Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

سارے دھشت گرد جمع ہو گئے ہیں

August 26, 2011 0 1 min read
TARIQ BUTT
TARIQ BUTT
TARIQ BUTT

پاکستان کا المیہ یہ ہے اس میں دنیا بھر کے سارے دھشت گرد جمع ہو گئے ہیں جو اس ملک کی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ بم دھما کوں اور خود کش حملوں کا بنیادی مقصد مملکتِ خدادا دکے پورے نظام کو مفلوج کرنا ہے ۔ابھی کل کی بات ہے کہ جمرود کی ایک مسجد میں خود کش حملے سے پچاس مسلمان شہید ہو گئے اور سو سے زیادہ لوگ ذخمی ہو گئے۔ اس طرح کی دھشت گردی کی کاروائیاں روز مرہ کا معمول ہیں جس نے شہریوں کے اندر عدمِ تحفظ کا احساس پیدا کر رکھا ہے ۔کراچی میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ بھی دھشت گردی کا ایک نیا رنگ ہے جس کا ڈانڈے بھی اسی افغان جنگ سے جڑے ہوئے ہیں جو ١٩٧٩ میں روس کے خلاف شروع کی گئی تھی ۔اُس افغان جنگ میں ہم نے جنھیں مجاہدین کہہ کر دنیا سے متعارف کروایا تھا اب وہ اپنا حق مانگ رہے ہیں۔ اُس وقت سو و یت یونین کی جارحیت کے خلاف اُن کی جراتوں کے گیت گائے گئے تھے انھیں سورمے اور بہادر بنا کر پیش کیا گیا تھا اور انھیں سو ویت یونین کا شیرازہ بکھیرنے کے اعزاز سے بھی نوازا گیا تھا۔
حالانکہ سب کو علم ہے کہ وہ جنگ کس نے لڑی تھی ، کیسے لڑی تھی اور فتح یابی کے لئے کون سی حکمتِ عملی اختیار کی گئی تھی ۔جب تعریف و تو صیف اپنی حدوں سے تجاوز کر جائے اور مبالغہ آرائی جھوٹ کا لبادہ اوڑھ لے تو پھر تھوڑا سا خراج بھی دینا پڑتا ہے اور آج کے افغا نی وہی خراج مانگ رہے ہیں۔ سوویت یونین کے بعدا فغانیو ں کے پاس کرنے کو کچھ بھی نہیں تھا ، ہر طرف بھوک ننگ اور بد حالی کا دور دورہ تھا لہذا مجا ہدین نے پاکستان میں کلاشنکوف، ہیروئن، قتل و غارت گری اور دھشت گردی کے کلچر کو متعارف کروایا اور جی بھر کر دولت اکٹھی کی۔عجیب اتفاق ہے کہ وہ مہاجرین جنھیں پاکستان نے مشکل وقت میں پناہ دی اور ان کی معاونت اور دلجوئی کی وہی افغانی پاکستان کا شیرازہ منتشر کرنے اور اس پر قبضے کے خواب دیکھ رہے ہیں اور انکے اس مشن میں پاکستان کی مذہبی جماعتیں ان کی ہمنوا بنی ہوئی ہیں اور گلے پھاڑ پھاڑ کر ان کی عظمتوں کے گیت گا رہی ہیں اور انھیں اسلامی مجاہد کہہ کر پکار رہی ہیں حالانکہ افغانستان کی جنگ کسی بھی پہلو سے جہاد کے معیار پر پوری نہیں اترتی کیونکہ اس میں سب سے بڑا کردار تو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا تھا اور امریکی اشیر واد سے لڑی جا نے والی جنگ جہاد کیسے بن سکتی ہے۔
سال ہا سال تک پاکستان میں پناہ حاصل کرنے والے لوگ آج پاکستان کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔نمک حرامی کی اس سے بڑی مثال اور کیا ہو سکتی ہے کہ جس ملک نے افغانیوں کو روس کی یلغار سے بچایا تھاآج وہی افغانی اس ملک کے عوام کو خود کش حملوں اور دھماکوں سے اڑا رہے ہیں اور پوری دنیا میں پاکستان کو بدنام کر رہے ہیں۔ پاکستان کسی غیر ملکی کیلئے جائے پناہ نہیں ہے یہ ملک اس کے باسیوں کا ہے اور اس وطن کے باسی کسی ایسے گروہ کی جو ان کی سالمیت اور بقا کا دشمن ہو حمائت نہیں کر سکتے۔ امریکہ سے افغانیوں کو دشمنی ہے تو وہ امریکہ سے اپنا حساب چکتا کریں، بے گناہ پاکستانیوں کو بارود سے کیوں اڑا رے ہیں۔ کارپٹ بمباری تو امریکنوں نے کی تھی لہذا افغانیوں کا ھدف بھی امریکہ ہی ہو نا چائیے تھا لیکن وہاں تک توبہت سی و جو ہات کی وجہ سے ان کی رسا ئی نہیں ہو رہی لیکن وہ قوم جس نے بد تریں حالات میں افغانیوان کی مدد کی تھی افغانی اسی قوم میں بد امنی کو ہوا دے کر ملک میں خا نہ جنگی کو ہوا دے رہے ہیں ۔کراچی کی بد امنی کے پیچھے بہت سے دوسرے عوامل کے ساتھ ساتھ سب سے قوی عنصر افغانیونیوں کے کلاشنکوف اور ہیروئین کلچر کا بھی ہے ۔اسلحے کی دھڑا دھڑ  ترسیل نے موجودہ خانہ جنگی کی ٹھوس بنیادیں رکھنے میں اہم رول ادا کیا ہے۔
سوڈانی، چیچن،یمنی۔ازبک اور افغانی مجاہدین جہاں بھی گئے ان ممالک کا بیڑا غرق کیا۔ ان کا واحد مقصد پناہ دینے والے ممالک میں بد امنی اور انتشار کو  فروغ دینا ہے جسے وہ جہاد کے نام سے تعبیر کر کے سادہ لوح اور معصوم لوگوں کی زندگیوں سے کھیلتے ہیں۔پاکستان کا سب سے بڑا قصور یہی ہے کہ اس نے بے یارو مدد گار افغانیوں کو اس وقت پناہ دی تھی جب کو ئی ان کا پرسانِ حال نہیں تھا لیکن انھوں نے جس طرح کا سلوک پاکستان کے ساتھ روا رکھا ہے اس نے دوستی اور احسان کو بدنام کر کے رکھ دیا ہے۔ ان لوگوں کی حرکات کی وجہ سے ان کے اپنے ملک کے عوام بھی ان کو پسند نہیں کرتے جس کا واضح اظہار اس وقت دیکھنے کو ملا جب سعودی عرب نے نے اسامہ بن لادن اور اس کے ااہل و عیال کو کو قبول کرنے سے انکار کردیاتھا اور اس کے اہل و عیال کو اپنے ملک میں پناہ دینے سے معذرت کر لی تھی۔اب یہ سارے کے سارے افراد پاکستان کا اثاثہ ہیں اور پاکستان کونہ چاہتے ہوئے بھی ان کا بوجھ اٹھا نا ہو گا۔ فرض کریں کہ پاکستان بھی انھیں پناہ دینے سے انکار کر دیتا تو پھر سوچئے اِن لوگوں کا ٹھکانہ کہاں ہو گا۔
افغان دھشت گردوں کے بغیر پاکستان میں قیامِ امن ناممکن ہے لہذا ضروری ہے کہ اس کا قلع قمع کیا جائے، ان دھشت گردوں کے انخلا کے بغیر پاکستان میں امن نا ممکن ہے۔ تحریکِ طالبان سے ہمدردی رکھنے والوں کو بھی  شریکِ جرم سمجھا جائے کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جو ایسن دھشت گرد عناصر کی پشت پناہی کر رہے ہیں اور انھیں اخلاقی امداد بہم پہنچا رہے ہیں۔پاکستان کے لوگ امن پسند لوگ ہیں کیونکہ ان کے قائد نے پر امن جدو جہد سے تخلیقِ پاکستان کا معجزہ سر انجام دیا تھا۔ ، مصورِ پاکستان ڈاکڑ علامہ ہ محمد اقبال نے تصورِ خودی سے ان میں انسانی اوصاف کی جلا میں اپنی بہترین صلاحیتوں کا بر ملا اظہار کیا تھا  لہذا یہ ممکن نہیں کہ پاکستانی عوام دھشت گردی کی اس جنگ میں مخصوص مذہبی جماعتوں کے آلہ کار بن سکیں۔وہ دھشت گردوں سے کل بھی نفرت کرتے تھے آج بھی نفرت کرتے ہیں اور آئیندہ بھی نفرت کرتے رہیں گے کیونکہ امن سے محبت ان کے خمیر میں ہے اور یہ محبت اسلام کے اجلے دامن قائد کی بے مثال جدو جہد اور علامہ اقبال کی آفاقی شاعری سے ان کی ذات میں پیدا ہو ئی ہے۔  عزیزانِ من آئو میری آواز میں آواز ملا کر وطن کے ان جوانوں کو خراجِِ تحسین پیش کر یں جنھوں نے دھشت گردی کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کیلئے اپنی جوانیوں کا خراج دیا۔ فوج کے وہ جوان جنکی ابھی مسیں بھی نہیں بھیگی تھیں ، جنھوں نے ابھی زندگی کی بہت سی بہاریں دیکھنی تھیں ، ملک وقوم ک خدمت کرنی تھی، اپنی جراتوں سے پاکستان کی حفاظت بھی کرنی تھی اور اپنی خداداد صلاحیتوں سے پاک وطن کے علم کو سر بلند کرنا تھا دھشت گردی کی اسی آگ کو بجھاتے بجھاتے خود اس آگ میں بھسم ہو گئے ہیں۔کتنا صبر ہے ان کے ا ہلِ خانہ میں کہ وہ اپنے لختِ جگروں کی قربا نی دے کر پاک وطن کی سلامتی کو یقینی بنا رہے ہیں اور اس پر فخر و ناز بھی کر رہے ہیں ۔ اپنے پیاروں کے لاشے ا ٹھانا بڑا مشکل کام ہے لیکن میرے وطن سے محبت کرنے والے یہ دیش پر یمی جانوں کا مذرانہ دے کر اپنا یہ فرض پورا کر رہے ہیں۔
آئیے ان کی عظمتوں کو سلام پیش کریں کہ انکا لہو ہی ہماری بقا اور سلامتی کا ضامن ہے اور مجھے قسم ہے جوانوں کے بہتے لہو کی سرخی کی کہ مجھے اپنے وطن کی سلامتی کی راہ میں حائل ہونے والی ہر دیوار کو گرا نا ہے اور آخری دھشت گرد کے خاتمے تک ان کا پیچھا کرنا ہے کیونکہ میرے وطن کے معصوموں کا لہو مجھے پکار رہا ہے اور انسانیت کے ان دشمنوں کے خاتمے کیلئے مجھے آوازیں دے رہا ہے۔مجھے اپنے پیاروں کی ان آوازوں پر لبیک کہنا ہے اور اس جنگ کو اس کے منطقی انجام تک پہنچا نا ہے۔ہمیں ثابت کرنا ہے کہ ہمارے پیاروں نے دھشت گردی کی جنگ میں جسطرح اپنا لہو بہایا ہے اس پر ہمیں فخر ہے۔ ہمیں امن کی خاطر انکی جلائی ہوئی شمع کو اپنے لہو سے روشن ر کھنا ہو گا ۔ سچائی کی راہ میں جانوں کا نذرانہ دینے والے شہید کہلایا کرتے ہیں اور قومیں اپنے ان سپوتوں کو عزم و احترام سے رخصت کیا کرتی ہیں۔۔صلہِ شہید کیا ہے تب و تاب و جاودانہ۔۔اسی عزت احترام اور محبت کا اظہار ہے۔ ابتلائوں اور آزمائشوں میں بڑے بڑے سورمائوں کے قدم لڑکھڑا جاتے ہیں لیکن آفریں صد آفریں ہے پاک فوج کے جوانوں پر جو موت کو سامنے دیکھ کر بھی اس سے پنجہ آزمائی کرتے ہیں تا کہ مملکتِ خدا داد کی سلامتی پر کوئی حرف نہ آئے۔
کراچی نیول پر جب دھشت گرد وں نے حملہ کر دیا تھا تو یاسر حمید سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر ان کے مکروہ عزائم کے سامنے ڈٹ گیا تھا۔ کیا اسے زندگی پیاری نہیں تھی ؟کیا وہ اپنے والدین بھائی بہنوں اور اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ زندگی کی نعمتوں سے لطف اندوز نہیں ہونا چاہتا تھا؟ا س کے سینے میں ارمان بھی تھے، چاہتیں بھی تھیں، ولولے بھی تھے اور آرزئو یں بھی تھیں جن کی خاطر وہ بھی جان بچا کر بھاگ سکتا تھا لیکن اس نے ذلت کی زندگی پر شہادت کو ترجیح دی ۔اس نے اس مٹی کی حرمت اور قوم کی عظمت کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا اور ہمیشہ کیلئے امر ہو گیا۔اس قوم کا ایک ایک فرد یاسر حمید کی جراتوں پر رطب السان ہے اور اس کا مقروض ہے کہ اس نے اپنی جان کی قربانی سے ہمین زندگی عطا کی۔ہماری زندگی یاسر حمید جیسے شہیدوں کی مرہونِ منت ہے وگرنہ دھشت گرد تو ہمار ے گلوں میں غلامی کے پٹے ڈال کر ہما را نجانے کیا حشر کرتے۔
وہ مذہب کے نام پر ہمیں ذبح کر دیتے اور ہماری آزا ی اور ہماری ترقی کا خون کر دیتے۔ خون خون کا کھیل کھیلتے ہوئے دنیا کے امن کو تہہ و بالا کر کے رکھ دیتے ۔جمیل الدین عالی کے شہرہ آفاق گیت۔۔ اڑ کے پہنچو گے تم جس افق پر ساتھ جائے گی آواز میریَ اے شجاعت کے زندہ نشانو میرے نغمے تمھارے لئے ہیں میں جب ملکہ ترنم نور جہاں کی مدھر اورسریلی آواز شامل ہو کر فضائو ں کو معطر کرتی ہے تو وہ پوری قوم کی آواز بن جاتی ہے کیونکہ قوم اپنے جوانوں سے محبت کرتی ہے،ان کی جراتوں پر انھیں ہدیہِ تبریک پیش کرتی ہے اور ان کی قربانیوں پر ان کی احسان مند ہوتی ہے کیونکہ یہ ان کی قربانیاں ہی تو ہیں جو ہماری سلامتی کی ضامن بنتی ہیں وگرنہ بہت سے بھیڑیے تو ہمیں کب سے غلام بنانے اور ہمارے و جود کو مٹانے کے درپہ ہیں۔
وہ لوگ جو صبح شام یہ راگ الاپتے رہتے ہیں کہ دھشت گردی کی یہ جنگ ہماری جنگ نہیں ہے تو اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ ان کی نظر میں وطن کے جوانوں کی قربانیوں اور شہادتوں کی کو ئی اہمیت نہیں ہے ان کا نقطہ نظر یہ ہے کہ وطن کے جوان یہ قربانی کسی غیر ملکی طاقت کی خوشنودی کی خاطر دے رہے ہیں۔ کتنا نا بڑا بہتان ہے جو یہ لوگ میرے وطن کے شہیدوں پر باندھ رہے ہیں اور ان کی قربانی کو شہادت کے اعزاز سے محروم کرنے کے در پہ ہیں۔ کاش ایسے لوگ وطن کی مٹی کی حرمت سے آگاہ ہوتے کاش وہ راہِ وطن میں بہنے والے خون کے تقدس سے با خبر ہوتے۔کاش کوئی ا نھیں بتا تا کہ وطن کی راہ میں بہنے والے لہو کا ایک ایک قطرہ مقدس ہے اور ہماری آزادی ،استحکام ،بقا اور مضبوطی کا ضامن ہے۔مذہب پرست جماعتوں اور شدت پسندوں کی ایسی ہی سطحی اور غیر حقیقی سوچ کی وجہ سے انھیں ہمیشہ عوامی عدالت میں شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ وہ عوامی سوچ کا ساتھ د ینے کی بجائے غیر حقیقت پسندانہ موقف اختیار کرتے ہیں  جسے عوام مسترد کر دیتے ہیں لیکن افسوس تو اس بات  کا ہے کہ وہ پھر بھی عقل اور شعور سے کام نہیں لیتے اور اپنی باطل سوچ پر اڑے رہتے ہیں ۔
تحر یکِ پاکستان میں بھی تو انھوں نے ایسے ہی غیر حقیقی رویوں کا مظاہرہ کیا تھا اور منہ کی کھائی تھی اور انشا اللہ اب بھی شکست ایسے عناصر کا مقدر ہو گی کیونکہ فریب اور جھوٹ کو کوئی شکست سے بچا نہیں سکتا اور سچ کی جیت کے آگے بند باندھنا کسی کے بس میں نہیں ہوتا اور سچ یہی ہے کہ دھشت گردی کے خلاف موجودہ جنگ پاکستان کی جنگ ہے اور دھشت گردوں کو شکست دینا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
تحریر : طارق حسین بٹ

Share this:
Tags:
afghan Army karachi pakistan TARIQ BUTT terrorism افغان پاکستان دھشت گرد
zardari
Previous Post صدر زرداری سے گورنر سندھ کی ملاقات
Next Post لیلتہ القدر

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close