Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

سول آمریت

August 11, 2011 0 1 min read
voting pakistan
voting pakistan
voting pakistan

اُنیس سو ستانوے کے انتخابا ت ایسے انتخابات تھے جن میں میاں محمد نواز شریف کی مسلم لیگ نے دو تہائی اکثریت حاصل کی تھی اور یوں میاں محمد نواز شریف ذولفقار علی بھٹو کے بعد ملک کے سب سے طاقتور وزیرِ اعظم بن کر ابھرے تھے۔ان انتخابات میں جسطرح سے پاکستان پیپلز پارٹی کے خلاف سازشیں کی گئیں وہ سب کے علم میں ہیں۔صدرِ مملکت سردار فاروق لغاری اور میاں برادران کے درمیان شراکتِ اقتدار کا ایک خفیہ سمجھوتہ طے پا یاتھا جس میں پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کے خلاف میڈیا ٹرائل کاایک بھیانک سلسلہ شروع کیا گیاتھا اور یوں ان ا نتخابات میں میاں محمد نواز شریف کی جماعت کیلئے جیت کی راہ ہموار کی گئی تھی۔ گھوڑے آملیٹ کھا تے ہیں اسی دور کا ایک ایسا جملہ تھا جسے آصف علی زرداری کو گرفتار کرنے اور ان پر مقد مہ چلانے کیلئے عوام میں مقبول بنا یا گیا تھا۔ آصف علی زرداری اپنی گرفتاری کے بعد لگا تار ساڑھے آٹھ سال تک قیدو بند میں رہے۔ مسلم لیگ (ن) کی انتخابات میں واضح کامیابی کے بعد میاں محمد نواز شریف ایک منتقم المزاج حکمران کی شکل میں سامنے آئے۔ سارے وعدے، یقین دہانیاں اور قسمیں دھری کی دھر رہ گئیں ۔ میاں برادران اور فاروق احمد لغاری کے درمیان خفیہ سمجھوتہ تارِ عنکوبت ثابت ہوا کیونکہ اب میاں برادران کو فاروق احمد لغاری کی چنداں ضرورت باقی نہیں رہی تھی کیونکہ میاں محمد نواز شریف نے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت حاصل کر لی تھی۔ اقتدارِ مطلق کی خوا ہش کی بنا پر دونوں اہم کرداروں کے درمیان شدید نے جنم لیا اور یوں پی پی پی کو تختہِ مشق بنانے والے دونوں بڑے کردار ایک دوسرے کے خون کے پیا سے ہو گئے۔ میاں محمد نواز شریف چونکہ پارلیمنٹ میں بڑی واضح اکثریت رکھتے تھے لہذا فاروق احمد لغاری کے لئے کوئی جائے عافیت باقی نہیں بچی تھی۔ پی پی پی نے بھی فاروق احمد لغاری سے آنکھیں پھیر لی تھیں کیونکہ لغاری صاحب کی ہوسِ اقتدار کی وجہ سے ہی تو پی پی پی کو ہزیمت اٹھا نی پڑی تھی۔میاں محمد نواز شریف نے فاروق احمد لغاری کو بڑی ذلت اور رسوائی سے ایوانِ صدر سے رخصت کیا ۔رفیق ا حمد تا رڑ نئے صدر منتخب ہو گئے اور یہی سے میاں محمد نواز شریف کی سول آمریت کی راہیں ہموار ہوئیں جس کی وجہ سے انھوں نے اپنے مخالفین کا جینا حرام کر دیا۔میاں محمد نواز شریف نے سب سے پہلے اپو زیشن لیڈر محترمہ بے نظیر بھٹو کو اپنے انتقام کا نشانہ بنا یا ۔ بی بی پر ملکی عدالتوں اور غیر ملکی عدالتوں میں کرپشن کے کئی مقدمات قائم کئے تاکہ اپنی سب سے بڑی سیاسی حر یف کو سیاست سے بے دخل کر کے میاں صاحب سیا ہ و سفید کے مالک بن جا ئیں اور ا میر المومنین بننے کا ان کا دیرینہ خواب شرمندہِ تعبیر ہو جائے۔اپنے اس جذبے کی تکمیل کی خاطر پاکستانی خزانے سے اربوں روپے اس شرمناک مہم پر خرچ کئے گئے جس کا واحد مقصد بی بی کی شہرت کو داغدار کرنا تھا۔ میاں محمد نواز شریف کے دستِ راست سینیٹر سیف الرحمان ججز کو د ھمکیاں دیتے رہے انھیں مجبور کرتے رہے کہ وہ بی بی کے خلاف فیصلہ سنائیں۔ ریاستی جبر کے سامنے ججزکے پاس حکومت کی حسبِ ِ منشا فیصلہ سنانے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں تھاکیونکہ انھیں بھی اسی ملک میں رہنا تھا لیکن قدرت کے کھیل دیکھئے کہ سینیٹر سیف الرحمان اور ججز کی گفتگو کی وہ کیسٹ جس میں سینیٹر سیف الر حمان ججز کو فیصلہ سنانے پر مجبور کررہا تھا پر یس کو ریلیز ہو گئی اور یوں بی بی کی بے گناہی کا ثبوت بن گئی۔ بے پناہ حکومتی جبر کی وجہ سے بی بی کو جلا وطنی پر مجبور ہو نا پڑا ۔ بی بی کو  کمزور کرنے کی خاطر ان کے شوہر آصف علی زرداری پر بھی اسی نوع کے بے شمار مقدمات دائر کر دئے۔ انھیں زندانوں کی بے رحم ساعتوں کے حوالے کیا گیا جس میں انھوں نے اپنی زندگی کے قیمتی ساڑھے آٹھ سال گزارے لیکن میاں صاحب کی آمریت کے سامنے جھکنے سے صاف انکار کردیا۔ ا پنی سول آمریت اور بے پناہ ظلم و جبر میں میاں محمد نواز شریف بھول گئے تھے کہ بی بی اس دلیر باپ کی بیٹی ہے جس نے شاہراہِ حیات پر سفرِ زندگی سر اٹھا کر طے کیا تھا لہذا یہ کیسے ممکن تھا کہ اسی شاہرہ پر اسکی شیر دل اور نامور بیٹی سر جھکا کر گز ر جاتی۔ شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی صد سالہ زندگی سے بہتر ہو تی ہے لہذا شیر دل بی بی نے ہر قسم کے ہتھکنڈوں کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے سے انکار کر  کے میاں صاحب کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔جلا وطنی قبول کر لی لیکن حق و صداقت کے پرچم کو سر نگوں نہ ہونے دیا۔۔  میاں محمد نواز شریف کے دور ِ حکومت میں عدلیہ کے وقار کو جس بری طرح سے مجروح کیا گیا تاریخِ پاکستان اسکی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سید سجاد حسین شاہ کے قتل کیلئے سپر یم کورٹ پر حملہ ایک ایساشرمناک واقعہ ہے جس پر ہر پاکستانی کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ چیف جسٹس سید سجاد حسین شاہ کو جسطر ح ساتھی ججوں کی بغاوت سے بر طرف کیا گیا وہ پاکستانی عدلیہ پر ا یسا سیاہ اور بد نما داغ ہے جسکو کسی بھی طرح سے اسکے چہرے سے دھویا نہیں جا سکتا۔ نوٹوں سے بھرے بر یف کیس کوئٹہ پہنچائے گئے۔ بریف کیسوں کا واحد مقصد چیف جسٹس سید سجاد حسین شاہ کی بر طرفی پر مہرِ تصد یق ثبت کر وا نا تھا لہذا کوئٹہ بنچ نے یہ کام انتہائی ذہانت اور ڈھٹائی سے سر انجام دیا اور جس شخصیت نے اس کارنامے کی انجام دہی میں کلیدی کردار ادا کیا تھا وہی شخصیت بعد میں صدرِ پاکستان کی مسند پر بٹھا ئی گئی ۔یہ سچ ہے کہ میاں محمد نواز شریف کی حکو مت کے خلاف ایک ایسا فیصلہ آنے وا لا تھا جسمیں ٥٨ (٢بی) کو قانون کا حصہ بنایا جانا تھا تا کہ صدرِ پاکستان سردار فاروق احمد لغاری میاں صاحب کی حکو مت کا تڑن تختہ کر سکیں  ، میاں صاحب پر اس ممکنہ فیصلے کے ایسے اعصا بی اثرات مرتب ہو ئے کہ انھوں نے سپریم کورٹ پر حملہ کر کے چیف جسٹس سید سجاد حسین شاہ کی زندگی کا چراغ گل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ صدرِ پاکستان کے آئینی اختیا رات کے استعمال سے میاں صاحب اتنے خوف زدہ تھے کہ وہ یہ بھول گئے تھے کہ انکے پاس تین چوتھائی اکثریت ہے اورچیف جسٹس سید سجاد حسین شاہ کا ممکنہ فیصلہ ان کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا لیکن جب دما غ میں انتقام چھا جائے تو پھر کچھ بھی سجھا ئی نہیں دیتا ۔ میاں محمد نواز شریف کسی وقت بھی صدرِ پاکستان سردار فاروق احمد لغاری کے خلاف عدمِ اعتماد(مواخذے ) کی تحریک پیش کر کے انھیں آسانی سے اپنے را ستے سے ہٹا سکتے تھے۔ میاں صاحب نے بعد میں مواخذے کی تحریک پیش کر کے ہی صدرِ پاکستان سردار فاروق احمد لغاری کومستعفی ہونے پر مجبور کر دیا تھا لیکن یہ سب کچھ اس وقت کیا گیا جب میاں صا حب سپریم کورٹ پر حملہ کر کے بدنامی کی سیاہی اپنے چہرے پر مل چکے تھے۔ اس حملے کی پوری ویڈیو موجود ہے لیکن مسلم لیگ (ن) ہے کہ پروں پر پانی نہیں پڑنے دیتی اور عدلیہ کے احترام کا ورد کرتے نہیں تھکتی۔۔ میڈیاکے خلاف میاں صاحب کی آمرانہ پالیسی نے آزاد میڈیا کے خواب کو چکنا چور کر کے رکھ دیا۔ میاں صاحب نے سب سے پہلا وار پاکستان کی ہر دلعزیز صحافی مدیحہ لودھی پر کیا اور انکے ایک آرٹیکل پر انکے خلاف بغاوت کا مقدمہ دائر کر دیا۔پی پی پی نے اس شرمناک فعل پر شدید احتجاج کیا اور صحافت پر اس شب خون کے خلاف ہر محاذ پر اسکے خلاف آواز اٹھا ئی اور مدیحہ لودھی کو ریاستی تشدد سے بچانے کی خاطر بھر  پور احتجاج کیا۔ یہ پی پی پی کی جدو جہد اور احتجاج کا ا ثر تھا کہ میاں صاحب کو دفاعی شارٹ کھیلتے ہوئے مدیحہ لودھی کے خلاف بغاوت کے مقدمے کو واپس لینا پڑا۔ ابھی یہ واقعہ فضائوں میں ہلچل مچائے ہو ئے تھا کہ میاں صاحب نے جنگ اخبار کے انتہا ئی سینئر اور قابلِ احترام ایڈیٹر ارشا احمد د حقانی کے خلاف مہم کا آغاز کر دیا۔ ارشاد احمد حقا نی بائیں بازو کے ایک ایسے صحافی تھے جو پی پی پی کے بارے میں نرم گوشہ رکھتے تھے اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے ناقدین میں شمار ہو تے تھے۔جنگ گروپ کے میر شکیل ا لر حمان پر دبائو ڈالا گیا کہ وہ ارشا احمد حقانی کو اپنے اخبار سے علیحدہ کر دیں کیونکہ انکے مسلم لیگ (ن) پر تنقیدی کالم برداشت سے باہر ہیں۔ معاملہ کافی طول پکڑ گیا کیونکہ میر شکیل ا لر حمان نے ارشا احمد حقانی کو جنگ گروپ سے فارغ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ میاں صاحب کی حکومت نے ٹیکس چوری او بد دیا نتی کے دو سر ے بہت سے مقدمات جنگ گروپ پر قائم کر د ئے جسکی وجہ سے جنگ اخبار وقتی طور پر بند ہو گیا۔عوام حیران و پریشان اس ساری صورتِ حال کا جائزہ لے رہے تھے اور حکمرانوں کی برداشت کا اپنی آنکھو ں سے مشا ہد ہ کر رہے تھے ۔ وہ یہ سمجھنے سے قاصر تھے کہ آخرارشا احمد حقانی سے کون سی ایسی خطا ہو گئی ہے جسکی پاداش میں جنگ اخبار کو بند کرنے کی نوبت آگئی ہے۔ بہر حال دونوں جانب سے بہت سے دوست اور بہی خواہ میدان میں کود پڑے تاکہ اس مسئلے کو کسی طرح سے سلجھا یا جائے۔ بڑی مشکل سے میاں صاحب کو راضی کیا گیا کہ وہ جنگ کے معا ملے میں اپنے رویے میں قدرے نرمی پیدا کریں۔ کئی ہفتوں کی بند ش کے بعد جنگ اخبارکو اشا عت کا اجازت نامہ ملا لیکن جنگ اخبار کو آزادانہ تنقید کو مصلحتوں کا شکار کرنا پڑا ۔ اور یوں زرد صحافت کی بنیادوں کو مزید توانائی عطا کی گئی۔ایک اور مشہورو معروف دانشور اور نا مور صحافی نجم سیٹھی  کے ساتھ میاں برادران نے جسطرح کا برتائو کیا وہ آج بھی میاں برادران کیلئے سوہانِ روح بنا ہوا ے۔ یہ ا ختلافِ رائے کی بنا پر ذاتی انتقام کی بد ترین مثال تھی جو نجم سیٹھی کے ساتھ روا رکھی گئی تھی۔ نجم سیٹھی کو جس طرح سے مشقِ ستم بنایا گیاا س نے میاں برادران کے چہرے پر پڑے ہوئے اس نقاب کو نوچ کر پھینک دیا جو انھوں نے آزاد میڈیا کے بارے میں اپنے چہروں پر سجا رکھا تھا۔۔  دانشو روں کا قول ہے کہ جمہوریت کا حسن ہی اختلافِ رائے میں مضمر ہوتا ہے ۔ اگر ہر معاملے میں یک رنگی ہو تو پھر جمود اور جبر کا تصور ذہن میں ابھرتا ہے جو جمہوری کلچر کے بالکل منافی ہوتا ہے۔ صحت مند تنقید کو ہمیشہ خوش آمدید کہنا چائیے تاکہ امورِ سلطنت بہتر انداز میں چلا ئے جا سکیں اپوزیشن جس اختلافِ رائے کا اظہار کرتی ہے اس میں حکمرانوں کی بہتری مضمر ہو تی ہے لیکن حکمرانوں کو ا ختلافِ رائے شائد نا گوار گزرتا ہے تبھی تو وہ کوئی بھی اختلافی بات سننے کے روادار نہیں ہو تے اور اگر کو ئی فرد یا ادراہ ان کی پالیسیوں اور اندازِ فکر سے اختلاف کرتا ہے تو اسے ٹھکانے لگانے کا سوچتے رہتے ہیں۔دراصل حکمران خود کو عقلِ کل کا مالک تصور کرتے ہیں اسی لئے کسی مشورے اور تنقید کو در خورِ اعتنا نہیں سمجھتے اور اسی طرح کا اظہار میاں محمد نواز شریف کی ذات سے بھی ہو رہا تھا تبھی تو انھوں نے نامور صحافیوں کے ساتھ متشدد رویہ اپنا رکھا تھا۔بیوو کریسی کی تذلیل ایک علیحدہ داستان ہے۔فیصل آباد میں سینر سول افسروں کو شہنشا ئے وقت میاں محمد نواز شریف کے دربار میں جس طرح ہتھکڑیوں میں پیش کیا گیا اور ان کی بھر پور تذلیل کی گئی وہ ایک علیحدہ داستان ہے ۔ باعثِ حیرت ہے کہ آج کل میاں برادران اسی بیو و کریسی اور سینئر افسراں کے تحفظ اور وقار کے لئے باقاعدہ مہم چلا رہے ہیں۔ انھیں گورنمنٹ کے خلاف بغاوت پر اکسا رہے ہیں اور گورنمنٹ کو دھمکیاں دے رہے ہیں جب کہ بیوو کریسی کے حوالے سے ان کا اپنا ماضی انتہائی شرمناک ہے۔۔فوج کے ڈسپلن کو جس بھونڈے انداز سے تبا ہ وبرباد کرنے کی کوشش کی گئی وہ ایک علیحدہ داستان ہے۔آصف نواز جنجوعہ کی پر اسرار موت کے سائے ابھی گہرے تھے اور آصف نواز جنجوعہ کی موت کے حوالے سے انگلیاں میاں برادران کی جانب اٹھ رہی تھیں۔ میاں برادران سخت دبائو میں تھے کہ انتخابات میں انھیں دو تہائی اکثریت نصیب ہو گئی لہذا انھوں نے فوج سے حساب برابر کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ بڑے ہی تضحیک آمیز طریقے سے جنرل جہانگیر کرامت کواپنی رہائش گاہ پر بلا کر مستعفی ہونے پر مجبور کیا گیا۔ انکے تمغے اور سٹارز اتار کر پھینک دئے گئے اور انھیں ذلیل و خوار کر کے ا ستعفی دینے پر مجبور کیا گیا۔ جنرل جہانگیر کرا مت کا قصور صرف اتنا تھا کہ اس نے آصف نواز جنجوعہ کی طرح میاں برادران کا ذاتی ملازم بننے سے انکار کر دیا تھا۔ جنرل جہانگیر کرامت کو فوج کا ڈسپلن، اسکا وقار اور احترام عزیز تھا لہذا اسکے پاس ا ستعفی دینے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا تھا۔ جنرل پرویز مشرف کے ساتھ بھی میاں برادران نے ایسا ہی کھیل کھیلا ۔ انھیں سری لنکا کے سرکاری دورے کے دوران انکی غیر حاضری میں سبکدوش کر کے اپنے سسر ا لی جرنیل خواجہ صلاح الدین بٹ کو آرمی چیف کے عہدے پر فائز کر دیا گیا لیکن الٹی ہو گئیں سب تدبیریں دل نے کچھ نہ کام کیا کے مصداق فوجی قیادت نے میاں صاحب کا یہ فیصلہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور ایک بہتر حکمتِ َ عملی سے اس حکم نامے کو غیر مو ثر کر کے رکھ دیا۔جنرل پرویز مشرف کو انکے عہدے سے ہٹانے کا یہی آمرانہ فیصلہ میاں محمد نواز شریف کے زوال کا باعث بنا اور وہ وزیرِ اعظم ہائوس سے سید  ھے جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچ گئے۔ دوسروں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنے والے میاں برادران جیل کی سختیوں کے سامنے کیسے ڈھیر ہوئے میں،ان کی ہمت کیسے جواب دے گئی اور انھوں نے معافی نامہ لکھ کر کیسے جان بچا ئی ایک انتہائی دلچسپ داستان ہے لہذا سول آمریت کی اس عبرت انگیز داستان کا پاکستان کے ہر شہری کیلئے جاننا انتہائی ضروری ہے تا کہ اصل حقائق تک رسائی ممکن ہو سکے۔
تحریر : طارق حسین بٹ

Share this:
Tags:
government voting انتخابات پیپلز پارٹی
Previous Post بشری حجاب رخ پہ سجایا حضور نے
Next Post پشاور : لاہوری گیٹ کے قریب پولیس چوکی پر دھماکہ تین ہلاک
peshawar

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close