٹھ سکے اور پھر ساتھ تین تین معصوم بچیاں ایسی حالت میں وہ کہاں جاتی او رکیسے جاتی خیرچند نیک دل محلے داروں نے زرین اور اسکی بیٹٹیوں پر ترس کھایا اور ان کو سلیم کے ظلم سے محفوظ رکھنے کے لئے اپنے گھر لے گئے۔کچھ عرصے کے بعد جب زرین کی حالت کافی بہتر ہو گئی تو زرین نے ان محلے داروں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے مصیبت میں اسکا ساتھ دیا اور مدد کی تھی ۔زرین وہاں سے اپنے ایک چچازاد بھائی کے گھر پہنچی اور اسے ساری صورتحال بتائی جو کچھ اس کے ساتھ ہوا تھا لیکن بھائی نے بھی اُسے دلاسہ دینے کے بجائے زرین کو ہی بُرا بھلا کہنا شروع کر دیا۔

Divorced Women
Divorced Women

زرین کے بھائی او راس کی بھابھی کا رویہ اس قابل نہ تھا کہ زرین کچھ عرصے کے یہاں پر رہ جاتی لہذا زرین نے اپنے بھائی کا گھر بھی چھوڑ دیا اب بے یارومدمدگار بچاری زرین جاتی تو کہاں جاتی کوئی بھی تو سہارا نہیں بچا تھا کیونکہ زرین کے ماں باپ تو پہلے ہی اس دنیافانی سے کوچ کر چکے تھے ایک بھائی کا سہارہ تھا لیکن اس نے بھی آنکھیں پھیر لیں۔ یہ ایک ماں کے لئے سب سے بڑا امتحان تھا کیونکہ زرین بالکل خالی ہاتھ تھی اور یہ غم اسے اندر اند ر اسے کاٹ رہا تھا کہ وہ تین تین بچوں کی پرورش کیسے کرے گی اور بچے بھی اتنے چھوٹے تھے کہ انہیںکہیںچھوڑ کر وہ کوئی کام بھی نہیںکرسکتی تھی ۔ اب زرین کے پاس بس ایک ہی راستہ بچاتھا جس سے وہ اپنے بچوں کا پیٹ پال سکتی تھی اور وہ راستہ زرین کو بُرائی کی ایسی دلدل میں لے گیا جہاں سے وہ پھر کبھی واپس نہ آ سکی۔

زرین اس بازار حُسن میںجا پہنچی تھی جہاں ہر روز وہ خود کو بیچ کر اپنی اولاد پالتی رہی۔ اب اسی بازار میں زرین کو پندرہ سال ہو چکے تھے لیکن زرین کی مصیبتیں ختم ہونے کو نہ تھیں اب زرین کی جوانی بھی بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھ چکی تھی اور اسکی جوانی ڈھلنے کیساتھ ساتھ اسکی آمدن میں بھی کمی آنا شروع ہوگی تھی لیکن اب اخراجات پہلے سے کہیں زیادہ ہو چکے تھے کیونکہ اب اسکی دو جڑوا بیٹیاں چودہ چودہ سال اور بڑی بیٹی سترہ سال کی ہو گئی تھی لیکن اب زرین کے لئے آہستہ آہستہ اس بازار حُسن کے دروازے بھی بند ہونا شروع ہو گئے تھے اور حالات پھر فاقوں پر آگئے زرین کی بڑی بیٹی اب کافی سیانی ہو گئی تھی وہ اپنی ماں کی پریشانی سمجھ سکتی تھی اس لئے اسے دلاسے دیتی کہ آپ فکر نہ کریں سب ٹھیک ہو جائیگا اور ساتھ میں اپنی چھوٹی بہنوں کو بھی سمجھاتی رہتی ۔زرین کی بڑی بیٹی اپنی ماں کے بارے میں سب کچھ جانتی تھی کہ وہ کیا کرتی ہے کیونکہ یہ اکشر دیکھتی تھی کہ ہر روز شام سات آٹھ بجے اسکی ماں تیار ہوکر گھرکے دروازے پر بیٹھ جایا کرتی تھی پھر کوئی نہ کوئی اسے پیسے دیتا اور اپنے ساتھ لے جاتا لیکن اب وہ دیکھتی تھی کہ کئی کئی گھنٹے تک اس کی ماں سج دھج کر بیٹھی رہتی تھی لیکن کوئی بھی اسے ساتھ لے کر نہیں جاتا تھا۔ جبکہ اس کی ماں سے جوان اور خوبصورت عورتوں کو لوگ اپنے ساتھ بڑی جلدی لے جاتے تھے۔

پھر ایک دن جیسے ہی زرین روز کی طرح اپنے دروازے پر آکر بیٹھی تھوڑی ہی دیر بعد اسکی بغل میں ایک اور لڑکی بھی آکر بیٹھ گئی جب زرین نے اس لڑکی کو غور سے دیکھا تو وہ کوئی اور نہیں بلکہ اسکی بڑی بیٹی تھی جو اسی طرح سج دھج کر آئی ہوئی تھی جیسے جوانی میں وہ خود خوبصور ت ہوا کرتی تھی زرین نے اپنی بیٹی کو دیکھ کر غصے سے کہاتم یہاں کیوں آئی ہو اور یہ میک اپ کیوں کیا ہے ، زرین کی بیٹی کی آنکھوں میںآنسوں تھے اور ڈرتے ڈرتے ماں سے بولی !اماں میں سب جانتی ہوں آپ کیا کرتی ہیں میں آپ کو کئی دنوں سے دیکھ رہی ہوں کہ آپ یہاں پر کئی کئی گھنٹے بیٹھی رہتی ہیں آپ کو کوئی بھی اپنے ساتھ نہیں لے جاتا لیکن جب آپ جوان اور خوبصورت تھیں تو آپ کو یہ لوگ بہت جلدی لے جاتے تھے۔

Mother Importance
Mother Importance

اماں آپ نے ہمارے لئے بہت کچھ کیا ہے آپ خود تو بھوکی رہتی ہیں لیکن ہمارے لئے جیسے بھی ہو ہمیں بھوکا نہیں سونے دیا لیکن میں جانتی ہوں کہ اب دن بدن ہمارے حالات مزید خراب ہونگے اور پھر میری چھوٹی بہنیں بھی تو بڑی ہورہی ہیں اس لئے ماں اب یہ سارا بوجھ آپ اکیلی نہیں اُٹھائیں گی میں آپ کا ساتھ دونگی میں میک اپ کر کے اس لئے آئی ہوں کہ اگر آج یہ لوگ آپ کو نہیں خرید رہے ہیں تو آج آپ اپنی جگہ پر ماں مجھے بیچ دو۔ میں آپ کو اس طرح دکھی اور اپنی بہنوں بھوک سے مرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی۔ بیٹی کے منہ سے یہ باتیں سن کر زرین نے زور زور سے رونا شروع کردیا اور اپنی بیٹی سے کہا تم نے آج مجھے جیتے جی مار ڈالا مجھے جتنا دکھ تہماری یہ بات سن کر آج پہنچا ہے اتنا دکھ اس وقت بھی نہیںہوا تھا جب تمہارے باپ نے مجھے طلاق دی تھی۔بیٹی آج تو نے یہ باتیں کرکے میری ساری محنت رائیگاں کر دی۔ کیا میںنے یہی دن دیکھنے کے لئے اتنی تکلیفیں اٹھائی تھیں اور اگر آج میں نے تمیںاس راستے پر چلنے دیا تو پھر تمہاری ماں کی ہار اور تمہارے اس باپ کی جیت ہوگی جس نے مجھے صر ف اس لیے طلاق دی تھی کہ میں نے بیٹیاں کیوں پیدا کی ہیں اور اگر تم اس راستے پرچلتی ہو تو پھر یاد رکھو کہ کبھی کوئی بھی ماں بغیرباپ کہ بیٹیوں کی پرورش نہیںکرے گی۔ تمہار ا اس راستے پر چلنا نہ صر ف میر ی ہار نہیں بلکہ ایک ماں اور ایک عورت کی ہارہے۔ زرین کی باتیں سن کر بیٹی ماں کے سینے سے لپٹ کر رونے لگتی ہے اور ماں کا آنچل تھامے گھر کے اندر چلی جاتی ہے۔

آج تو زرین نے اپنی سترہ سال کی جوان بیٹی کو بازارِ حُسن میں بکنے سے بچالیا لیکن کل کیا ہوگا یہ ایک سوالیہ نشان ہے لیکن میرا ضمیر مجھے ملامت کرتا ہے اور مجھ سے یہ سوال کرتا ہے کہ کیا بازار حسن میں بکنے والی ہر عورت اپنی مرضی اور خوشی سے اپنے آپ کو بیچتی ہے ، نہیں ایسا بالکل نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ عورت جو اگر ماں ہے تو اس کے قدموں تلے جنت ہے بیٹی ہے تو باعث رحمت ہے بہن ہے تو عزت کی علامت ہے اور اگر بیوی ہے تو نسلوں کی محافظ ہے اتنے عظیم رتبوں کی مالک حوا کی بیٹی کیسے بازارِ حُسن کی زینت بن جاتی ہے۔ اگر حوا کی بیٹی گھر کی عزت سے بازار حُسن کی زینت بنتی ہے تو اس کے ذمہ دار ہم اور ہمارا معاشرہ ہے کیونکہ ہم ہی میں سلیم جیسے بھیڑئیے چھپے ہوئے ہیں جو عورت کو پاؤں کی جوتی سمجھتے ہیں اور بیٹیوں باعث زحمت اور سلیم جیسے ہی بے حس او ربے ضمیر مردوں کی ڈسی ہوئی زرین جیسی عورتیں مجبور ہو کر اس بازار میں بکنے پر مجبور ہو جاتی ہیںاور باقی کی رہی سہی کسرہمارے معاشرے کی پید اکردہ بہیودہ رسومات نے پوری کردی ہے۔

جیسا کہ ہمارے معاشرے میں تیزی سے پھلیتی ہوئی جہیز کی لعنت ہے اور بیٹوں کے پیدا ہونے سے نفرت کرنیوالے لوگوں کی یہ بھی ایک اہم وجہ ہے اور اسی لعنت کی وجہ سے ہی آج بیٹی کو رحمت نہیں بلکہ زحمت سمجھا جاتا ہے۔ انسانی کھال میں چھپے ہوئے آج بھی بے شمار سلیم جیسے بھیڑئے ہمارے معاشرے میں موجود ہیں جو صر ف بھاری جہیز کے عوض شادیاں کرتے ہیںاورشادی کے بعد صرف بیٹے کی ہی پیدائش چاہتے ہیں کیونکہ ایسے لوگ شادی نہیں صرف بزنس کرتے ہیں اور یہ ایک نہیں بلکہ بے شمار شادیاں کرتے ہیں ایسے بے ضمیر لوگوں سے بچنے کے لیے ہر والدین کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ بیٹیوں کو بوجھ نہ سمجھیں۔

جسکو سر سے اتارنے کے لئے جلد بازی میں اپنی بیٹیوں کو بیاہ دیں اپنی بیٹیوں کی شادیاں کرتے ہوئے اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ اگرکوئی ان سے بھاری جہیز لینے کا مطالبہ کرے اور صرف بیٹے پیدا کرنے کی خواہش کا بھی اظہار کرے تو ایسے لوگوں سے اپنی بیٹیوں کی شادیاں مت کریں کیونکہ ایسے لوگ شادی نہیں بلکہ بیوپار کرتے ہیں۔ بیٹیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیںاس لئے بیٹی بیاہنے والے اور بیاہ کرلے جانے والے دونوں کو ایک دوسرے کا خیال رکھنا چاہیے۔ جہیز کے اس بڑھتے ہوئے فیشن نمالعنت کو اگر ختم نہیںکیا گیا اور اس کی کوئی حد مقرر نہ کی گئی تو پھریاد رکھیںکل کو اور بیٹی ازرین جیسی ماں سے یہ کہنے پر مجبور نہ جائے ! اماں مجھ بیچ دو۔

تحریر : کفایت حسین

Kifayat Hussain
Kifayat Hussain
Share this:
Tags:
daughter's Investment mother Poverty بیٹیوں تعلیم غربت ماں
Previous Post مدارس دینیہ تشکیل معاشرہ میں بہترین کردار ادا کر رہے ہیں :چوہدری صفدر حسین کالس
Next Post شیشہ و چہرہ
Tahir ul Qadri

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close