Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 4, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

جناب صدر،آگہی عمل مانگتی ہے

February 2, 2012 0 1 min read
pakistan
pakistan
pakistan

پاکستان ایک جادو نگری ہے،جس کے حکمران وہ جادوگرہیں جو اپنے بیانات کے منتر اور اعلانات کے جادو سے قوم کی تقدیر بدلنا چاہتے ہیں،من پسند گوشوارے تراش کر سوانیزے سورج کے نیچے کھڑی قطرہ قطرہ پگھلتی قوم کو ترقی و خوشحالی کے سبز باغ دکھانا چاہتے ہیں اور پرفریب اعدادوشمار کے گورکھ دھندے سے اپنی حسن کارکردگی کی دھاک بیٹھانا چاہتے ہیں،جب تلخ حقیقتوں کو نظر انداز کرکے حکمران اپنی پسند کے منظر تراشنے کے مرض میں مبتلا ہوجائیں تو زمینی حقیقتیںاپنا وجود کھو بیٹھتی ہیں،مرض کی شدت بہار اور خزاں رتوں کی تمیز مٹا دیتی ہے،حکمرانوں کاذوق نظر ہر منظر کو بہارجاودانی کے خوبصورت لبادے میں لپیٹ کر اِس طرح پیش کرتاہے، جس میںنہ رتوں کی پہچان باقی رہتی ہے اور نہ ہی موسموں کا سراغ ملتا ہے،جب قوموں کی صورت گری کرنے والے رہنما اِس بیماری میں مبتلا ہوجائیں تو قافلے بھٹک جاتے ہیں اور قومیں اپنا نشان منزل کھو بیٹھتی ہیں،بدقسمتی سے پاکستانی قوم بھی ایک ایسے ہی بھٹکے ہوئے کارواں کی مانند ہے جو اپنا نشان منزل کھو چکی ہے، 64سال سے ہمارے حکمران اپنے بیانات کے جادو سے قوم کی تقدیر بدلنے کے دعویدار ہیں،مگر حالات ہر آنے والے دن کے ساتھ پہلے سے بھی ناگفتہ بہ ہیں،اِس کے باوجود بھی ہمارے موجودہ حکمرانوں کا دعویٰ ہے کہ اگر انہیں پانچ سال پورے کرنے دیئے گئے تو وہ ملک کی تقدیر بدل دیں گے،اُن کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے معیشت کو مستحکم کیا ہے،مگر زمینی حقائق کہتے ہیں کہ گذشتہ چار برسوں کے دوران موجودہ حکومت کی کارکردگی اور پالیسی ایسی نہیں رہی ، جس کی بنیاد پر اِس دعوے کو تسلیم کیا جاسکے،وہ منصوبہ جس کے ذریعے حکمران معیشت کے مستحکم کرنے کے دعویدار ہیں ،وہ خود بدعنوانی کے پھیلتے ہوئے ناسور کی وجہ سے مختلف قسم کے اسکینڈلزکی زد میں ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ جس روز صدر صاحب نے یہ دعویٰ کیا ،عین اُسی روزمرکزی بینک کی سہ ماہی رپورٹ نے اُس کی یہ کہہ کر تردید کردی کہ ملکی معیشت کمزور ہے اور سال 2012ء کے دوران جی ڈی پی کا 4.2 فیصدکا ہدف حاصل کرنا مشکل ہے،اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ ترقی کا ہدف حاصل کرنا مشکل ہے، حکومتی قرضے دگنے ہوگے ہیں، مہنگائی بڑھے گی، اخراجات میں اضافہ ہوگیاہے، اِس لیے بجٹ خسار ے کا بوجھ بینکوں پرآگیاہے، اسٹیٹ بینک کی رپورٹیں مسلسل پاکستان کی بدترین اقتصادی صورتحال کی نشاندہی کررہی ہیں، گزشتہ دو سال سے جاری ہونیوالی سٹیٹ بینک کی ہر سہ ماہی رپورٹ حکومتی بے ضابطگیوں کا رونا روتی نظر آتی ہے، جبکہ حکمرانوں نے بینکوں سے قرضے لیکر روزمرہ کے معاملات چلانے کا آسان راستہ اختیار کرکے ملک اور عوام کو مزید مشکلات میں ڈال رکھا ہے،اسٹیٹ بینک کی رپورٹ میں گیس کی قلت،تیل کی بلند قیمتوں اور زرعی اجناس کی عالمی قیمتوں میں کمی کے عوامل کو قومی پیداوار کے مقررہ ہدف کے حصول میں دشواری کا سبب ٹھہرایا گیا ہے،رپورٹ میں اِس بات کا بھی اعتراف کیا گیا ہے کہ بیرونی وسائل سے رقم نہ آنے کے سبب بجٹ خسارہ پورا کرنے کا بوجھ بینکاری نظام پر آگیا ہے، جس کی وجہ سے نجی شعبے کیلئے اپنا کردار ادا کرنے کی گنجائش ختم ہوگئی ہے، اسٹیٹ بینک کی یہ رپورٹ ملک کی معاشی ابتری کی بڑی حدتک عکاسی کرتی ہے ، رپورٹ سے یہ حقیقت بھی پوری طرح واضح ہوجاتی ہے کہ مہنگائی اور بے روزگاری کی چکی میں پستے کروڑں پاکستانیوں کیلئے مزید مشکل وقت آرہا ہے،چنانچہ اِس رپورٹ کی بنیاد پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ مستقبل قریب میں مہنگائی کو لگام دئیے جانے کا کوئی امکان نہیں ہے، طرفہ تماشہ یہ ہے کہ گزشتہ دو سال کے دوران اسٹیٹ بینک کے چار گورنر حکومت کی ناقابل اصلاح مالی پالیسیوں سے اختلاف کرتے ہوئے مستعفی ہوچکے ہیں، مگر من مانیوں کی راۂ اختیار کرنیوالے حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی ،نہ ہی حکمرانوں نے اپنے اللے تللوں میں کوئی کمی آنے دی،نہ ہی ملک اور قوم کی بہتری کیلئے قابل ذکر پالیسیاں بنائی گئیں ، نتیجتاً قوم،بے روزگاری ،غربت ،بھوک و افلاس اور کمر توڑ مہنگائی کے عذاب میں مبتلا ہے،دوسری طرف خود حکومت نے ملکی معیشت کو ”فرینڈز آف پاکستان”، کیری لوگر بل اور آئی ایم ایف کے شکنجے میں بری طرح جکڑ دیا ہے۔ آج حال یہ ہے کہ بے روزگاری اور غربت و افلاس کا گراف بلند ترین سطح پر ہے ، توانائی کے بحران نے قومی معیشت کو متزلزل کرکے رکھ دیا ہے، ہزاروں کارخانے، فیکٹریاں اور صنعتی ادارے بند ہوچکے ہیں ، لاکھوں مزدور بیروزگار ہوگئے ہیں، بجلی ، گیس اور پیڑولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے نے مصنوعات کی پیداواری لاگت میں اضافہ کرکے گرانی کے ایک نئے طوفان کو جنم دیا ہے،ملکی برآمدات میں زبردست کمی سے نہ صرف کئی غیرملکی منڈیا ں پاکستان کے ہاتھ سے نکل گئی ہیں بلکہ تجارتی خسارے میں بھی مسلسل اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے، ملک میں امن و امان کی صورتحال انتہائی خراب ہے جس نے سرمایہ کاری کو بری طرح متاثر کیا ہے اور غیرملکی سرمائے کا فرار تیز تر ہوتا جارہا ہے،بہت سی صنعتیں بیرون ملک منتقل ہوگئیں ہیں،یہاں تک کہ پاکستانی سرمایہ کاروں نے بھی اپنا سرمایہ ملائیشیا، سری لنکا اور بنگلہ دیش منتقل کردیا ہے ،اس تناظر میں اہم سوال یہ ہے کہ پاکستان کے معاشی حالات جس تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں ،کیا اُس کا ازالہ ایک بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے لوگوں کو بھکاری بناکر کیا جاسکتا ہے،ہمارا ماننا ہے ایسا ہرگز ممکن نہیں،حقیقت یہ ہے کہ حکمرانوں کی غلط پالیسیوں اور عیاشیوں نے ملک کو اُس دوراہے پر لاکھڑا کیا ہے،جہاں بینک بھی اب حکومت کو قرضے دینے سے ہچکچا رہے ہیں،اِس وقت مسئلہ صرف معیشت کے استحکام کا ہی نہیں رہا، بلکہ معاشی بحران نے ملک میں سماجی، اخلاقی اور نفسیاتی مسائل بھی پیدا کردیے ہیں، کرپشن اور بدعنوانی سکہ رائج الوقت بن چکا ہے،جس کی گندگی میںاب پوری قوم لتھڑی ہوئی نظر آتی ہے، بدعنوانی اور نااہل انداز حکمرانی نے اہم اداروں کو تباہ کردیا ہے،وزیراعظم صاحب نے قومی اسمبلی میں اپنی پہلی تقریر میں عوام کیلئے ایک ریلیف پیکیج دینے کا اعلان کیا تھا،اِس بات کو آج چار سال بیت چکے ہیں، عوام انتظار کی سولی پرلٹکے رہے مگر دور دور تک انہیں ایسا کوئی ریلیف پیکیج نظر نہیں آیا،جس سے عوامی مصائب وآلام میں کمی کے آثار نظرآتے ،ستم بالائے ستم یہ کہ حکمرانوں نے اپنے انتخابی منشور میں عوام سے جو وعدے کئے تھے اور عوام نے اُن سے جو توقعات وابستہ کی تھیں،آج وہ سب حکومت کی ناکام پالیسیوںکے باعث نقش برآب بن کر رہ گئے ہیں،سوال یہ ہے کہ حکومت عوام کی مشکلات و مصائب کا ازالہ کیوں نہ کرپائی اور عوام سے کئے گئے وعدوں اور یقین دہانیوں کی تارپود کیوں بکھر کر رہ گئے ۔  اِس ابتری کے حقیقی اسباب کیا ہیں؟ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے، کرپشن کا کینسر ہمارے قومی وسائل کو جس طرح تباہ کررہا ہے، اُس کی تفصیلات آئے دن منظر عام پر آرہی ہیں،حکمرانوں نے چار سال تک اپنی کرپشن کی دولت کو بچانے،عدالتی احکامات کو ٹالنے اور تسلسل اقتدار کی راہیں تلاش کرنے کے سوا کسی طرف توجہ نہیں دی ،اگر عوامی مسائل اور توانائی کے بحران کو حل کرنے پر توجہ دی جاتی توآج ہماری صنعتوں کا پہیہ ٹھپ نہ ہوتا، کارخانے پیداوار دے رہے ہوتے، نئی صنعتوں کے قیام سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہورہے ہوتے، لیکن افسوس کہ ِاس عرصے کے دوران کوئی بھی مثبت نہ ہوسکا،یہ چار برس صرف زیاں کاری کا وہ المیہ ہیں جس میں ہم نے اپنے قومی وقار،آئین و قانون کی بالادستی،عوامی فلاح و بہبود ،گڈ گورننس اور اپنی مثبت اقدار وروایات تک کو کھودیا،چار سال تک معیشت کو بہتری کے بجائے ہولناک ابتری میں مبتلا کرنے والے حکمراں آج یہ مضحکہ خیز دعویٰ کررہے ہیں کہ انہیں پانچ سال پورے کرلینے دیے جائیں تو وہ ملک کی تقدیر بدل دیں گے،حیرت ہوتی ہے ہمیں اپنے حکمرانوں کی اِس مفلسانہ انداز فکر پر،جو کام وہ چار سال میں نہ کرپائے ، ایک سال میں کرنے کا دعویٰ کررہے ہیں،سب جانتے ہیں کہ حقیقی تبدیلی اِن کھوکھلے بیانات اور سطحی سوچ سے ممکن نہیں ہے،محض روٹی، کپڑا اور مکان کا خوش کن نعرہ لگانے، کشکول توڑنے اور اسلامی فلاحی ریاست کی خوب صورت اصطلاحیں استعمال کرنے سے تبدیلی نہیں آسکتی،نہ ہی عوام کو زیادہ دیر اِن پر فریب نعروں سے بہلایا جاسکتا ہے،یاد رکھیں جنون بادیہ پیمائی کے بغیر لمبی اور سیاہ رات کا کٹھن سفر کبھی بھی تمام نہیں ہوتا،شعور منزل جدوجہد کا متقاضی ہے، آگہی عمل مانگتی ہے اور عمل قربانی کا خراج لیتاہے،اگر ہمارے حکمران ملکی معیشت اور عوام کی حالت زار بہتر بنانا چاہتے ہیں انہیںاپنے دل میں چھپی آرزؤں اور تمناؤں کے دریچے بند کرنا ہونگے،صرف بیانات کے منتر اور اعلانات کے جادو سے ملک و قوم کی تقدیر بدلنے کے بجائے ٹھوس عملی اقدامات کرنا ہونگے اور زمینی حقائق کواپنی ذوق نگاہ کے سانچے میں ڈھال کر دیکھنے کے بجائے حقائق کے آئینے میں اِن کا درست تناظر میں جائزہ لینا ہوگا۔تحریر :۔محمد احمد ترازی

 

 

Share this:
Tags:
business government Khitab pakistan tax بیانات پاکستان پاکستانی قوم
katrina
Previous Post ہاٹ گرل کترینہ کیف کے خطرناک اسٹنٹس
Next Post اولالا شاہ رخ اور رنبیر نے ودیا بالن کے کپڑے پہن لیے
ranbir shahrukh

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close