Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 4, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

ستیزہ کار

September 19, 2011 0 1 min read
TARIQ BUTT
TARIQ BUTT
TARIQ BUTT

دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقدس ترین الہامی کتاب قرآنِ کریم کا آغاز مولائے کل نے اَلحَمدُ للہ رَبِ ا لعالَمِین سے کرکے پوری انسانیت کو اپنے سامنے سرنگوں ہونے کا حکم دے رکھا ہے ۔ خدائے علیم و بصیر نے بڑے واضح انداز میں پیغام دے دیا ہے کہ صرف خدا کی ہستی ہی قابلِ پرستش اور لائقِ عبادت ہے۔ اسی سے اپنی حاجات اور آرزئوں کی دعائیں مانگیں جا سکتی ہیں اور صرف اسی کے سامنے جھکا جا سکتا ہے۔ ظاہر ا    اَلحَمدُ للہ رَبِ ا لعالَمِین کے یہ چار (٤)الفاظ بہت مختصر سے نظر آتے ہیں لیکن ان کے اندر معار ف و معنی کا بحرِ بیکراں ٹھاٹھیں مار رہا ہے۔ اَلحَمدُ للہ رَبِ ا لعالَمِین کے یہی مختصر سے چار الفاظ اس جہانِ رنگ و بو میں ربِ ذولجلال کی ہستی کے بزرگ و بر تر اور اعلی وارفع ہو نے کا اعلان بھی ہیں اور اسکے واحدہ لاشریک ہونے کا اظہار بھی ہیں۔
اَلحَمدُ للہ رَبِ ا لعالَمِین کے یہ چند الفاظ دنیا کو باور کراتے ہیں کہ خدا ہی کے قبضہِ قدرت میں ہر ذی روح کی جان ہے اور وہی سب کا آقاو مولا ہے اور روزِ محشر اسی کے سامنے سب کو پیش ہونا اور اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔ خدا ہی وہ واحد ہستی ہے جسکی پوری کائنات میں حمد و ثنا کی جا سکتی ہے اور اسے ہی اپنی ساری آرزئوں کا مرکز بنا یا جا سکتا ہے کیونکہ وہی تو ہے جو سبکی مردایں پوری کرنے اور جھولیاں بھرنے کی طاقت رکھتا ہے۔وہی تو ہے جو کُل شیِِ قدیر ہے۔   اس میں شک و شبہ کی مطلق کوئی گنجائش نہیں کے کہ خدا ہی اس کائنات کو عدم سے وجود میں لایا ہے۔جو کوئی بھی خدا کے علاوہ کسی اور سے حاجت روائی کا تصور کرتا ہے وہ شرک کا مرتکب ہو تا ہے اور شرک کو خدا کے ہاں معافی کی کوئی گنجائش نہیں ہے اس کی وجہ یہ نہیں کہ خدا اپنے کسی مدِ مقابل کو برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں ہے کیونکہ اگر ایسا ہو تا تو پھر ابلیس کو قیامت تک لوگوں کو گمراہ کرنے اور انسانوں پر اپنا زور چلانے کی اجازت مرحمت نہ فرمائی جاتی۔
حقیقت یہ ہے کہ خدا شرک کو اس لئے پسند نہیں فرماتا کیونکہ وہ شرک کو انسانیت کی تذلیل سمجھتا ہے۔ خدائے بزرگ و بر تر کی موجودگی میں اپنے جیسے دوسرے انسانوں کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا اور ن سے مرادیں مانگنا انسان کی تذلیل نہیں تو پھر اور کیا ہے اور یہی و جہ ہے کہ خدا ہر قسم کے شرک کو ناقابلِ معافی جرم قرار دیتا ہے۔جھکناہے تو اس اعلی وبرتر ہستی کے سامنے جھکو جو ہر شہ کا خالق و مالک ہے،جو مالکِ روزِ جزا ہے، جس نے اپنی قدرتِ کاملہ سے تمام موجودات کو وجود بخشا، انکی ٹھیک ٹھیک ترتیب فرما ئی اور جس کا فضل و کرم اور عنائیت ہی انسانوں کو نارِ جہنم سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔ جس کی رحمت ان پر نوزشوں کی بارش برسا سکتی ہے،ان کیلئے جنت کے دروازے کھول سکتی ہے اور انھیں ایسی زندگی عطا کر سکتی ہیں جس میں دودھ کی نہریں بہتی ہوں گی اور جس میں وہ  ہمیشہ ہمیشہ کیلئے رہیں گئے۔ بے خوف و خطر ،خوش و خرم اور حزن و ملال سے پاک۔
پوری دنیا کہ صاحبِ نظر لوگوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ایک وقت ایسا تھا جب کچھ بھی نہ تھا صرف خدا تھا لہذا خدا نے چاہا کہ میں پوشیدہ نہ رہوں بلکہ پہچا نا جائوں۔ جب اس نے خود کو اپنی صفات کے آئینے میں د یکھنے کا قصد کیا تو اس نے انسان کی تخلیق کا فیصلہ کیا اسی لئے تو انسان کو احسنِ تقویم کہا گیا ہے۔ خدا نے اپنی بہت سی صفات کا ہلکا ہلکا شمہ انسان کی فطرت میں ودیعت کر دیا تا کہ وہ اگر اس زمین پر اس کے اظہار کا پرتو ہے توپھر اس میں خدائی صفات کی موجودگی بھی ضروری ہے۔ خلیفة الارض حدِ بشریت میں رہتے ہوئے خدائی صفات کا عکس اپنے اندر رکھتا ہے لہذا ضروری تھا کہ انسان خدا کی عطا کردہ ان تمام صفات کو انسانیت کی فلاح و بہبود اور اس کی نجات کیلئے صرف کرتا لیکن اس کے بر عکس انسان نے  اَلحَمدُ للہ رَبِ ا لعالَمِین میں پوشیدہ صفتِ رحمانی کا صحیح ادراک کرنے،ا س پر لبیک کہنے اور اس پر خصوصی توجہ د ینے کی بجائے خود کو ہی الوہیت کے مقام پر فائز کر لیا اور نسانوں کو اپنی اطاعت کرنے پر مجبور کر دیا۔
انھیں بزورِ قوت اس بات پر مجبور کیا کہ وہ اس کے سامنے سجدہ ریز ہو جائیں اور سے خدا سمجھ کر اس سے اپنی حا جت روائی کی بھیک مانگھیں حضرت موسی کے قصے میں جب حضرت موسی فرعون کے سامنے خدا کا  تصور رکھتے ہیں اور اسے بتاتے ہیں کہ خدا وہ ہے جو انسانوں کو زندگی عطا کرتا ہے اور وہی ہوے جو انھیں موت سے ہمکنار کرتا ہے تو تو فرعون کہتا ہے کہ یہ تو میں روز ایسا کرتا ہوں ۔میرے حکم  پر بھی زندگی اور موت کے فیصلے صادر ہو تے ہیں لہذا  تسلیم کرو کہ میں خدا ہوںحضرت موسی کہتے ہیں کہ میرا خدا تو سورج مشرق سے نکالتا ہے اگر تو خدا ہے تو سورج کو مغرب سے نکال کر دکھا لیکن اس دلیل کا اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا لہذا حضرت موسی کو ذلیل و خوار کر کے دربارِ فرعون سے نکال دیا گیا۔
انسانی تاریخ ایسے بے شمار افراد کے تذ کروں سے بھری پڑی ہے جنھوں نے اَنا رَ بُکُم  کا نعرہ بلند کر کے انسانیت کو اپنے آہنی پنجوں میں جکڑ کر اپنے ظلم و ستم کا نشانہ بنا یا۔انسانیت چیختی چلاتی رہی بین کرتی رہی روتی اور کرلاتی رہی لیکن ان سفاک اور بے رحم انسانوں کے اندر جذبہِ تر حم کبھی بیدار نہ ہوا۔ وہ انسانی کھوپڑیوں کے مینار بنا تے گئے، تیز دھار آروں میں انسانوں کو چیرتے رہے، ابلتے تیل کے گرم کڑاھوں میں انسانوں کو زندہ تلتے رہے اور کبھی کبھی آگ کے شعلوں میں جلا کر خا کستر بھی کرتے رہے کیونکہ ان کا مقامِ الو ہیت ان سے انہی رویوں کا تقاضہ کر رہا تھا۔
انانیت کا مادہ شائد ا نسانی تخلیق کے ساتھ ہی انسان میں ودیعت کر دیا گیا تھا تبھی تو اس کی کوئی حدودو قیود نہیں ہیں۔ انانیت پرستی کی شمشیرِ برہنہ نے جس قدر شدید نقصان انسانیت کو پہنچایا ہے وہ بیان سے باہر ہے۔ انسانیت نے جتنے گہرے گھائو انسان کی اس صفتِ انانیت سے کھائے ہیں شائد کسی اور صفت سے نہیں کھائے ۔ ضد، ہٹ دھرمی، انتقام ، زیر دستوں پر جو رو ستم اور اپنے موقف کی اٹل سچائی پر غیر لچک دارانہ رویہ ایسے بنیادی عناصر ہیں جن سے انسا نیت کا بے رحم قتل کیا گیا اور ایسا کرتے وقت کسی بالا تر ہستی کا تصور تک دل میں جگہ نا پا سکا اور بیدار نہ ہو سکا۔ تا ریخ میں اس فکر و عمل کے سب سے بڑے نمائندے فرعون ،نمرود، شداد، قارون، ہامان، ابو جہل اور ابو لہب وغیرہ ہیں جنھیں صفحة ہستی سے مٹانے کیلئے خدا کو انبیائے کرام کو معبوث کرنا پڑا تاکہ ان کے جورو ستم سے انسانیت کو نجات مل سکے لیکن انسان کے ہاتھوں انسان پر ظلم و جبر کا یہ سلسلہ پھر بھی رک نہ سکا۔
جدید تاریخ میں دو عالمی جنگوں نے جس طرح کروڑوں انسانوں کے قتلِ عام کا منظر د کھایا وہ انتہائی بھیانک تھا لیکن اس کے باوجود بھی مقامِ الوہیت پر فائز ہونے کے انسانی رویوں میں کوئی کمی نہ آئی۔حالیہ چند برسوں میں دنیا کی اکلوتی سپر پاور امریکہ نے عراق اور افغانستان پر فوج کشی کر کے جس طرح لاکھوں لوگوں کو موت کے منہ میں دھکیلا اس کی مثال تلاش کرنا بھی مشکل ہے۔ جھوٹ اور بد نیتی کی بنیادوں پر ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کی ایک فرضی کہانی تخلیق کی گئی اور پھر عراق پر حملہ کر کے اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی۔  عراق دہائی دیتا رہا کہ مجھ پر سارے الزمات جھوٹ کا پلندہ ہیں اور امریکہ کی توسیع پسندانہ عزائم کا حسہ ہیں لیکن کوئی ایک ملک بھی عراق کا ساتھ دینے کے لئے تیار نہ ہوا کیونکہ امریکی رعونت کے سامنے کھڑا ہونا کسی کے بس میں نہیں تھا۔
حیف صد حیف کہ اَلحَمدُ للہ رَبِ ا لعالَمِین کے اندر مالکِ کون و مکاں کیلئے پوشیدہ حمد و ثناء کا جلوہ کسی طرح بھی انسانوںکی فکر و عمل کے اندر جلوہ افروز نہ ہو سکا بلکہ اس کے بر عکس ا نھوں نے خدائی دعوی کر کے دوسرے انسانوں کو اپنا غلام بنا نے کا ارادہ کر لیا۔ا گر ہم بنظرِ تعمق دیکھنے کی کوشش کریں تو انسانیت کی پوری تاریخ جبر سے رہائی اور مستقل اقدار کے احیا اور نفاذ کی داستان ہے۔کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسانوں کی بے پناہ قربانیوں اور جدو جہد کے سامنے تخریبی قوتیں کمزور پڑ جاتی ہیں اور کمز ورو ناتواں لوگ عزت و تکریم اور اقتدار سے سے نوازے جاتے ہیں ۔اگر چہ ایسا شاذو نادر ہو تا ہے اور صد یوں میں کبھی کبھار ایسا ہو تا ہے لیکن بہر حال ہوتا ضرور ہے۔ تاریخ کے ایسے شاذو نادر لمحات کو دنیا انقلاب کے نام سے یاد کرتی ہے لیکن اس انقلاب کے دور کا دورانیہ بھی بہت مختصر ہوتا ہے۔
حکومت، اقتدار، مال و دولت ،اختیار و ارادہ اور بے پناہ قوت کا سحر آخرِ کار انقلابیوں کو بھی اپنے پیشر ئوو ں کے رنگ میں رنگ دیتا ہے اور وہ بھی ظلم و ستم کا بازار گرم کر نے ور نا انصافیوں کو پروان چڑھانے کی جانب پیشقدمی شروع کر دیتے ہیں جس سے دنیا  پر نا انصافی اور ظلم و جبر بھر سے اپنی باہیں پھیلانا شروع کر دیتا ہے۔ استبدادی اور استحصالی قوتیں روپ بدل کر نئے حکمرانوں کی کاسہ لیس بن جاتی ہیں اور پھر ذرائع پیداوار پر غلبہ حاصل کر کے انسانیت کو دوبارہ اپنے آہنی پنجوں میں جکڑ لیتی ہیں اور لوگوں کو اپنی نفسانی خو ا ہشات کا غلام بنا کر ان کی زندگی کو اجیرن بنا کر رکھ دیتی ہیں۔ جس برائی کے خاتمے کے لئے انسانوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے تھے،سرِ دار جھولے تھے،خون کا خراج دیا تھا ،زندانوں کی بے رحم صعوبتوں کو برداشت کیا تھا اور سخت جدو جد کے بعد تبدیلی کو یقینی بنا یا تھا قصہ پارینہ بن جاتی ہے ۔۔ تاریخ ہمیں بتا تی ہے کہ ازل سے یہی ہوتا آیا ہے اور ابد تک ایسے ہی ہوتا رہے گا کیونک انسان کے اندر مقامِ الو ہیت پر فائز ہونے کی خواہش تمام خواہشوں سے قوی تر ہوتی ہے اور مقامِ الوہیت پر فائز ہونے کی اس کی یہ مکروہ خواہش ہمیشہ خونِ انسان سے ہی تکمیل، رعنائی اور توانائی حاصل کر تی ہے لہذا ظلم و ستم کا بازار گرم ہو نا ایک فطری عمل ہوتا ہے جس کا مشاہدہ ہم روزانہ اپنی کھلی آنکھوں سے کرتے رہتے ہیں۔انسا نیت کے خلاف نا انصافی اور عدمِ مساوات کا جو چلن اس وقت دیکھنے کو مل رہا ہے اس کا تقاضا ہے کہ ہم حق و انصاف کے لئے اپنی جدو جہد تیز کر دیں کیونکہ انسانیت کو امن کی جتنی ضرورت اس وقت ہے شائد اس سے قبل یہ ضرورت کبھی اتنی شدید نہیں تھی۔ انسانیت امن کی متلاشی ہے اور کرہِ ارض کے حکمران جنگ و جدل کے آرزو مند ہیں تا کہ کمزور اور نا تواں قوموں کو اپنا غلام بنا کر ان پر اپنا تسلط قائم کرلیں اور پھر انھیں اپنی اطاعت پر مجبور کر دیں ۔ مقامِ الو ہیت پر فائز ہو نے کی  یہی ہے وہ روش جس کی وجہ سے انسانوں کی ہر بستی فساد کا منظر پیش کر رہی ہے۔
دھشت گردی اور شدت پسندی معاشرتی قدروں اور امن کا خون کر رہی ہے اور انسانیت ان بلائوں کے ہاتھوں نوحہ خواں ہے۔ جھوٹ اور سچ، مکر و فریب اور حق و باطل کے درمیان یہ جنگ اس وقت تک جاری و ساری رہے گی جب تک دنیا مستقل اقدار کی محافظ بن کر کھڑی نہیں ہو جاتی اور جورو جبر کو جڑ سے اکھاڑنے کا قصد نہیں کر لیتی۔ یاد رکھو عدل و انصاف کی حکمرانی قائم کرنے کی آرزو ہے تو پھر جبر کے سامنے ڈٹ جانا ہو گا اور جب کبھی بھی عوام الناس باطل کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند ڈٹ جاتے ہیں تو فتح حق کا ہی مقدر بنتی ہے کیونکہ یہی مالکِ کائنات کا اٹل فیصلہ ہے کہ آخرِ کار حق کے سامنے باطل کو شکستِ فاش سے دوچار ہو کر مٹ جانا ہے کیونکہ باطل کا کام ہی مٹ جانا ہوتا ہے۔سچائی کی جیت یقینی ہوتی ہے لیکن اسے خونِ جگر چائیے اور خونِ جگر کے لئے جراتیں درکار ہوتی ہیں اور جراتیں منجمد اندھیروں میں سچ کے سورج کو طلوع کرنے کے لئے جان ہتھیلی پر رکھ کر میدانِ عمل میں نکل پڑنے کا تقاضا کرتیں ہیں۔
جو کوئی بھی راہِ وفا میں یہ معجزہ سر انجام دے جاتا ہے فتح اسی کا مقدر بن جاتی ہے۔یہ فتح در حقیقت مقامِ الوہیت پر فائز ہونے والوں کی ہر خواہش کے ابطال کا اعلان ہوتی ہے کیونکہ اس فتح کے دامن میں عوام الناس کی محبت کے رنگ برنگے پھول سجے ہوتے ہیں۔ ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز۔۔ چراغِ مصطفوی سے شرارِ بو لہبی       (ڈاکٹر علامہ محمد اقبال)تحریر : طارق حسین بٹ

Share this:
Tags:
Qur'an TARIQ BUTT World دنیا
clinton
Previous Post ہلری کلنٹن کی پاکستانی ہم منصب حنا ربانی کھر سے تفصیلی ملاقات
Next Post اسفند یار پر ڈالر لینے کا الزام، الطاف حسین نے الفاظ وآپس لے لئے
altaf bhai

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close