Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

جراتوں کی داستان

October 29, 2011 0 1 min read
Tariq butt
Tariq butt
Tariq butt

تیئس اکتوبر دو ہزار گیارہ پاکستانی تاریخ میں ایک ایسے دن کے حوالے سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا جس دن پا کستان کی خاتونِ اول بیگم نصرت بھٹو اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملیں۔ یہ اعزاز کیا کم ہے کہ وہ پاکستان کے پہلے منتخب وزیرِ اعظم ذولفقار علی بھٹو شہید کی چہیتی بیوی تھیں اور دنیائے اسلام کی پہلی منتخب خاتون وزیرِ اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی والدہ تھیں۔ ان کے حصے میں جہاں اقتدار، شہر ت اور عظمت آئی وہاں ان کے حصے میں غموں کے وہ پہاڑ بھی آئے جسے اٹھا نا معمولی دل گردے کے انسانوں کا کام نہیں ہو تا لیکن اس نے ان سارے غموں کو جس پامردگی سے اٹھا یا تھا س نے اسے ایک ایسی خاتون کا روپ عطا کر دیا ہے جس کی نظیر ڈھونڈنا ممکن نہیں ہے۔ ان کی صلاحیتوں کا سب سے کڑا امتحان اس وقت آ پہنچا جب ٥ جولائی ١٩٧٧ کو جنرل ضیا الحق نے ایک شب خون کے ذریعے ذولفقار علی بھٹو کی منتخب آئینی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ عالمی سپر پاور اور ملک کی ساری مذہبی اور سیاسی جماعتیں اس شب خون میں جنرل ضیا الحق کے دست و بازو بن گئے اور اس کی عظمتوں کے گیت گانے لگے۔غاصب کو غاصب کہنے کی بجا ئے اسے امیر المومنین کے لقب سے پکارنے لگے۔ ان کا واحد مقصد ذولفقار علی بھٹو کو اپنے راستے سے ہٹا نا تھا اور ان کی نظر میں اس کام کے لئے جنرل ضیا الحق سے بہتر کوئی شخص نہیں تھا۔ ذولفقار علی بھٹو جیل کی کال کوٹھری میں بند کر دئے گئے اور پھر جنرل ضیا الحق کے بے پناہ دبائو، ضد، ھٹ دھرمی اور پریشر کے سا منے پاکستان کی عدالتِ عالیہ نے ایک انتہائی متنا زع فیصلے کے ذریعے ذولفقار علی بھٹو کی زندگی کا چراغ گل کر دیاجسے دنیا عدالتی قتل سے تعبیر کرتی ہے اور جس کا اقرار سپریم کورٹ کے ججز نے بھی کیا ہے۔
ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کا قرعہ فال بیگم نصرت بھٹو کے نام نکلا اور پھریہ باجرات خاتون جس طرح سے جنرل ضیا الحق کے مارشل لا کے سامنے آہنی دیوار بن کر کھڑی ہو گئی وہ ایک انتہائی خونچکاں داستان ہے اور اس داستان کا ایک ایک ورق  اس نے اپنے لہو سے تحریر کیا ہے۔اس کی بسالتوں کی داستان سنا نے کے لئے میرے اس کالم کا دل بہت چھوٹا ہے ایک بحرِ بے کراں چائیے اس داستان کے لئے۔ اس میں شک و شبہ کی مطلق کوئی گنجائش نہیں ہے کہ جنرل ضیا الحق پاکستان کا سفاک ترین حکمران تھا اور اس نے اپنے مخالفین پر ظلم و ستم کے وہ پہاڑ توڑے کہ انسانیت بھی پناہ مانگے۔ لاکھوں لوگوں کی پیٹھوں پر کوڑوں کی بارش کی۔ اس میں پی پی پی کے جیالوں کی ہی تخصیص نہیں تھی بلکہ اس میں ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد جنرل ضیا الحق کی بر بریت کا نشانہ بنے۔ہر وہ شخص جو ذولفقار علی بھٹو کا نام لیوا تھا اور اس سے محبت رکھتا تھا جنرل ضیا الحق کی بربریت اس کا مقدر بنی ۔ اس ساری مشق کا واحد مقصد صرف اتنا تھا کہ لوگ بربریت کے خوف سے بھٹو کا نام لینا ترک کر دیںلیکن بربریت کے خوف سے اگر سچی محبت دم توڑ جاتی ہو تی تو پھر دنیا کے سارے آمروں کو کبھی زوال نہ آتااور ان کے اقتدار کا سورج کبھی غروب نہ ہوتا۔ سچ تو یہ ہے کہ بربریت سے ا نسا نوں کے دلوں میں پنپتی محبت کبھی ختم نہیں ہوتی بلکہ بر بریت دل میں پوشیدہ محبت کے اظہار کو اور بھی تیز تر کر دیتی ہے۔
قافلہ سا لار بیگم نصرت بھٹو کے ساتھ اس کے جیالوں کی ایک فوج تھی جو اپنی اس سالار کی قیادت میںجنرل ضیا الحق کی آمریت سے بر سرِ پیکار تھی۔پھانسیاں جیلیں کوڑے ، صعوبتیں اور سزائیں ان کا مقدر بنیں اور یہ سلسسلہ دنوں ، ہفتوں اور مہینوں کا نہیں تھا بلکہ یہ پورے گیارہ سالوں پر محیط تھا۔شاہی قلعے کی تاریک اور آہنی دیواریں جہاں جنرل ضیا الحق کے ظلم و بر بریت کی گواہ ہیں وہی پر جیالوں کی جراتوں اور وفائوں کی امین بھی ہیں۔ جیالوں پر ایسے ایسے ظلم ڈھائے گئے کہ ظلم کرنے والے ہاتھ خود بھی لرزنے لگے تھے لیکن جیالوں کے نعروں، وفائوں اور محبتوں میں کوئی ضعف نہ آیا وہ اسی طرح بر سرِ پیکار رہے جیسے ابھی ابھی میدانِ کارزار میں اترے ہوں ۔یہ عشق کی بازی بھی بڑی عجیب و غریب بازی ہے اس میںلڑتے لڑتے زندگی ہار جا ئیں تو یہ پھر کامرانی کا تاج پہناتی ہے۔ ذولفقار علی بھٹو اور اس کے جیا لوں کو اس حقیقت کا ادراک تھا کہ جان ہارنے والے ہی اس کے اصلی فاتح قرار پاتے ہیں تبھی تو وہ فتح کی آرزو کی خاطر جان کا خراج د ینے نکلے تھے۔ راہِ عشق میں وہ سر پر کفن باندھ کر اور جان ہتھیلی پر لے کر نکلے تھے محض اس لئے کہ ان کا عشق ان سے اسی بات کا تقاضہ کر رہا تھا۔
ایک دفعہ میں نے اپنے قابلِِ احترام دوست جہا نگیر بدر (جنرل سیکر ٹری پی پی پی) سے اس بارے میں استفسار کیا کہ انھوں نے جنرل ضیا الحق کے کوڑوں میں خود کو کیسے سر بلند رکھا توجہانگیر بدر نے کہا کہ ایک بے پناہ قوت اور محبت ہمارے دلوں میں موجزن تھی جو ہمیں ایسا کرنے کا حوصلہ عطا کرتی تھی۔ میں آج پلٹ کر واپس دیکھتا ہو ں تو حیران رہ جا تا ہوں کہ بے رحم جنرل ضیا الحق کی آمریت کے سامنے ہم کیسے سر خرو ہوئے ۔ در اصل عشق کی ایک انجانی قوت ہماری روحوں کے اندر ہلچل مچا ئے ہو ئے تھی جو ہمیں یہ سب کچھ برداشت کرنے کی توانائی عطا کر رہی تھی ۔جنرل ضیا الحق کوڑے برساتا جاتا تھا اور ہم جئے بھٹو کے نعرے بلند کرتے جاتے تھے ۔ جنرل ضیا لحق کے گروہ کی مثال قر یشِ مکہ کے ان سرداروں جیسی تھی جو سیدنا بلال کو مار مار کر تھک جاتے تھے لیکن سیدنا بلال کے دل میں سرکارِ مدینہ ۖ کا عشق ان کی ضربوں سے اور بھی قوی ہوتا جاتا تھا۔اگر میں یہ کہوں کہ کوڑوں کی چوٹیں ان کے عشق کے لئے مہمیز کا کام کرتی تھیں تو بے جا نہ ہو گا۔ روئے ارضی  پر ظلم و جبر ، نا انصافی اور بے رحم تشدد کے خلاف سینہ سپر ہو جانے کی اس سے بڑی مثال تلاش کرنا ممکن نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ مثال انسانوں کو ظلم و جبر کے خلاف لڑنے کا حوصلہ اور ہمت عطا کرتی ہے اور جب تک دنیا باقی رہے گی یہ مجبوروں اور بے کسوں کو حوصلہ اور ہمت عطا کرتی رہے گی اور عاشقوں کے ماتھے کا جھومر بنی رہے گی۔ سیدنا بلال ایک ایسی ہستی سے عشق کی داستان لکھ رہے تھے کہ جن کی صداقت کی گواہی تو پتھر بھی دیا کرتے تھے لیکن کچھ ایسے بد بخت بھی تھے کہ جنھیں اپنی عقل و دانش اور فہم و فراست پر بڑا مان تھا لیکن جن کی عقل پر پتھر پڑ گئے تھے تبھی تو وہ سچائی کو دیکھنے سے قاصر تھے ۔ وہ یہ تمیز نہ کر سکے کہ ان کے سامنے ابنِ عبداللہ نہیں بلکہ محبوبِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہیں۔ وہ تو سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ابنِ عبداللہ سمجھ کر اپنا حساب چکتا کرتے رہے لیکن جن کی نگا ہ وں نے اپنے سامنے محبوبِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جھلک دیکھ لی تھی وہ ان پر جان و دل جان نچھاور کرتے رہے اور دونوں جہاں پاگئے۔ ان کا عشق انھیں ایسی رفعتوں سے ہمکنار کر گیا  جسے چشم فلک دوبارہ کبھی دیکھ نہ پائے گی۔عشق کی اک جست نے طے کر دیا قصہ تمام      اس زمین و آسماں کو بے کراں سمجھا تھا میں    (ڈاکٹر علامہ محمد اقبال) عشق کی اپنی دنیا ہے اپنی رسمیں ہیں اپنے پیما نے ہیں جب یہ ہو جاتا یے تو پھر اس کی راہ میں کچھ بھی مزاحم نہیں ہو سکتا یہ پہاڑوں کو اپنی جگہ سے ہلا سکتا ہے یہ دریائوں کے رخ موڑ سکتا ہے اور یہ کائنات کو زیرو بم کر سکتا ہے۔ اس کی للکا سے سرِ گردوں کانپ اٹھتا ہے اس کی آواز سے لا مکاں میں بھونچال آجاتے ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ وہ عشق، عشقِ حقیقی ہو ایک ایسا عشق جس کی سب سے بڑی اور نادر مثال سیدنا بلال نے پیش کی تھی۔سیدنا بلال کا عشق چو نکہ محبوبِ خداسے تھا لہذ اس عشق کے راہ میں آزمائشیں اور رفعتیں اس کا فطری نتیجہ تھیں۔ صحرا کی تپتی ہو ئی ریت سینے پر رکھے ہو ئے گرم اور بھاری پتھر اور ہاتھ میں بے رحم کوڑے جو کھا ل ا دھیڑ کر رکھ دیتے تھے لیکن زبان سے تو صدا پھر بھی آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہی آ تی تھی۔ وہ عشق کیا تھا اور وہ مقام کیا تھا اس کا تعین تو میرا خدا ہی کر سکتا ہے یا سرکارِ دو عالم حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کر سکتے ہیں لیکن اقبال نے اس روح پرور منظر کو جس طرح خوبصورت الفاظ کے روپ میں ڈھالا ہے وہ بھی لاجواب ہے۔اذاں ازل سے تیرے عشق کا ترانہ بھی۔۔نماز اُس کے نظارے کا اک بہانہ بنی     (ڈاکٹر علامہ محمد اقبال)
عشق کا یہ لازوال جذبہ ہمیں سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے امتی ہو نے کے سبب عطا ہوا ہے کیونکہ دوسری قومیں عشق کے ایسے جذبات سے عاری ہیں۔ انسانوں سے عشق انسان کی سرشت میں ہے اور اس کے مظاہر ہم ہمیشہ سے دیکھتے چلے آئے ہیں۔ یقین کیجئے اگر جوہرِ عشق نہ ہو تا تو یہ دنیا فقط ریت اور گارے سے تعمیر شدہ ایک حسین و جمیل محل کی مانند ہو تی جس میں سوزو گداز کا کوئی گزر نہ ہو تا ۔یہ تو عشق ہے جس نے اس دنیا کو ایک نیا ولولہ، جوش اور رنگ عطا کر رکھا ہے اور اس کی دلکشی اور رعنائی میں بے پناہ ا ضافہ کر دیا ہے۔عشق کی تڑپ میں ہی تو اس دنیا کی دلکشی کا راز پنہا ں ہے اسی لئے تو اقبال نے کہا تھا کہ مقامِ بندگی دے کر نہ لوں شانِ خدا وندی۔
صوفیائے کرام نے فنا فی اللہ کے نظریے کو اپنے عشق کی بنیاد بنا یا اور اس میں ایسے ایسے رنگ بھرے کہ دنیا عش عش کر اٹھی۔ طور پر حالتِ رقص میں آنے والا بھی تو ایک بشر ہی تو تھا اور انا الحق کا نعرہ لگانے والا بھی تو ایک فرد ہی تھا اور دونوں ہی رفعتوں سے ہمکنار ہو ئے ۔اگر انا الحق کے نعرے کے مقصود و معانی خدا بن جانا تھا تو پھر مولانا روم ،علامہ اقبال اور بہت سے دوسرے مشاہیر کبھی بھی حسین منصور حلاج کی مدح سرائی نہ کرتے ۔ حسین منصور حلاج کا مقصد دنیا کو یہ بتا نا تھا کہ خدا میرے من میں بس رہا ہے۔ اس کے جذب و مستی کی اسی کیفیت کے ا ظہار کو انا الحق کے نام سے پکارا جاتا ہے۔قرآن میں تو خدا خود اعلان کرتا ہے کہ میں اپنے بندے کی شہ رگ سے بھی زیادہ اس کے قریب ہوں اورجب قربت اور موجودگی کا یہی پیمانہ ہے تو پھر حسین منصور حلاج کو کیا مشکل پیش آگئی تھی کہ وہ برسرِ منبر انا الحق کا نعرہ بلند کر کے سزا کا حقدار ٹھہرتا ۔انا الحق در اصل اس کے عشق کی انتہا تھی وہ خدا کو اپنے من کے اندر سمو کر خود پر قابو نہیں رکھ پایا تھا ۔خدائی قربت کے ایسے مسحور کن لمحوں نے اس سے صبرو تحمل اور رازداری کی طاقت چھین لی تھی ا ور خوشی کی اس انتہا کو وہ اپنے من میں سنبھال کر رکھ نہ سکھاتھا اور اسے دنیا بھر میں آشکار کر دیاتھا۔ اہلِ جہاں تک اس کے عشق کی داستان کا مکھڑا انا الحق کے نعرے کی صورت میں پہنچا تھا جس نے جہاں کو تہہ و بالا کر کے رکھ دیا تھا۔ عشق کی اس آشکاری کی سزا ضروری تھی اور اے سزا دی گئی لیکن یہی سزا اس کا انعام بن گئی ۔حسین منصور حلاج کی پھانسی رازِ عشق کو طشت از بام کرنے کی سزا ضرور تھی لیکن اس نے یہ سزا خوشی سے قبول کی تھی یہی وجہ ہے کہ اس کا عشق رہتی دنیاتک زندہ ،پائندہ اور تابندہ ہے۔ آئیے اس ساری کیفیت کا احوال عشق کے ایک بہت بڑے داعی کی زبان سے سنتے ہیں تا کہ دلوں میں پلنے والے شکوک و شبہات اور توہمات اپنی موت آپ مر جائیں۔ سلطان باہو نے ان لمحوں کوجس خوبصورت انداز سے بیان کیا ہے جی نہیں چاہتا کہ اس سے آپ کو محروم کروں۔الف اللہ چنبھے دی بوٹی۔۔۔۔من وچ مُر شد لائی ھو  اندر بوٹی مشک مچایا۔۔۔۔۔جا پھُلن تے آئی ھو تاریخ کے اوراق کا اگر گہری نظر سے مطالعہ کیا جائے تو انسان ورطہِ حیرت میں گم ہو جاتا ہے کہ آخر ذولفقار علی بھٹو کی ذات میں وہ کون سی ایسی کشش تھی جو لوگوں کو جان جیسی متا عِِ بے بہا لٹانے پر مجبور کر رہی تھی۔ پھا نسی گھاٹ سجا ئے گئے اور جیالوں نے سرِ دار پھانسی کے پھندوں کو چوم کر ا پنے گلے کا ہاربنا یا۔ کسی انسان کی خاطر پھانسی گھاٹ پر حالتِ رقص میں پھانسی کے پھندوں کو چومنا شائد انسانیت نے پہلی بار دیکھا تھا۔ مذ ہب ، دھرتی ماں اور وطن کے نام پر پھا نسیاں اور سزائیں تو انسان ازل سے بھگتا آیا ہے ۔ پیغمبروں اور رسولوں کے لئے جان دینا بھی اس کے لئے سعادتِ دین و دنیا بنا رہا ہے لیکن اپنے جیسے پیکرِ ِ خاکی کی محبت کی خاطر جان کا نذرانہ دے دینا اس کے لئے بالکل اچھنبے اور حیرانی کی بات تھی۔ محبت کی یہ وہ وہ انتہا ہے جس تک پہنچنے کی سعادت صرف ذولفقار علی بھٹو کا مقدر بن سکی اور اس راہ میں وہ شخصیت جس نے بڑی جراتوں اور بسالتوں کا مظاہرہ کر کے زندہ ہے بھٹو زندہ ہے کا نعرہ بلند کیا تھا اور اس پر آ ہنی چٹان کی مانند ڈٹ گئی تھیں وہ مادرِ جمہوریت بیگم نصرت بھٹو کی ذات تھی ۔ ہو سکتا ہے کہ میرے اندازِ فکر سے کچھ لوگ چیں بچیں ہو ں اور اختلافِ رائے کریں لیکن میں نے تو اپنی دانست میں گلاب کو گلاب،چاند کو چاند، خوشبو کو خوشبو اور ذولفقار کو ذولفقار ہی لکھا ہے۔     عروجِ آدمِ خاکی سے انجم  سہمے جاتے ہیں۔۔۔ کہ یہ ٹوٹا ہوا تارا  مہِ کامل نہ بن جائے   (ڈاکٹر علامہ محمد اقبال)تحریر  :  طارق حسین بٹ(چیرمین پاکستان پیپلز ادبی فورم)

Share this:
Tags:
Islam Nusrat bhutto pakistan TARIQ BUTT zulfiqar ali bhutto اسلام پاکستان نصرت بھٹو
angela merkel
Previous Post سرحد پار سے سمندر پار تک جرمنی: یورو زون فنڈ میں اضافہ کا اختیار انجیلا مرکل کو دے دیا
Next Post کرغزستان صدارتی انتخابات میں متعدد پارٹیوں کی شرکت
Kazakhstan

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close