
اجنبی شکلوں سے جیسے کچھ شناسائی بھی تھی
چاند نکلا ہوا تھا، کچھ گھٹا چھائی بھی تھی
ایک عورت پاس آ کر مجھ کو یوں تکنے لگی
جیسے میری آنکھ میں کوئی دیکھنے کی چیز تھی
دفعتاً لپٹی جو مجھ سے کیا بتائوں دوستو
وہ گھڑی بیتی جو مجھ پہ کیا سنائوں دوستو
زخم جو دل پر لگے اب کیا دکھائوں دوستو
جسم کی گرمی اور اس کا درد اب تک یاد ہے
ایک ناآسودہ آہ سرد اب تک یاد ہے
منیر نیازی
