Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

بچوں کی پرتشدد جسمانی مشقت کیوں اور کیسے؟

March 11, 2012March 11, 2012 0 1 min read
child abuse
child abuse
child abuse

اگر بچوں کے مسائل کے حل پر کوئی اختلاف نہ ہے تو پھر تمام سیاسی جماعتیں ، سماجی تنظیمیں اور حکومتی و اپوزیشنی کارپرداز اس اہم ترین ایشو پر اکٹھے جدوجہد کرتے کیوں نظر نہیں آتے؟ دراصل واقعہ یہ ہے کہ ظالم جاگیردار، بد کردار وڈیرے، لٹیرے سرمایہ دار اور سود خورصنعت کار ہی تو وہ مکروہ چہرے ہیں جو ان بچوں کو بزور (زبردستی) پر تشدد مشقت پر لگائے ہوئے ہیں۔ وہی بات ہوئی نہ کہ ایک بڑے جاگیردار کی راجھدانی کے قریب سکول کھولنے کے لئے سرکاری رقوم کی منظوری آگئی تو کہنے لگا کہ پھر ” ہمارے حُقوں کی چلمیں کون بھرے گا اور مجھاں نو ں پٹھے کون پائو گا ” (بھینسوں کو چارہ کون ڈالے گا) اور اگر یہ غریب طبقہ کے بچے بھی پڑھ لکھ گئے تو ہماری نوکری کون کریگا۔ اسی طورسے تو ہمارا ٹھاٹھ باٹھ چل رہا ہے۔ اس لئے وہ سکول کبھی بھی جاگیردار کی ” ریاست ” کے قریب نہ بن سکا۔ بین الاقوامی رپورٹوں کے مطابق ملک کی 50فیصد سے زائد آبادی حالات کے رحم و کرم پر اور چل چلائو کے منصوبے کے سپر دہے۔ روزانہ ہر ساتواں بچہ جنسی تشدد کا شکار ہورہا ہے ہر چوتھے گھر میں ایک بچہ بطور نوکر کام کررہا ہے۔

 

یہ جسمانی تشدد ہی ہے چاہے وہ سکولوں میں ہو یا گھروں میں بچے باغی ہوکر گھروں سے نکل پڑتے ہیں اور پھر سڑکوں ، سٹیشنوں ، لاری اڈوں اور سینمائوں پر بھیک مانگتے نظر آتے ہیں۔ صرف پاکستان کی جیلوں میں مقیدتقریباََ2375سے زائد بچے نا کردہ گناہوں کی سزا بھگت رہے ہیں۔ انہیں سرمایہ پرستوں نے خود اسلحہ دے کر اپنے مفاد میں استعمال کر ڈالا تھا اور وہ اب بے یار و مددگاراور لاوارث جیلوں میں پڑے گل سڑ رہے ہیں۔خوامخو ا ہ ظلم کا شکار ہونے والے یہی بچے جیلوں سے باہر نکلتے ہی کوئی ایسے ماہر ڈکیت بنیں گے جو عرصہ تک پکڑائی ہی نہ دیں گے کہ بلا آخر اسے ہماری ”بہادر پولیس ”مقابلہ دکھا کر پار (قتل) کر ڈالے گی اور اس خون ناحق پر انعام کی مستحق بھی ٹھہرے گی۔ ”یہی تو ہیں وہ لوگ جو خون مزدور شرابوں میں ملادیتے ہیں” دراصل حقوق اطفال نام کی کوئی چیز سیاسی جماعتوں کے منشور میں موجود تک نہ ہے۔ حالانکہ 14-15سال سے کم عمر بچوں کی تعداد آبادی کا چوتھا حصہ ہے۔ چائلڈ لیبر کے محاذ پر سیاسی ، سماجی تنظیموں ، این جی اوز، کاکام صرف اور صرف چندے بٹورنا اور بیرونی ممالک سے دی گئی امدادوں کو ہڑپ کرناہی رہ گیا ہے۔

 
وگرنہ کیا ملوں میں کم عمر بچے کام کرتے سرکاری درباری لوگوں کو نظر نہیں آتے؟کیا وہ بچے وہاں مزدوری کرنے اُڑ کرجاتے ہیں؟ یا زیر زمین راستوں کے ذریعے ملوں میں داخل ہوتے ہیں؟ یہ سب کچھ دنیا میں اور بالخصوص اسلامی ممالک میں قابض حکمرانوں کی ناکوں کے نیچے ہی ہورہا ہے۔ مگر چونکہ صنعت کار ، وڈیرے ، جاگیردار اور سرمایہ دار طبقہ کا تعلق ”حکومتی اشرافیہ طبقے ” سے ہی ہوتاہے اس لئے کوئی ان کے خلاف کاروائی کس طرح کرسکتا ہے۔ کہ 95فیصد اس طبقہ کے نام نہاد افراد توڈکٹیٹروں ،آمروں، فوجی و سول بیوروکریسی کے تلوے چاٹنے کے کاروبار میں ایکسپرٹ ہونے کی بنیاد پر حکومت کے چرنوں میں پناہ گیر ہوجاتے ہیں، مقتدر اور وی آئی پی ٹھہرتے ہیں اور اپنی من مانیوں کا جواز پاتے ہیں۔غریب پسماندہ اور ترقی پذیرملکوں میں چائلڈ لیبر کی بیماری عروج پر ہے اور لا علاج مرض کی صورت اختیار کرچکی ہے۔ اگر دوسرے الفاظ میں کہا جائے تو یہ کینسر کا روپ دھار چکی ہے۔ ہمارے ہاں تو صرف دوسری صنعتوں ہی میں نہیںبلکہ اینٹیں بنانے والے بھٹوں میں بھی بچے مشقت پر مجبور ہیں۔ جس کی بنیادی وجہ غربت ہی ہے۔ جس کے باعث سارا خاندان (خواتین مرد اور بچے) بھٹہ مالکان کے ہاں ایک طرح کا گروی رکھا جا چکا ہوتا ہے۔

 
اس کو ایڈوانس ادائیگی کے ذریعے جال میں پھانس لیا ہوتا ہے۔ چونکہ ہر سرمائے کے پیچھے ایک دھاندلی ہوتی ہے اس لئے سود خور ظالم سرمایہ دار جو کہ بھٹہ مالکان کی صورت میں موجود ہیںنے غریب پر قرضہ ہی اتنا بڑھا لیا ہوتا ہے کہ اس کو ملنے والی محدود اجرت اسے اتارنے کے قابل ہی نہیں رہتی۔ یہی چیز پورے کے پورے کنبوں کو بھٹوں پر مزدوری کیے جاتے رہنے پر مجبور کر ڈالتی ہے۔ اگر وہ کسی طرح سے بھاگ بھی جائیں تو چند ٹکوں کے عوض متعلقہ تھانہ کا عملہ جو کہ ہمہ وقت بکنے کو تیار بیٹھا ہوتا ہے۔ وہ سرمایہ داروں ہی کی امداد کرتا ہے جو جھوٹے فرضی قرضہ کے کاغذات پیش کرکے مقدمہ اندراج کرواکر متعلقہ مزدور کی چھترول کرواڈالتا ہے۔ یہی امر باقی مزدوروں کیلئے ”مشعل راہ ” بن جاتا ہے۔ تو پھرآئندہ کوئی ان بردہ فروشوں کے قبضہ سے بھاگنے کی کوشش نہیں کرتا۔ کہ سابقہ ساتھی کا” عالیشان حشر” دیکھ چکے ہوتے ہیں۔

 

اینٹوں سے بننے والی یہ عالی شان عمارتیں ، محلات نما کوٹھیاں اور پلازے انہیں بے کس و مجبور اور مفلس بچے مزدوروں کے خون پسینہ سے ہی تعمیر ہوئے ہیں۔بقول خود کیا ملیں اسی لئے ریشم کے تار بنتی ہیں ۔ کہ مزدور کے ننگے بچے اس کی تار تار کو ترسیں ” کہ وہ ننگے دھڑنگے بچے غلیظ گلیوں میں بھاگے پھرتے ہم سبھی روزانہ دیکھتے ہیں صرف مملکت خداد دادِ پاکستان میں اس وقت 38لاکھ سے زائد بچے جبری مشقت یا مزدور بچے کا کردار ادا کررہے ہیں۔

 
پاکستان میں 8سے 13سال کے 78فیصد بچے نابالغ بچہ مزدوری (فورسڈ چائلڈ لیبر فورس ) کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔آمرانہ ادوار کی طوالتوں کی وجہ سے جیسے جیسے غربت بڑھتی جارہی ہے بچہ مزدوری کا کریہہ عمل بھی شیطان کی آنت کی طرح روز بروز بڑھتا جارہا ہے اور یہ بچوں کی جبری مشقت کی لعنت آمریت (فوجی ہو یا سول ) اور بادشاہت کے زیر نگرانی غیر جمہوری اقتدار کے حامل اسلامی ممالک ہی میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں پھیلتی جارہی ہے۔ بین الاقوامی تنظیموں حتیٰ کہ اقوام متحدہ کی تنظیم آئی ایل او (انٹر نیشنل لیبر آرگنائزیشن) کے بھی مطابق دنیا بھر میں آٹھ سے پندرہ سال کی عمر کے تقریباً 15کروڑ بچے یہ نا پسندیدہ فعل کررہے ہیں۔ ایسے بچے جو کہ ہوٹلوں ، ملوں ، کھیتوں ، کارخانوں ، بھٹوں اور گھروں میں جسمانی مشقت کررہے ہیں وہ تعلیمی سہولیات سے مبرا رہ جاتے ہیں اور مستقبل میں کسی دوسرے کام کے نہیں رہتے۔ نہ ہی سماج میں ترقی کے مواقع پاسکتے ہیں اس طرح سے ان کی صحیح نشوونمااور تعلیم و تربیت رک جاتی ہے اور بچپن و مستقبل سب کچھ تباہ ہو کر رہ جاتا ہے۔ جہاں پر بچوںپر محنت و مشقت کیلئے کئی کئی تنظیمیں کام کررہی ہیں وہاں بھی لاکھوں کروڑوں بچے یہ کام کررہے ہیں۔ جس کی مثال ہمارے ہمسایہ ملک ہندوستان سے لی جاسکتی ہے جہاں پر ڈیڑھ کروڑ سے زائد بچے یہ ناپسندیدہ عمل با امر مجبوری کررہے ہیں۔ پاکستان میں مزدور بچوں میں بچوں کی تعداد بچیوں کی تعداد کی نسبت دوگنا ہے۔ جن سے 8سے 18گھنٹے مشقت لی جارہی ہے اور تعلیم جیسی سہولت سے تو مکمل محروم ہیں۔ دنیا میں غلام بچوں کی تعداد بھی بڑھتے بڑھتے 80لاکھ سے بھی تجاوز کرچکی ہے۔ بچوں کی سمگلنگ کا کاروبار بھی عروج پر ہے۔ کہ سالانہ پسماندہ اور ترقی پذیر ممالک سے 15لاکھ سے زائد بچے مختلف مزدوریوں ، اونٹ ریس اور جنسی سرگرمیوں کیلئے سمگل کیے جاتے ہیں۔ جہاں وہ اس آخری عمل کیلئے تو بازاروں میں دکانوں پر سجا کر ”برائے فروخت ”(جتنے گھنٹوں کیلئے چاہو) رکھے جاتے ہیں۔

 
ہماری پاکستان کی زمین پر ہی چند سالوں سے بچوں کے قتل اور جنسی وارداتوں میں 75فیصد سے زائد اضافہ ہوچکا ہے اور یہیں پر 2لاکھ سے زائد بچے جسم فروشی پر مجبور ہوچکے ہیں۔ اور یہ ملک بھی جنسی و دیگر تشدد کے ضمن میں دنیا میں چوتھے نمبر پر آگیا ہے بھارت میں تو اکتوبر 2006ء میں بچوں سے مزدروی نہ لینے کے خلاف قانون پاس ہوچکا ہے 14سال سے کم عمر بچوں سے مزدوری کروانے پر 2سال قید اور 20ہزار روپے جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔ مگر ہمارے حکومتی کار پردازوں کے کانوں پر (کہ وہ خود ملوث ہیں ) آج تک جوں تک نہیں رینگی اور اپنے پائوں پر کلہاڑا کون مارتا ہے ؟ اگر ہمارا ہی برسر اقتدار ٹولہ ایسے قوانین پاس کرنے لگ جائے تو ان کی ملوں ، بھٹوں اور محلات میں کام کون کرے گا اور چونکہ ایسے بچہ مزدور نصف سے بھی کم تنخواہ پر دستیاب ہوجاتے ہیں۔ اس لئے ایسی ”سونے کی چڑیا” کو کون اڑنے دے گا۔ وگرنہ ان مکروہ زرپرستوں کا سالانہ منافع تقریباً نصف رہ جائے گا اور ایسا گھاٹے کا سودا کم از کم ہماری نام نہاد اسمبلیوں کے کرپٹ لالچی اور سرمایہ پرست ممبران کیسے برداشت کرسکتے ہیں کہ بقول میرے ”کہ سب ٹھاٹھ پڑا رہ جائے گا ۔جب پاس ہوجائے گا کوئی بھی بل ایسا۔ ”کے مصداق ایسا نا ممکنات میں سے ہے ویسے بھی دنیا بھر میں 80لاکھ بچے بیگار کیمپوں میں کام کررہے ہیں دنیا میں ہر آٹھواں بچہ نا مناسب انسانی ماحول اور خطرناک صورتحال میں کام کررہا ہے حتیٰ کہ 5سے 15سال کی عمر کے بھی 27کروڑ سے زائد بچے مزدوری کررہے ہیں جن میں19کروڑ بچے اور 8کروڑ بچیاں ہیں۔ براعظم ایشیا میں تو مزدور بچوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ 63فیصد جبری مشقت کے شکار بچے اسی براعظم سے تعلق رکھتے ہیں ۔ ترقی پذیر ممالک میں 28لاکھ بچے فورسڈ چائلڈ لیبر فورس کا حصہ بنے ہوئے ہیں ہمارے ملک کی کل چائلڈ لیبر میں 82فیصد بچے اور 18فیصد بچیاں ہیں۔

 
بچہ مزدوروں کا 8تا9فیصد کام کے دوران ہی شدید بیماری کے باوجود مسلسل کام کرتے رہنے اور دیگر حالات کی وجہ سے زخمی ہوجاتاہے پھر ان کا کوئی مالک علاج تک نہیں کرواتا جو معذور ہو کر رہ جاتے ہیںوہ ماں باپ پر بوجھ بن کر رہ جاتے ہیں اور معا شرہ میں ان کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہوتا۔ 25فیصد بچے اس عمل سے لازماً گزرتے ہیں صرف جنسی تشدد کا شکار ہونے والوں کی تعداد بھی 8فیصد سے کم نہ ہے۔ صرف پاکستان میںگذشتہ سال میں 1658ایسے دلسوز واقعات ہوئے ہیں۔جبکہ گذشتہ 5 سالوں کے تناسب میں 1331بچوں کے ساتھ یہ عمل ہوا تھا۔یہ تفصیل ان واقعات کے علاوہ ہے جو پولیس کے ساتھ ”مک مکا” اور بچے کے لواحقین ، ماں باپ سے رقوم کی ”لین دین” کے بعد کمپرومائز کرکے عدالتوں میں پیش ہی نہیں کئے جاتے۔ کئی ایسے غیرت مند یا بے غیرت کہہ لیں ایسے لواحقین بھی ہیں جو کہ بچیوں سے زنابالجبر کے واقعات کو چھپا لیتے ہیں تاکہ ساری زندگی بچی کے ”منہ پر کالک” نہ لگ جائے۔ اسلامی قوانین لاکھ سخت سہی مگر اس جدید دور میں بھی ایسے واقعات کا توڑ ان کے عملاً نفاذ ہی سے ممکن ہے۔ بچے جو فیکٹریوں، گھروں، ورکشاپوں ، ہوٹلوں ، بھٹوں اور تعمیراتی یونٹس میں کام کرتے ہیں انتہائی تشدد کا شکار ہوتے ہیں۔ جب تک پاک وطن کے نعرہ باز سیاستدانوںمقتدر فوجی و جمہوری آمروں اور دکھاوے کے جعلی اپوزیشنی لیڈروں زرداریوں،شریفیوں،نام نہاد کٹھ ملاوئںبڑھکیں لگانے والے خانوں،فرقہ پرست و برادری پرست تنظیموں کے کار پردازوں کا یہی وطیرہ قائم ہے اور سیاست مال بنانے اور حکومتی خزانے لوٹنے کا ذریعہ بنی ہوئی ہے بچوں پر جنسی تشدد اور ظلم بڑھتا ہی رہے گا کاش اللہ کا کوئی بندہ کھڑا ہوکر ان سارے جعلی کرداروں کو ننگا کر ڈالے اور عوام “اللہ اکبر تحریک” کوگلے کا ہار بنا کر مقتدر کر ڈالیں تووہ لوٹ کھسوٹ کا نظام تہہ و بالا کرکے ملک کو صحیح معنوں میں اسلامی جمہوریہ پاکستان بنا ڈالے گی۔

 
جہاں ظلم و ناانصافی اور بچوں پر تشدد ختم ہوکر بندوں پر بندوں کی خدائی کا نظام بندوں پر خدا کی حکومت میں منتقل ہوجائے گا ۔ جہاں غریبوں کو بنیادی سہولیات غذا ، لباس ، رہائش انصاف ،تعلیم ، علاج ہر صورت مفت مہیاہو گا۔بے روزگاروں کو عالمِ اسلام کے تعاون سے وظیفہ ملے گا اور کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں 1/5 اور ہمہ قسم تیل و سی این جی کی قیمتیں 1/3 بذریعہ سبسڈی ہو جائیں گی تمام مزدور و ملازمین کی تنخواہ ایک تولہ سونا کی قیمت کے برابر ہو گی۔تحریر : ڈاکٹر میاں احسان باری

 

 

Share this:
Tags:
child abuse kidnap pakistan بچوں
indian cricket
Previous Post ایشیاکپ اعزازکے دفاع کیلئے بھارتی کرکٹ ٹیم بنگلہ دیش روانہ
Next Post آئی سی سی پاکستان میں کرکٹ کی بحالی کی کوششیں کررہی ہے،اشرف
zaka ashraf

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close