Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
July 27, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

خلاؤں میں اڑتی پھرتی شاعری

November 11, 2011February 21, 2012 0 1 min read
poetry
poetry
poetry

راولپنڈی کے ادبی جریدے چہار سو کا ستمبر، اکتوبر2011کا شمارہ اس وقت ہمارے سامنے ہے۔ مذکورہ شمارے میں کینیڈا میں مقیم شاعر، ادیب، افسانہ نگار عبداللہ جاوید اور ان کی اہلیہ شہناز خانم عابدی کو قرطاس اعزاز پیش کیا گیا ہے۔ ایک علاحدہ گوشے میں عبداللہ جاوید کے طویل انٹرویو اور افسانے کے علاوہ عبداللہ جاوید کے کمال فن پر اقبال بھٹی، گلزار جاوید، ستیہ پال آنند، صابر وسیم،اے خیام، مبین مرزا، اکرام بریلوی و دیگر کی آراء شامل کی گئی ہیں۔ادبی جریدوں میں مختلف شعراء و ادباء کے فن اور شخصیت پر خصوصی گوشے شامل کرنے کی روایت زور پکڑتی جارہی ہے۔ ہم ایسے گوشہ نشین شخص کے لیے تو یہ گوشے بہت معلوماتی ہوتے ہیں، اس طرح گھر بیٹھے بیٹھے گوشہ گمنامی میں پڑے کسی شاعر یا ادیب سے تعارف ہوجاتا ہے۔لیکن اس مرتبہ اکتوبر2011 میں کراچی میں ا یکسپریس اخبار کے زیر اہتمام منعقد ہوئی عالمی اردو کانفرنس میں بھارت سے آئی ہوئی محترمہ جیلانی بانو کا ان ادبی گوشوں کے بارے میں موقف سخت تھا، ان کے مطابق ادبی جرائد میں ان گوشوں کی تواتر کے ساتھ اشاعت پڑھنے والوں کو اکتاہٹ میں مبتلا کررہی ہے اور یہ تمام معاملہ ذاتی تعلقات کی بنیادوں پر انجام پاتا ہے۔

بعض لوگوں کے خیال سے ادبی گوشوں میں ادباء اور شعراء کو قید کرنے سے بہتر ان کی تصانیف کی تقریب رونمائی ہوٹل وغیرہ میں کرنا زیادہ مناسب ہوتا ہے ، جہاں لذت کام و دہن کا بھی معقول انتظام رہتا ہے۔  فروری 1966 میں شمس الرحمان فاروقی کے جریدے شب خون کی تقریب اجراء بھی الہ آباد کے گذدرنامی ریسٹورنٹ میں منعقد کی گئی تھی۔ اس کی تازہ مثال انیس جون2010 کو ٹورنٹو میں ممتاز ادیبہ شکیلہ رفیق کی آٹھویں کتاب ‘وے صورتیں الہی ‘ کی تقریب تعارف ہے جو ٹورنٹو کے”تندوری چکن ریسٹورنٹ” میں منعقد کی گئی تھی۔ کتاب میں جنس کے موضوع پر افسانے شامل ہیں ، شاید اسی مناسبت سے یہ تقریب ‘تندوری چکن ریسٹورنٹ ‘میں رکھی گئی تھی ۔ کتابیں تو روزانہ درجنوں کے حساب سے شائع ہوتی ہی رہتی ہیں لیکن ایسی جگہوں پر تقریبات منعقد کرنے کا اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ شرکاء کو کتاب کے مندرجات بے شک یاد رہیں یا نہ رہیں، تندوری چکن کا ذائقہ ایک عرصے تک یاد رہتا ہے۔ یہاں ہزاروں میل دور کراچی میں بیٹھ کر ہم نے کتاب پڑھی اور تندوری چکن کا لطف پایا۔ تقریب مذکورہ کا حاصل عابدہ کرامت کا وہ تبصرہ تھا جس میں انہوں نے شکیلہ رفیق کے بارے میں فرمایاکہ ‘ ‘ وہ منافقت کا دوپٹہ نہیں اوڑھ سکتی اور اگر ضرورتا اوڑھنا ہی پڑے تو اس کے آنچل سے سر نہیں ڈھک سکتی”۔  شکیلہ رفیق صاحبہ نے کب اور کن موقعوں پر ضرورتا منافقت کا دوپٹہ اوڑھا ہے، عابدہ کرامت نے ان کی کوئی تفصیل بیان نہیں کی۔ اس پر ستم یہ رہا کہ تقریب کے اختتام پر شکیلہ رفیق نے عابدہ کرامت کے بارے میں حاضرین کے سامنے یہ اعتراف کیا کہ ‘اتنا اندر سے تو انہیں ان کے اپنے بھی نہ سمجھ پائے جتنا عابدہ کرامت نے انہیں سمجھا ہے،”

بات ہورہی تھی چہار سو اور عبداللہ جاوید صاحب کی۔ جاوید صاحب کی کتاب بیاد اقبال1968 میں منظر عام پر آئی تھی، شاعری پر طبع آزمائی کا نتیجہ1969 میں موج صد رنگ کی اشاعت کی صورت میں نکلا۔قلم آزمائی کا یہ سلسلہ تاحال جاری ہے اور2010میں ان کے افسانوں کا مجموعہ ‘بھاگتے لمحے’ کے عنوان سے شائع ہوا۔ بعض حاسدوں کا کہنا ہے کہ یہ کتاب بھاگتے ہوئے لکھی گئی ہے اور بھاگتے ہوئے ہی پڑھی جانی چاہیے ۔ اس بھاگ دوڑ میں ہم کہاں سے کہاں نکل گئے، ذکر ہے عبداللہ جاوید اور چہا ر سو کابلکہ یہ کہنا مناسب ہوگا کہ اب چہارسو عبداللہ جاوید کا ہی ذکر ہے۔

جریدے کے ابتدا میں شامل انٹرویو  میں جناب گلزار جاوید نے عبداللہ جاوید کے شعر: لاکھ اڑتی پھرے خلاؤں میں فکر ہم شاعروں کی زد میں ہےکا حوالہ دیا اور ان پر الزام لگایا کہ اس بارے میں وہ تعلی کا شکار ہیں۔ جواب میں عبداللہ جاوید نے اپنے دفاع میں خلاؤں میں اڑتی فکر کا ہی سہارا لیتے ہوئے کہا کہ ” ہم شاعروں سے میری مراد اردو میں میر، غالب اور اقبال ہیں، دنیا کی دوسری زبانوں کے اکابر شاعر ہیں، میں ان کی جوتیوں کے آس پاس کہیں ہونے کا عرض گزار ہوں۔”

خلاؤں میں اڑتی فکروں کا ہمہ وقت شاعر کی زد میں رہنا ایک قابل قدر دعوی ہے لیکن ساتھ ہی شاعر کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ خلاؤں میں اڑتی ہوئی چیزیں اکثر کشش ثقل سے باہر نکل جاتی ہیں اور شاعر تو ایک طرف رہے، سائنسدانوں کے قابو سے بھی باہر ہوجاتی ہیں۔ امریکیوں نے خلاؤں میں اڑتی پھرتی ایسی چیزوں کو یو ایف او یعنی  Unidentified Flying Object کا نام دیا ہے۔اردو اور دنیا کی دیگر زبانوں کے اکابر شعراء کی تعداد سینکڑوں میں پہنچتی ہے اور اگر ان کی جوتیوں کو جمع کرلیا جائے تو ہزاروں کی تعداد بنتی ہے۔ بہتر تو یہ ہوتا کہ ان شعراء کرام کے آس پاس رہنے کی کوشش کی جاتی نہ کہ ان کی ہزارہا جوتیوں کے۔

شاعری درحقیقت ہے کیا ، عبداللہ جاوید اس بارے میں مفاہیم و مطالب کو پانی پانی کرتے ہوئے کہتے ہیں” شاعری وہ ہے جو لفظوں کے لبالب بھرے ہوئے کوزوں میں ہر عصر کی مکانی و زمانی حقیقتوں کے وجدان کو ممکنہ حد تک لامکانی و لازمانی وجدان کے ارتسامات سے برقیا کر،بوند بوند داخل کرے” جناب عبداللہ جاوید نے ٹھیک ہی تو کہا ہے، کوزے میں ہر عصر کی مکانی و زمانی حقیقتوں کو برقیا کر بوند بوند داخل کرنے سے اس قسم کی معنی خیر شاعری وجود میں آتی ہے۔

پھول پہ رکھ کر پاؤںجب واجا نے مونچھ مروڑیرویا سارا گاؤں

اس کلام سے یہ واضح نہیں ہوا کہ واجا نے درحقیقت اپنی مونچھ مروڑی تھی یا گاؤں والوں کی۔ عبداللہ جاویدکی اس تین سطری نظم کو پڑھ کر گاؤں والوں کے ساتھ ساتھ ان کا قاری بھی بے اختیار رو پڑتا ہے!

اس رجحان ساز انٹرویو میں عبداللہ جاوید مزید کہتے ہیں کہ’ ‘ میرے مزاج میں شہرت گریزی اتنی زیادہ ہے کہ جہاں دھماکہ کرنا لازمی تھا، وہاں بھی دھماکہ نہ کیا’ ‘ جناب عبداللہ جاوید نے دھماکہ نہ کرکے عقل مندی سے کام لیا ہے، صرف پاکستان ہی ایسی جگہ ہے جہاں آپ کہیں ،کسی وقت بھی دھماکہ کرسکتے ہیں، کینیڈا میں اس قسم کی کوشش کے نتائج خطرناک ہوسکتے ہیں۔

عبداللہ جاویدمزید فرماتے ہیں۔ ” میرا پہلا شعری مجموعہ 1969میں شائع ہوا، اس میں شامل نظموں اور غزلوں کو ساٹھ کی دہائی میں منظر عام پر آنے والے دیگر شعری مجموعوں کے مشمولات کے ساتھ رکھ کر دیکھنے پر میں خود بھی اس نتیجے پر پہنچنے پر مجبور ہوجاتا ہوں کہ میرے پاس بہت کچھ ہٹا ہوا، اجنبی اجنبی سا، نیا نیا سا ہے۔میں نے زبان کو اردو فارسی کی حدود سے ممکنہ حد تک باہر نکال کر اردو ہندی میں ڈھانے کی کوشش کی۔موضوعات میں حسن قاتل کا موضوع میری نظموں کے واسطے سے اردو میں پہنچا۔وقت کے موضوع پر میرے نظریات علامہ اقبال کے سلسلہ روز و شب کی موجودگی میں بھی ایک علیحدہ مقام بنا چکے ہیں۔  عبداللہ جاوید1960میں کی گئی اپنی شاعری کو خود ہی اجنبی اجنبی سا قرار دے چکے ہیں۔ جن لوگوں نے جناب عبداللہ جاوید کے پہلے شعری مجموعے کا مطالعہ کیا ہے ان کا یہ خیال ہے کہ آج اکیاون برس گزر جانے بعد بھی یہ’ اجنبیت ‘اسی شان سے قائم ہے۔

گلزار جاوید نے اس انٹرویو میں طرح طرح کے سوالات سے جاوید صاحب کو دق کیے رکھا، چند مثالیں پیش خدمت ہیں احباب کی ایک معقول تعداد آپ کے تجربات کی طرف بھی توجہ دلایا کرتی ہے مگر نشان دہی کوئی نہیں کرتا کہ آپ کو کب، کہاں ، کس نوعیت کے تجربات کا وقت میسر رہا۔ آپ کے یہاں الفاظ کا دائرہ اکثر بحور سے وسیع کیوں کر ہوتا ہے۔ کچھ لوگوں کے خیال میں آپ نے اپنی ایک دنیا بنا لی ہے جس سے باہر آنا آپ پسند نہیں کرتے اگر کوئی شخص آپ کے کلام میں طنز، تلخی اور چراندھ کی نشان دہی کرے تو آپ کا جواب کیا ہوگا آپ کو مظہر جان جاناں ، نیاز بریلوی، عبد الحئی تاباںاور میر درد کا سفیر گرداننے والے کس امر کی نشان دہی کرنا چاہتے ہیں آپ کے تخلیقی سفر میں طویل وقفے کی بابت قاری قطعی طور پر کیوں بے خبر ہے کچھ لوگوں کے خیا ل میں آپ نے اپنی بیگم کو بطور افسانہ نگار تسلیم کرانے کی غرض سے خود کو افسانہ نگاری سے اس وقت تک دور رکھا جب تک بیگم صاحبہ مستند افسانہ نگار تسلیم نہ کرلی گئیں۔
جناب عبداللہ جاوید ان سوالات سے ہرگز پریشان نہیں ہوئے بلکہ اپنے جوابات سے انہوں نے قاری کو پریشان کردیا، چند متفرق مثالیں ملاحظہ ہوں میری شاعری، میرے افسانے اورمیری تحریر قاری کو میری اپنی دنیا میں لے آتی ہے، مجھے اور کیا چاہیے۔ قاری ہی کو تھوڑا تھوڑا کرکے مجھے سمجھنا پڑے گا،اگر ہر قرات پر قاری مجھ میں کچھ نیا دریافت کرے گا تو اس کو نئی حیرانی اور نئی خوشی ملے گی۔ میر درد تکیہ صوفی بزرگ تھے،میں بھی تصوف سے عملی طور پر جڑا ہوں لیکن پورا شاعر ہوں۔میر نے درد کو آدھا شاعر مانا تھا۔ میں خود بھی نہایت چھوٹے درجے کا صوفی ہوںاور وہ بھی صوفیائے ملامیہ کے اڑوس پڑوس والا۔ مجھے زیادہ سطح کے اوپر اوپر ہی دیکھا اور جانچا جارہا ہے۔

جناب عبداللہ جاوید کا یہ کہنا کہ ‘قاری ہی کو تھوڑا تھوڑا کرکے مجھے سمجھنا پڑے گا اگر ہر قرات پر قاری مجھ میں کچھ نیا دریافت کرے گا تو اس کو نئی حیرانی اور نئی خوشی ملے گی’ ، قاری کو ایک کھٹن امتحان میں ڈالنے کے مترادف ہے۔گویا مظلوم قاری کو دنیا میں اور کوئی کام ہی نہیں ہے، دوسری طرف یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ قاری کو شاعر پہلی کوشش میں ہرگز سمجھ میں نہیں آئے گا ، اسے اپنی تمام مصروفیات کو پس پشت ڈال کر شاعر کو روزانہ تھوڑا تھوڑا سمجھنا چاہیے، شاید وہ دس بیس سال میں وقفے وقفے سے کچھ سمجھ پائے اور جب جب ایسا ہوگا ، بقول شاعر ، قاری کو ایک نئی حیرت اور نئی خوشی ملے گی، یہاں اس بات کا ڈر لاحق ہوتا نظر آرہا ہے کہ اس قدر ان گنت خوشیاں سمیٹتے سمیٹتے کہیں قاری شادی مرگ کی کیفیت سے دوچار نہ ہوجائے۔

جناب عبدللہ جاو ید کے مذکورہ بالا بیانات کو پڑھ کر صوفیہ ملامیہ کے اڑوس پڑوس سے تعلق رکھنے والے بہت سے حاسدوں نے کہا کہ جناب شاعر کی شاعری کوعلامتی نہیں بلکہ ‘ملامتی ‘ کہا جائے تو بہتر ہوگا، لیکن ہم ایسی شرپسندانہ باتوں پر سے کان ہی نہیں دھرتے۔ البتہ جاوید صاحب کے اس دعوے پر کہ وہ میر درد کے مقابلے میں وہ آدھے نہیں پورے شاعر ہیں، ہمیں جناب عبداللہ جاوید کے درج بالا آخری دعوے کی اصل وجہ کچھ کچھ سمجھ میں آنے لگی ہے جس میں وہ گلہ کرتے ہیں کہ ”مجھے زیادہ سطح کے اوپر اوپر ہی دیکھا اور جانچا جارہا ہے”۔ لیکن چونکہ اس انٹرویو کو پڑھنے کے بعد ہمیں جناب عبداللہ جاوید سے ایک اپنائیت سی محسوس ہونے لگی ہے، لہذا ہم نے ان کی شاعری کی اوپری سطح کو چھوڑ کر اس کی تہہ میں غوطہ لگایا اور چند آبدار موتی چنے جنہیں خوب جانچ کر یہاں پیش کررہے ہیں۔

سنڈی سے تتلی کے قالب میںآجاناپھر سنڈی بن جانامرجانا تتلی بن کر اڑ جانا
میرے اندر بھی کوئی ناچتا ہےمیں اس کے ساتھ پیارے رقص میں ہوں
فلک پر جب ستارے ٹوٹتے ہیں زمیں پر دل ہمارے ٹوٹتے ہیں
پھول کے چوکیداررنگ و بو پر پہرے وہرے سب کے سب بے کار

ان اشعار کو پڑھ کر شاعر کے’ کوزے میں ہر عصر کی مکانی و زمانی حقیقتوں کے وجدان کو برقیا کر بوند بوند داخل کرنے ‘ کی بات تو ایک طرف ، خود قاری کے جسم میں ایک برقی رو سی دوڑ جاتی ہے۔ البتہ سنڈی اور تتلی والے بیان میں ہمیں جناب عبداللہ جاوید کا یہ کہنا کہ ‘قاری ہی کو تھوڑا تھوڑا کرکے مجھے سمجھنا پڑے گا’ درست معلوم ہورہا ہے۔ ہم ایسے کوتاہ نظر کو تتلی اور سنڈی کے ہیر پھیرکے باب میں بادی النظر میں تو کوئی نئی حیرانی اور نئی خوشی والی بات نظر نہیں آئی لیکن پھر گھنٹوں اس پر غور کرنے سے یہ سمجھ میں آیا کہ یہ دراصل ‘زولوجی’ یا علم الحیوانات سے تعلق رکھنے والی ایک ایسی عمیق گتھی ہے جس کو سلجھانے پر علم الحیوانات کی دنیا کا تحقیق سے متعلق کوئی بڑا انعام ملنے کی امید رکھی جاسکتی ہے۔

بحیثیت قاری، ہم جناب عبداللہ جاوید کی شاعری پڑھ کر خوش تو کم ہوئے البتہ حیران زیادہ ہوئے ہیں۔رہا سوال قاری کاجناب شاعر کی دنیا میں چلے جانے کا ، تو عرض یہ ہے کہ قاری اپنی ہی دنیا میں خوش ہے، ایسی جگہ جا کر وہ کیا کرے گا جہاں شاعر کا کلام اور اس کی تخلیقات چوری ہوجاتی ہوں۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ انٹرویو میں ایک جگہ جناب عبداللہ جاوید بیان کرتے ہیں کہ ”  جاوید جاوید یوسف زئی کے قلمی نام سے اپنے شائع شدہ افسانوں کی ایک فائل اپنے ساتھ (کینیڈا) لایا تھا وہ غائب کردی گئی۔اس کے بعد جب بھی کوئی افسانہ لکھا ، کسی پرچے میں بھجوانے سے پہلے ہی گم ہوگیا۔ انگریزی زبان میں براہ راست ٹائپ کیے ہوئے چار چھ افسانوں کا بھی یہی انجام ہوا۔

اس دنیا میں لوگوں پر کیسے کیسے روح فرسا سانحے گزر جاتے ہیں ، اس کا اندازہ ہمیں مندرجہ بالا واقعے کو پڑھ کر ہوا، اسے پڑھ کر ہم آبدیدہ ہوگئے، جب طبیعت کچھ سنبھلی تو بے اختیار خامہ بگوش کی یاد آگئی ۔ وہ اسی سے ملتا جلتا واقعہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں چند برس قبل اتفاق سے ایک مشہور ادیب کے گھر میں آگ لگ گئی۔ ان کے کتب خانے کی بہت سی نادر کتابیں جل گئیں۔ کئی غیر مطبوعہ تصانیف کے مسودے بھی جل کر خاک ہوگئے۔ خانہ سوختہ ادیب کے دوست اظہار ہمدردی کے لیے ان کے ہاں پہنچے۔ ہر دوست نے اپنی بساط کے مطابق آتش زدگی کے واقعے پر ہظہار افسوس کیا۔ البتہ ایک دوست نے منفرد انداز سے اپنے دلی جذبات کا اظہار کیا۔ اس نے کہا: ” اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ کے کتب خانے کا جل جانا ایک دردناک سانحہ ہے لیکن یاد رکھیے کہ ہر شر میں کوئی نہ کوئی خیر کا پہلو ہوتا ہے۔ جہاں مطبوعہ کتابوں کا جل جانا افسوس ناک ہے ، وہیں آپ کی غیر مطبوعہ تصانیف کا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے غیر مطبوعہ رہ جانا اطمینان کا باعث ہے۔ یقیننا یہ آپ کا نقصان ہے لیکن یہ بھی تو دیکھیے کہ آپ کے قارئین بے شمار متوقع نقصانات سے محفوظ ہوگئے۔
خامہ بگوش کے بیان کردہ اس واقعے پر تبصرہ در تبصرہ مناسب نہ ہوگا، البتہ ہمیں جاوید صاحب سے یہ شکایت ہے کہ انہوں نے شاعری کرتے وقت طبیعات کے بنیادی اصولوں کا خیال نہیں رکھا۔ کشش ثقل کے اصول کے عین خلاف یہ شعر ملاحظہ ہو۔ یہ کس کے اشک ہیں اوج فلک تککوئی روتا رہا ہے رات بھر کیا

استاد لاغر مراد آبادی نے شعر مذکورہ سن کر فرمایا کہ اشک ہمیشہ نیچے کی طرف رخ کرتے ہیں، وہ آہیں ہیں جو اثر لانے کو آسماں کی طرف جاتی ہیں۔ اصول کشش ثقل کا بانی اگر یہ شعر سن لیتا تو گمان ہے کہ رات بھر روتا رہتا۔

جاوید صاحب نے ایک جگہ لطیف انداز میں شمشان گھاٹ کے مسائل کو بھی عمدگی سے شعر کی زبان میں ڈھالا ہے۔

پھول دشمن کے ہوں یا اپنے ہوں پھول جلتے نہیں دیکھے جاتے

اور آخر میں جناب عبداللہ جاوید کی وہ تخلیق ملاحظہ ہو جس کو چہار سو کے زیر تبصرہ شمارے میں ڈاکٹر الیاس عشقی نے مرزا غالب کے ہم پلہ قرار دیتے ہوئے غالب کے دشت امکاں کو دائرہ امکاں میں ڈھالنا قرار دیا ہے۔

پانی بادل کا اونچے سے اونچا جاتا بھی ہےنیچے سے نیچے آتا بھی ہے

غالب کے دشت امکاں کو جس طرح پانی سے بھرے بادلوں کی مدد سے سیراب کیا گیا ہے، اس کی کوئی دوسری مثال ہمیں تو نہیں ملی اور شاید ڈاکٹر الیاس عشقی کو بھی نہ مل پائے۔ مذکورہ مضمون میں ڈاکٹر عشقی نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا ہے کہ ‘ عبداللہ جاوید کو ناگزیر الفاظ کس آسانی سے جاتے ہیں ‘ ، حیرت و استعجاب کے اسی عالم میں ڈاکٹر عشقی نے جناب عبداللہ جاوید کی یہ تخلیق درج کی ہے۔
دریا میں رہنا بھی ہےبہنا بھی ہےپل پل کچھ کرنا بھی ہے بھرنا بھی ہےفصل غم بونا بھی ہے ڈھونا بھی ہےمرنے سے ڈرنا بھی ہےمرنا بھی ہے

حضرت جوش ملیح آبادی کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ الفاظ ان کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے رہتے تھے کہ جیسے چاہیں انہیں استعمال کریں۔ مذکورہ بالا کلام میں بہنا بھی ہے، ڈھونا بھی ہے، بھرنا بھی ہے، کرنا بھی ہے جیسے الفاظ کی تکرار سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہمارے ممدوح کے سامنے الفاظ صرف ہاتھ ہی نہیں بلکہ پاؤں بھی باندھے پڑے رہتے ہیں کہ کہ جیسے اور جب چاہیں انہیں استعمال کریں۔   مذکورہ انٹرویو میں فیض احمد فیض کا ذکر بھی آیا، جوابا، جناب عبداللہ جاوید کی سعادتمندی تو دیکھیے کہ احتراما ” وہ فیض کا نام لینے سے بھی گریزاں نظر آئے۔ سوال: ”تراجم کے حوالے سے آپ پر کچھ ذمہ داریاں لازم تھیں، کم از کم میر، غالب، اقبال اور فیض کا آپ پر کچھ حق تو بنتا ہے ” جواب:”اردو سے انگریزی میں ترجمہ کرنا میرے بس کا کام نہیں تھا۔یہ آپ نے ایک سانس میںتین ناموں میر، غالب اور اقبال کے ساتھ چوتھا نام کیسے لے لیا۔ کم از کم مجھ سے تو نہ لیا جائے گا۔ معذرت۔

انٹرویو کا نچوڑ عبداللہ جاوید کا وہ تبصرہ ہے جس میں انہوں نے اپنی تمام ادبی سرگرمیوں کا مقصد ایک مختصر جملے میں بیان کردیا ، سوال تھا کہ ‘ایک ہی وقت میں روایتی اور عطفی تراکیب کا استعمال قاری کو متجسس کیوں کرتا ہے ؟’ ۔ ۔ عبد اللہ جاوید کا جواب تھا:  قاری کو تنگ جو کرنا ہوا۔

جناب عبد اللہ جاوید کی اس بات کے جواب میں عرض ہے کہ قاری کو اتنا تنگ کرنا ٹھیک نہیں، اس کی بھی ایک حد ہوتی ہے، اگر قاری تنگ آمد بجنگ آمد کے محاورے  پر عمل کربیٹھا تو حالات کے نازک ہوجانے کا احتمال ہوسکتا ہے۔

ہمارے قارئین ہمارے اس مضمون کو پڑھ کر یقیننا سوچ رہے ہوں گے کہ ہم ایک کے بعد بات سے بات نکالتے چلے جارہے ہیں اور ان کو غور کرنے کا موقع فراہم کرہی نہیں رہے ، لہذا اس تاثر کو زائل کرنے کے لیے ہم جناب عبدللہ جاوید کے اس انٹرویو سے ایک سوال اور اس کا جواب درج کرتے ہوئے اس پر تبصرے کا موقع اپنے پڑھنے والوں کو فراہم کررہے ہیں۔

سوال:  ”عیسی، حسین، سقراط، بقراط، کرشن، سدھارتھ کو آپ نے اندر کا مکیں کیونکر بنا لیا، اگر بنا لیا تو اُن سے کس طرح کی قربت اور فیض حاصل کیا ”جواب:  ”قبضہ مافیا کے لوگ ہیں، مجھ پر قابض ہوگئے۔جلال الدین رومی کے نام کا اضافہ فرما لیجیے۔”
بزرگ ادیب جمیل الدین عالی نے چہار سو کے زیر تبصرہ شمارے میں شائع ہوئے عبداللہ جاوید کے تنقیدی مضمون کے بارے میں تبصرہ ( روزنامہ جنگ۔22ستمبر2011) کرتے ہوئے کہا ”

عبداللہ جاوید کے تنقیدی مضمون کو پڑھتے پڑھتے اپنی اس پیرانہ سالی کے باوجود مبہوت ہو کر رہ گیا ہوں۔کاش اسے پڑھا جاسکے۔
عالی صاحب نے آخری جملے میں یہ کہہ کر گویا بات ہی ختم کردی کہ ‘ کاش اسے پڑھا جاسکے جناب جمیل الدین عالی اس پیرانہ سالی میں بھی غضب کے بذلہ سنج ہیں

تحریر = راشد اشرف 

Share this:
Tags:
راولپنڈی شاعری
cloudy weather
Previous Post کراچی میں موسم ابرآلود رہنے اور بوندا باندی کا امکان
Next Post ایران پر اسرائیلی حملے سے امریکی فوجی متاثر ہونگے۔ لیون پینٹا
leon panetta

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close