Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 4, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

جس کی لاٹھی اس کی بھینس

October 30, 2012 0 1 min read
Tariq Hussain Butt
Tariq Hussain Butt
Tariq Hussain Butt

پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کی تخلیق جمہوری جدو جہد کا عظیم الشان تحفہ ہے لیکن اس ملک پر اقتدار کی خاطر طالع آزما جرنیلوں نے جس طرح اپنے خونیں پنجے گاڑ کر جمہوریت کی بیخ کنی کی اور سیاسی قائدین پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے وہ بڑا عبرت آموز بھی ہے اور باعثِ شرم بھی ہے۔ اکتوبر ١٩٥٨ میں جنرل محمد ایوب خان کا شب خون پاکستان میں جمہوریت کے نوزائید ہ پودے پر وہ جان لیوا حملہ تھا جس سے یہ کبھی بھی جانبر نہ ہو سکا ۔ یہ سچ ہے کہ تخلیقِ پاکستان کے ابتدائی ایام میں قائدِ اعظم محمد علی جناح کی رحلت جمہوری نظام کے لئے ایک ایسا بڑا دھچکہ ثابت ہوئی تھی جس سے یہ کبھی بھی سنبھل نہ پائی۔یہ سچ ہے کہ نوابزادہ خان لیاقت علی خان کی قیادت میں جمہوریت کا یہ سفر کچھ عرصہ کامیابی کے ساتھ چلتا رہا اور فوج ملکی معاملات سے دوری پر رہی لیکن شہیدِ ملت نوابزادہ خان لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد محلاتی سازشوں کا ایسا آغاز ہوا جو ہنوز جاری ہے اور جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ۔ تحریکِ پاکستان کے قد آور راہنمائوں کی رحلت کے بعد فوجی جنتا ریاست کے سب سے طاقت ور فریق کی صورت میں ابھری اور اس نے سارے معاملات کو اپنی مٹھی میں اس قوت سے بند کر لیا کہ اس سے نجات کی کوئی راہ اب بھی سجھائی نہیں دے رہی۔ مختلف اوقات میں مار شل لااسی بے رحم غلبے کی داستان بیان کرتے ہیں۔جب قیادتیں عوامی پشت پناہی اور پذیرائی سے محروم ہو جائیں تو ایسا ہی ہوا کرتا ہے۔ بیوو کریٹ حکمران بن جائیں تو فوجی غلبے کو کون روک سکتا ے؟سیاست دانوں پر فوجی جنتا کے خوف کی ایسی کیفیت طاری ہے جس پر کچھ بھی کہنے کی ضرورت نہیں کیونکہ فوجی جنتا کے ہاتھوں آئینی حکمرانوں اور قائدین کا جو بھی حشر ہوا اس کی وجہ سے سیاسی قیادت کا فوجی جنتا سے خوفزدہ ہو کر ان کے سامنے سرِ تسلیم خم کر نا با آسانی سمجھ میں آ سکتا ہے۔

اس میں شک وشبہ کی مطلق کوئی گنجا ئش نہیں ہے کہ ١٢ اکتوبر ١٩٩٩ کو جنرل پرویز مشرف نے ایک شب خون کے ذریعے میاں محمد نواز شریف کی آئینی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا اور عدلیہ نے نظریہ ضرورت کے تحت اس شب خون کو آ ئینی قرار دے کر جمہوریت پر ایک اور شب خون مار ڈالا تھا۔یہ شب خون پرانے شب خونوں کا تسلسل تھا جس میں عدلیہ سیاست دانوں کی بجائے فوج کے ساتھ کھڑی تھی۔ میاں محمد نواز شریف کے سارے دیرینہ ساتھی شب خون پر ان کا ساتھ چھوڑ کر جنرل پرویز مشرف کی گود میں بیٹھ گئے تو میاں محمد نوز شریف ایک معاہدے کے تحت دس سال کیلئے سعودی عرب میں جلا وطن ہو گئے اور یوں جنرل پرویز مشرف نو سالوں تک پاکستان کے سیاہ و سفید کے مالک بن گئے ۔سیاسی اداکار، اسٹیبلشمنٹ، عدلیہ اور فوجی جنتا باہم مل کر حکمرانی کے مزے لوٹتے رہے ۔جنرل پرویز مشرف نے ٣ نومبر ٢٠٠٧ کو ایمرجنسی کے نفاذ سے چیف جسٹس اور عدلیہ کے بہت سے ججوں کو معزول کر کے انھیں گھروں میں نظر بند کر کے عبدالحمید ڈوگر کو نیا چیف جسٹس مقرر کیا تو ملکی سطح پر اضطرابی کیفیت نے جنم لیا لیکن عبدالحمید ڈوگر کی سربراہی میں حکومت عدلیہ گٹھ جوڑ پھر بھی جاری و ساری رہا۔

پی پی پی نے ان معزول ججوں کو بحال کیا تو بحال شدہ ججوں نے جنرل پرویز مشرف کے ایمرجنسی کے نفاز کو غیر آئینی قرار دے دیا حا لا نکہ ١٢ اکتوبر ٩٩٩ا کے مارشل لاکو عدلیہ کے یہی ججز آئینی قرار دے چکے تھے۔جنرل پرویز مشرف اس فیصلے کے بعد جلا وطن ہو گئے اور ابھی تک مختلف ممالک میں لیکچرز کے بہانے اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔اپنی اسی جلا وطنی کے دوران انھوں نے اپنی نئی سیاسی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ کی بنیاد بھی رکھی جس کے وہ صدر ہیں اور جس کے بہت سے دفاتر دنیا بھر میں قائم ہو چکے ہیں۔انھوں نے وطن واپسی کو اگلے انتخابات تک موخر کر رکھا ہے لہذا دیکھتے ہیں کہ ملک کی بدلتی ہوئی صورتِ حال کے پیشِ نظر جب وہ ملک میں واپس لوٹتے ہیںتو ان کی آمد کیا گل کھلاتی ہے اور عدالت ان کے ساتھ کیا سلوک کرتی ہے۔

میاں محمد نواز شریف جب ملک کے وزیرِ اعظم تھے تو اس وقت جنرل پرویز مشرف نے کارگل کا ڈرامہ رچا کر حکومت کیلئے سبکی کا سامان فراہم کیا تھا ۔ میاں محمد نواز شریف کا موقف یہ تھا کہ جنرل پرویز مشرف نے ان کی اجازت کے بغیر کارگل کا معرکہ پرپا کیا اور انھیں کارگل میں پاکستانی کردار کی خبر اس وقت کے بھارتی وزیرِ ا عظم اٹل بہاری واجپائی سے ملی ۔ کارگل کے اس معرکہ کے چند ماہ تک جنرل پرویز مشرف ہی آرمی چیف تھے اور میاں محمد نواز شریف وزیرِ اعظم پاکستان تھے لیکن میاں محمد نواز شریف کو جنرل پرویز مشرف کے خلاف کوئی بھی قدم اٹھانے کی ہمت نہ ہو سکی۔جنرل پرویز مشرف کا یہ اقدام آئین سے صریح بغاوت تھی لیکن میاں محمد نواز شریف میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ اپنے آرمی چیف کے خلاف کو ئی قدم اٹھا کر اسے معزول کرتے اور اس پر غداری کا مقدمہ چلا کر اسے آئینِ پا کستان سے بغاوت کی سزا سنواتے بلکہ وہ خاموشی سے سب کچھ دیکھتے رہے تا آنکہ ١٢ اکتوبر ١٩٩٩ کو جنرل پرویز مشرف نے حکومت پر شب خون مار کر اقتدار پر قبضہ کر لیا اور پاکستان کے آئینی حکمران کو دس سال کیلئے سعودی عرب جلا وطن کر دیا اور عدالت خا موشی سے یہ منظر دیکھتی رہی۔

Pervez Musharraf
Pervez Musharraf

جنرل پرویز مشرف اس ملک کے سیاہ سفید کے مالک بن گئے اور جلا وطنی میاں برادران کا مقدر ٹھہری۔پچھلے سال ایک امریکی نژاد پاکستانی منصور اعجاز کے میمو گیٹ سکینڈل پر میاں محمد نواز شریف نے آئو دیکھا نہ تائو فورا سپریم کورٹ پہنچے اور اس سازش میں ملوث افراد کوغداری کا مجرم قرار دینے کیلئے ایک درخواست دائر کر دی ۔حا لانکہ ان کا فرضِ اولین یہ تھا کہ وہ جنرل پرویز مشرف جیسے غاصب کے خلاف سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹاتے اور انھیں قرارواقعی سزا دلواتے لیکن ایسا توکچھ بھی نہیں ہوا بلکہ ان کی سازش کا نشانہ وہ شخص بنا جو دو تہائی اکثریت سے صدرِ ممکت منتخب ہوا ہے۔ آج کل میاں محمد نواز شریف اس بات کا بڑی ڈھٹائی سے ڈھول پیٹ رہے ہیں کہ خفیہ ا یجنسیوں سے ہمارے روابط نہیں ہیں اور ہم ان کے کسی قسم کے کردار کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں لیکن ان کا موجودہ کردار ان کے ان دعووں کا ساتھ نہیں دے رہا کیونکہ ایک غاصب کے خلاف سپریم کورٹ میں جانے کی بجائے انھوں نے جمہوری حکومت کے خلاف سپریم کورٹ میں مورچہ لگا کر خفیہ ہا تھوں کے اشاروں کا ساتھ دینے کا عندیہ دیا تھا ۔ اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ جنرل پرویز مشرف ایک غا صب تھا اور ان کی حکومت ختم کرنے کااسے کوئی اختیار نہیں تھا تو پھر انھیں سپریم کورٹ میں جنرل پرویز مشرف کے خلاف آئین سے غداری کا مقدمہ قام کرنا چائیے لیکن ایسا تو کچھ نہیں ہوا ۔ اخباری بیانات کی حد تک تو بات سمجھ میں آتی ہے لیکن عملی طور پر اس سمت میں مسلم لیگ (ن) نے کوئی قدم نہیں اٹھا یا۔ اس ملک میں انصاف کے نام پر کیا کچھ نہیں ہو تا رہا لیکن بد قسمتی سے اس انصاف کا نشانہ ہمیشہ ہی ایک مخصوص جماعت کو بنایا گیا ۔اب بھی ساری توپوں کا رخ اسی جماعت کی طرف ہے اور آمریت کے سارے خوشہ چین جمہوریت آئین اور انصاف کے چیمپین بننے کی کوشش کر رہے ہیں حالانکہ انکی ساری زندگی آمریتوں کے سہارے اقتدار کے سنگھاسن تک پہنچنے کی رسوا کن داستان ہے۔

آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل اسد درانی کے انکشافات پر سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے نے بہت سے سیاست دانوں کے چہروں پر پڑے ہوئے نقابوں کو نوچ کر انھیں بالکل ننگا کر دیا ہے ۔اس فیصلے کی ٹائمنگ بڑی معنی خیز ہے۔ کہیں اس کے معنی یہ تو نہیں کہ سیاست دانوں پر کرپشن کے الزامات لگا کر جمہوری بساط کو لپیٹ دینے کی تیاری ہو رہی ہے یا پی پی پی اور فوج کے درمیا ن ایک دفعہ پھر غلط فہمیوں کو جنم دے کر انھیں معتوب ٹھہرائے جانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے؟ آئی ایس آئی کے سا بق سربراہ جنرل حمید گل ڈنکے کی چوٹ پر کہتے ہیں کہ انھوں نے 1988 میں آئی جے آئی (اسلامی جمہوری اتھاد) تشکیل دی تھی اور اس مقصد کیلئے انھوں نے پاکستانی خزانے سے کروڑوں روپے اسلامی جمہوری اتحاد کی تشکیل کے وقت بانٹے تھے تاکہ پاکستان پیپلز پارٹی کو 1988 کے انتخابات میں واضح فتح سے روکا جا سکے۔ کیا آ ئینِ پاکستان اس کی اجازت دیتا ہے کہ ایک فوجی جنرل پاکستانی خزانے پر دن دحاڑے ڈاکہ ڈال کر ملکی خزانے کو ا پنی ذاتی خواہشوں کی تکمیل کی خاطر استعمال کرے؟ جنرل حمید گل کا یہ اقدام آئینِ پاکستان کی صریح خلاف ورزی بھی اور اس سے کھلی بغاوت بھی ہے لہذا آئین کا آرٹیکل چھ(٦) جنرل حمید گل پر منطبق ہوتا ہے لیکن مذہبی حلقے اور پی پی پی مخالف لابی تو جنرل حمید گل کو کسی ان داتا سے کم مقام دینے کو تیار نہیں ہے لہذا اس کے خلاف کسی قسم کی کاروائی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اعترافِ جرم کے بعد تو عدلیہ کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ جنرل حمید گل کے خلاف سوموٹو ایکشن لے کر اسے سزا کا مرتکب قرار دے تا کہ غیر آئینی اقدامات کا راستہ روکا جائے لیکن وہ بالکل خاموش ہے۔

آج کل آزاد عدلیہ کا بڑا ڈھونڈورا پیٹا جا رہا ہے اور اس کی تعریف و توصیف میں زمین و آسمان کے قلابے ملائے جا رہے ہیں۔کیا ہی اچھا ہوتا کہ آزاد عدلیہ اصغر خان کی آئینی پٹیشن پر جنرل اسلم بیگ اور جنرل اسد درانی پر آئینی بغاوت کا فیصلہ سنا کر آئین کی دفعہ چھ(٦)کے تحت انھیں مجرم ثابت کر کے کڑی سے کڑی سزا سنا کر عوامی امنگوں کی تسکین کا سامان بہم پہنچاتی لیکن بوجوہ ایسا نہیں ہوا بلکہ انھوں نے گیند حکومت کے کورٹ میں پھینک دی ہے کہ وہ فوجی جنتا کے تسلط سے نبرد آزما ہو۔جنرل مرزا اسلم بیگ کے اس اعلان کے بعد کہ 1988 میںا نھوں نے وسیم سجاد کے ذریعے عدالت کو یہ پیغام پہنچایا تھا کہ وزیرِ اعظم محمد خان جونیجو کی حکومت کو اگر عدالت نے بحال کرنے کی کوشش کی تو پھر ہمیں سڑک پار کرنے میں دیر نہیں لگے گی اس بات کا واضح اظہار ہے کہ فوج کے ساتھ ٹکرانا کسی کیلئے بھی ممکن نہیں ۔ جنرل اسلم بیگ کے اس بیان پر توہینِ عدالت کی کاروائی بھی ہوئی لیکن جنرل اسلم بیگ باعزت بر ی ہو گئے جبکہ پی پی پی کے وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کو سوئیس حکام کو خط نہ لکھنے پر وزارتِ عظمی سے فارغ کر دیا گیا جو یہ ثابت کرتا ہے کہ پاکستان میں فوج کی بالادستی مسلمہ ہے اور جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون ماضی کی طرح آج بھی پوری توانائی کے ساتھ روبہ عمل ہے۔

تحریر : طارق حسین بٹ چیرمین پاکستان پیپلز ادبی فورم یو اے ای

 

Share this:
Tags:
democracy pakistan pervez musharraf tariq hussain butt پاکستان پرویز مشرف جمہوریت
Eid Holidays End
Previous Post عید کی چھٹیاں ختم ، دفاتر اور تعلیمی ادارے کھل گئے
Next Post پٹرولیم قیمتوں میں اضافہ ، لاہور ہائیکورٹ نے حکومت سے جواب طلب کر لیا
Lahore High Court

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close