
اسلام آباد (جیوڈیسک) وزیر داخلہ رحمن ملک نے کہا ہے کہ دشمن نے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔ دہشت گرد ملک کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دہشت گردی کے خطرے کے بارے میں صوبائی حکومتوں کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔
صوبوں میں سکیورٹی کے انتظامات صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔ ایئر اور نیول ہیڈ کوارٹرز کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ایف سی کے اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں کامرہ ایئر بیس پر حملے کے شبے میں راولپنڈی سے گرفتار 40 سے زائد افراد سے کی جانے والی تحقیقات کے حوالے سے گفتگو کی گئی، اس کے علاوہ وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے پولیس حکام کو عید الفطر کے موقع پر اسلام آباد، لاہور سمیت حساس علاقوں میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کرنے کا حکم جاری کیا۔
اجلاس میں چاروں صوبوں کے آئی جیز ہوم سیکرٹریز آئی جی اسلام آباد رینجرز دیگر متعلقہ نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں صوبائی حکومتوں کو کالعدم تنظیموں کی سرگرمیو ں پر نظر رکھنے کی ہدایت کی گئی۔ رحمن ملک نے شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عیدالفطر کے موقع پر مساجد، عیدگاہوں اور امام بارگاہوں میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے جائیں گے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ کراچی، کوئٹہ اور گلگت میں حملے اور سکیورٹی اداروں کو نشانہ بنانے والے عناصر ملک کو غیر مستحکم کرنے میں کامیاب نہیں ہو پائیں گے۔ کراچی کی صورتحال بہتر بنانے کے لئے سنجیدہ کوششیں کی جا رہی ہیں، پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ ہر قتل ٹارگٹ کلنگ نہیں ہوتا۔
کراچی میں قتل و غارت گری کے اعداد و شمار حقائق سے ہٹ کر پیش کئے جاتے ہیں جو افسوسناک بات ہے۔ دہشت گردی کی لعنت سے جلد چھٹکارا پا لیں گے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی افواج نے قربانیاں دے کر لازوال تاریخ رقم کی ہے، قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جوہری اثاثوں کو کھلونے نہ سمجھا جائے حکومت ان کی حفاظت کرنا جانتی ہے۔ مجرموں کو طالبان نے قبائلی علاقوں میں پناہ دے رکھی ہے۔ تمام دہشت گرد گروپ آپس میں رابطے میں ہیں۔ وزیرسان اور کوئٹہ سمیت ہر جگہ طالبان ہمارے دشمن ہیں، وہ دہشت گردی میں ملوث ہیں۔
سانحہ ناران بابوسر میں جاںبحق ہونے کے ورثا کو معاوضہ دیا جائے گا۔ حکومت کسی کے ساتھ محاذ آرائی نہیں چاہتی۔ جنوبی پنجاب کے ساتھ زیادتیاں کی گئیں جس سے عوام میں احساس محرومی بڑھا، جنوبی پنجاب کو نظرانداز کیا گیا جو قابل مذمت ہے، جلد ہی جنوبی پنجاب میں سرائیکی صوبے کا خواب شرمندہ تعبیر ہو گا۔ مسلم لیگ (ن) رکاوٹ نہ بنتی تو سرائیکی صوبہ کب کا بن چکا ہوتا۔ بلوچستان کا مسئلہ گذشتہ حکومتوں کی غلط پالیسیوں کا شاخسانہ ہے۔
