Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

سچائی کا علم

October 11, 2012October 11, 2012 0 1 min read
TARIQ BUTT
 TARIQ BUTT
TARIQ BUTT

پاکستان میں آجکل بڑی آہ و کار مچی ہوئی  ہے اور ہر کوئی اپنی اتھارٹی کے سپریم ہونے کا اعلان کر رہا ہے۔جو سپریم نہیں ہے وہ بھی سپریم بن رہا ہے اور جو حقیقت میں سپریم ہے اسے کوئی سپریم ماننے اور اس کی توقیر کرنے کیلئے تیار نہیں ہے ۔ جو ادارہ اس وقت سب سے زیادہ بے بسی کی تصویر بنا ہوا ہے وہ پارلیمنٹ کا ادارہ ہے جو بنیادی طور پر سب اداروں کی حد و دو قیود کا تعین کرتا ہے اور ا نھیں چند بنیادی ضا بطوں اور اصلولوں کا پابند کرتا ہے ۔ آج کے جمہوری دور میں اس ادارے کو پارلیمنٹ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔پارلیمنٹ کے لئے آئین میں کوئی پابندی نہیں کہ وہ کون سا قانون بنا نا چاہتی ہے اور کون سا قانون بدلنا چاہتی ہے۔اسے دو تہائی اکثریت کے ساتھ آئین میں کمی،اضافہ یا بدلائو کا مکمل اختیار دیا گیا لیکن خود کو سپریم سمجھنے والا مخصوص ادارہ آئین کی اس ہدائت کو بھی تسلیم کرنے سے گریزاں ہے جو اس بات کا بین ثبوت ہے کہ وہ مخصوص ادارہ اپنی حدود سے تجاوز کر کے آئین شکنی کا مرتکب ہو رہا ہے۔ صدرِ پا کستان پر یہ ذمہ داری ہو تی ہے کہ وہ ایسی آئین شکنی کا نوٹس لے اور ہر اس شخصیت کو جو اس آئین شکنی کی مرتکب ہو رہی ہے اس کا مواخذہ کرے تا کہ آئین و قانون کی حکمرا نی پر حرف نہ آئے۔ اس وقت کی تصادمی فضا میں صدرِ مملکت کا اقدام شائد موجودہ تصا م کو مزید ہوا دے دے لیکن راہنمائوں کی عظمت کا فیصلہ ایسے ہی مشکل اور دگر گوں حالات میں ہو تا ہے۔

سچائی پر ایمان قوی ہو تو پھر شکست کا سارا خوف خود ہی ہوا ہو جاتا ہے۔سچائی خود ہی اپنی جیت کا اعلان ہو تی ہے۔ سچائی قوت کی علامت ہو تی ہے لہذا یہ کسی بھی قوت سے خوف زدہ نہیں ہو تی بلکہ اپنی سچائی کی قوت سے آگے بڑھتی رہتی ہے۔تاریخ ہمیں بتا تی ہے کہ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے وصال سے قبل ایک لشکر روم کی جانب روانہ کرنے کا حکم صادر فرمایا تھا جس کا سپہ سالار غلام ابنِ غلام اسامہ بن زید کو مقرر کیا گیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد ریاست پر سیاسی ابتری کا ایک رنگ اغلب ہو گیا تھا جس کے دوران سورشوں نے ایسا سر اٹھا یا کہ اسامہ بن زید کے لشکر کی روانگی پر سوالیہ نشان لگ گئے۔جید صحا بہ کرام کی رائے یہی تھی کہ اس لشکر کی رخصتی کو وقتی طورپر روک دیا جائے۔

حضرت عمر بن خطاب بھی اسی خیال کے حامی تھے کہ اس وقت اس لشکر کی روانگی سیاسی لحاظ سے موزوں نہیں ہے لہذا اس کو وقتی طور پر روک دینا چائیے ۔ابو بکر صدیق نے سب کی سنی لیکن فیصہ یہ ہوا کہ وہ لشکر اپنے پروگرام کے مطابق ر خصت ہو گا۔ صدیقِ اکبر نے فرمایا کہ وہ لشکر جس کی رخصتی کا حکم سرکارِ دو عالم ۖ نے فرمایا تھا اس لشکر کو روک دینے کا اختیار ابو بکر صدیق کے پاس نہیں ہے ۔ انھوں نے فرمایا کہ اگر ایسا وقت بھی آجائے کہ میں مدینہ میں اکیلا رہ جائوں اور مجھے خدشہ ہو کہ بھیڑیے مجھے چیر پھاڑ کر کے ر کھ دیں گئے لیکن یہ لشکر پھر بھی روانہ ہو گا کیونکہ اس کی روانگی کا حکم سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دے رکھا ہے۔عزیزانِ من وہ لشکر اسامہ بن زید کی سر کردگی میں روانہ ہ ہوا جس نے ہر سو اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑے اور اسلامی ریاست کی قوت و حشمت کی دھاک سارے علاقے میں قائم کر دی ۔ امریکہ میں1860 کی خانہ جنگی تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہے جس میں غلامی کے خلاف ایک بڑی جنگ لڑی گئی تھی۔ امریکی صدر ابراہم لنکن غلامی کاخاتمہ چاہتے تھے لیکن امریکی عوام کی اغلب اکثرت اس قانون کے خلاف تھی لیکن ابرا ہم لنکن نے سچائی پر لبیک کہتے ہوئے غلامی کو خلافِ قانون قرار دینے کا اعلان کر کے ایک طویل خانہ جنگی کا سامنا کیا اور اسی خانہ جنگی کے بھڑکتے ہوئے شعلوں میں اس نے اپنی جان کا نذرانہ بھی پیش کیا لیکن اس نے غلامی کے خاتمے کے جس عظیم سچ کا ساتھ دیا تھا وہ آج بھی زندہ ہے اور ابراہم لنکن پوری دنیا میں ایک ایسے انسان کی صورت میں پہچانے جاتے ہیں جس نے غلامی کے خا تمے کا اعلان کر کے انسانیت پر احسانِ عظیم کیا تھا۔آخری جیت ابراہم لنکن کا مقدر بنی تھی کیونکہ وہ سچائی کا علم اٹھائے ہوئے تھا اور سچائی کا علم کبھی بھی سرنگوں نہیں ہوتا۔5 جولائی19977 میں جنرل ضیا الحق نے ذولفقار علی بھٹو کی آئینی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا لیکن ذولفقار علی بھٹو نے جنرل ضیا الحق کے ما رشل لا کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ اسے اس گستاخی کی پاداش میں اپنی جان سے ہاتھ دھونے پڑے تھے لیکن آئین و قانون کے تقدس کی خاطر ذولفقار علی بھٹو کی قربانی رنگ لائی اور ملک میں جمہوریت کا سورج طلوع ہوا۔

ذولفقار علی بھٹو کو ساری دنیا میں جمہوری قدروں کے احیا کی علامت گردانا جاتا ہے جب کہ اس کا قاتل جنرل ضیا ا لحق ایک سفاک اوربے رحم حکمران کی حیثیت سے پہچانا جاتا ہے اور اس کی اپنی اولاد اس کا نام لینے سے کتراتی ہے جب کہ ذولفقار علی بھٹو سے پوری دنیا کے حریت پسند محبت بھی کرتے ہیں اور اس کی جراتوں کو سلام بھی پیش کرتے ہیں۔۔

جب کوئی بھی بھی ادارہ اپنی حدود سے تجا وز کر جائے اور کسی ضابطے اور قانون کی پابندی سے ماورا ہو جائے اس وقت اس کی تنزلی یقینی ہوتی ہے۔عدلیہ اس وقت اسی روش پر گامزن ہے ۔موجودہ حکومت کے خلاف بڑی پھرتیاں دکھا رہی ہے اور بڑی تندہی کا مظا ہرہ کر رہی ہے لیکن جب اس کی اپنی باری آتی ہے تو اس وقت اس کا انداز بالکل بدل جاتا ہے۔ارسلان افتخار کے خلاف عدلیہ کا رویہ بالکل ناقابلِ فہم ہے ۔ ملک ریاض کے خلاف اس نے جس طرح کا رویہ اپنایا ہوا ہے اس طرح کا رویہ ارسلان افتخار کے خلاف دیکھنے میں نہیں آرہا۔ارسلان افتخار کو عدلیہ نے پھولوں کی طرح رکھا گیا ہے اور نیب انکوائری کمیٹی کے خلاف ارسلان افتخار کی ایک درخواست پر عدلیہ میں کھلبلی مچ گئی تھی۔ نتیجہ بالکل صاف ہے کہ سپریم کورٹ نے ارسلان افتخار کے خلاف ساری کاروائی کو تا حکمِ ثانی روک دیا ہے جب کہ دوسری طرف ریاض ملک کو جیل بھیجنے کیلئے عدلیہ بڑی مستعد نظرآ رہی ہے ۔سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرما یا تھا کہ مجھے قسم ہے اس خدا کی جس کے قبضہِ قدرت میں میری جان ہے اگر فاطمہ بنتِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی چوری کرے گی تو اس کے ہاتھ بھی کاٹ دئے جائیں گئے ۔انصاف کی دنیا میں فصاحت و بلاغت سے قانون کی حکمرانی کے اتنے واضح ، گہرے،شفاف اور قوی ترین جذبات کا ملنا نا ممکن ہے۔

سچ تو یہی کہ عدالت کی نظر میں اس بات کی کوئی اہمیت نہیں ہونی چائیے کہ عدالت کے کٹہرے میں کون کھڑا ہے بلکہ یہ ہونا چائیے کہ ملزم پر جو الزامات لگائے گئے ہیں ان میں کتنا دم خم ہے اور پھر گوائیاں، شہادتیں اور واقعات الزامات کی صداقت پرکھنے میں کتنے کارگر ہیں؟ آئین و قانون میں تعلقات،دوستیاں ، رشتے داریا ں اور مراسم اہم نہیں ہو تے کیونکہ عدالت نے انصا ف و قانون کو پیشِ نظر رکھ کر فیصلے کرنے ہوتے ہیں لیکن عوام محسوس کر رہے ہیں کہ آجکل ایسا نہیں ہو رہا ۔عدالت ارسلان افتحار کو بچانے کی راہ پر محوِ سفر ہے جس سے عدالت پر جانب داری سے کام کرنے کا تاثر ابھر رہا ہے لے رہی ہے او۔ اس کے دہرے معیار بڑے واضح نظر آرہے ہیں جو عدلیہ کی ساکھ کو بری طرح سے مجروح کرنے کا باعث بن ر ہے ہیں ۔پی پی پی پی کے خلاف عدالتی مخاصمت اور تصادم کی فضا بڑی واضح نظر آرہی ہے جب کہ ملک کی دوسری ساری جماعتیں بالکل نہائی دھو ئی ثابت کی جا رہی ہیں اور ان پر احتساب کا لفظ بالکل لاگو نہیں ہوتا۔ سب سے زیادہ فائدہ مسلم لیگ (ن ) کے حصے میںآیا ہے ۔ میاں محمد نواز شریف کو طیار ہ سازش کیس میں سپریم کورٹ نے دس سال کے بعد ا نصاف مہیا کر کے انتخاب لڑنے کا اہل بنادیا حا لا نکہ آئینی نکتہ نظر سے ایسا ممکن نہیں تھا۔

 Arsalan Iftikhar
Arsalan Iftikhar

وکلاء تحریک کی حمائت کرنے کا کوئی تو صلہ ہونا چائیے تھا اور یہ صلہ کیا کم ہے کہ ایک نااہل شخص کو سپریم کورٹ نے اہلیت کا سرٹیفکیٹ تھما دیا ہے ۔ مسلم لیگ(ن) تو جنرل پرویز مشرف کے ہاتھوں زیرِ عتاب تھی اور اس کے دوبارہ احیا کے امکانات انتہائی معدوم تھے لیکن سپریم کورٹ کی سر پرستی نے مسلم لگ(ن) کو نئی زندگی بھی عطا کی اور انھیں سیاسی طور پر قوت بھی عطا کی۔ عدالتوں کی نظر میں مسلم لیگی قیادت با لکل معصوم اور بے گناہ ہے کیونکہ عدالتوں میں انھیں تحفظ حا صل ہے ۔وزیرِ اعظم سید یوسف رضا گیلانی کو کو تو انتہائی تحقیر امیز انداز میں وزارتِ عظمی سے فارغ کر دیا گیا تھا لیکن جب سوال ارسلان افتخار کی ذات کا آتا ہے تو عدالت میں کاروائی روک دی جاتی ہے۔ اسی طرح کے رویے میاں برادران کے حوالے سے بھی دیکھے گئے ہیں۔میاں شہباز شریف پچھلے ساڑھے چار سال سے حکمِ امتناعی پر پنجاب کی وزارتِ اعلی پر فائز ہیں۔ وہ بنیادی طور پر نا اہل تھے لیکن حکمِ امتناعی کی بدولت وہ اب بھی وزیرِ اعلی پنجاب ہیںاور پاکستان کے ساٹھ فیصد پر ان کی حکومت کے پھریرے لہرا رہے ہیں حکومت دھائی دے دے کر تھک گئی ہے کہ شہباز شریف کے مقدمے پر دوبارہ کاروائی کا آغاز کر کے عدالت اپنا فیصلہ صادر کرے لیکن کوئی بھی شہباز شریف کے مقدمے کو سننے کے لئے تیار نہیں ہے ۔اگر یہ جانبداری نہیں ہے تو پھر جانبداری کس کو کہتے ہیں؟مخا لفین کی تو گردنیں دبوچ لی جائیں لیکن جب قانون کا شکنجہ اپنے پیاروں کے خلاف حر کت میں آنے لگے تو اس وقت مقدمے کی کاروائی کو غیر معینہ مدت تک ملتوی کر کے اپنے پیاروں کو احتساب کی تلوار سے بچا لیا جائے۔

کیا ارسلان ا فتحار آسمان سے اتری ہو ئی کوئی خاص مخلوق ہے جس پر قانون کا نفاذ نہیں ہو سکتا ؟کیا چیف جسٹس کا بیٹا ہونے کا یہ مطلب ہے کہ اس پر کسی قانون کا اطلاق نہیں ہوسکتا؟کیا قانون اتنا بے بس ہے کہ اسے چیف جسٹس کے بیٹے پر لاگو نہیں کیا جا سکتا؟ارسلان افتحار پاکستان کاا یک عام شہری ہے اور آئین کی روح سے اسے اس کی کرپشن ور غلط اقدامات کی سزا دینا انصاف کا بول بالا کرنا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عدلیہ غیر جانبداری کی روش کا مظاہرہ کر کے انصاف کا بول بالا کرتی ہے اور اپنی نیک نامی میں ا ضا فہ کرتی ہے یا ذاتی تعلقات کی بنا پر انصاف کا خون کر کے عوام کو مایوسی سے ہمکنار کرتی ہے۔

تحریر : طارق حسین بٹ

 

Share this:
Tags:
Arsalan Iftikhar Lawyers supreme court TARIQ BUTT مقدمے
Franken Weenie
Previous Post لندن فلم فیسٹیول ، فرینکن وینی کا پریمیئر
Next Post بالی ووڈ بگ بی کی آج 70 ویں سالگرہ
Amitabh Bachchan

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close