
دل کو غمِ حیات گوارہ ہے ان دنوں
پہلے جو درد تھا وہی چارہ ہے ان دنوں
یہ دل ذرا سا دل تیری یادوں میں کھو گیا
ذرے کو آندھیوں کا سہارا ہے ان دنوں
تم آ سکو تو شب کو بڑھا دوں کچھ اور بھی
اپنے کہے میں صبح کا تارا ہے ان دنوں
قتیل شفائی


دل کو غمِ حیات گوارہ ہے ان دنوں
پہلے جو درد تھا وہی چارہ ہے ان دنوں
یہ دل ذرا سا دل تیری یادوں میں کھو گیا
ذرے کو آندھیوں کا سہارا ہے ان دنوں
تم آ سکو تو شب کو بڑھا دوں کچھ اور بھی
اپنے کہے میں صبح کا تارا ہے ان دنوں
قتیل شفائی
Start typing to search...
