Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 4, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

خشتِ اول

September 9, 2011 0 1 min read
TARIQ BUTT
TARIQ BUTT
TARIQ BUTT

اسے کراچی کی بدقسمتی کہہ لیجئے کہ لسانی فسادات اس کے مقدر میں لکھ دئے گئے ہیں۔ جنرل ضیا الحق نے اپنے اقتدار کے دوام کی خاطر لسانیت (مہاجر قومی موومنٹ) کا جو بیج بو یا تھا آج وہ ایک تنا ور درخت بن چکا ہے جس کا پھل زہر آلود ، جس کی چھا ئوں موت کا سایہ اور جس کی شاخیں بد بختی کی علامت ہیں ۔ ١٩٨٥ سے جنم لینے والی مہاجر قومی موومنٹ نے اپنے اعمال، کردار اور سوچ کی بدولت کراچی کو موت کی ایک ایسی وادی میں بدل دیا ہے جہاں انسان اپنے پیاروں کے لاشے اٹھاتے اٹھا تے تھک گئے ہیں ۔ ایک ایساشہر جس پر اپنی سیاسی گرفت کی خاطر عوام کی گردنیں دبوچی جا رہی ہیں اور یہ سلسلہ پچھلی کئی دہائیوں سے ایسے ہی سفاکانہ انداز میں جاری و ساری ہے۔ نہ کہیں پر رحم کا شائبہ ہے، نہ کہیں پر خوفِ خدا کی جھلک دکھائی دیتی ہے اور نہ ہی کہیں پر انسانیت اپنی رمق کے موجود ہونے کا احساس دلاتی ہے ۔ اقتدار کی ایک دوڑ ہے جو بڑی تیزی سے جاری ہے اور جس میں عوام کچلے جا رہے ہیں۔
بوری بند لاشیں روزمرہ کا معمول ہیں۔ مائیں اپنے لختِ جگروں کو روتے روتے اپنی بینائی کھو چکی ہیں ، بہنیں اپنے جوا ں سال بھائیوں کی موت کا ماتم کرتے کرتے اور ان کے لاشے و صول کرتے کرتے اپنے ہوش وحواس کھو چکی ہیں لیکن سفاک ، بے رحم درندوں کی ہوسِ اقتدار کی آگ ٹھنڈی نہیں ہوتی۔ ہر آنے والا دن موت کا پیغام بر بن کر طلوع ہو تا ہے اور کوئی نہیں جانتا کہ بے رحم سفاک درندوں کا اگلا نشانہ کون بنے گا اور لاشوں کا یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا۔ ایک زمانہ تھا کہ کرا چی روشنیوں کا شہر ہوا کرتا تھا۔ یہ شہر سیاسی سماجی اور معاشی سرگرمیوں کا مرکز ہوا کرتا تھا۔ علم و ادب کی محفلیں اس شہر کی پہچان ہوا کرتی تھیں اور سلور سکرین پر جلوہ افروز خوبصورت ادا کارائیں اس شہر کو مزید طلسم کدہ بنائے ہوئے تھیں۔ ایک دنیا تھی کہ اس شہر کی جانب محوِ سفر تھی کیونکہ یہاں پر روزگار کے بہتر مواقع میسر تھے۔بھائی چارے ، اخوت، ہمدردی اور انسان دوستی کے جذبے اس شہر کا خاصہ ہوا کرتے تھے۔
پاکستان کو کوئی ایسا گوشہ نہیں تھا جہاں سے لوگوں نے اس شہر کو اپنا مسکن نہ بنایا ہو۔ایک ایسا شہر جو امرا کے ساتھ ساتھ غرباء کو بھی اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے تھا ۔غریب پرور شہر جس کی جھگیوں میں بھی زندگی کی رعنائیاں محسوس کی جا سکتی تھیں ۔لوگ غربت کے باوجود بھی خوش و خرم رہا کرتے تھے کیونکہ یہاں پر باہمی احترام اور محبت کے زمزمے بہاکرتے تھے۔انسانیت اور اس کی قدروں کے سوتے ابھی خشک نہیں ہوئے تھے ۔ایک دوسرے کے درد اور تکلیف کا احساس ابھی مرا نہیں تھا۔ٹارگٹ کلنگ اور خود کش حملوں کی ا صطلا حوں سے لوگ واقف نہیں تھے ۔ ان کے اذہان میں ایسی کسی سوچ کا کوئی عمل دخل نہیں تھا جس میں انسانی زندگی کی حرمت پر حرف آتا ہو۔پرخلوص، سادہ لوح اور محبت کرنے والے باسیوں کا شہر جس میں جمہوری قدریں اپنی پوری توانا ئیوں کے ساتھ جلوہ گر تھیں۔ جمہو ریت کی بے شمار جنگیں اس شہر کے باسیوں نے بڑی شان کے ساتھ لڑیں ہیں۔ ساری لسانی اکائیاں جمہوری جنگ میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑی ہوتی تھیں ۔ اس وقت نہ کوئی سندھی تھا ، نہ کوئی مہاجر تھا نہ کوئی پنجابی تھا نہ کوئی پٹھان تھا اور نہ ہی کوئی بلوچی تھا ۔ اہلِ کراچی بس شہرِ قائد میں محبتوں کے سفیر تھے اور یہ محبتیں ہی اس شہر کی کشش کی اصل بنیادیں تھیں۔
شہرِ کراچی نے بھارت سے ہجرت کرنے والے لوگوں کو جس طرح خوش آمدید کہا وہ بھی اپنی مثال آپ تھا۔ مہاجرین نے بھی اپنے سندھی بھائیوں کے جذبہ خیر سگالی کا جواب محبت اور احسان مندی کے ساتھ دیا اور آہستہ آہستہ خود کو سندھی رسم و رواج اورر وایات کے ساتھ ہم آہنگ کرتے چلے گئے ۔ مہاجرین کی آمد کے ساتھ ہی اس شہر کی آبادئی میں بے پناہ اضافہ ہوتا چلا گیا اور قائدِ اعظم محمد علی جناح کے اس اعلان کے بعد کہ کراچی پاکستان کا دارلخلافہ ہو گا لوگ سیلاب کی مانند اس شہر کی جانب بڑھنے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ شہر پاکستان کا سب سے بڑا شہر بن گیاجس میں ہر زبان بولنے والے لوگ شامل تھے۔ یہی وجہ ہے کہ کراچی کو منی پاکستان بھی کہا جاتا ہے۔ ایوب خان کی آمریت کے خلاف اہلِ کراچی نے جو تحریک برپا کی تھی اس کی داستان کراچی کے درو دیوار پر آج بھی رقم ہے اور اہلِ کراچی کی جراتوں کا فخر انگیز باب ہے۔ مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کے صدارتی انتخاب کے دوران اہلِ کراچی نے محترمہ فاطمہ جناح کی بھر پور حمائت کر کے جمہو ریت کو نئی زندگی عطا کی۔اسی شہر نے ١٩٧٧ کے انتخابات میںا صغر خان کا طویل ترین جلوس نکال کر انتخابی سیاست میں عوامی شرکت کا بھر پور مظاہرہ کیا اور ا نتخابات میں نیا جوش و جذبہ پیدا کر دیا۔جلے اور جلوس جمہوریت کا حسن ہوتے ہیں اور یہ حسن اہلِ کراچی نے اپنے خونِ جگر سے پیدا کیا تھا۔ اردو بولنے والوں کے شہر میں اصغر خان کا طویل ترین جلوس پاکستانیت کا  بڑا حسین مظا ہرہ تھا جس پر اہلِ کراچی دادو تحسین کے مستحق تھے۔ ۔۔۔۔۔
١٩٧٧ کا جنرل ضیا الحق کا مارشل لا پاکستان کے لئے زہرِ قاتل کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اسی مارشل لا نے کراچی میں لسانیت کی بنیادوں پر عوام کو تقسیم کیا۔ نفرتیں جب ایک دفعہ سرکشی اختیا کر لیں تو پھر انھیں قابو میں لانا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ نفرتوں کی مثال ان تندو تیز موجوں کی مانند ہوتی ہے جو کسی کے قابو میں نہیں آتیں اور اپنی تندی کے سامنے ہر شہ کو خس و خاشاک کی طرح بہا کر لے جاتی ہیں۔ لسانیت نے بھی ایسے ہی بے رحم انداز سے پاکستانیت کو نگل لیا تھا۔وہ لوگ جو کل تک باہمی محبت اور یگانگت سے زندگی کے شب و روز گزار رہے تھے اچانک نفرتوں کے پیکر بن کر ایک دوسرے پر ایسے جھپٹے کہ زندگی بھر کی دوستیاں اور محبتیں راکھ کا ڈھیر بن کر رہ گئیں ۔خنجر بکف نکلے وہ سارے لوگ جو کل تک ایک دوسرے کو پھولوں کے ہار پہنایا کرتے تھے۔نہ ا حسا سِ یگانگت باقی رہا نہ ہی انسانی قدروں کا احترام باقی رہا ۔ رنگ نسل ذات پات اور زبان کے اختلاف نے وہ رنگ دکھائے کہ کوچہ و بازار لہو سے رنگین ہو گئے ۔ کل تک ایک دوسرے کی خاطر جان دینے والے ایک دوسرے کی جان کے ایسے دشمن ہو ئے کہ انسانیت کا سر شرم سے جھک گیا۔ نفرت کا اتنا شدید جذبہ تو شائد بھارت کے خلاف بھی دیکھنے کو نہ ملتا ہو جتنا ایک ہی شہر میں رہنے والے مختلف زبانیں بولنے والے گروہوں نے اپنے درمیان پیداکر رکھاہے ۔ نفرتوں کی ایک ایسی آگ بھڑکائی گئی ہے جس کے شعلوں نے پورے شہر کے امن کو تہہ و بالا کر کے رکھ دیا ہے۔ افغانستان کی جنگ نے کراچی میں اسلحے کی ترسیل کی راہیں کشادہ کیں۔ لوگوں نے د ل کھول کر اسلحہ خریدا اور پھر اسی غیر قانونی اسلحے سے اپنے ہی بھائیوں کے سینوں کو چھلنی کر کے رکھ دیا اور ایک ایسی خونریزی کا آغاز کیا جو آج تک تھمنے کا نام نہیں لے رہی۔
کراچی اور ایم کیو ایم لازم و ملزوم بن چکے ہیں ۔ قیامِ پاکستان کے بعد اردو بولنے والوں کی ایک بڑی تعداد کراچی میں باد ہو گئی ۔ کراچی میں قیام پذیر ہونے کی بہت سی دوسری وجو ہات کے علاوہ سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ کراچی کو پاکستان کا دارلخلافہ قرار دیا گیا تھا لہذا اردو بولنے والوں کی اکثریت جو کہ پڑھی لکھی اور اعلے تعلیم یافتہ تھی کراچی شفٹ ہو گئی تا کہ نظامِ حکومت کو چلانے میں قائدین کی معاو نت کر سکے   پاکستان کی اولین بیو و کریسی انہی اردو بولنے والوں پر مشتمل تھی ۔بعد میں دارلخلافہ اسلام آباد منتقل ہو جانے کی وجہ سے اردو بولنے والوں کی ملکی معاملات میں شرکت کمزور پڑتی چلی گئی کیونکہ دوسرے صوبوں اور علاقوں کے لوگ دھیرے دھیرے زیورِ تعلیم سے آراستہ ہوتے گئے اور بیو و کریسی میں اپنی جگہ بنا تے گئے ۔ متحدہ ہندوستان میں پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگ تعلیم اور دوسرے شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھانے سے قاصر تھے لیکن قیامِ پاکستان کے بعد انہیں بھر پور مواقع ملے جس سے انھوں نے اپنی صلاحیتوں کا بھر پور اظہار کر کے بیوو کریسی میں اپنی جگہ بنائی اور یوں اردود بولنے والا مخصو ص طبقہ ہو لے ہولے پیچھے ہٹتا چلا گیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کے چند ابتدائی سالوں میں بیوو کریسی میں اردو بولنے والوں کا طوطی بولتا تھالیکن وقت گزرنے کا ساتھ ساتھ اس مسند پر پنجابی بیوو کریسی برا جمان ہو گئی اور یوں پنجاب اور اردو بولنے والوں کے درمیان ایک خاموش مخاصمت نے سر اٹھایا جسے دوسرے صوبوں نے بھی ہوا دی اور یوں پنجاب کے خلاف اعلانیہ نفرت کا اظہار ہونے لگا۔ کراچی کا نام زبان پر آتے ہی ایم کیو ایم کا ایک تصور بھی ذہن میں ابھرتا ہے ایک ایسی جماعت جس کی بنیاد لسانیت پر رکھی گئی تھی اور یوں تحریکِ پاکستان میں علیحدہ وطن کے حصول کی جنگ لڑنے والے قائدین کی نئی نسل لسانی گروہ بن کر رہ گئی ا ور پھر اس لسانیت پر کشت و خون کی ایسی ندیاں بہائی گئیںجس نے تحریکِ پاکستان کی حقیقی روح کو مسخ کر کے رکھ دیا۔ تحریکِ پاکستان ایک ایسی تحریک تھی جس نے زبان و مکاں اور علاقائی سوچوں کا گلہ گھونٹ کر اسلام کے آفاقی اصولوں کی بنیاد پر دنیا کی سب سے بڑی اسلامی ریاست کے قیام کا معجزہ سر انجام دیا تھا جب کہ ایم کیو ایم اپنے ذاتی مفادات کے سامنے سرنگوں ہو کر اپنے ہاتھوں سے ان اعلے مقاصد کا خون کر بیٹھی جس کا علم ان کے آبائو اجداد نے اٹھا یا تھا اور جس کے لئے انھوں نے بے شمار قربانیاں دی تھیں۔تحریکِ پاکستان ایک ایسی تحریک تھی جس میں لاکھوں لوگوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیاتھا اور تاریخِ انسانی کی سب سے بڑی ہجرت کا کرب برداشت کیا تھا لیکن اسی تحریک کے قائدین کی نئی نسل دیکھتے ہی دیکھتے لسانیت اور علاقیت کا شکار ہو کر ملک کے استحکام پر کاری وار کرنے لگی اور اپنے ہی شہریوں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگنے لگی۔ پاکستانیت کا نعرہ پسِ دیوار چلا گیا اور مہاجر قوم کی پہچان کے پرچم سارے شہر میں پھریرے بھرتے ہوئے نظر آنے لگے۔
مجھے اعتراف ہے کہ احساسِ محرومی جب شدید تر ہو جاتا ہے تو پھر انسان ان راہوں پر بھی چل نکلتا ہے جو تخریبی نتائج پیدا کرتی ہیں لیکن سوال چونکہ مخصوص جماعت کی اپنی زندگی اور بقا کا ہوتا ہے لہذا وہ اس راہ کو بھی اپنانے سے دریغ نہیں کر تی جس کے نتائج بھیانک ہو کرتے ہیں ۔اسے بخوبی علم ہوتا ہے کہ اس نے جس راہ کا نتخاب کر رکھا ہے یہ راہ لسانی اور تعصباتی ہے لیکن اپنی بقا اور پہچان کے لئے اس کی نظر میں یہ راہ نا گزیر ہوجا تی ہے۔ ایم کیو ایم کا آغاز مہاجر قومی موومنٹ کے نام سے ہوا جو ایک لسانی اور علاقائی سوچ کا آئینہ دار تھا لہذا سوچ کی کج روی اور لسانی رنگ کی وجہ سے انھیں اس نام کو ترک کر کے اپنے لئے متحدہ قومی مومومنٹ کے نام کا نتخاب کرنا پڑا یہ الگ بات کے اس جماعت کا رنگ ڈھنگ اور چال چلن وہی ہے جو کہ روزِ اول سے تھا ۔ نام کی تبدیلی سے اس میں کوئی فرق نہیں پڑا کیونکہ سوچ کا مرکزی نکتہ اپنی جگہ پہلے کی طرح ہی موجودبھی ہے، قوی بھی ہے اور اس جماعت کی ساری سرگرمیوں کا نقطہ ماسکہ بھی ہے۔اور شائد یہی وجہ ہے کہ یہ جماعت اپنے علاوہ کراچی میں کسی کو برداشت کر نے کے لئے تیار نہیں ہے۔ خشتِ اول چوں نہد معمار کج۔ تا ثریا می رود دیوار کج   (ڈاکٹر علامہ محمد اقبال)
تحریر : طارق حسین بٹ

Share this:
Tags:
karachi pakistan quaid e azam TARIQ BUTT terrorism فسادات کراچی
altaf hussain
Previous Post بین الاقوامی قوتیں پاکستان توڑنے کی سازش کر رہی ہیں۔ الطاف
Next Post بالی ووڈ فلم موسم کی میوزک پروموشن کی تقریب
Mausam

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close