Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 4, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

سیاست یا دھندہ

January 29, 2013 0 1 min read
Tariq Butt
Pakistan Politics
Pakistan Politics

میں اسے پاکستان کا المیہ ہی کہوں گا کہ اب سیاست جیسا مقدس پیشہ دھندے اور کاروبار کا روپ اختیار کر چکا ہے اور جب کوئی چیز دھندا بن جائے تو اس میں دھندے والے سارے عوامل یکجا ہو جاتے ہیں جس کا واحد مقصد مفادات کا تحفظ ہوتا ہے۔ دھندہ ایک ایسی بلا کا نام ہے جس کا مدعا صرف اور صرف مالی منفعت ہو تا ہے۔ اس میں اصول پسندی،قدروں اور جذ بوں کی صداقت نہیں ہوتی۔ اگر قدریں سیاست کی پہچان بن جائیں گی تو پھر یہ دھندا نہیں رہتا بلکہ عبادت بن جا ئے گا۔ سیاست بنیادی طور پر خد متِ خلق جیسے انتہائی بلند مقصد کا نام ہے لیکن چند نا عاقبت اندیش سیاستدانوں نے اسے تجارت کا روپ بخش دیا ہے۔ پہلے لگائو پھر کمائو۔ ٹکٹوں کی سیل ،صوابدیدی فنڈز کا حصول ، فائلوں کی خرید و فروخت میں منفعت اور پھر الیکشن پر کروڑوں روپے کے اخراجات اس دھندے کی سنگینی میں اضافہ کرتے جا رہے ہیں لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ پرانے وقتوں میں سیاست ایک عبادت کا درجہ رکھتی تھی بالکل مذہبی رسومات کی طرح لیکن جب سے یہ دھندا بن گئی ہے تب سے معاشرہ د ھیرے دھیرے تباہی کی جانب بڑھتا جا رہا ہے۔ مستقل اقدار اور اخلاقی رویوں پر کیفیتِ مرگ طاری ہے۔

سیانوں کا قول ہے کہ دھندے کا منطقی نتیجہ افرا تفری اور بے چینی ہوتا ہے اور یہی آج کل ہمارے معاشرے کا طرہِ امتیاز بنا ہوا ہے کیونکہ مقصدِ سیاست صرف حصولِ دولت رہ گیا ہے۔ پارلیمنٹ کا ممبر بننے اور وزارتوں کے حصول کے بعد عوام کا درد دل سے یوں غائب ہو جاتا ہے جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ عوام کو ایک دفعہ پھر اگلے الیکشن کی بتی کے پیچھے لگا یا جا رہا ہے اور انھیں دلفریب نعروں سے بیوقوف بنانے کی سازش پورے زوروں پر ہے۔ یہ ناٹک (کھیل تما شہ) پچھلی کئی دہائیوں سے جاری ہے اور عوام اس سرکس کو دیکھ دیکھ کر اکتا چکے ہیں۔ وہ اس میں تبد یلی چاہتے ہیں لیکن انھیں کوئی راہ دکھائی نہیں د ے رہی۔ جمہوریت کی حد تک تو سب کا اتفاق ہے لیکن فیوڈل جمہوریت پر نہیں بلکہ اس جمہوریت پر جس میں عوام اپنے مقدر کے مالک بنتے ہیں۔ موجودہ جمہوریت صرف ایک مخصوص طبقے کے مفادات کا تحفظ کر رہی ہے جس سے عوام بغاوت پر آمادہ ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جمہوری نظام کے ثمرات عوام تک بھی پہنچیں اور ان کی حالتِ زار میں بھی تبدیلی رونما ہو جائے جو صرف اس وقت ممکن ہو سکتی ہے جب موجودہ جمہوری نظام کی جگہ نیا انتخابی نظام متعارف کروایا جائے۔ اس وقت انتخابی اصلاحات کی اشد ضرورت ہے تا کہ پارلیمنٹ میں عوام کی نمائندگی کو یقینی بنایا جا سکے۔

متوسط طبقے کیلئے موجودہ جمہوری نظام میں اپنی جگہ بنانا جان جوکھوں کا کام ہے کیونکہ انتخاب میں حصہ لینے کی ان کی استطاعت نہیں ہوتی اور غنڈوں موالیوں سے لڑنے کی ان میں قوت نہیں ہو تی اور یوں پاکستانی سیاست مخصو ص خاندانوں کی گرفت سے بچ نہیں پاتی۔ سیاسی جماعتیں اسی مخصوص گروہ کو اپنا امیدوار نامزد کرتی ہیں جو علاقے میں رعب دبدبہ اور اثر رکھتا ہے۔

Quaid e Azam
Quaid e Azam

اس میں کوئی کلام نہیں کہ پاکستان ایک جمہوری عمل کا انتہائی خوبصورت تحفہ ہے لیکن کیا اس وقت سیاست اسی انداز کی ہے جس طرح کی سیاست نے ہمیں پاکستان تحفے میں دیا تھا ؟۔ تحریکِ پاکستان دراصل دو قومی نظریے کی جنگ تھی جسے قائدِ اعظم محمد علی جناح نے بڑی بے جگری سے لڑا تھا جبکہ 1967 میں پی پی پی کی تشکیل اس اصول پرتھی کہ طاقت کا سر چشمہ عوام ہیں اور وہی اس ملک کے حقیقی وارث ہیں اور اس انقلاب کا علم ذولفقار علی بھٹو نے بلند کیا تھا لیکن اب سیاست پر ایسا وڈیرہ گروپ قابض ہو چکا ہے جو عوام کا خون چوس رہا ہے اور جس کیلئے اس کے مفادات کا حصول اس کی پہلی اور آخری ترجیح ہے۔ ایسے گروہ کی زبان پر نام تو عوام الناس کا ہی ہو تا ہے لیکن ان کے اعمال اپنے دعووں کے بالکل بر عکس ہو تے ہیں کیونکہ عوام الناس کا نام تو انھیں اپنے پھیلائے گئے جال میں پھانسنے کیلئے لیا جاتا ہے۔

ہمارے شہر میں اک شخص بے لباس نہیں ۔۔۔ سبھی ہیں پہنے ہوئے اپنی اپنی خود غر ضی (طاہر حنفی)
23 دسمبر 2012 کو علامہ ڈاکٹر طاہر القادری کینیڈا سے پاکستان تشریف لائے اور مینارِ پاکستان پر ایک تاریخی جلسے میں تبدیلی کا نعرہ بلند کر دیا۔ تحریکِ انصاف کے عمران خان اس سے قبل کئی سالوں سے اسی قسم کی تبدیلی کی راہ ہموار کر رہے تھے اور نوجوانوں کی ایک کثیر تعداد ان کی آواز پر لبیک بھی کہہ رہی تھی لیکن وہ کوئی بھی جارحانہ انداز اور بڑا قدم ا ٹھانے میں ناکام ہو رہے تھے جس سے تبدیلی کے حواہاں طبقے کے جذبات کو دھچکا بھی لگا تھا اور مایوسی بھی ہوئی تھی جس کی وجہ سے عمران خان کی مقبولیت کا طلسم آہستہ آہستہ ٹوٹنے لگاتھا ۔عوام روائیتی سیاست دانو ں سے جان چھڑانا چاہتے ہیں لیکن کوئی ان کی داد رسی نہیں کر رہا۔ عمران خان سے جو توقعات تھیں وہ پوری نہ ہونے کی وجہ سے ان کی تبدیلی کے نعرے کی مقبولیت میں کمی ہونا شروع ہو چکی ہے۔

Imran Khan
Imran Khan

اببھی سٹیٹس کو اور عمران خان کے درمیان تبدیلی کا یہ معرکہ جاری تھا کہ علامہ ڈاکٹر طاہر القادری نے14 جنوری کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر کے سیاست میں ایک طوفان پیدا کر دیا۔ تبدیلی کے خواہاں عوام ان کے گرد جمع ہو گئے اور تبدیلی کے نعرے کو حقیقت کا جامہ پہنانے کے لئے ان کے ساتھ ہو لئے ۔13 جنوری کو لاہور سے شروع ہونے والا ان کا لانگ مارچ 38 گھنٹوں کی مسافت کے بعد اسلام آباد پہنچا تو ہزاروں افراد نے ان کا والہانہ استقبال کیا اور یوں ان کے مجوزہ دھرنے میں لاکھوں لوگوں کی شرکت نے اسے پاکستانی تاریخ کا سب سے بڑا دھرنا بنا دیا۔ اسلام آباد میں مظاہرین کا قیام پانچ دنوں تک رہا۔ اتنی شدید سردی میں شرکاء کا کھلے آسمان کے نیچے دھرنا دینا پاکستان کا ایک منفرد واقع ہے۔ چار سینٹی گریڈ سے بھی کم سرد ی میں صبر و تحمل اور براشت کے مظاہرے نے پاکستان میں ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔ ہر تبصرہ نگار اس واقعے کو اپنے انداز میں دیکھ رہا ہے۔ چند ناقدین حاضرین کی تعداد میں الجھے ہوئے ہیں تو کچھ ذاتی حواہشوں کے بھنور میں پھنسے ہوئے ہیں لیکن انھیں وہ جذبے نظر نہیں آرہے جو دھرنا دینے والوں کے دلوں میں موجزن تھے اور جس سے وہ تبدیلی کو ہر حال میں دیکھنا چاہتے تھے۔

اپنے چھوٹے چھوٹے لختِ جگروں کو اس جان لیوا دھرنے میں لے کر آنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ تبد یلی کے خواب نے دھرنے د الوں کو آہن گداز بنا دیا ہے اور وہ ہر قیمت پر اس تبدیلی کو برپا کر کے چھوڑیں گئے۔ حکمرانوں نے شروع میں اس لانگ مارچ کو بھی روائیتی انداز میں لیا جس کی وجہ سے وہ اس جذبے کو دیکھنے سے عاری رہے جو شرکائے لانگ مارچ کے دلوں میں موجزن تھے۔عام تاثر یہی تھا کہ یہ مارچ اپنے ہی بوجھ کے نیچے دب کر ختم ہو جائے گا اور حکومت کو پوائنٹ سکور کرنے کا موقعہ مل جائے گا۔ اسی خیال کی وجہ سے اس لانگ مارچ میں کم رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ پنجاب کی صوبائی حکومت نے لاہور کی حد تک کافی پھرتیاں دکھائیں لیکن عوامی امنگوں کو کچلنے میں ناکام رہا اور پھر جب ایک دفعہ یہ لانگ مارچ شروع ہو گیا تو پھر اس کی راہ میں روڑے اٹکانا ممکن نہ رہا۔ حکومتی حلقوں کا خیال تھا کہ اتنی شدید سردی میں احتجاج کو جاری رکھنا ممکن نہیں ہو گا۔ سوال ایک دن کا ہوتا تو کوئی بات نہیں تھی لیکن یہاں پر تو ہفتوں کا مسئلہ تھا لہذا شرکاء کا اتنی دیر تک دھرنے کو جاری رکھنا ناممکن ہو جائیگا۔

حکومتی اہلکاروں کی سوچ بالکل درست تھی بظا ہر ایسا ہی نظر آرہا تھا کہ دھرنا اپنی افادیت، توازن اور دبدبہ قائم نہ رکھ سکے گا اور یوں اسے ناکامی سے دوچار ہو نا پڑیگا۔ لوگوں کو اتنی شدیدی سردی میں کئی ہفتوں تک روکے رکھنا معجزہ ہو گا اور یہ دور معجزوں کا دور نہیں ہے۔ پہلی رات تو کسی نہ کسی طرح سے گزر جائے گی لیکن اگلی راتوں میں کیا ہو گا یہ سوال سب کی زبان پر تھا لیکن اس وقت سب کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب اس دھرنے نے پانچ راتوں تک کھلے آسمان کے نیچے بڑی ہمت،جرا ت اور مردانگی سے اپنے راستے کی ہر مشکل کو انتہائی خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔ شرکائے دھرنا میں نوجوانوں کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ ان کے عزم کو میں نے بھی ٹیلیویژن کی سکرین پر دیکھا ہے۔ان کے ہشاش بشاش اور پر عزم چہرے اس بات کے غماز تھے کہ انھیں اپنے مقصد کی حقانیت پر کامل یقین ہے اور وہ اپنا مقصد حا صل کر کے ہی یہاں سے جائیں گئے۔ میں ذاتی طور پر اس بات کا شاہد ہوں کہ میں نے ان کے چہروں پر کسی قسم کا خوف یا ڈر نہیں دیکھا اور نہ ہی انھیں کسی شک و شبہ کی کیفیت کا شکار دیکھا ہے۔ وہ اپنے مقصد میں بالکل واضح تھے اور انھیں علم تھا کہ ان کا کردار کیا ہے، ان کی ذمہ داری کیا ہے اور وہ اس کردار کو ادا کرنے کے لئے کسی بھی حد تک جانے کے لئے تیار تھے۔

Rehman Malik
Rehman Malik

وفاقی وزیرِ داخلہ رحمان ملک نے کچھ بڑھکیں ضرور ماریں اور سپیشل آپریشن کا شوشہ چھوڑ کر فضا کو مکدر کرنے کی کوشش بھی کی لیکن صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کی مداخلت اور ایم کیو ایم اور مسلم لیگ (ق) کے سخت موقف کی وجہ سے رحمان ملک کی خون خرابے کی حواہش ادھوری رہ گئی۔ رحمان ملک لال مسجد کی طرز کا کوئی قدم اٹھا ناچاہتے تھے اور اپنے ہی وطن کے معصوم اور نہتے شہریوں کو گولیوں سے بھون دینا چا ہتے تھے۔ وہ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بننے کی کوشش کر رہے تھے۔وہ بھول رہے تھے کہ لال مسجد کے مظاہرین اور اس لانگ مارچ کے مظاہرین میں زمین و آسمان کا فرو ہے۔ لال مسجد میں تو کچھ اسلحہ بردار بھی چھپے ہوئے تھے جبکہ اس دھرنے میں کسی کے ہاتھ میں اسلحہ نہیں تھا۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا د ھرنا اور لانگ مارچ تھا لیکن کوئی بلب نہیں ٹوٹا، کوئی پتہ نہیں ٹوٹا ، ٹریفک کا کوئی سگنل نہیں ٹوٹا ،کوئی ٹائر نہیں جلایا گیا ،کوئی ہوائی فائرنگ نہیں کی گئی،کسی پر کوئی آتشیں گولا نہیں پھینکا گیا لہذا ایسے پر امن مظاہرے پر دھاوا بولنا انسانیت کے قتل کے مترا دف تھا۔

رحمان ملک کی طرح کچھ اور سیاسی قوتیں بھی اسی طرح کی امیدیں لگائی بیٹھی تھیں۔ وہ لاشوں پر سیاسی دوکان چمکانا چاہتی تھیں لیکن صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے ان سیاسی اداکاروں کی خواہشوں کو جس بری طرح سے بے اثر کیا وہ ملکی سیاست پر ان کی گہری نظر کا غماز ہے۔

تحریر : طارق حسین بٹ

Tariq Butt
Tariq Butt
Share this:
Tags:
pakistan politics trade الیکشن پاکستان تجارت سیاست
Previous Post جمعیت علما اسلامPK72کے گرینڈ جرگے کے مشران نے اپوزیشن لیڈر الحاج اکرم خان درانی سے ملاقات
Next Post میاں طارق محمود ایم پی اے کی حمایت میں ڈیرہ ریکھیاں پر بہت بڑا اکٹھ منشی محمد بشیر کی رہائش گاہ پر منعقد ہوا

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close