
واشنگٹن:(جیو ڈیسک) امریکی صدر براک اوباما اور جاپان کے وزیراعظم نے شمالی کوریا کو متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے اشتعال دلانے کے پرانے طریقے ختم ہوگئے ہیں۔ براک اوباما نے کہا کہ شمالی کوریا کے حالیہ اقدامات جس میں اس کی جانب سے کیا جانے والا راکٹ کا ناکام تجربہ شامل ہے پیانگ یانگ کو مزید تنہا کردیں گے۔
دوسری جانب جاپان کے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ شمالی کوریا سنہ دو ہزار نو کے بعد اپنے پہلے جوہری تجربہ کرے گا۔ دونوں رہنماؤں نے واشنگٹن میں ہونے والے مزاکرات کے بعد نیوز کانفرنس سے خطاب کیا۔ امریکی صدر براک اوباما نے پیر کو کہا کہ اشتعال دلانے کے پرانے طریقوں سے فوری توجہ حاصل ہوجاتی ہے تاہم کسی ملک کا دنیا سے اچھا تاثر لینے کا یہ طریقہ اب ٹوٹ چکا ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ واشنگٹن اپنے اتحادی جاپان کے ساتھ اس بات پر متفق ہے کہ پیانگ یانگ ہر صورت بین الاقوامی اصولوں کی پاسداری کرے جس کے تحت وہ کسی بھی ایسی چیز خریدنے کے قابل نہیں ہوگا جس سے مزید اشتعال انگیزی پیدا ہو۔ شمالی کوریا نے عالمی برادری کی تنقید اور مخالفت کے باوجود تیرہ اپریل کو طویل فاصلے تک جانے والے سیٹلائٹ راکٹ کا تجربہ کیا تھا تاہم وہ تجربہ ناکام رہا تھا۔ پیانگ یانگ کا کہنا تھا کہ اس راکٹ سے ایک مصنوعی سیارے کو خلاء میں بھیجا جانا تھا لیکن اس پر نکتہ چینی کرنے والوں کو اس بات کا خدشہ تھا کہ یہ ایک دور مار مزائل کی ٹیکنالوجی کا تجربہ ہو سکتا تھا۔
اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت شمالی کوریا پرایسے تجربات پر پابندی عائد ہے۔
