
تجھ سے بچھڑ کے تنہا نہ چلتے پر کیا کریں
دل نے قبول ہی نہ کیا ہمسفر کوئی
ساحل پہ ساری عمر بھی بیٹھے رہو تو کیا
کب آشنا ہوئی ہے کسی کی لہر کوئی
فرصت نہیں ہے جیب و گریباں سے ہاتھ کو
کیا تازہ واردات میں اب پیٹے سر کوئی
اس دور کی ہیلو سے کوئی فائدہ نہیں
کیا دستکوں سے ہوتا ہے آباد گھر کوئی
کر دیجیے غرق ساغر مے کائنات کو
کیا فکرِ بینوائی شام و سحر کوئی
شاہد رضوی
