
شام (جیوڈیسک) شامی صدر بشارالاسد کی جانب سے الیپو میں تیس ہزار مزید فوج کی تعیناتی کے حکم کی اطلاع کے بعد باغیوں نے نئی پوزیشنوں پر قبضہ کر کے شام کے سب سے بڑے شہر الیپو کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے باغیوں نے نئی جنگ کا آغاز کر دیا ہے۔
تاریخی ورثہ کے حامل اور پرکشش سیاحتی شامی شہر الیپو ان دنوں میدان جنگ بنا ہوا ہے، باغیوں نے پرانے شہر کے مختلف حصوں پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور نئی پوزشینوں پر قبضے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں، دوسری جانب سیرین نیشنل کونسل اور فری سیرین آرمی نے اعلان کیا ہے کہ شام میں لڑائی کے دوران متاثر شہریوں کی مدد کے لیے پہلی این جی او بنائی گئی ہے جو جنگ سے متاثرہ علاقوں میں بجلی کی بحالی، اور شہریوں کو پانی اور صحت عامہ کی سہولیات فراہم کرے گی۔
سینٹرل کمیٹی آف سول ایڈمنسٹریشن کا کہنا ہے کہ اس این جی او کا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں ہے، یہ تمام سیاسی اور مسلح گروپوں میں آذادانہ طور پر کام کرے گا، سی سی سی اے کے رکن عمر شاوف کا کہنا ہے کہ اس گروپ کا مقصد شہری آبادی کی بحالی اور ان کی مدد کرنا ہے۔
