
شام (جیوڈیسک)اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے شام کی جانب سے ترکی میں مارٹرگولہ گرنے کی شدید مذمت کی ہے۔ رکن ممالک نے دونوں حکومتوں پر زور دیا کہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کو فوری روکا جائے اور کوشش کی جائے کہ دوبارہ ایسے واقعات کا اعادہ نہ ہو۔ ترک وزیراعظم کہتے ہیں کہ وہ بھی شام سے جنگ کے خواہاں نہیں۔
سلامتی کونسل نے شامی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ وہ پڑوسی ممالک کی خود مختاری اور علاقائی سا لمیت کا احترام کرے، سرحدی علاقے میں پانچ شہریوں کی ہلاکت کے بعد ترکی اور شام میں کشیدگی میں شدت آگئی ہے اور ترک پارلیمنٹ نے جوابی حملے کی منظوری دے دی مگر ترک وزیراعظم طیب ارزگان جنگ نہیں کرناچاہتے، ترکی کی پارلیمنٹ نے شامی جارحیت کیخلاف فوجی ایکشن سمیت دیگر اقدامات کے حوالے سے قرارداد کی منظوری کے بعد ترکی نے شامی سرحد کے ساتھ اپنی فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کر دیا ہے، تاہم وزیر اعظم رجب طیب ارزگان نے کہا ہے کہ ترکی شام کیخلاف جنگ نہیں چاہتا۔
انقرہ میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے طیب ارزگان کا کہنا تھا کہ ترکی خطے میں امن چاہتا ہے اور وہ جنگ کا حامی نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عراق اور افغانستان میں جنگ کا نتیجہ دیکھ چکے اور گذشتہ ڈیڑھ برس سے شام میں بھی بغور جائزہ لے رہے ہیں۔ طیب ارزگان نے واضح کیا کہ ترکی شہریوں اور سرحد کی حفاظت کا اہل ہے اور اس کے عزم کو نہ آزمایا جائے۔
ترک پارلیمنٹ کی جانب سے شام کیخلاف فوجی اقدامات کی قرارداد کی منظوری کیخلاف استنبول میں ہزاروں افراد نے مظاہرہ کیا، مظاہرین نے جنگ مخالف بینرز اٹھا رکھے تھے ان کا کہنا تھا کہ ترک اور شامی عوام ایک دوسرے کی دشمن نہیں مگر ترک حکومت انہیں لڑانا چاہتی ہے۔
