Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

دلائی لامہ، ایک ہتھیار

October 9, 2012 0 1 min read
Najeem Shah
Najeem Shah
Najeem Shah

تبت کے جلاوطن رہنماء اور بدھ مت کے روحانی پیشوا دلائی لامہ کا اصل نام تیزین گیاتسو ہے۔ وہ 6جولائی 1935ء کو تبت کے ایک کسان گھرانے میں پیدا ہوئے اور صرف دو سال کی عمر میں ہی دلائی لامہ کے منصب پر فائز کر دیئے گئے۔ قائداعظم، شاعرِ مشرق کی مانند دلائی لامہ بھی ایک خطاب ہے جسے خدا کا مجسم اور اوتار خیال کیا جاتا ہے۔ دلائی لامہ فوت ہونے سے قبل ہی پیش گوئی کر دیتا ہے کہ آئندہ اُس کا جنم کس گھرانے میں ہوگا۔ اس عقیدے کے مطابق لامہ کی وفات کے تقریباً ڈیڑھ مہینہ بعد اس کی روح ایک نوزائیدہ بچے میں منتقل ہو جاتی ہے۔ ان ہدایات کے پیش نظر بدھ مت کے پیروکار بیان کردہ خاندان کے نوزائیدہ فرد کو دلائی لامہ کی مسند اقتدار پر بٹھا دیتے ہیں۔ دلائی لامہ کا خطاب سب سے پہلے منگول بادشاہ التان خان نے دیا تھابعد ازاں منگولوں نے پانچویں دلائی لامہ گوانگ لوپ سانگ گیاتسو کو تبت کے روحانی اور سیاسی رہنماء کے مرتبے پر فائز کیا۔ اس طرح موجودہ تیزین گیاتسو اس وقت بدھ ازم کی شاخ تبتی بدھ مت کے چودھویں دلائی لامہ ہیں۔

1950ء میں چین کی آزادی کے بعد جب تبت کو چین نے اپنا حصہ قرار دیا تو تبتی بدھ مت کے پیروکاروں نے اس کے خلاف اعلان بغاوت کر دیا۔ 1959ء میں دلائی لامہ تیزین گیاتسو چوبیس سال کی عمر میں تبت میں چین کے خلاف ناکام بغاوت کے بعد فرار ہو کر بھارت پہنچ گئے تھے۔ اُس وقت کے بھارتی وزیراعظم جواہر لال نہرو نے انہیں رہنے کیلئے دھرم شالہ کا پہاڑی علاقہ پیش کیا جہاں وہ نہ صرف خود مقیم ہیں بلکہ اس علاقہ میں 1960ء سے ”مرکزی تبتی انتظامیہ” نامی جلاوطن حکومت بھی تشکیل دے رکھی ہے۔ یہ انتظامیہ خود کو تبتی باشندوں کی نمائندہ حقیقی لیکن جلاوطن حکومت قرار دیتی ہے۔ دلائی لامہ اپنی جلاوطنی کا نصف سے زائد عرصہ بھارت میں گزار چکے ہیں اور اتنے طویل قیام کے بعد وہ خود کو بھارت کا فرزند تصور کرتے ہیں۔ اس دوران دلائی لامہ انسانی ذہنیت کے مختلف پہلوئوں سمیت بہت سے موضوعات پر درجنوں کتابیں بھی لکھ چکے ہیں جبکہ 1989ء میں دلائی لامہ کو امن کے نوبل انعام سے بھی نوازا گیا۔

دلائی لامہ چینی حکومت کو دہشت گرد قرار دیتے ہیں اور اپنی زندگی میں تبت کو ایک آزاد ملک کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں جبکہ چین کا مؤقف ہے کہ دلائی لامہ بدھ بھکشو کے لباس میں ایک بھیڑیا ہے جو چین دشمن قوتوں کے ساتھ مل کر اسے توڑنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔چین تبت کے حالات کا ذمہ دار بھی دلائی لامہ کو ٹھہراتا ہے جبکہ بیجنگ کا یہ بھی کہنا ہے کہ دلائی لامہ امن کی بات کرکے دنیا کے سامنے فرشتہ سیرت اور صورت بنے ہوئے ہیں جو دھوکہ ہے۔ چین نے دلائی لامہ کے ساتھ مذاکرات کا دروازہ بھی اُس وقت تک کھلا رکھا ہوا ہے جب تک وہ تبت کی آزادی کے نظریہ سے دستبردار ہو کر اپنی سرگرمیاں بند نہیں کرتے اور تبت/تائیون کو چین کا حصہ تسلیم نہیں کرتے۔ بھارت بظاہر تو دلائی لامہ کو امن، محبت، انسانیت اور برداشت کی علامت سمجھتا ہے لیکن اس کے پیچھے بھارت کی چال تبت کو چین سے آزاد کرانا ہے۔ امریکا، فرانس، آسٹریلیا اور دیگر بہت سے ممالک بھی دلائی لامہ سے رابطوں میں رہتے ہیں جبکہ چین کئی بار دُنیا کو خبردار کر چکا ہے کہ وہ تبت کے جلاوطن رہنماء کی میزبانی سے گریز کریں اور چین کے ساتھ تعلقات رکھنے والے تمام ممالک کو چاہئے کہ وہ دلائی لامہ کو اپنے ممالک کے دورے کی اجازت نہ دیں۔

دلائی لامہ میں آخر ایسی کیا بات ہے کہ چین کے مؤقف کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے ایک طرف بھارت نے اُسے اپنے ملک میں پناہ دے رکھی ہے جبکہ دوسری طرف بہت سے امریکی صدر چین کے احتجاج کو بروئے کار نہ لاتے ہوئے اُن سے ملاقاتیں بھی کر چکے ہیں۔ عالمی لیڈروں سے ملاقات کے دوران دلائی لامہ تبت کے پیچیدہ مسئلہ کی یکسوئی میں مدد فراہم کرنے کی درخواست بھی کرتے رہتے ہیں۔ جارج ڈبلیو بش نے اپنے دورِ اقتدار میں نہ صرف دلائی لامہ کو رواداری اور امن کی بین الاقوامی علامت قرار دے کر ملاقات کی بلکہ ایک تقریب کے دوران امریکی کانگریس کا سب سے اہم شہری اعزاز کانگریسنل گولڈ میڈل بھی دیا۔ بارک اوبامہ بھی چین کی مخالفت کے باوجود دلائی لامہ سے دو بار ملاقات کر چکے ہیں جبکہ چین عالمی لیڈروں کی دلائی لامہ سے ملاقات کو عالمی اقدار کی خلاف ورزی قرار دیتا ہے۔ اسی طرح فرانس بھی دلائی لامہ کو پیرس کی اعزازی شہریت دینے کا اعلان کر چکا ہے جبکہ بعض دیگر ممالک کے سربراہان بھی دلائی لامہ سے مسلسل رابطوں میں رہتے ہیں۔

مغرب کیلئے ہردلعزیز شخصیت دلائی لامہ کو چین میں غدار اور باغی سمجھا جاتا ہے۔ عوامی جمہوریہ چین نے تو اپنی آزادی کے فوری بعد ہی تبت کو اپنا حصہ قرار دیا ہے جبکہ وہاں بغاوت کئی سال بعد یعنی انیس سو انسٹھ میں شروع ہوئی۔ دلائی لامہ نے فرار ہو کر جیسے ہی بھارت میں پناہ حاصل کی اس کے ساتھ ہی تبت میں بغاوت کی تحریک بھی زور پکڑتی گئی۔ یہ بات بھی ڈھکی چھپی نہیں کہ بھارت نے دلائی لامہ کو اپنی سرزمین علیحدگی سے متعلق سرگرمیوں کیلئے استعمال ہونے دی ہوئی ہے۔ بھارت کی ہی سرپرستی میں تبت کی ایک جلاوطن حکومت شمالی ریاست ہماچل پردیش میں قائم ہے۔ چین کا یہ الزام ہے کہ تبت میں چین مخالف شورش کے پیچھے دلائی لامہ کا ہاتھ ہے جسے بھارت کی مکمل آشیرباد حاصل ہے لیکن دلائی لامہ اس الزام کو مسترد کرتے ہیں۔ دلائی لامہ کو سیاسی پناہ اور اروناچیل پردیش کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دینے کی وجہ سے چین بھارت کشیدگی میں کافی تنائو پیدا ہو چکا ہے جو مستقبل میں کسی بڑی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔

تبت کے مسئلہ پر چین اور امریکا میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔ چین کا کہنا ہے کہ تبت اس کا ایک لازمی حصہ ہے اور کسی دوسرے ملک کو اس کے اندرونی معاملات میں دخل دینے کا کوئی حق نہیں ہے جبکہ امریکا کا مؤقف یہ ہے کہ دلائی لامہ تبت کے روحانی پیشوا اور حکمران ہیں جسے اس کے روحانی اور سیاسی مقام سے محروم کرکے دربدر کر دیا گیا ہے۔ دلائی لامہ نے بظاہر عالمی سیاست سے دستبرداری کا اعلان کر دیا ہے لیکن چین اسے دُنیا کو دھوکہ دینے کیلئے ان کی ایک چال قرار دیتا ہے کیونکہ چین یہ سمجھتا ہے کہ دلائی لامہ کے سیاست چھوڑنے کے اعلان کے بعد بھی اگر تبت کے حالات پہلے جیسے رہے تو دُنیا کو یہ پیغام جائے گا کہ تبت میں آزادی کی تحریک وہاں کے باشندوں کی اپنی ہے۔ اس طرح تبت کے مسئلے پر چین کا مؤقف کمزور پڑ جائے گا اور وہ بھارت اور مغرب کو تبت کے حالات خراب کرنے پر مورد الزام نہیں ٹھہرا سکے گا۔ چین جلاوطن پارلیمنٹ کو بھی ایک غیر قانونی تنظیم قرار دیتا ہے جبکہ بھارت کی بھرپور کوشش ہے کہ کسی طرح تبت کے مسئلے پر چین کا مؤقف کمزور پڑ جائے ورنہ متنازعہ ریاست اروناچل پردیش بھی اُس کے ہاتھ سے نکل سکتی ہے کیونکہ چین اپنے سیاحتی نقشوں میں اروناچل پردیش کو اپنے ملک کا حصہ اور کشمیر کو متنازعہ علاقہ ظاہر کر چکا ہے۔ بھارت یہ بھی سمجھتا ہے کہ اروناچل پردیش اُس کے ہاتھ سے نکل گیا تو پھر خالصتان، ناگالینڈ، آسام اور سکّم میں بھی بھارت مخالف علیحدگی کی تحریکیں زور پکڑ جائیں گی۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ دلائی لامہ اِس وقت چین کے خلاف ایک ایسا ہتھیار بن چکے ہیں جس کی ڈور بھارت اور مغرب کے ہاتھ میں ہے۔ ایک طرف بھارت اس کوشش میں ہے کہ تبت کو ایک آزاد ریاست کا درجہ مل جائے اور پھر وہ دلائی لامہ کو دی گئی مہمان نوازی کا سیاسی فائدہ اُٹھا کر متنازعہ ریاست اروناچل پردیش کو اپنا حصہ تسلیم کرانے میں کامیاب ہو سکے جبکہ دوسری طرف تبت کے ساتھ لگنے والی بھارتی سرحد بھی محفوظ ہو جائے گی اور چین کی طرف سے بارڈر پر فوجوں کا خطرہ بھی نہیں رہے گا۔ یاد رہے کہ بھارت اور چین کی سرحد ہزاروں کلومیٹر تک پھیلی ہوئی ہے۔ صرف متنازعہ ریاست اروناچل پردیش میں دونوں ممالک کی سرحد ایک ہزار کلومیٹر سے بھی طویل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دلائی لامہ کی بھارت میں موجودگی سے دونوں ممالک کے درمیان لفظوں کی جنگ ایک عرصے سے جاری ہے کیونکہ بھارت نے شروع دن سے اب تک تبت کو ایک آزاد خطے کی حیثیت سے تسلیم کیا ہوا ہے۔

Dalai Lama
Dalai Lama

دلائی لامہ بھارت کیلئے کتنی اہمیت کے حامل ہیں اس کا اندازہ اس امر سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ تبت سے جلاوطنی اختیار کرکے دلائی لامہ کا جو بھی حامی بھارت آتا ہے اُسے پہلے شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے کہ کہیں وہ چین کیلئے ایجنٹ کا کردار تو ادا نہیں کر رہا۔ کرماپالاما تبت کے جلاوطن بدھ مت رہنمائوں میں تیسرے نمبر پر ہیں اور ان کا نام دلائی لامہ کے ممکنہ جانشین کے طور پر لیا جاتا رہا ہے۔ 1999ء میں تبت چھوڑ کر بھارت آنے والے کرما پالاما کے بارے میں بھارتی میڈیا نے یہ دعویٰ کیا تھاکہ وہ مبینہ طور پر چین کا ایجنٹ ہے۔ کرما پالا اس وقت دیگر تبتی رہنمائوں کے مرکز دھرم شالہ میں مقیم ہے۔ دلائی لامہ نے خود تو تبت سے جلاوطنی اختیار کرکے دھرم شالہ میں سکونت اختیار کرلی البتہ اُن کے بعد تبت کا سب سے بڑا مذہبی پیشوا پنجن لاما ہے جو اب بھی تبت میں موجود ہے۔پنجن لامہ کو مہاتما بدھ کا مظہر اور دلائی لامہ کا مرشد تصور کیا جاتا ہے اور اُس کے ماتحت تمامہ لامہ ہوتے ہیں جو خانقاہوں میں رہتے ہیں۔بدھ ازم کی جو شاخ تبتی بدھ مت کہلاتی ہے اس کے پیروکار تبت کے ساتھ ساتھ بھارت، نیپال، بھوٹان، اروناچل پردیش، لداح اور سکّم میں بھی موجود ہیں جبکہ روس، شمالی چین اور منگولیا میں بھی اس مذہب کے ماننے والے موجود ہیں۔ بدھ مت ایک ایسا مذہب اور فلسفہ ہے جو مختلف روایات، عقائد اور طرزِ عمل کو محیط کیا ہوا ہے۔

تحریر: نجیم شاہ

 

Share this:
Tags:
agent Najeem Shah Tibet امریکا تبت دلائی لامہ
Karishma Kapoor
Previous Post کرینہ منجھی ہوئی اداکارہ بن چکی ہیں ، بہن کرشمہ کا دعوی
Next Post بدامنی کیس ، بلوچ عوام اپنی حکومت سے خوش نہیں : سپریم کورٹ
Supreme Court Quetta

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close