Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 4, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

جمہوریت کی بقاء بھی بے لاگ احتساب کا عمل یقینی بنانے سے ہی ممکن ہے

May 17, 2016 0 1 min read
Accountability
Shahbaz Sharif
Shahbaz Sharif

تحریر : سید توقیر حسین
احتساب کے نعرے پر جاری سیاست اور شہباز شریف کا بے لاگ احتساب میں جج’ جرنیل’ سیاستدان سمیت کسی کے نہ بچنے کا عندیہ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ اب سب کیلئے بے لاگ احتساب کا وقت آگیا ہے’ اربوں روپے کے قرضے معاف کراکے اشرافیہ کہلانے والے بھی اب احتساب سے نہیں بچ پائیں گے اور غریب قوم کے اربوں روپے ہڑپ کرکے پاکستان کو کنگال کرنیوالوں کو اب حساب دینا ہوگا۔ گزشتہ روز یوم مئی کے موقع پر ایکسپوسنٹر جوہرٹائون لاہور میںمنعقدہ تقریب میں خطاب کرتے ہوئے میاں شہبازشریف نے کہا کہ ٹی اوآر پر واویلا کرنیوالے کہتے ہیں اگر سب کا احتساب کیا گیا تو اس میں وقت لگے گا لیکن انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ قرضے معاف کرانے والوں کی فہرستیں موجود ہیں جن کی روشنی میں آدھے گھنٹے میں فیصلہ ہو جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ لاہور میں ایک پارٹی کی ریلی دراصل انکی اپنی ہی صفوں میں موجود قرضے معاف کرانے والوں اور قبضہ مافیا کیخلاف ہے جنہوں نے قرضے بھی معاف کرائے اور آف شور کمپنیاں بھی بنائیں۔ انہوں نے کہا بلاول وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہیں’ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ انکی پارٹی اور انکے والد آصف علی زرداری کے دور حکومت میں کرپشن اور لوٹ مار کا بازار گرم رہا اور اگر انکے والد کی کرپشن کے ایک بھی میگا سکینڈل کی تفصیلات سامنے آگئیں تو بلاول دم دبا کر لاڑکانہ جا بیٹھے گا۔ انکے بقول اس بچے نے ابھی آگے جانا ہے اس لئے اسے سوچ سمجھ کر وہی بات کرنا چاہیے جو اسکی پارٹی سہہ سکے۔ انہوں نے کہا کہ اب ماضی پر رونے دھونے کی بجائے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر آگے بڑھنا چاہیے۔ انکے بقول وزیراعظم نوازشریف نے ”بڑے خان صاحب” کے عدالتی کمیشن کے قیام کے مطالبہ پر چیف جسٹس کو خط لکھ دیا ہے’ آپ کمیشن کی تحقیقات شروع ہونے دیں’ اسکی روشنی میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائیگا۔

احتساب کے نعرے پر اپوزیشن کی جارحانہ سیاست کا آغاز تو پانامہ پیپرز کے افشاکے بعد ہوا ہے جبکہ حکمران اشرافیہ طبقات کی کرپشن اور قومی وسائل و خزانے کی لوٹ مار کی داستانیں سن سن کر قوم تو گزشتہ دہائی سے بے لاگ احتساب اور معاشرے کے کرپٹ عناصر پر بلاامتیاز قانون و انصاف کی عملداری کی متقاضی ہے مگر بدقسمتی سے احتساب کا عمل سول حکمرانیوں سے جرنیلی آمریتوں تک کسی نے بھی خلوص نیت سے شروع نہیں کیا۔ اگر احتساب کا عمل شروع ہوا تو اسے سیاسی انتقامی کارروائیوں کیلئے بروئے کار لایا جانے لگا جس کے باعث بلاامتیاز احتساب کا تقاضا آج تک پورا نہیں ہو سکا۔ جرنیلی آمریتیں تو احتساب کے دلفریب نعرے کے ساتھ ہی ماورائے آئین اقدامات کے تحت اقتدار پر براجمان ہوتی رہی ہیں جو طاقت و اختیار کا یکا وتنہا منبع ہونے کے ناطے معاشرے کو کرپشن سے پاک کرنے کا مصمم ارادہ کرتیں تو کوئی انکے ہاتھ روک نہ سکتا مگر جرنیلی آمر اپنے غیرآئینی اقتدار کو سیاسی سپورٹ دلانے کی خاطر ان لوگوں کے ساتھ ہی این آر او کرتے رہے جن کی اختیارات سے متجاوز اور کرپشن کی داستانیں سنا سنا کر وہ اپنے اقتدار کا جواز نکالا کرتے تھے۔ اسی طرح سول حکمرانوں نے احتساب کے معروف نعرے کو سیاسی مخالفین کی کردار کشی کیلئے استعمال کیا چنانچہ احتساب کو بھی آئین کی دفعہ 6 بنا دیا گیا جس کی عملداری کا تقاضا تو کیا جاتا ہے مگر اسکی عملداری کی کبھی نوبت نہیں آنے دی جاتی۔ یہ حقیقت ہے کہ احتساب کے نعرے کو محض سیاسی پوائنٹ سکورنگ کیلئے استعمال کرنے کی روش نے ہی حکمران اشرافیہ کلچر کو تقویت پہنچائی ہے جس کا مطمع? نظر اپنے اپنے اقتدار میں ایک دوسرے کی لوٹ مار کو تحفظ فراہم کرنا اور مزید لوٹ مار کے نئے راستے نکالنا ہوتا ہے۔

Accountability
Accountability

قوم کے ذہنوں سے یہ حقیقت بھی ابھی محو نہیں ہوئی ہوگی کہ جنرل (ر) مشرف نے 12 اکتوبر 1999 کو جمہوری حکومت کی بساط الٹوانے کے بعد اپنے ماورائے آئین اقتدار کے آغاز ہی میں نیب کا ادارہ تشکیل دے کر بے لاگ احتساب کو اپنی حکمرانی کا مطمع? نظر بنایا تھا چنانچہ اسی وقت سٹیٹ بنک کی جانب سے کروڑوں’ اربوں روپے کے قرضے معاف کرانے والوں کی ایک طویل فہرست سپریم کورٹ میں پیش کی گئی۔ اگر مشرف آمریت احتساب کے نعرے میں مخلص ہوتی تو سب سے پہلے قومی خزانے سے بھاری قرضے لیکر ہڑپ کرنیوالی ان سب چھوٹی بڑی مچھلیوں پر ہاتھ ڈالتی اور انکے شکموں سے ہضم کئے گئے قرضوں کی رقوم نکلوا کر قومی خزانے میں واپس جمع کرائی جاتیںمگر چند روزہ شورشرابے کے بعد قرض خوروں کی فائلیں واپس شیلفوں کی زینت بن گئیں اور یہ طرفہ تماشا ہے کہ قرضے معاف کرنے کا عمل مشرف کے اپنے دور حکومت میں بھی جاری رکھا گیا۔ چنانچہ آج پاکدامنی کا لیبل لگا کر بے لاگ احتساب کے نعرے لگانے والے عناصر ہی قرضوں کی معافی کے کلچر میں ڈبکیاں لگاتے رہے ہیں جبکہ مشرف آمریت کے سہارے اور اسکے بعد آنیوالی سول جمہوری حکومتوں میں تو قومی معاہدوں میں کمیشن اور کک بیکس کے ذریعے کرپشن کلچر کو کھلے عام پروان چڑھایاگیا۔ ایسی ہی صورتحال ضیاء آمریت کے بعد قائم ہونیوالی سول حکومتوں کے ادوار میں بھی قائم ہوئی تھی جبکہ ایک دوسرے کے بعد آنیوالے سول حکمرانوں نے قومی احتساب بیورو کے ذریعے احتساب کے عمل کو ایک دوسرے کیخلاف سیاسی انتقامی کارروائیوں کیلئے تو ضرور استعمال کیا مگر پھر چارٹر آف ڈیموکریسی کے ذریعے ایک دوسرے کے ساتھ این آراو بھی کرلیا۔

اس پس منظر میں مقتدر حلقوں اور حکمران اشرافیہ طبقات کے ہاتھوں راندہ? درگاہ ہونیوالے عوام تو حقیقی اور بے لاگ احتساب کے ہمیشہ متمنی رہے ہیں جو عمران خان کے ”نیا پاکستان” اور طاہرالقادری کے ”پہلے احتساب پھر انتخاب” کے نعروں کے چکموں میں بھی آتے رہے مگر آج تک ان کا بے لاگ احتساب کا خواب شرمندہ? تعبیر نہیں ہو سکا جبکہ عوام کا مقدر بے رحم اور بے لاگ احتساب کو حقیقت کے قالب میں ڈھال کر ہی سنوارا جا سکتا ہے۔ اس تناظر میں آج پانامہ پیپرز کی بنیاد پر اپوزیشن بالخصوص تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی کی قیادتیں وفاقی حکمرانوں کو اقتدار کے شکنجے میں لانے پر مصر ہیں اور اسکے جواب میں حکمران مسلم لیگ (ن) کی قیادتیں قرضے معاف کرانے والوں سمیت سب کے احتساب کی باتیں کررہی ہیں جیسا کہ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف نے اعلان کیا ہے کہ اب بے لاگ احتساب کا وقت آگیا ہے جس میں جج’ جرنیل’ سیاست دان’ بیوروکریٹ سمیت کوئی بھی نہیں بچنا چاہیے تو احتساب کے نعرے پر اپوزیشن کی سیاست کے باوصف وفاقی حکومت کو ریاستی مشینری بروئے کار لا کر احتساب کا ایسا عمل شروع کر دینا چاہیے جو قوم کو نظر بھی آئے اور اسکے بے لاگ ہونے میں کوئی شبہ بھی نہ رہے۔

Nawaz Sharif
Nawaz Sharif

وزیراعظم نوازشریف نے میڈیا سے گفتگو کے دوران خود کو اپنے خاندان سمیت چیف جسٹس سپریم کورٹ کے سپرد کرنے کا اعلان کیا اور ساتھ ہی یہ پیشکش بھی کردی کہ چیف جسٹس جوڈیشل کمیشن کے ذریعے احتساب کا عمل انکی ذات سے شروع کرسکتے ہیں تو بجائے اسکے کہ احتساب کے نعرے پر محض پوائنٹ سکورنگ اور بلیم گیم کی سیاست کا دامن تھامے رکھا جائے’ اپوزیشن کو جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کیلئے چیف جسٹس سپریم کورٹ کی معاونت کرنی چاہیے اور ایسے حالات پیدا نہیں کرنے چاہئیں جس سے زچ ہو کر فاضل چیف جسٹس جوڈیشل کمیشن کیلئے عدلیہ میں سے کوئی جج فراہم کرنے سے ہی معذرت کرلیں۔ گزشتہ روز لاہور میں تحریک انصاف کے پبلک جلسے میں تقریر کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے جس انداز میں بلیم گیم کو پروان چڑھایا’ کسی بھی وقت رائے ونڈ جانے کی کال دینے کا عندیہ دیا اور وزیراعظم کے استعفے کا اعادہ کیا اس سے بادی النظر میں یہی محسوس ہوتا ہے کہ وہ احتساب کے نعرے پر صرف حکومت گرانے کی سیاست کررہے ہیں ورنہ وہ احتساب کا عمل شروع کرانے میں مخلص ہوں تو انہیں وزیراعظم کی پیشکش قبول کرکے سپریم کورٹ کے ماتحت جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کیلئے چیف جسٹس پر مکمل اعتماد کا اظہار کرنا چاہیے اور بے لاگ احتساب کے حوالے سے اپنے سارے تحفظات جوڈیشل کمیشن میں پیش کرنے چاہئیں۔ اسی طرح اگر احتساب کے نعرے لگانے والی سیاسی قیادتیں احتساب کیلئے مخلص ہوں تو عوام کے منتخب فورم پارلیمنٹ کو بھی اس مقصد کیلئے بروئے کار لایا جاسکتا ہے جس پر قوم کو بھی اعتماد ہوگا’

اگر پانامہ پیپرز کے افشاء کے بعد آف شور کمپنی کے معاملہ میں برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے پارلیمنٹ سے رجوع کرکے خود کو کلیئر کرایا ہے نتیجتاً ان کیخلاف عوامی تحریک کا زور بھی ٹوٹ گیا ہے تو ہمارے حکمران اور احتساب کے نعرے لگانے والے سیاست دان بھی اپنے اپنے معاملہ میں انصاف کیلئے پارلیمنٹ سے رجوع کرسکتے ہیں جو بے شک اتفاق رائے سے جوڈیشل کمیشن کے سربراہ کا خود تعین کردے۔ اس سے کم از کم بے لاگ احتساب کی راہ تو ہموار ہو جائیگی۔ اگر ماضی کی طرح اب بھی احتساب کے نعرے پر محض سیاست ہوتی رہی اور اس نعرے کی بنیاد پر حکومت گرانا ہی اپوزیشن کا ایجنڈا بنا رہا تو بے لاگ احتساب کیلئے قوم کے دلوں میں پیدا ہونیوالی امید کی کرن پھر دم توڑ جائیگی اور معاشرے کے معروف کرپٹ عناصر کو پھر کھلے عام لوٹ مار کا موقع مل جائیگا۔ یقیناً بے لاگ احتساب کا تقاضا تبھی پورا ہوگا جب وزیراعلیٰ شہبازشریف کے بقول جج’ جرنیل’ جرنلسٹ’ سیاست دان اور بیوروکریٹ سب اسکی زد میں آئینگے اور قومی دولت و وسائل کی لوٹ مار کی سزا بھگتیں گے۔ احتساب کے نعرے پر سیاست کرنیوالوں کو یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ سسٹم کی بقاء و استحکام بھی بے لاگ احتساب کے عمل کو یقینی بنانے سے ہی ممکن ہے۔ احتساب کے نعرے پر مفاداتی سیاست کو پروان چڑھایا جائیگا تو ماورائے آئین اقدام کی خواہش پالنے والے طالع آزمائوں کو جمہوریت کی گاڑی ٹریک سے اتارنے کا پھر نادر موقع مل جائیگا۔

Syed Tauqeer Hussain Zaidi
Syed Tauqeer Hussain Zaidi

تحریر : سید توقیر حسین

Share this:
Tags:
Accountability democracy Stability احتساب بقاء جمہوریت ممکن
Corruption
Previous Post احتساب کا آغاز
Next Post جمہوریت میں ضد اور انا نہیں ۔مشاورت اور مذاکرات ہوتے ہیں
Democracy

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close