
صبح رو رو کر شام ہوتی ہے
صبح تڑپ کر تمام ہوتی ہے
سامنے چشم مست کے ساقی
کس کو پرواہِ جام ہوتی ہے
کوئی غنچہ کھلا کے بلبل کو
بے کلی زرِ دام ہوتی ہے
ہم جو کہتے ہیں کچھ اشاروں سے
یہ خطا لاکلام ہوتی ہے
بہادر شاہ ظفر


صبح رو رو کر شام ہوتی ہے
صبح تڑپ کر تمام ہوتی ہے
سامنے چشم مست کے ساقی
کس کو پرواہِ جام ہوتی ہے
کوئی غنچہ کھلا کے بلبل کو
بے کلی زرِ دام ہوتی ہے
ہم جو کہتے ہیں کچھ اشاروں سے
یہ خطا لاکلام ہوتی ہے
بہادر شاہ ظفر
Start typing to search...
