
رمضان کا مقدس مہنہ گزرنے کو ہے اس مقدس مہنے میں ہمارے ضلع میں سیاسی سرگرمیاں کافی حد تک کم رہیں مگر افطار پارٹیوں کی حد تک سیاست دانوں نے اپنا کام جاری رکھا مجھے پرویز اشرف کے بیانات اور عمران خان کے علاوہ چھوٹے سیاست دا نوں کیبیانات بھی دیکھنے کو ملے پورے مہنے میں میں نے کچھ لکھنے کی جسارت نہیں کی آخری رمضان کو میں نے ان بیانات پر تبصرہ کرنے کا سوچا ہمارے وزیر اعظم جناب محترم پریز اشرف کا کہنا ہے کہ ووت کی پرچی سے عوام انہیں منتخب کراہیں گے ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ بینظیر انکم سپورٹ کے تحت لاکھوں افراد کو امداد دی جا رہی ہے میں ان کی خوشفہمی ہی کہ سکتا ہوں کہ عوام چار سال سے جس ازیت میں مبتلا ہیں اس سال کا ماہ رمضان انہوں نے جس ازیت سے گزارہ کہ سحری کے وقت بجلی بند نمازوں کے اوقات میں بجلی بند افطار کا وقت ہوا تو بجلی بند اب اگر عوام ان ازیتوں کو بھول کر ایک بار پھر انہیں منتخب کرلیتے ہیں یا اس گھنونے خواب کو دیکھتے ہیں تہ یہ وزیراعظم کا کوئی کرتب ہی ہو سکتا ہے مہنگائی کا یہ عالم ہے صبح ایک چیز دس روپے ہے تو شام کو بیس روپے کی پیٹرولیم کی قیمتوں میں اضافہ حکومت نے اپنا فرض سمجھ رکھا ہے غریب پر زندگی تنگ کر دی گئی ہے
ودکشیوں کی شرح میں اضافہ ہوا ہے دہشت گردی میں پورا ملک لپیٹا جا چکا ہے حکومت کو کسی کی پرواہ تک نہیں اب کس خوشفہمی کی بنا پر بیاانات داغے جا رہے ہیں سمجھ سے بالا تر ہیں دوسرا بینظیر انکم سپورٹ کے تحت جن غریبوں کو رقوم دی جا رہی ہیں ان میں مجھے کوئی مستحق نظر نہیں آتا اصل مستحق لوگوں کے نام پر کسی لیڈر کی مہر نہ ہونے کی وجہ سے انہیں نظر انداز کر دیا گیا ہے عوام کو دفاتر کے چکر لگوائے جاتے ہیں یہ ہے حکمرانوں کی دوسری خوشفہمی خیر خواب دیکھنے پر تو کوئی پابندی نہیں یہ تو تھے ھکمران اب دیکھیے ہمارے لیڈران یعنی عمران خان کو ان کا بیان تھا کہ اگلے چودہ اگست کو وہ نئے یعنی تبدیل شدہ پاکستان کو دیک رہے ہیں وہ ملک میں تبدیلی لانے کا خواب بھی دیکھ رہے ہیں یا عوام کو دیکھا رہے ہیں اس سے اگلے روز ایک خبر دیکھنے کو ملی یہ خبر مجھ تک فیس بک کے ذریے آئی کہ عمراں خان نے نعت اس لئے بند کرا دی کہ یہ بور پروگرام ہے اور ان کے متوالے شائد نعت سے بور ہوتے ہیں ان کا خیال یہ ہو گا کہ نوجوانوں کو ڈانس موسیقی سے لطف اندوز کیا جائے ان کے بارے میں اس افسوس ناک خبر سن کر ہرمسلمان کا کتنا دل دکھا ہے

عمران خان اس سے بے خبر ہیں اب خد شہ یہ پیدا ہو گیا ہے کہ عمران خان ملک میں جو تبدیلی لانا چاہتے ہیں اس کی کڑیاں پرویز مشرف سے کتنی ملتی جلتی ہیں انہوں نے بھی مسجد مدرسے گرا کر اپنے آقاوں کو خوش کیا اب عمران بھی اسی تبدیلی کو پروان چڑانے کے لئے بیتاب ہیں نعت کو بور پروگرام کہنے کے بعد شائد تلاوت بھی بند کرا دیں اب عوام بھی اتنے معصوم نہیں کہ ان کے روشن خیالی کے خواب کو پورا کریں گے ان کے ساتھی بھی عمران خان کے بارے میں اس خبر پر شرمندہ سے ہو رہے ہیں یہ تو ہمارے بڑے لیڈران کی خوشففہمی ہے کہ عوام انہیں کامیاب کرنے میں کتنے بیتاب ہونگے یا وہ عوام کو بیوقوف سمجھ رہے ہیں اور ان کی خاموشی کا مذاخ اڑایا جا رہا ہے اب ہمارے چھوٹے سیاسدانوں کا تذکرہ سنئیے مجھے گذشتہ روز ایک افطار پارٹی میں جانے کا اتفاق ہوا یہ پارٹی ہمارے حلقہ پی پی اکیس سے منتخب ملک تنویر اسلم سیتھی کی جانب سے ضلع کے صحافیوں کے اعزاز میں دی گئی تھی جس میں ہمارے ایک صحافی نے ان سے شکوہ کیا کہ وہ مسلم لیگ ن کے کارکنوں کو نظر انداز کر کے دیگر پارٹی کے لوگوں کو نواز رہے ہیں مگر موصوف ایم پی ائے نے اپنے کارنامے تو بیان کئے مگر اس کی بات کو کوئی اہمیت نہیں دی صحافی کا کہنہ تھا کہ عوام ان سے ناراض ہو رہے ہیں وہ انہیں ووٹ نہیں دیں گے اور دیگر پارٹیوں والے تو انہیں کسی صورت میں ووٹ نہیں دیں گے اس صحافی کی بات میں تو وزن تھا مگر ایم پی ائے موصوف جس خوش فہمی کا شکار تھے وہ یہ ہے کہ انہوں نے حلقے میں بہت کام کرائے ہیں عوام کارکردگی کی بنا پر انہیں ووت دیں گے
میرا خیال اس سے ذرا ہٹ کے ہے اگر ووٹ کام کرنے سے ملتے تو سابْ ناظم چکوال سردار غلام عباس کو شکست نہ ہوتی ایم پی ائے ملک تنویر اسلم کے گرد بھی مفاد پرست لوگوں نے اپنا حصار اس قدر تنگ کر رکھا کہ انہیں باہر کوئی چیز دیکھائی نہیں دے رہی چوری ڈکیتی یا کوئی جھگڑا ہے ایم پی ائے کا ٹیلی فوں چوکی یا تھانے پر آجاتا ہے وہ بھی اپنے مخالفین کے حق میں ان کے ساتھی اور مسلم لیگ ن کے ورکر خوار ہو کر رہ جاتے ہیں کیا اب وہ لوگ انہیں ووٹ دیں گے اگر اب بھی موصوف اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ وہ ناقابل تسخیر ہیں تو یہ ان کی غلط فہمی ہے وقت جوں جوں سکڑ رہا ہے اور ان کے ساتھی انہیں سب اچھا کی نوید سنا رہے ہیں اب انہیں خوش فہمیوں سے نکلنا پڑے گا ورنہ عوام اپنا بدلہ یوں چکاتے ہیں کہ،؟
خوش فہمیاں ہمارے لیڈروں کی
تحریر ،، ریاض احمد ملک بوچھال کلاں
03348732994
