
پاکستان کے چوتھے طا لع آزماء ڈکٹیٹرآل پاکستان مسلم لیگ نامی گروہ کے سر براہ اور روشن خیال ، اعتدال پسند ایجنڈے کے بانی ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف نے ایک برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویومیں ایک بار پھر کہا ہے کہ وہ اگلے ماہ پاکستان آئیں گے انکی پارٹی کو ان کی اشد ضرورت ہے وہ کسی سے ڈرتے ورتے نہیں شنید ہے کہNROزدہ حکومت نے انہیں گرین سگنل دے دیا ہے اسی لئے وہ پاکستان آنے کے لئے پھر پر تول رہے ہیں یا پھر پرویز مشرف کے اندر خواہش اقتدار نے ایک بار پھر انگڑائی لی ہے لیکن شائد ان کو اس بات کا احساس نہیں کہ اب کی بار انہیں اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے کے لئے کیسے کیسے پُر خار راستوں سے گزرنا ہو گا۔
اب وہ کسی آئی ایم ایف یا ورلڈ بینک جیسے کسی ادارے کے ملازم نہیں کہ انہیں کسی چارٹر طیارے میں بٹھا کر وزیر اعظم ہائوس یا ایوان صدر میں بھیج دیا جائے نہ ہی انہیں اب کی بار مفادپرست،وفاداریاںتبدیل کرنے والے لوٹے اور لٹیروں کی حمایت مل پائے گی کیونکہ لوٹے سیاستدانوں کی ٹوٹیاں اب ٹوٹ چکی ہیں کچھ عمران خان کی سونامی میں غرق ہو چکے ہیں اور باقی سیاسی بازاروںاور چوراہوں گھوم رہے ہیں اب تو ان کی تخلیق کردہ مسلم لیگ ق بھی قصہ پارینہ بن چکی ہے نہ وہ اب پاکستانی فوج کے سر براہ ہیں جس کی طاقت کے بل بوتے پر وہ وزیراعظم ہائوس کی دیواریں پھلانگ کر ایک منتخب وزیراعظم کو کو حراست میں لے کرمیرے ہم وطنو السلام وعلیکم. کہہ کر ملک کے سیاہ و سفید کے مالک بن جائیں۔
جنرل صاحب کو پاکستان آنے اور یہاں سیاست کر نے کا پورا حق ہے ان کے اس حق کو سلب نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی ان کواس سے محروم کیا جا سکتا ہے مگر اب ان کو عوامی عدالت کے کٹہرے سے گزر کر اپنی خواہش نا مرادکو پورا کرنا ہو گا عوامی عدالت میں ان کو بہت سے تلخ اور چبھتے ہوئے سوالوں کا جواب دینا ہو گا کہ انہوں نے کس قانون کے تحت پاکستان کے مقدس آئین کو بوٹوں تلے روندا قانون کی کس شق کے تحت انہوں نے قوم کے جمہوری ،انسانی اور بنیادی حقوق کو سلب کیا ملک کے منتخب وزیراعظم کوپابندسلاسل کیا ۔
انہیں قید تنہائی میں رکھا انکی تذلیل و تضحیک کی اور بیڑیاں پہنا کر خصوصی عدالتوں میں گھسیٹا کس جرمکی پاداش میں میاں نواز شریف اورمیاں شہباز شریف کو بے توقیر کیا گیا ان کے ساتھ انسانیّت سوز سلوک کیا گیا اور پھر انہیں پورے خاندان سمیت ملک بدر کر دیا گیا کیوں انکے گھروں پر فوجی پہرے بٹھائے گئے انکو معاشی اور اقتصادی طور پر کمزور کرنے کی سازشیں کیوں کی گئیں۔

اپنے نو سالہ دور اقتدارمیں شریف برادران کو واپس آنے سے روک کر کون سی اخلاقی اور انسانی اقدار کی پاسداری کی جب میاں شہباز شریف انتہائی جرآت اور مردانگی سے مشر ف کی فر عونییت کا مقابلہ کرنے کی غرض سے پاکستان آئے تو غاصب نے ان کے طیارے کا رخ جدہ کی طرف موڑ دیا اس کے بعد مشرف نے اپنی اعتدال پسندی اور روشن خیالی کا جنازہ خود ہیاس وقت نکال دیا۔
جب مسلم لیگ کے قائد میاں نوازشریف اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر اترے تو مشرف اور اس کے حواریوں نے ہتک آمیزاور شرمناک طریقے سے نوازشریف کو دوسرے طیارے میں بٹھا کر جدہ روانہ کر دیا میاں شہباز شریف کو اپنی بیٹیوں کی رخصتی کے وقت ان کے سر پر ہاتھ رکھنے کی اجازت نہیں دی گئی اس سے بڑھ کرمشرف کے ظلم و ستم کی انتہاء اور کیا ہو سکتی ہے کہ جب میاں شریف کا انتقال ہوا تو بیٹوں کو یہ اجازت تک نہ دی گئی کہ وہ اپنے باپ کی میت کو اپنے ہاتھوں سے لحد میں اتار سکیں اور قبر پر کھڑے ہو کر فاتحہ پڑھ سکیں جہاں تک سابق ڈکٹیٹر کے پاکستان آنے کا تعلق ہے تو ہم یہی کہیں گے کہ اس ملک پر ان کا بھی اتنا ہی حق ہے ۔
جتنا حق ان مسلم لیگی کارکنوں کا جن پر مشرف نے اپنے دور استبداد میں انسانیت سوز مظالم کئے ان پر جھوٹے مقدمات بنائے انہیں جیلوں اور کو ٹھڑیوں میں بند رکھا اس ارض مقدس پر اتنا ہی حق مشرف کا ہے جتنا حق شہید جمہوریت کے بیٹے خواجہ رفیق کے بیٹے سعد رفیق کا جن کو قید تنہائی میں رکھ کر اذیّتیں دی گئیں اور وفا داریاں تبدیل کرنے کے عوض پر کشش عہدوں کی پیشکش کی گئی اس ملک پر اتنا ہی حق ریٹائرڈ جنرل کا ہے جتنا حق پر ویز رشید کا جن پر انتہائی سفاکی اور بے دردی سے تشدد کیا گیا۔
ان اپاہج بنانے کی شرمناک کوشش کی گئی اس مٹی پر اتنا ہی حق طالع آزماء کا ہے جتنا اختیار اس رانا ثناء اللہ کو ہے جن حق بات کہنے کی پاداش میں اذیّتناک تشدد کا نشانہ بننا پڑا اس ملک پر اتنا ہی حق مشرف کا ہے جتنا حق احسن اقبال کا ہے وہی احسن اقبال جن کو تحریرو تقریر کے بنیادی حق سے محروم کرکے جیل کے عقوبت خانوں میں ڈالا گیا اس کے علاوہ عوامی عدالت میںفوجی آمر سے یہ بھی پوچھا جائے گا کہ آپ کے غیر ملکی بینکوںمیں اربوں مالیت کے ڈالر ،پائونڈ،اشرفیاں،ریال ،درہم اور جواہرات کہاں سے آئے کس اورکون سی قیمت پرپاکستان کوامریکہ کے ہاتھوں فروخت کیا گیا۔

کس قانون کے تحت ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو امریکہ کے حوالے کیا گیا اس کے عوض آپ کو کتنے ڈالر ملے اور وہ ڈالر کہاں ہیں مشرف سے یہ بھی سوال کیا جائے گا کہ چیف جسٹس افتخار چوہدری کو کس جرم میں معزول کر کے دیگر ساٹھ ججوں کے ہمراہ نظر بند کیا گیا تھا ان کے نامہ اعمال میں کون سے ایسی خطائیں تھیں جن کی وجہ سے ان کے ساتھ اس قدر توہین آمیز سلوک کیا گیا۔
کراچی کے ہوائی اڈے پر ان کو کیوں محصورکیا گیا اور 12مئی کو کس کے اشارے پر کراچی میں خون کی ہولی کھیلی گئی پچاس بے گناہوں کا خون کس جرم میں کراچی کی سڑکوں پر بہایا گیا جنرل مشرف کے سیاہ نامہ اعمال کی فہرست توبہت طویل ہے جو قوم کے سامنے کھلنی چاہیے کہ کیسے اور کس طرح اس فوجی جر نیل نے ملک و قوم کے ساتھ دھوکہ،منافقت اور فریب کیا ہے ہم بحثّیت ایک مسلم لیگی کارکن یہ نہیں چاہتے کہ مشرف سے انتقام لیا جائے ۔
بلکہ ہم ہی نہیں پوری قوم چاہتی ہے کہ مشرف کے تمام آئینی،انسانی،بنیادی اور اخلاقی حقوق کا احترام کرتے ہوئے اس کو احتساب کے کٹہرے میں لانا چاہیے کیونکہ ہم احتساب کے نام پر انتقام کے قائل نہیں اور نہ ہی مسلم لیگ کا یہ منشور ہے اور ایجنڈاہے لیکن اگر پرویز مشرف صاحب آئے اور حکومت نے سیاسی مصلحتوں یا کسی نادیدہ قوتوں کے ایماء پر سابق فوجی جنرل سے باز پرس نہ کی تو یہ جمہوریت ،پاکستان،جمہوری اداروں اور عوام کیلئے تکلیف دہ ہو گیموجودہ حکمرانوں سے اس قسم کی توقع رکھنا بے سود ہے۔
کیونکہ جو حکومت اپنے پانچ سالہ دور حکمرانی میں اپنی قائد کے قاتلوں کو ننگا نہ کر سکی وہ عوامی جذبات و احساسات کو کیسے مقدم رکھ سکتی ہے ہم حکمرانوں سے یہ ضرور کہیں گے کہ ان کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ کبھی کبھی لمحوں کی خطاء صدیوں کی سزا پر محیط ہو جاتی ہے۔
وہ وقت بھی دیکھا ہے تاریخ کی گھڑیوں نے
لمحوں کی خطائوں نے صدیوں کی سزا پائی
تحریر : محمد افضل جٹ
