
دیکھتے خود کو کبھی بھیڑ میں کھوکر تم بھی
لوگ ہوکر نہیں ہوتے وہاں ہوکر تم بھی
میری خواہش تھی کبھی پاس تمہارے رکتا
اپنے پیروں میں لئے پھرتے ہو چکر تم بھی
اِن درختوں کے تلے پہلے بھی لوگ آئے تھے
نام لکھ جاو، میر دوست! یاں پر تم بھی
دِل مرا صبح کو بازار کا حصہ ہوگا
ذہن کو لے کے نکل جاو،گے دفتر تم بھی
رات رانی سی مہکتی ہوئی یادیں میری
سوچ لو مجھ کو تو ہوجاو، معطر تم بھی
لوگ ہوتے ہی اذاں اپنے سفر پر نکلے
جاگ بھی جاو، سمیٹو ذرا بستہ تم بھی
میں نے رو رو کے کیا اپنے لہو کو پانی
آگ میں اپنی ہی جلتے رہے نشتر تم بھی
شاعر: جاوید ندیم
